بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 160 hadith
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت مَنْ یَعْمَلْ سُوئً یُجْزَ بِہِجو بھی کوئی برائی کرے گا اس کواس کا بدلہ دیا جائے گا ٭نازل ہوئی تو مسلمانوں پر یہ بڑی گراں گزری۔ اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا میانہ روی اختیار کرو اور سیدھا راستہ اختیار کرو اور ہر مصیبت جو مسلمان کو پہنچتی ہے وہ (اس کے گناہوں کا) کفارہ ہوجاتی ہے حتّی کہ کوئی تکلیف جو اس کو ہوتی ہے یا کانٹا جو اسے چبھتاہے۔
حضرت جابرؓ بن عبد اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ
حضرت ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا یقینا ظلم قیامت کے دن اندھیرے ہوں گے۔
حضرت جابر بن عبد اللہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ اُمّ السائب یا کہااُمّ المسیّب کے پاس تشریف لائے تو آپؐ نے فرمایا کہ اے اُمّ السائب یا اُمّ المسیّب تمہیں کیا ہوا ہے؟ تم کانپ رہی ہو انہوں نے کہا بخار ہے اللہ اس میں برکت نہ ڈالے۔ اس پر حضورؐ نے فرمایا بخار کو برا بھلا مت کہوکیونکہ یہ بنی آدم کی بدیوں کو اسی طرح دور کرتا ہے جیسے بھٹی لوہے کے میل کو دور کر دیتی ہے۔
عطاء بن ابو رباح کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباسؓ نے مجھ سے کہا کیا میں تمہیں ایک جنتی عورت نہ دکھاؤں میں نے کہا کیوں نہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ سیاہ فام عورت نبیﷺ کے پاس آئی تھی اور اس نے عرض کیاکہ مجھے مرگی کا دورہ پڑتا ہے۔ جس کی وجہ سے میں بے پرد ہوجاتی ہوں پس آپؐ اللہ سے میرے لئے دعا کیجئے۔ آپؐ نے فرمایا اگر تو چاہتی ہے کہ صبر کرے تو تیرے لئے جنت ہے اور اگر تو چاہتی ہے تو میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ تجھے صحت دے۔ اس نے کہا کہ میں صبر کرتی ہوں اس نے عرض کیا میں بے پرد ہوجاتی ہوں۔ پس آپؐ اللہ سے یہ دعا کریں کہ میں بے پردنہ ہوں۔ چنانچہ حضورؐ نے اس کے لئے دعا کی۔
حضرت ابو ذرؓ سے مروی ہے کہ نبیﷺ نے اللہ تبارک وتعالیٰ سے جو باتیں بیان کی ہیں ان میں سے یہ بھی ہے کہ اللہ نے فرمایا اے میرے بندو میں نے ظلم کو اپنی ذات پر حرام کیا ہے اور اسے تمہارے درمیان بھی حرام کیا ہے۔ پس تم ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو۔ تم سب گمراہ ہو سوائے اس کے جسے میں ہدایت دوں پس مجھ سے ہدایت طلب کرو۔ اے میرے بندو تم سب بھوکے ہو سوائے اس کے جسے میں کھانا کھلاؤں پس تم مجھ سے کھانا مانگو میں تمہیں کھانا کھلاؤں گا اے میرے بندو تم سب برہنہ ہو مگر جسے میں پہناؤں پس مجھ سے کپڑے مانگو میں تمہیں پہناؤں گا اے میرے بندو ! تم رات دن غلطیاں کرتے ہو اور میں تمہارے سب گناہ بخشتا ہوں پس مجھ سے مغفرت مانگو میں تمہیں بخش دوں گا تم ہرگز طاقت نہیں رکھتے کہ مجھے نقصان پہنچا سکو اور نہ ہی مجھے نفع پہنچانے کی طاقت رکھتے ہو۔ اے میرے بندو اگر تمہارے پہلے اور تمہارے پچھلے اور تمہارے انسان اور تمہارے جن تم میں سے سب سے زیادہ متقی دل رکھنے والے کی طرح ہوجائیں تویہ میری بادشاہت میں ذرہ بھی اضافہ نہ کر سکے گا۔ اے میرے بندو اگر تمہارے اگلے اور تمہارے پچھلے اور تمہارے انسان اور تمہارے جن تم میں سے سب سے زیادہ فاجر دل رکھنے والے آدمی کی طرح ہوجائیں تو یہ میری بادشاہت میں کچھ کمی نہ کرسکے گا۔ اے میرے بندو ! اگر تمہا رے پہلے اور تمہارے پچھلے اور تمہارے انسان اور تمہارے جن ایک میدان میں کھڑے ہوں اور مجھ سے مانگیں اور میں ہر انسان کو اس کی طلب عطا کروں تو یہ اس میں سے کچھ بھی کمی نہ کرے گی جو میرے پاس ہے۔ سوائے اس قدر جتنا ایک سوئی کم کرتی ہے۔ جبکہ وہ سمندر میں ڈالی جائے اے میرے بندو! یہ تمہارے اعمال ہیں میں تمہارے اعمال (ہی) تمہارے لئے محفوظ رکھتا ہوں۔ پھر میں تمہیں وہ پورے پورے دوں گا۔ پس جو خیر پائے تو اسے چاہئے کہ وہ اللہ کی حمد کرے اور جو اس کے سوا (کچھ) پائے توصرف اپنے نفس کو(ہی) ملامت کرے۔ راوی سعید بیان کرتے ہیں کہ ابو ادریس الخولانی جب یہ روایت بیان کرتے تھے تو اپنے گھٹنوں کے بل بیٹھ جاتے تھے۔ایک روایت میں قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ فِیْمَا یَرْوِی عَنْ رَبِّہِ تَبَارَکَ وَتَعَالَی اِنِّیْ حَرَّمْتُ عَلَی نَفْسِیْ الظُّلْمَ وَعَلَی عِبَادِیْ کے الفاظ ہیں۔
سالم اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا مسلمان مسلمان کا بھائی ہے نہ تو اس پر ظلم کرتا ہے نہ اسے بے یارو مددگار چھوڑتا ہے۔ جو اپنے بھائی کی ضرورت پوری کر نے کے لئے لگا رہتا ہے اللہ اس کی ضرورت پوری کرتا ہے اور جو ایک مسلمان سے کوئی تکلیف دور کرتا ہے تو اللہ اس کے بدلہ قیامت کے دن کی تکلیفوں میں سے تکلیف اس سے دور فرمادے گا اور جو ایک مسلمان کی پردہ پوشی کرتا ہے اللہ قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہے؟ لوگوں نے کہا کہ ہم میں مفلس وہ ہے جس کے پاس نہ کوئی درہم ہے نہ کوئی سازو سامان ہے اس پر آپؐ نے فرمایا میری امت میں تو مفلس وہ ہے۔ جو قیامت کے دن نماز روزہ اور زکوٰۃ کے ساتھ پیش ہو گا مگر اس طرح آئے گا کہ اس نے کسی کو گالی دی ہوگی اور کسی پر بہتان لگایا ہوگا اور کسی کا مال کھایا ہوگا اور کسی کا خون بہایا ہو گا اور کسی کو ما را ہوگا اس کو اس کی کوئی نیکی دی جائے گی اور کسی کو اس کی کوئی اور نیکی اور ان کی خطائیں لی جائیں گی اور اس پر ڈال دی جائیں گی۔ پھر اسے آگ میں پھینک دیا جائے گا۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا تم قیامت کے دن حقداروں کے حقوق لازماً ادا کروگے یہانتک کہ بغیر سینگ والی بھیڑ بکری کا بدلہ سینگوں والی بھیڑ بکری سے لیا جائے گا۔
حضرت ابو موسیٰؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ظالم کو مہلت دیتا ہے۔ لیکن جب اسے پکڑتاہے تو اسے چھوڑ تا نہیں پھر آپؐ نے یہ (آیت) پڑھی وَکَذَالِکَ اَخْذُ رَبِّکَ اِذَا اَخَذَ القُریٰ وَھِیَ ظَالِمَۃ اِنَّ اَخْذَ ہُ اَلیم شَدید اور تیرے رب کی گرفت اسی طرح ہوتی ہے جب وہ بستیوں کو اس حال میں پکڑتا ہے کہ وہ ظالم ہوتی ہیں یقینا اس کی پکڑ بڑی اذیت ناک(اور) بڑی سخت ہے۔