بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 232 hadith
حضرت انسؓ بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے حضرت اُبیَ ّ ؓ سے فرمایا کہ اللہ عزوجل نے مجھے حکم فرمایا کہ میں تمہیں قرآن پڑھ کر سناؤں۔ اُبیَّؓ نے کہا کیا اللہ نے آپؐ کے سامنے میرا نام لیا ہے؟ آپؐ نے فرمایا ہاں اللہ نے میرے سامنے تمہارا نام لیا ہے۔ وہ (حضرت انسؓ) کہتے ہیں اس پر حضرت اُبیَ ّ ؓ رونے لگے۔
حضرت انسؓ بن مالک بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے اُبیَّ بن کعبؓ سے فرمایا کہ اللہ نے مجھے حکم فرمایا ہے کہ میں تمہیں لَمْ یَکُنِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا سناؤں۔ حضرت اُبیَّؓ نے عرض کیا اللہ نے میرا نام لیا ہے؟ آپؐ نے فرمایا ہاں۔ وہ (حضرت انسؓ) کہتے ہیں اس پروہ (حضرت اُبیَّؓ) رو پڑے۔
حضرت جابر بن عبد اللہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے اس وقت جب حضرت سعدؓ بن معاذ کا جنازہ لوگوں کے سامنے تھا فرمایا اس کی وجہ سے رحمان کا عرش لرز گیا ہے۔
حضرت جابرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ سعد بن معاذؓ کی وفات سے رحمان کا عرش لرز اٹھا ہے۔
حضرت انس بن مالکؓ نے بیان کیا کہ اللہ کے نبیﷺ نے جب کہ حضرت سعدؓ کا جنازہ رکھا ہوا تھا فرمایا اس کی وجہ سے رحمان کا عرش لرز اٹھا ہے۔
حضرت براءؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ایک ریشمی چوغہ تحفۃً پیش کیا گیا جسے آپؐ کے صحابہؓ چھونے لگے اور اس کی نرمی پر تعجب کا اظہار کرنے لگے۔ اس پر آپؐ نے فرمایا کیا تم اس کی نرمی پر تعجب کرتے ہو؟ یقینا جنت میں سعدؓ بن معاذ کے رومال اس سے زیادہ بہتر اور زیادہ نرم ہیں۔
حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کی خدمت میں ایک باریک ریشم کا جُبّہ پیش کیا گیا اور آپؐ ریشم سے منع فرمایا کرتے تھے لوگوں نے اس سے بہت تعجب کیا۔ اس پر آپؐ نے فرمایا اس کی قسم جس کے ہاتھ میں محمدؐ کی جان ہے یقینا سعد بن معاذؓ کے رومال جنت میں اس سے زیادہ خوبصورت ہیں۔ ایک اور روایت میں ہے کہ دومۃ الجندل (کے حاکم) أُکَیْدِر نے رسول اللہﷺ کی خدمت میں ایک جوڑا تحفۃً پیش کیا تھا۔ باقی روایت سابقہ روایت کی طرح ہے مگر اس میں یہ ذکر نہیں کہ آپؐ ریشم سے منع فرمایا کرتے تھے۔
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے اُحد کے دن تلوار پکڑی اور فرمایا کہ اسے مجھ سے کون لے گا؟ اُن سب نے اپنے ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہا مَیں، مَیں۔ آپؐ نے فرمایا کون اس کو اس کا حق (ادا کرنے کی شرط پر) لے گا۔ وہ (حضرت انسؓ) کہتے ہیں اس پر لوگ رک گئے تو حضرت سماک بن خرشہ ابو دجانہؓ نے کہا کہ میں اس کو اس کا حق ادا کرنے کی شرط پر لیتا ہوں۔ وہ (حضرت انسؓ) کہتے ہیں انہوں نے تلوار لی اور مشرکوں کے سر پھاڑ دئیے۔
حضرت جابر بن عبد اللہؓ بیان کرتے ہیں کہ اُحد کے دن میرے والد پر کپڑا ڈال کر لایا گیا۔ ان کا مثلہ کیا گیا تھا۔ حضرت جابرؓ کہتے ہیں کہ میں نے ارادہ کیا کہ کپڑا ہٹا کر دیکھوں لیکن میری قوم نے مجھے منع کردیا پھر میں نے ارادہ کیا کہ کپڑا ہٹاؤں تو پھر میری قوم نے مجھے منع کردیا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے خود ہٹایا یا اس کے ہٹانے کا حکم فرمایا۔ چنانچہ کپڑے کو ہٹایا گیا تو آپؐ نے رونے یا چیخنے والی کی آواز سنی تو فرمایا یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا عمرو کی بیٹی یا کہا بہن۔ آپؐ نے فرمایا وہ کیوں روتی ہے، جب تک انہیں اٹھا نہیں لیا گیا فرشتے ان پر اپنے پروں سے سایہ کئے رہے۔
حضرت جابر بن عبد اللہؓ بیان کرتے ہیں کہ اُحد کے دن میرے والد کی شہادت ہوئی تو میں ان کے چہرے سے کپڑا ہٹانے لگا اور رونے لگا اور وہ (لوگ) مجھے منع کرنے لگے جبکہ رسول اللہﷺ نے مجھے نہ روکا۔ حضرت جابرؓ کہتے ہیں کہ فاطمہ بنت عمروؓ ان پر رونے لگیں۔ اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا وہ اس پر روئے یا نہ روئے فرشتے اس وقت تک اس پر اپنے پروں سے سایہ کئے رہے یہاں تک کہ تم نے انہیں اٹھایا۔ ایک اور روایت میں ملائکہ اور رونے والی کے رونے کا ذکر نہیں اور ایک روایت میں ہے کہ میرے والد کو اُحد کے دن لایا گیا اور ان کے کچھ اعضاء کٹے ہوئے تھے اور انہیں نبیﷺ کے سامنے رکھا گیا۔