بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 232 hadith
عائذ بن عمرو سے روایت ہے کہ حضرت سلمانؓ، حضرت صہیبؓ اور حضرت بلالؓ کے پاس جو ایک مجمع میں تھے ابوسفیان آئے تو اس پر ان لوگوں نے کہا اللہ کی قسم اللہ کی تلواریں اللہ کے دشمن کی گردن پر اپنی جگہ پر نہ پڑیں ! راوی کہتے ہیں حضرت ابو بکرؓ نے کہا کیا تم قریش کے معزّز اور ان کے سردار کے بارہ میں ایسا کہتے ہو۔ تو وہ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپؐ کو یہ بات بتائی۔ اس پر آپؐ نے فرمایا اے ابو بکرؓ ! شاید تم نے انہیں ناراض کردیا ہے۔ اگر تم نے انہیں ناراض کیا تو یقینا تم نے اپنے رب کو ناراض کیا اس پر حضرت ابو بکرؓ ان کے پاس آئے اور کہا اے پیارے بھائیو ! میں نے تمہیں ناراض کردیا۔ انہوں نے کہا نہیں نہیں، اے بھائی ! اللہ آپ کی مغفرت فرمائے۔
حضرت جابرؓ بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ یہ آیت اِذْ ھَمَّتْ طَائِفَتَانِ مِنْکُمْ اَنْ تَفْشَلَا وَاللّٰہُ وَلِیُّھُمَا جب تم میں سے دو گروہوں نے ارادہ کیا کہ وہ بزدلی دکھائیں حالانکہ اللہ دونوں کا ولی تھا۔ ہمارے بارہ (یعنی) بنو سلمہ اور بنو حارثہ کے بارہ میں نازل ہوئی اور ہم اللہ عزوجل کے اس قول وَاللّٰہُ وَلِیُّھُمَا، کی وجہ سے یہ نہیں چاہتے تھے کہ یہ آیت نہ اتری ہوتی۔
حضرت زید بن ارقمؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے دعا کی اے اللہ! انصار کی مغفرت فرما اور انصار کے بیٹوں اور انصار کے پوتوں کی بھی۔
اسحاق بن عبد اللہ بن ابو طلحہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت انسؓ نے انہیں بتایا کہ رسول اللہﷺ نے انصارؓ کے لئے مغفرت کی دعا کی۔ راوی کہتے ہیں میرا خیال ہے کہ انہوں نے کہا آپؐ نے فرمایا کہ انصارؓ کی اولاد کے لئے اور انصارؓ کے غلاموں کے لئے۔ مجھے اس بارہ میں کوئی شک نہیں ہے۔
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے بچوں اور عورتوں کو ایک شادی سے آتے ہوئے دیکھا تو اللہ کے نبی ﷺ بڑے اہتمام سے کھڑے ہو گئے اور فرمایا اللہ!۔ تم مجھے لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب ہو، اللہ !۔ تم مجھے لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب ہو۔ آپؐ کی مُراد انصارؓ سے تھی۔
حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک انصاری عورت رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی تو آپؐ نے اس سے علیحدگی میں بات کی اور تین دفعہ فرمایا اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم انصار لوگوں میں مجھے سب سے زیادہ محبوب ہو۔
حضرت انسؓ بن مالک بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ انصارؓ میرے جان و جگر ہیں۔ لوگوں کی تعداد بڑھتی جائے گی اور وہ (انصار) کم ہوتے جائیں گے پس ان میں اچھے کام کرنے والے کو قبول کرو اور ان کے غلطی کرنے والے کو معاف کرو۔
حضرت ابو اسیدؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا انصارؓ کے بہترین گھروں میں سے بنو نجار پھر بنو عبد الاشہل پھر بنو الحارث بن خزرج پھر بنو ساعدہ ہیں اور انصارؓ کے سب گھروں میں بھلائی ہے۔ حضرت سعدؓ کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ رسول اللہﷺ نے ہم پر انہیں فضیلت دی ہے۔ اس پر کہا گیا کہ آپ کو (بھی تو) حضورؐ نے بہتوں پر فضیلت دی ہے۔ ایک اور روایت میں حضرت سعدؓ کے اس قول کا ذکر نہیں۔
حضرت ابو اسیدؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ انصارؓ کے بہترین گھروں میں سے بنی نجار کا گھر بنی عبد الاشہل کا گھر بنی حارث بن خزرج کا گھر اور بنی ساعدہ کا گھر ہیں۔ خدا کی قسم اگر میں اس پر کسی کو ترجیح دیتا تو ضرور اپنے قبیلہ کو ترجیح دیتا۔
حضرت ابو اسیدؓ انصاری گواہی دیتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ انصارؓ کے بہترین گھر، بنی نجار پھر بنی عبد الاشہل پھر بنی حارث بن خزرج اور پھر بنی ساعدہ ہیں اور انصارؓ کے سب گھروں میں بھلائی ہے۔ راوی ابو سلمہ کہتے ہیں حضرت ابو اُسیدؓ نے کہا کہ رسول اللہﷺ سے یہ روایت کرنے پر مجھے متہم کیا جاتا ہے۔ اگر میں غلط کہہ رہا تھا تو ضرور اپنی قوم بنی ساعدہ سے شروع کرتا۔ یہ بات حضرت سعد بن عبادہؓ تک پہنچی تو ان کی طبیعت پر گراں گزرا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں پیچھے کر دیا گیا ہے یہاں تک کہ ہم چار میں سے آخری ہوگئے میرے لئے میرے گدھے پر زین کسو۔ میں رسول اللہﷺ کے پاس جا رہا ہوں ان کے بھتیجے سہل نے ان سے بات کی اور کہا کیا آپ اس لئے جا رہے ہیں کہ رسول اللہﷺ کی بات کی تردید کریں؟ حالانکہ رسول اللہﷺ زیادہ جانتے ہیں۔ کیا آپ کے لئے یہ کافی نہیں کہ آپ چار میں سے ایک ہیں۔ چنانچہ انہوں نے ارادہ بدل دیا اور کہا اللہ اور اس کا رسولؐ زیادہ جانتے ہیں اور انہوں نے اپنے گدھے کی زین کھولنے کا حکم دیا اور وہ (زین) کھول دی گئی۔ ایک اور روایت میں (خَیْرُ دُورِ الْاَنْصَارِ کی بجائے) خَیْرُ الْاَنْصَارِ أَوْ خَیْرُ دُورِ الْاَنْصَارِ کے الفاظ ہیں اور اس روایت میں حضرت سعد بن عبادہؓ کے واقعہ کا ذکر نہیں۔