بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 232 hadith
ابن مسیب سے روایت ہے کہ حضرت ابوہریرہؓ نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ ابو ہریرہؓ بہت (حدیثیں) بیان کرتے ہیں _ خدا کے حضور حاضر ہونا ہے_ اور وہ کہتے ہیں کہ مہاجرین اور انصار کو کیا ہوا کہ وہ تو ابوہریرہؓ کی طرح احادیث بیان نہیں کرتے۔ میں تمہیں بتاتا ہوں۔ میرے انصارؓ بھائیوں کو زمینداری کا کام مصروف رکھتا تھا اور میرے مہاجرؓ بھائی بازاروں میں تجارت میں مصروف رہتے اور میں روکھی سوکھی کھا کر رسول اللہﷺ سے چمٹا رہتا۔ پس جب وہ غائب ہو جاتے تو میں حاضر ہوتا جب وہ بھول جاتے تو میں یاد رکھتا۔ ایک روز رسول اللہﷺ نے فرمایا تم میں سے اپنا کپڑا کون پھیلائے گا؟ اور پھر مجھ سے یہ بات سنے گا پھر اس کپڑے کو اپنے سینہ کے ساتھ اکٹھا کرے گا تو وہ اس میں سے کچھ نہ بھولے گا جو اس نے سنا ہوگا میں نے اپنی چادر پھیلا دی یہانتک کہ آپؐ اپنی بات کہہ کر فارغ ہوگئے پھر اسے اکٹھا اپنے سینہ سے لگایا پھر اس دن کے بعد میں کچھ نہیں بھولا جو آپؐ نے مجھے بتایا اور اگر یہ دو آیتیں نہ ہوتیں جو اللہ نے اپنی کتاب میں نازل فرمائیں تو میں کسی سے کوئی حدیث بیان نہ کرتا۔ اِنَّ الَّذِیْنَ یَکْتُمُوْنَ۔۔۔ یقینا وہ لوگ جو اسے چھپاتے ہیں جو ہم نے واضح نشانات اور کامل ہدایت میں سے نازل کیا۔۔۔ دونوں آیتوں کے آخر تک۔ ایک اور روایت میں (قَالَ یَقُوْلُوْنَ اِنَّ اَبَاہُرَیْرَۃَ قَدْ أَکْثَرَ کی بجائے) قَالَ اِنَّکُمْ تَقُوْلُوْنَ اِنَّ اَبَاہُرَیْرَۃَ یُکْثِرُ الْحَدِیْثَ عَنْ رَسُوْلِ اللَّہِﷺ کے الفاظ ہیں۔
عبید اللہ بن ابو رافع جو حضرت علیؓ کے کاتب تھے بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہﷺ نے ہمیں _ مجھے اور زبیرؓ اور مقدادؓ کو_ بھیجا اور فرمایا کہ روضہ خاخ جاؤ، وہاں ایک شتر سوار عورت ہے اس کے پاس ایک خط ہے اس سے وہ لے لو۔ چنانچہ ہم چل پڑے۔ ہمارے گھوڑے ہمیں لے کر سرپٹ دوڑے۔ ہم اس عورت کے پاس پہنچے تو ہم نے کہا کہ وہ خط نکالو۔ اس نے کہا کہ میرے پاس تو کوئی خط نہیں ہے۔ ہم نے کہا کہ تم ضرور خط نکالو گی یا تمہیں اپنے کپڑے اتارنے پڑیں گے۔ اُس نے وہ اپنے بالوں کے جوڑے سے نکالا تو ہم اس (خط) کو لے کر رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ اس (خط) میں تھا ’’حاطب بن ابی بلتعہ کی طرف سے مکہ میں کچھ مشرکوں کی طرف‘‘۔ اس میں انہوں نے ان کو رسول اللہﷺ کے ایک اہم معاملہ کی مخبری کی تھی۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا اے حاطب یہ کیا؟ حاطب نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! آپ میرے بارہ میں جلدی نہ کیجئے۔ میں قریش میں باہر سے آکر ملا ہوا آدمی تھا۔ سفیان (راوی) کہتے ہیں وہ ان کے حلیف تھے لیکن ان میں سے نہیں تھے۔ آپؐ کے ساتھ جو مہاجر ہیں ان کی (اہل مکہ سے) رشتہ داریاں ہیں جن کی وجہ سے وہ ان کے اہل کی حفاظت کرتے ہیں میں نے پسند کیا کہ کیونکہ میرا ان کے ساتھ نسبی تعلق نہیں ہے میں ان سے کوئی احسان کروں جس کے سبب وہ میرے قریبی عزیزوں کی حفاظت کریں اور یہ بات میں نے کفر اور اپنے دین سے ارتداد کی وجہ سے نہیں کی اور نہ ہی اسلام کے بعد کفر پر راضی ہونے کی وجہ سے۔ نبیﷺ نے فرمایا اس نے سچ کہا حضرت عمرؓ نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! مجھے اجازت دیں کہ میں اس منافق کی گردن ماردوں۔ آپؐ نے فرمایا یہ بدر میں موجود تھا اور تمہیں کیا پتہ کہ اللہ نے اہل بدر پر نگاہ ڈالی اور فرمایا کہ تم جو چاہو عمل کرو میں تمہیں بخش چکا ہوں۔ پھر اللہ عز وجل نے یہ آیت نازل فرمائی یَاَیُّھَا لَّذِیْنَ آمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا عُدُوِّیْ۔۔۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو میرے دشمن اور اپنے دشمن کو دوست نہ بناؤ۔ ایک روایت میں آیت (یَاَیُّھَا لَّذِیْنَ آمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا۔۔۔) کا ذکر نہیں اور ایک روایت میں ہے کہ حضرت علیؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے مجھے اور ابو مَرثد غنوی اور حضرت زبیر بن عوامؓ کو بھیجا اور ہم گھڑ سوار تھے اور فرمایا جاؤ یہاں تک کہ تم روضۂ خاخ پہنچ جاؤ۔ وہاں مشرکوں میں سے ایک عورت ہوگی جس کے پاس حاطبؓ کا مشرکوں کی طرف لکھا ہوا خط ہوگا۔ باقی روایت پہلی روایت کی طرح ہے۔
حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ حاطبؓ کا غلام رسول اللہﷺ کے پاس حاطبؓ کی شکایت کرتے ہوئے آیا اور عرض کیا یا رسولؐ اللہ ! حاطب ضرور بالضرور آگ میں داخل ہوگا۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا تم نے غلط کہا ہے وہ اس میں داخل نہیں ہوگا کیونکہ وہ بدر اور حدیبیہ میں شامل تھا۔
حضرت جابر بن عبد اللہؓ بیان کرتے ہیں کہ مجھے حضرت امّ مبشرؓ نے بتایا کہ انہوں نے نبیﷺ کو حضرت حفصہؓ کے ہاں فرماتے ہوئے سنا کہ انشاء اللہ درخت والوں میں سے کوئی بھی جنہوں نے اس کے نیچے بیعت کی تھی آگ میں داخل نہیں ہوگا۔ اس پر حضرت حفصہؓ نے کہا کیوں نہیں یا رسولؐ اللہ! آپؐ نے انہیں سمجھایا۔ حضرت حفصہؓ نے عرض کیا (قرآن میں ہے) اِنْ مِنْکُمْ اِلَّا وَارِدُھَاتم (ظالموں) میں سے کوئی نہیں مگر وہ ضرور اس پر اُترنے والا ہے۔ 1 اس پر نبیﷺ نے فرمایا اللہ عزوجل نے فرمایا ہے ثُمَّ نُنَجِّی الَّذِیْنَ اتَّقَوْا۔۔۔ پھر ہم ان کو بچا لیں گے جنہوں نے تقویٰ اختیار کیا اور ہم ظالموں کو اس میں گھٹنوں کے بل گرے ہوئے چھوڑ دیں گے۔
حضرت ابو موسیٰ ؓ سے روایت ہے کہ میں نبیﷺ کے پاس تھا جبکہ آپؐ جعرانہ میں _ جو مکّہ اور مدینہ کے درمیان ہے_ قیام فرما تھے۔ حضرت بلالؓ آپ کے ساتھ تھے ایک اعرابی شخص رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ محمدؐ! کیا آپ مجھ سے اپنا کیا ہوا وعدہ پورا نہ فرمائیں گے؟ رسول اللہﷺ نے اسے فرمایا تمہیں خوشخبری ہو، اس پر بدوی کہنے لگا آپ مجھے ’’ابشر‘‘ بڑی دفعہ کہہ چکے ہیں۔ اس پر رسول اللہﷺ حضرت ابو موسیٰؓ اور حضرت بلالؓ کی طرف متوجہ ہوئے جیسے کوئی ناراض ہوا اور فرمایا کہ اس نے بشارت کو رد کر دیا ہے۔ پس تم دونوں (یہ بشارت) قبول کر لو ان دونوں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! ہم نے قبول کیا۔ پھر رسول اللہﷺ نے ایک پیالہ منگوایا جس میں پانی تھا۔ اس میں سے اپنے دونوں ہاتھ اور چہرہ دھویا اور اس سے کلی کی۔ پھر فرمایا تم دونوں اس میں سے پی لو اور دونوں اپنے چہروں اور سینوں پر انڈیل لو اور خوش ہوجاؤ چنانچہ ان دونوں نے وہ پیالہ لیا اور ویسے ہی کیا جیسے رسول اللہﷺ نے انہیں کرنے کا حکم فرمایا تھا۔ تو پردے کے پیچھے سے حضرت ام سلمہؓ نے انہیں پکارا کہ جو تم دونوں کے برتن میں ہے اس میں سے کچھ اپنی ماں کے لئے بھی بچاؤ، تو ان دونوں نے ان کے لئے اس میں کچھ بچا دیا۔
ابو بردہ کے والد بیان کرتے ہیں کہ جب نبیﷺ حنین سے فارغ ہوئے تو حضرت ابو عامرؓ کو ایک دستہ پر امیر بنا کر اوطاس کی طرف بھیجا تو درید بن صمۃ سے ان کی مٹھ بھیڑ ہوگئی درید مارا گیا اور اللہ نے اس کے ساتھیوں کو بھی شکست دی۔ حضرت ابو موسیٰ ؓ کہتے ہیں کہ مجھے بھی حضورؐ نے حضرت ابو عامرؓ کے ساتھ بھیجا تھا وہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو عامرؓ کے گھٹنے میں ایک تیر لگا جو بنی جشم کے ایک آدمی نے انہیں مارا تھا اور اسے ان کے گھٹنے میں پیوست کر دیا۔ میں ان کے پاس گیا اور کہا اے چچا آپ کو (تیر) کس نے مارا ہے؟ حضرت ابو عامرؓ نے ابو موسیٰ کو اشارہ کر کے بتایا کہ مجھ پر حملہ کرنے والا وہ شخص ہے جسے تم دیکھ رہے ہو اُس نے مجھ پر تیر مارا ہے۔ حضرت ابو موسیٰ ؓ کہتے ہیں میں نے اس کا قصد کیا اس کا پیچھا کیا اور اسے جا لیا جب اس نے مجھے دیکھا تو مجھ سے پیٹھ پھیر کر بھاگنے لگا۔ میں نے اس کا پیچھا کیا اور اسے کہہ رہا تھا کیا تمہیں شرم نہیں آتی؟ کیا تم عرب نہیں ہو؟ تم ٹھہرتے کیوں نہیں؟ چنانچہ وہ رک گیا پھر میرا اور اس کا آمنا سامنا ہوا۔ دونوں نے ایک دوسرے پر وار کیا پھر میں نے اس پر تلوار سے وار کیا اور اسے قتل کر دیا پھر میں حضرت ابوعامرؓ کے پاس واپس آیا اور کہا کہ اللہ نے آپ کے دشمن کو مار دیا ہے انہوں نے کہا اس تیر کو باہر نکالو۔ میں نے اسے کھینچا تو اس میں سے پانی پھوٹ کر بہنے لگا۔ اس پر انہوں نے کہا اے میرے بھتیجے! رسول اللہﷺ کے پاس جاؤ اور میری طرف سے آپؐ کی خدمت میں سلام عرض کرو کہ ابو عامر آپؐ کی خدمت میں عرض کرتا ہے کہ آپؐ میرے لئے مغفرت کی دعا کریں۔ وہ کہتے ہیں حضرت ابو عامرؓ نے مجھے لوگوں کا امیر مقرر کر دیا۔ چنانچہ وہ کچھ دیر (زندہ) رہے۔ پھر وہ فوت ہوگئے۔ جب میں رسول اللہﷺ کے پاس واپس گیا اور آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپؐ گھر میں کھجور کی بُنی ہوئی چارپائی پر تھے اور اس پر کپڑا تھا اور چٹائی کے نشان آپؐ کی کمر پر اور دونوں پہلوؤں پر تھے۔ میں نے آپؐ کو اپنے اور ابو عامرؓ کے بارہ میں بتایا اور آپؐ سے عرض کیا کہ حضرت ابو عامرؓ نے کہا تھا کہ آپؐ کی خدمت میں عرض کرنا کہ حضورؐ میری مغفرت کی دعا کریں۔ رسول اللہﷺ نے پانی منگوایا اس سے وضوء کیا پھر اپنے ہاتھ اُٹھائے یہاں تک کہ میں نے آپؐ کی بغلوں کی سفیدی دیکھی اور کہا اے اللہ! اس بندہ ابو عامر کو بخش دے۔ یا فرمایا پھر آپؐ نے کہا اے اللہ! اسے قیامت کے دن اپنی بہت سی مخلوق پر فوقیت دینا۔ حضرت ابو موسیٰ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! میرے لئے بھی استغفار کیجئے۔ نبیﷺ نے کہا اے اللہ! عبد اللہ بن قیس کے گناہ بخش دے اور بروز قیامت اسے معزز مقام میں داخل فرما۔ (راوی) ابوبردہ کہتے ہیں کہ دونوں (دعاؤں) میں سے ایک حضرت ابو عامرؓ اور دوسری حضرت ابو موسیٰؓ کے لئے ہے۔
حضرت ابو موسیٰ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ میں اشعری دوستوں کو جب وہ رات (اپنے خیموں میں) داخل ہوتے ہیں ان کے قرآن (پڑھنے) کی آواز سے پہچان لیتا ہوں اور میں ان کی رہائش گاہوں کو بھی رات کو، ان کے قرآن (پڑھنے) کی آوازوں سے پہچان لیتا ہوں اگرچہ میں نے ان کی رہائش گاہوں کو جب کہ وہ اتر رہے تھے نہ دیکھا ہو اور ان میں حکیم ہے جب وہ گھوڑ سواروں سے مقابلہ کرتا ہے یا آپؐ نے فرمایا _ دشمن سے _ تو ان سے کہتا ہے کہ میرے ساتھی تمہیں حکم دیتے ہیں کہ تم ان کا انتظار کرو۔
حضرت ابو موسیٰ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب دوران جنگ اشعری لوگوں کا کھانا ختم ہو جاتا ہے یا مدینہ میں ان کے اہل و عیال کا کھانا کم پڑ جاتا ہے تو جو کچھ ان کے پاس ہوتا ہے وہ ایک کپڑے میں جمع کر لیتے ہیں پھر اسے آپس میں ایک برتن کے ذریعہ برابر برابر تقسیم کر لیتے ہیں لہٰذا وہ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں۔
ابو زمیل کہتے ہیں کہ مجھ سے حضرت ابن عباسؓ نے بیان کیا کہ مسلمان ابو سفیان کو (احترام کی نظر سے) نہ دیکھتے تھے۔ نہ ہی اس کی مجلس میں بیٹھتے تھے۔ چنانچہ اس نے نبیﷺ کی خدمت میں عرض کیا اے اللہ کے نبیؐ ! مجھے تین باتوں کی اجازت مرحمت فرمائیے آپؐ نے فرمایا ہاں۔ اس نے کہا میرے پاس عرب کی حسین ترین اور خوبصورت ترین عورت ام حبیبہ بنت ابو سفیان ہے میں اسے آپ سے بیاہ دیتا ہوں آپؐ نے فرمایا ہاں اس نے کہا کہ معاویہ کو اپنے کاتب کے طور پر رکھ لیں۔ آپؐ نے فرمایا ہاں اس نے کہا کہ آپؐ مجھے امیر بنائیں گے کہ میں کفار سے اس طرح جنگ کروں جس طرح میں مسلمانوں سے جنگ کرتا تھا۔ آپؐ نے فرمایا ہاں۔ ابو زمیل کہتے ہیں کہ اگر وہ نبیﷺ سے یہ طلب نہ کرتے تو آپؐ انہیں عطا نہ فرماتے کیونکہ آپؐ سے کوئی چیز نہیں مانگی گئی۔ آپؐ نے فرمایا ہاں۔
حضرت ابو موسیٰ ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ کی ہجرت کی خبر ملی اور ہم یمن میں تھے تو ہم آپؐ کی طرف، ہجرت کرتے ہوئے نکلے_ میں اور میرے دو بھائی_ میں ان دونوں سے چھوٹا تھا۔ ان میں سے ایک ابو بردہؓ تھے اور دوسرے ابو رہمؓ تھے۔ انہوں نے کہا کہ وہ میری قوم کے پچاس 50 سے کچھ اوپر ترپن 53 یا باون 52 افراد تھے۔ حضرت ابو موسیٰؓ کہتے ہیں ہم ایک کشتی میں سوار ہوگئے۔ ہماری کشتی نے ہمیں نجاشی کے پاس حبشہ میں لا ڈالا۔ وہاں ہم حضرت جعفر بن ابو طالبؓ اور ان کے ساتھ ان کے ساتھیوں سے ملے۔ حضرت جعفرؓ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں یہاں بھیجا تھا اور (یہاں ) قیام کرنے کا حکم فرمایا تھا۔ پس تم لوگ بھی ہمارے ساتھ یہاں قیام کرو۔ حضرت ابو موسیٰؓ کہتے ہیں چنانچہ ہم ان کے پاس رہے یہاں تک کہ ہم سب اکٹھے (مدینہ) گئے۔ وہ کہتے ہیں پھر رسول اللہ ﷺ سے ہماری ملاقات ہوئی تو آپؐ نے خیبر فتح کیا۔ آپؐ نے ہمیں (مال غنیمت سے) حصہ دیا یا اس میں سے ہمیں عطا کیا۔ اور کسی کو جو فتح خیبر سے غیر حاضر تھا اس میں سے کچھ نہ دیا سوائے اس کے جو آپؐ کے ساتھ حاضر تھا اور سوائے ہماری کشتی والے ساتھیوں کے جو جعفرؓ اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ تھے کو بھی ان حاضر اصحابؓ کے ساتھ حصہ دیا۔ وہ کہتے ہیں کہ لوگوں میں سے بعض ہمیں یعنی کشتی والوں سے کہتے ہم تم سے ہجرت میں سبقت لے گئے۔ وہ (ابو موسیٰؓ) کہتے ہیں کہ اسماءؓ بنت عمیس جو ہمارے ساتھ آنے والوں میں سے تھیں اور وہ ان میں سے تھیں جو نبی ﷺ کی زوجہ حضرت حفصہؓ سے ملنے گئی تھیں اور وہ ان میں سے تھیں جنہوں نے نجاشی کی طرف ہجرت کی تھی۔ حضرت عمرؓ حضرت حفصہؓ کے پاس تشریف لائے اور حضرت اسماءؓ ان کے پاس تھیں جب حضرت عمرؓ نے حضرت اسماءؓ کو دیکھا تو پوچھا یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا کہ اسماء بنت عمیسؓ۔ حضرت عمرؓ نے کہا یہ حبشیہ ہے، یہ بحری سفر کرنے والی ہے۔ حضرت اسماءؓ نے کہا جی ہاں۔ اس پر حضرت عمرؓ نے کہا ہم ہجرت میں تم لوگوں پر سبقت لے چکے ہیں اس لئے ہم تمہاری نسبت رسول اللہ ﷺ کے زیادہ حقدار ہیں۔ اس پر حضرت اسماءؓ کو غصہ آگیا اور کہا یہ یہ بات نہیں:۔ اے عمرؓ ! آپ نے ٹھیک نہیں کہا۔ خدا کی قسم آپ لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے۔ حضورؐ تمہارے بھوکے کو کھانا کھلاتے اور تمہارے نادان کو وعظ فرماتے تھے اور ہم دور دراز رہنے والے دشمنوں کے علاقہ یا سر زمین میں تھے اور یہ اللہ اور اس کے رسولؐ کی خاطر تھا اور خدا کی قسم میں اس وقت تک کچھ نہ کھاؤں گی نہ پیوں گی جب تک آپ نے جو کہا ہے اس کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے نہ کرلوں اور ہمیں تکلیف بھی دی جاتی تھی اور ڈرایا بھی جاتا تھا۔ میں تو رسول اللہ ﷺ سے ضرور اس کا ذکر کروں گی اور آپؐ سے دریافت کروں گی۔ خدا کی قسم نہ تو میں جھوٹ بولوں گی اور نہ کوئی پیچ دار بات کروں گی اور نہ اس میں کوئی زیادہ کروں گی۔ وہ (حضرت ابو موسیٰؓ) کہتے ہیں جب نبی ﷺ تشریف لائے تو انہوں (حضرت اسماءؓ) نے عرض کیا اے اللہ کے نبیؐ ! حضرت عمرؓ نے یہ یہ بات کہی ہے۔ اس پر رسول اللہ