بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 232 hadith
حضرت جابر بن عبد اللہؓ بیان کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ کوئی جان بھی سو سال تک نہ پہنچ پائے گی۔ سالم نے کہا کہ ان (حضرت جابرؓ) کی موجودگی میں ہم نے یہ بات کی کہ اس سے مراد صرف ہر وہ نفس ہے جو اس دن پیدا ہو چکا تھا۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ میرے صحابہؓ کو بُرا بھلا مت کہو۔ میرے صحابہؓ کو بُرا بھلا مت کہو۔ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تم میں سے کوئی احد جتنا سونا بھی خرچ کرے وہ ان میں سے کسی ایک کے ایک مد کے برابر یا آدھے مد کے برابر بھی نہیں پہنچ سکتا۔
حضرت ابو سعیدؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت خالد بن ولیدؓ اور حضرت عبد الرحمان بن عوفؓ کے درمیان کوئی بات تھی۔ حضرت خالدؓ نے حضرت عبدالرحمانؓ کو برا بھلا کہا۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ میرے صحابہؓ میں سے کسی کو بُرا بھلا مت کہو۔ اگر تم میں سے کوئی اُحد جتنا سونا بھی خرچ کرے تو بھی وہ اُن میں سے کسی کے مُد کے برابر یا آدھے مُد کے برابر بھی نہیں پہنچ سکتا ہے۔ ایک اور روایت میں حضرت عبدالرحمان بن عوفؓ اور حضرت خالد بن ولیدؓ کا ذکر نہیں ہے۔
اُسیر بن جابرؓ سے روایت ہے کہ اہل کوفہ کا وفد حضرت عمرؓ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ ایک شخص ان میں سے تھا جو حضرت اویسؓ سے تمسخر کرتا تھا۔ تو حضرت عمرؓ نے کہا یہاں پر قرن میں سے کوئی ہے؟ چنانچہ وہ آدمی آیا تو حضرت عمرؓ نے کہا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے کہ تمہارے پاس یمن سے ایک آدمی آئے گا جسے اویسؓ کہا جاتا ہوگا جو صرف اپنی ماں کی وجہ سے یمن کو نہیں چھوڑ سکتا۔ اسے (برص کی) سفیدی ہوگئی تھی۔ اس نے اللہ سے دعا کی تو اس نے اس بیماری کو اس سے دور کردیا سوائے ایک دینار یا فرمایا درہم کی جگہ کے۔ پس تم میں سے جو کوئی اُس (اویسؓ) سے مِلے (تو اس سے کہے) کہ وہ (اویسؓ) تمہارے لئے استغفار کریں۔ ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت عمر بن خطابؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ تابعین میں سے بہترین شخص وہ ہے جو اویسؓ کہلاتا ہے اور اس کی والدہ ہیں اور اُن (اویسؓ) پر سفیدی (بیاض) تھی۔ اُن کو کہنا کہ وہ تمہاے لئے استغفار کریں۔
اُسیر بن جابرؓ بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت عمرؓ کے پاس اہل یمن سے مدد کرنے والے آتے تو آپؓ ان سے پوچھتے کہ کیا تم میں اویسؓ بن عامر ہے؟ یہاں تک کہ آپ اویسؓ کے پاس پہنچ گئے اور فرمایا کہ آپ ہی اویس بن عامر ہیں؟ انہوں نے کہا جی ہاں۔ آپؓ نے فرمایا ’’مراد‘‘ قبیلہ سے اور پھر (بنی) قرن سے؟ انہوں نے کہا جی ہاں۔ آپؓ نے کہا کیا آپؓ کو برص (کا مرض) تھا جس سے سوائے ایک درہم کی جگہ کے آپ صحت یاب بھی ہو چکے ہیں؟ انہوں نے کہا جی ہاں۔ آپؓ نے کہا آپؓ کی والدہ ہیں؟ انہوں نے کہا جی ہاں۔ انہوں (حضرت عمرؓ) نے کہا میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ تمہارے پاس اہل یمن کی کمک کے ساتھ ’’مراد‘‘ قبیلہ سے پھر (بنی) قرن سے اویس بن عامر آئے گا اسے برص تھا جس سے وہ سوائے ایک درہم کی جگہ کے صحت یاب ہو چکا ہے۔ اس کی والدہ ہیں جن سے وہ بہت نیک سلوک کرتا ہے۔ اگر وہ اللہ پر قسم کھائے تو وہ ضرور اس کی قسم پوری کرے۔ پس اگر تمہارے لئے ممکن ہو کہ وہ تمہارے لئے استغفار کرے تو ایسا کرے۔ (حضرت عمرؓ نے اویسؓ سے کہا) تم میرے لئے بخشش مانگو۔ چنانچہ انہوں نے آپؓ کے لئے بخشش مانگی۔ پھر حضرت عمرؓ نے ان سے کہا کہ تم کہاں کا ارادہ رکھتے ہو؟ اس نے کہا کوفہ کا آپؓ نے فرمایا کیا میں وہاں کے عامل کی طرف تمہارے لئے نہ لکھ دوں؟ انہوں نے کہا کہ خاکسار لوگوں میں سے ہونا مجھے زیادہ محبوب ہے۔ وہ (اسیرؓ) کہتے ہیں پھر جب اگلا سال آیا اور ان (بنی قرن) کے سرداروں میں سے ایک آدمی نے حج کیا۔ پھر وہ حضرت عمرؓ سے ملا تو آپؓ نے اس سے اویسؓ کے بارہ میں پوچھا تو اس نے کہا کہ میں نے اسے معمولی سے گھر اور تھوڑے سے سامان میں چھوڑا ہے۔ انہوں (حضرت عمرؓ) نے کہا کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تمہارے پاس اہل یمن سے مدد کرنے والوں کے ساتھ مراد (قبیلہ) سے پھر قرن سے اویسؓ بن عامر آئے گا۔ اسے برص تھا جس سے وہ سوائے ایک درہم کی جگہ کے صحت پا چکا ہے۔ اس کی والدہ ہے جس سے وہ بہت نیک سلوک کرتا ہے۔ اگر وہ اللہ پر قسم کھائے تو وہ ضرور اس کی قسم پوری کرے۔ پس اگر تیرے لئے ممکن ہو کہ وہ تیرے لئے بخشش طلب کرے۔ تو ایسا ضرور کرنا۔ چنانچہ وہ (حج پر آنے والا سردار) اویسؓ کے پاس آیا اور کہا میرے لئے بخشش مانگو۔ انہوں (حضرت اویسؓ) نے کہا کہ تم ابھی ابھی نیک سفر سے واپس آئے ہو، تم میرے لئے استغفار کرو۔ انہوں نے کہا تم میرے لئے استغفار کرو۔ انہوں (اویسؓ) نے کہا تم ابھی ابھی ایک نیک سفر سے واپس آئے ہو، تم میرے لئے استغفار کرو۔ انہوں (اویسؓ) نے کہا کیا تم حضرت عمرؓ سے ملے ہو _ اس نے کہا ہاں _ پھر انہوں نے اس کے لئے بخشش مانگی۔ تو لوگ ان کا مقام سمجھ گئے۔ وہ اس جگہ پر سے چلے گئے۔ اس پروہ کہتے ہیں میں نے ان کو ایک چادر پہننے کو دی۔ اسیرؓ نے کہا کہ ان کا کپڑا ایک چادر تھی جب بھی کوئی انسان انہیں دیکھتا تو پوچھتا کہ اویسؓ کو یہ چادر کہاں سے ملی؟
حضرت ابو ذرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا تم ضرور ایسا ملک فتح کرو گے جہاں قیراط کا عام ذکر ہوتا ہے پس اس کے رہنے والوں سے نیک سلوک کرنا کیونکہ ان کے لئے (تم پر) ذمہ داری ہے اور صلہ رحمی اور اگر تم اینٹ جتنی جگہ کے لئے دو آدمیوں کو لڑتا دیکھو تو وہاں سے نکل پڑو۔ راوی کہتے ہیں جب وہ، ربیعہ اور عبدالرحمان بن شرحبیل بن حسنہ کے پاس سے گذرے تو وہ دونوں اینٹ جتنی جگہ کے لئے جھگڑ رہے تھے چنانچہ وہ وہاں سے نکل گئے۔
حضرت ابو ذرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا تم مصر کو فتح کرو گے وہ ایسا ملک ہے جہاں قیراط کا نام چلتا ہے۔ پس جب تم اسے فتح کر چکو تو اس کے رہنے والوں سے احسان کا سلوک کرنا کیونکہ ان کے لئے ذمہ داری اور صلہ رحمی (بھی) ہے یا فرمایا کہ ذمہ داری اور مصاہرت ہے پھر جب تم اس میں دو آدمیوں کو اینٹ جتنی جگہ پر لڑتا دیکھو تو وہاں سے نکل جانا۔ راوی کہتے ہیں پھر میں نے عبدالرحمان بن شرحبیل بن حسنہ اور ان کے بھائی ربیعہ کو اینٹ جتنی جگہ پر جھگڑتے دیکھا تو میں وہاں سے نکل گیا۔
حضرت ابو برزہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے عرب کے قبائل میں سے ایک قبیلہ کی طرف ایک آدمی بھیجا تو انہوں نے اسے بُرا بھلا کہا اور مارا۔ اس پر وہ رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپؐ کو اطلاع دی۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ اگر تم اہل عمان کے پاس جاتے تو نہ تمہیں وہ بُرا بھلا کہتے نہ ہی تمہیں مارتے۔
ابو نوفل سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ (کی لاش) کو مدینہ کی ایک گھاٹی پر دیکھا۔ وہ کہتے ہیں کہ قریش اور دوسرے لوگ ان کے پاس سے گذرنے لگے یہانتک کہ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ اُن کے پاس سے گزرے تو ان کے پاس کھڑے ہوگئے پھر کہا ابو خبیب تجھ پر سلامتی ہو ابو خبیب تجھ پر سلامتی ہو ابو خبیب تجھ پر سلامتی ہو۔ سنو! خدا کی قسم میں تجھے اس سے منع کیا کرتا تھا۔ سنو، خدا کی قسم میں تجھے اس سے منع کیا کرتا تھا۔ سنو، خدا کی قسم میں تجھے اس سے منع کیا کرتا تھا اور سنو خدا کی قسم مجھے علم ہے کہ تم بہت روزے رکھنے والے بہت قیام کرنے والے بہت صلہ رحمی کرنے والے تھے اور خدا کی قسم اگر تم کسی امت کے بدترین شخص بھی ہوتے تو وہ امت بہترین ہوتی۔ پھر حضرت عبد اللہ بن عمرؓ چلے گئے پھر حجاج تک حضرت عبد اللہؓ کے کھڑے ہونے اور ان کے بات کرنے کی خبر پہنچی تو ان کی طرف آدمی بھیجے اور انہیں سولی پر سے اتار لیا گیا اور یہود کی قبروں میں ڈال دیا گیا پھر اس نے ان کی والدہ حضرت اسماء بنت ابی بکرؓ کو بلا بھیجا لیکن انہوں نے اس کے پاس جانے سے انکار کر دیا اس نے پھر ان کے پاس وہی ایلچی بھیجا کہ تمہیں ضرور خود میرے پاس آنا پڑے گا ورنہ میں ضرور تمہارے پاس کسی کو بھیجوں گا جو تمہیں تمہارے بالوں سے گھسیٹے گا۔ راوی کہتے ہیں انہوں نے انکار کیا اور کہا کہ اللہ کی قسم! میں ہر گز تمہارے پاس نہیں آؤں گی یہانتک کہ تم میرے پاس میرے بالوں سے گھسیٹنے والا نہ بھیجو۔ راوی کہتے ہیں پھر حجاج نے کہا کہ میری جوتیاں لاؤ پس اس نے اپنے جوتے پہنے اور اکڑتا ہوا تیز چلنے لگا یہانتک کہ ان کے پاس پہنچا اور کہا کہ تم نے مجھے دیکھ لیا کہ میں نے اللہ کے دشمن سے کیسا سلوک کیا حضرت اسماءؓ نے کہا کہ میں نے بھی تمہیں دیکھ لیا کہ تم نے اس کی دنیا بگاڑ دی اور اس نے تیری آخرت بگاڑ دی۔ مجھے پتہ چلا ہے کہ تم اسے کہتے ہو اے ذات النطاقین (دو کمر بند والی) کے بیٹے! خدا کی قسم میں ذات النطاقین (دو کمر بند والی) ہوں، ایک کمر بند میں تو میں رسول اللہﷺ اور حضرت ابو بکرؓ کا کھانا جانوروں سے بچانے کے لئے اٹھاتی تھی اور دوسرا عورت کا کمر بند ہے جس سے وہ مستغنی نہیں ہو سکتی۔ سنو رسول اللہﷺ نے ہمیں بتایا تھا کہ ثقیف میں ایک جھوٹا اور ایک ہلاک کرنے والا شخص ہوگا پس جھوٹے کو تو ہم نے دیکھ لیا جہاں تک ہلاک کرنے والے کا تعلق ہے میرا خیال ہے وہ تم ہی ہو۔ راوی کہتے ہیں پھر حجاج آپؓ کے پاس سے کھڑا ہوا اور اس نے حضرت اسماءؓ کا کوئی جواب نہ دیا۔
حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر دین ثریا پر بھی ہوتا تو ضرور فارس میں سے یا فرمایا ابناء فارس میں سے ایک شخص اس تک پہنچتا یہاں تک کہ اسے حاصل کر لیتا۔