بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 232 hadith
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا اونٹوں پر سوار ہونے والی بہترین عورتیں وہ ہیں جو قریش کی نیک عورتیں ہیں۔ وہ یتیم پر اس کی چھوٹی عمر میں بڑی مہربان ہوتی ہیں اور اپنے خاندان کے ہاتھ کی کمائی کا بڑا خیال رکھنے والی ہوتی ہیں۔ ایک راوی نے صَالِحُ نِسَائِ قُرَیْشٍ کے الفاظ کہے ہیں اور دوسرے راوی نے نِسَائُ قُرَیْشٍ کے الفاظ کہے ہیں۔ ایک روایت میں (أَحْنَاہُ عَلَی یَتِیْمٍ کی بجائے) أَرْعَاہُ عَلَی وَلَدٍ کے الفاظ ہیں۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ اونٹ پر سوار ہونے والی عورتوں میں سے بہترین عورتیں قریش کی عورتیں ہیں جو بچہ پر بڑی مہربان اور اپنے خاوند کے ہاتھ کی کمائی کا بہت زیادہ خیال رکھنے والی ہوتی ہیں۔ راوی کہتے ہیں۔ حضرت ابو ہریرہؓ اس کے بعد کہا کرتے تھے کہ حضرت مریمؑ بنت عمران تو کبھی اونٹ پر سوار نہ ہوئیں۔ حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے حضرت ام ھانیؓ بنت ابی طالب کو پیغام دیا تو انہوں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! میں بوڑھی ہوگئی ہوں اور میں عیالدار ہوں۔ اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ بہترین عورتیں جو سوار ہونے والی ہیں۔۔۔۔۔ باقی روایت سابقہ روایت کی طرح ہے سوائے اس کے کہ اس میں أَحْنَاہُ عَلَی وَلَدٍ فِیْ صِغَرِہِ کے الفاظ ہیں کہ وہ (عورتیں) بچہ پر اس کی صغر سنی میں سب سے زیادہ مہربان ہوتی ہیں۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اونٹوں پر سوار ہونے والی بہترین عورتیں وہ ہیں جو قریش کی نیک عورتیں ہیں جو بچہ پر اس کی صغر سنی میں بہت زیادہ مہربان اور اپنے خاوند کے ہاتھ کی کمائی کا سب سے زیادہ خیال رکھنے والی ہیں۔
حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابو عبیدہؓ بن الجراح اور حضرت ابو طلحہؓ کے درمیان مؤاخات قائم فرمائی۔
عاصم الاحول کہتے ہیں کہ حضرت انس بن مالکؓ سے کہا گیا آپ تک یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ اسلام میں حلف نہیں؟ حضرت انسؓ نے کہا کہ رسول اللہﷺ نے قریش اور انصارؓ کے درمیان ان کے گھر میں مؤاخات کروائی۔
حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے مدینہ میں ان کے گھر میں قریش اور انصارؓ کے درمیان مؤاخات کروائی۔
حضرت جبیر بن مطعمؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا اسلام میں کوئی حلف نہیں اور جاہلیت میں حلف کی جو بھی (اچھی اور مفید) صورت تھی اسے اسلام نے اور زیادہ مضبوط کردیا ہے۔
ابو بردہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہﷺ کے ساتھ مغرب پڑھی پھر ہم نے کہا کیوں نہ ہم بیٹھے رہیں حتی کہ آپؐ کے ساتھ عشاء بھی پڑھ لیں۔ راوی کہتے ہیں چنانچہ ہم بیٹھے رہے پھر آپؐ ہمارے پاس باہر تشریف لائے تو آپؐ نے فرمایا تم یہیں رہے؟ ہم نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! ہم نے آپؐ کے ساتھ مغرب پڑھی پھر ہم نے کہا کہ ہم بیٹھے رہتے ہیں حتّی کہ آپؐ کے ساتھ عشاء پڑھ لیں۔ آپؐ نے فرمایا تم نے بہت اچھا کیا یا فرمایا تم نے ٹھیک کیا۔ راوی کہتے ہیں پھر آپؐ نے آسمان کی طرف سر اُٹھایا اور آپؐ بہت دفعہ اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا کرتے تھے اور آپؐ نے فرمایا ستارے آسمان کے لئے باعث امن ہیں پس جب ستارے چلے جائیں گے تو آسمان پر وہ آ جائے گا جس کا وعدہ دیا جاتا ہے اور اسی طرح میں اپنے صحابہؓ کے لئے باعثِ امن ہوں۔ جب میں چلا جاؤں گا تو میرے صحابہؓ پر وہ آ جائے گا جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے اور میرے صحابہؓ میری امت کے لئے باعث امن ہیں۔ پھر جب میرے صحابہؓ چلے جائیں گے تو میری امت پر وہ آ جائے گا جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے۔
حضرت ابو سعید خدریؓ بیان کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا لوگوں پر ایک زمانہ آئے گا کہ لوگوں میں سے ایک جماعت جنگ کرے گی تو ان سے کہا جائے گا تم میں کوئی ہے جس نے رسول اللہﷺ کو دیکھا ہو؟ وہ کہیں گے ہاں! تو انہیں فتح ہو گی۔ پھر لوگوں میں سے ایک جماعت جنگ کرے گی تو ان سے کہا جائے گا تم میں کوئی ہے جس نے رسول اللہﷺ کے صحابیؓ کو دیکھا ہو؟ وہ کہیں گے ہاں، چنانچہ انہیں فتح ہو گی پھر لوگوں کی ایک جماعت جنگ کے لئے نکلے گی تو ان سے کہا جائے گا کیا تم میں کوئی ہے جو رسول اللہﷺ کے صحابیؓ کی صحبت میں رہا ہو؟ اس پر وہ کہیں گے ہاں، تو ان کو فتح دے دی جائے گی۔
حضرت ابو سعیدؓ خدری بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ ان میں سے ایک لشکر لڑائی کے لئے بھیجا جائے گا وہ کہیں گے دیکھو کیا تم میں کوئی نبیﷺ کا صحابیؓ ہے؟ تو ایک شخص پایا جائے گا اس کی وجہ سے انہیں فتح دی جائے گی۔ پھر دوسرا لشکر بھیجا جائے گا تو وہ کہیں گے کیا اُن میں کوئی ہے جس نے نبیﷺ کے صحابہؓ کو دیکھا ہو، اس کی وجہ سے انہیں فتح دی جائے گی۔ پھر تیسرا لشکر بھیجا جائے گا تو کہا جائے گا کیا تم ان میں سے کسی کو دیکھتے ہو جس نے اسے دیکھا ہو جس نے نبیﷺ کے صحابہؓ کو دیکھا؟ پھر چوتھا لشکر ہو گا تو کہا جائے گا کیا تم ان میں کسی کو دیکھتے ہو جس نے اسے دیکھا ہو جس نے کسی کو دیکھا ہو جس نے نبیﷺ کے صحابہؓ کو دیکھا ہو؟ (تبع تابعی) پھر انہیں اس کی وجہ سے فتح دے دی جائے گی۔