بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 288 hadith
حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کے ساتھ مدینہ میں ظہر چار رکعت پڑھیں اور آپؐ کے ساتھ ذو الحلیفۃمیں عصر دو رکعت پڑھیں۔
حضرت حارثہ بن وہبؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کے ساتھ مِنٰی میں دورکعت پڑھیں جبکہ لوگ بہت امن میں تھے اور تعداد میں بہت تھے۔
یحیٰبن یزید ہنائی سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں نے حضرت انس بن مالکؓ سے نماز قصر کرنے کے بارہ میں پوچھا۔ انہوں نے بتایا کہ جب رسول اللہﷺ تین میل یا تین فرسخ کی مسافت پر جاتے۔ ] اس بارہ میں شک شعبہ (راوی) کو ہے[٭ تو دو رکعتیں پڑھتے۔
جبیر بن نفیر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے شرحبیل بن سمط کے ساتھ ایک بستی کی طرف گیاجو سترہ یا اٹھارہ میل کی مسافت پر تھی۔ انہوں نے دو رکعت نماز پڑھی میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت عمرؓ کو ذو الحلیفہ میں دو رکعت پڑھتے دیکھا تو میں نے ان سے پوچھا انہوں نے کہا کہ میں تو و ہی کرتا ہوں جو میں نے رسول اللہﷺ کو کرتے دیکھا۔ ایک اور روایت ابن سمط سے مروی ہے۔ جس میں راوی نے شرحبیل کانام نہیں لیا نیز انہوں نے کہاکہ وہ حمص کے اس علاقہ میں آئے جسے دومین کہا جاتا ہے جو اٹھارہ میل کی مسافت پر ہے۔
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ مدینہ سے مکہ کی طرف نکلے۔ آپؐ نے دو دو رکعت پڑھیں یہانتک کہ آپؐ واپس تشریف لے آئے میں نے پوچھا کہ آپؐ مکہ میں کتنی دیر رہے؟ انہوں نے کہا دس (دن)۔ ایک دوسری روایت میں ہے کہ یحیٰ بن ابو اسحاق کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس بن مالکؓ کو کہتے ہوئے سنا کہ ہم مدینہ سے حج کے لئے نکلے۔ ۔ ۔ ۔ حضرت انس بن مالکؓ کی ایک اور روایت ہے مگر اس میں حج کا ذکر نہیں کیا۔
سالم بن عبد اللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں رسول اللہﷺ نے منیٰ وغیرہ (مقامات) میں مسافر کی نماز دورکعت ادا فر مائیں۔ اسی طرح حضرت ابوبکرؓ حضرت عمرؓ نے بھی نیز حضرت عثمانؓ نے اپنی خلافت کے آغاز میں دو رکعت ہی پڑھیں۔ پھر (حضرت عثمانؓ )پوری چار پڑھتے رہے۔ ایک دوسری روایت میں وَغَیْرِہٖ کے الفاظ نہیں ہیں۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے مِنٰی میں دورکعتیں پڑھیں۔ آپؐ کے بعد حضرت ابوبکرؓ نے اور ان کے بعد حضرت عمرؓ نے اور حضرت عثمانؓ نے اپنی خلافت کے آغاز میں دو رکعت ہی پڑھیں۔ پھر حضرت عثمانؓ نے بعد میں چار رکعتیں پڑھیں۔ حضرت ابن عمرؓ جب امام کے ساتھ پڑھتے تو چار (رکعت) پڑھتے اور جب اکیلے پڑھتے تو دو رکعت پڑھتے۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے مِنٰی میں مسافر کی نمازپڑھی اور حضرت ابوبکرؓ حضرت عمرؓ نے بھی اور حضرت عثمانؓ نے آٹھ سال یا کہا چھ سال تک۔ حفص کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمرؓ منٰی میں دو رکعت پڑھتے پھر اپنے بستر پر آتے۔ میں نے کہا اے چچا !آپ اس کے بعد دو رکعت پڑھ لیتے؟ انہوں نے کہا کہ اگر میں ایسا کرتا تو نماز پوری پڑھتا۔ ایک دوسری روایت میں مِنٰی کے الفاظ نہیں کہے مگر صَلّٰی فِی السَّفَرِ کے الفاظ کہے۔
عبدالرحمان بن یزید کہتے ہیں کہ حضرت عثمانؓ نے مِنٰی میں ہمیں چار رکعت پڑھائیں۔ جب یہ بات حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ سے کہی گئی تو انہوں نے اس پر انّا للّٰہ کہاپھر کہا میں نے رسول اللہﷺ کے ساتھ مِنٰی میں دو رکعتیں پڑھیں اور حضرت ابو بکرؓ کے ساتھ مِنٰی میں دو رکعتیں پڑھیں اور حضرت عمر بن خطابؓ کے ساتھ مِنٰی میں دو رکعتیں پڑھیں۔ کاش میرے حصہ میں چار رکعت میں سے دو رکعت ہی مقبول ہوجائیں۔
حضرت حارثہ بن وہبؓ خزاعی نے بتایا کہ میں نے رسول اللہﷺ کے پیچھے مِنٰی میں حجۃ الوداع کے موقعہ پر نماز پڑھی جبکہ لوگ تعداد میں بہت زیادہ تھے آپؐ نے دورکعت پڑھائیں۔ امام مسلم کہتے ہیں کہ حضرت حارثہ بن وہب خزاعی، عبیداللہ بن عمر بن خطابؓ کے والدہ کی طرف سے بھائی ہیں۔