بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 288 hadith
یحیٰبن یحیٰکہتے ہیں کہ میں نے (امام) مالک کے سامنے نافع سے روایت کرتے ہوئے یہ روایت پڑھی کہ حضرت ابن عمرؓ نے (شدید) سردی اور تیز ہوا والی رات نماز کے لئے اذان دی تو کہا کہ سنو !قیام گا ہوں میں نماز پڑھ لو پھر کہا جب ٹھنڈی بارش والی رات ہوتی تو رسول اللہﷺ مؤذن کو حکم فرماتے کہ وہ کہے کہ سنو قیام گا ہوں میں نماز پڑھ لو۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ جدھر بھی آپؐ کی اونٹنی آپؐ کو لے کر رخ کرلیتی نوافل پڑھ لیتے۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ اپنی سواری پر جدھر بھی وہ رخ کرلیتی نماز پڑھا کرتے تھے۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو گدھے پر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا جبکہ آپؐ کارُخ خیبر کی طرف تھا۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ
عبیداللہ نے ہمیں بتایا کہ مجھے نافع نے حضرت ابن عمرؓ کے بارہ میں بتایا کہ انہوں نے ٹھنڈی اور تیز ہوا اور بارش والی رات نماز کے لئے اذان دی تو اپنی اذان کے آخر میں کہا کہ سنو اپنی قیام گا ہوں میں نماز پڑھ لو۔ سنو، سنو! قیام گاہوں میں نماز پڑھ لو۔ پھر انہوں نے کہا جب سفر میں ٹھنڈی یا بارش والی رات ہوتی تو رسول اللہﷺ مؤذن کو یہ کہنے کاارشاد فرماتے کہ وہ کہے سنو اپنی قیام گاہوں میں نماز پڑھ لو۔ ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت ابن عمرؓ نے ایک مرتبہ ضجنان کے مقام پر اذان دی۔ پھر آگے(راوی نے) ایسی ہی بات بیان کی اور کہا کہ سنو! اپنی قیام گا ہوں میں نماز پڑھ لو لیکن (راوی) نے حضرت ابن عمرؓ کے اس قول کہ’’سنو! اپنی قیام گاہوں میں نماز پڑھ لو‘‘کو دوسری دفعہ نہیں دہرایا۔
حضرت جابرؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ ایک سفر میں نکلے کہ ہمیں بارش نے آلیا اس پر آپؐ نے فرمایا تم میں سے جو چاہے اپنی قیام گاہ میں ہی نماز پڑھ لے۔
عبد اللہ بن حارث حضرت عبداللہ بن عباسؓ کے بارہ میں روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بارش والے دن اپنے مؤذن سے کہا کہ جب تم اَشْہَدُ اَنْ لَّا اِلٰہ اِلَّااللّٰہ اَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللّٰہ کہو تو حَیَّ عَلَی الصَّلاۃِ (نماز کے لئے آؤ) مت کہو بلکہ کہو صَلُّوا فِی بُیُوتِکُم (اپنے گھروں میں ہی نماز پڑھ لو)۔ راوی کہتے ہیں کہ گو یا لوگوں نے اس کو عجیب سمجھا تو انہوں نے کہا کہ تم اس بات پر تعجب کرتے ہو مجھ سے بہتر ہستی نے ایسا ہی کیا تھا۔ یقینا جمعہ ضروری ہے مگر میں نے نا پسند کیا کہ تمہیں نکالوں اور تم کیچڑ اور پھسلن میں چلتے ہوئے آؤ۔ عبدالحمید کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن حارث سے سنا کہ حضرت عبداللہؓ بن عباس نے ہم سے کیچڑ والے دن کہا۔ آگے راوی نے ابن عُلَیّہ کے ہم معنی روایت بیان کی لیکن اس میں جمعہ کا ذکر نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسے مجھ سے بہتر ہستی نے کیا تھا۔ ان کی مرادنبیﷺ سے تھی۔ ایوب اور عاصم الاحول نے یہ ذکر نہیں کیا ان کی مرادنبیﷺ سے تھی۔ زیادی کے ساتھی عبدالحمیدنے ہمیں بتایا کہ میں نے عبد اللہ بن حارث کو کہتے ہوئے سنا کہ جمعہ کے روز بارش والے دن حضرت ابن عباسؓ کے مؤذن نے اذان دی آگے انہوں نے ابن عُلَیّہ والی روایت بیان کی۔ نیز ناپسند کیا کہ تم پھسلن اور کیچڑ میں چل کر آؤ۔ معمر کی روایت میں ہے کہ حضرت ابن عباسؓ نے اپنے مؤذن کو جمعہ کے روز بارش والے دن حکم دیا تھا اور اس روایت میں یہ بھی ذکر ہے فَعَلَہُ مَنْ ھُوَ خَیرٌ مِنّی کہ یہ کام انہوں نے بھی کیا تھا وہ مجھ سے بہتر تھے اور ان کی مرادنبیﷺ تھے۔ عبد اللہ بن حارث سے ایوب کی روایت میں ہے کہ وھیب نے کہا کہ اس (ایوب) نے (عبد اللہ بن حارث) سے یہ بات نہیں سنی تھی کہ انہوں نے کہا کہ حضرت ابن عباسؓ نے اپنے مؤذن کو جمعہ کے دن بارش والے روز حکم دیا تھا۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ مکہ سے مدینہ آتے ہوئے اپنی سواری پر جدھر بھی اس کا رخ ہوتا نماز پڑھ لیتے انہوں نے کہا کہ اس بارہ میں یہ آیت نازل ہوئی {فَاَیْنَمَا تُوَلُّوافَثَمَّ وَجْہُ اللّٰہِ }(البقرۃ: 116) جدھربھی تم رُخ کرو گے ادھر ہی اللہ کی توجہ ہوگی۔ ابن مبارک اور ابن ابوزائدہ کی روایت میں ہے کہ پھر حضرت ابن عمرؓ نے یہ آیت تلاوت کی {فَاَیْنَمَا تُوَلُّوافَثَمَّ وَجْہُ اللّٰہِ } (البقرۃ: 116) اور کہا کہ اس بارہ میں یہ آیت ناز ل ہوئی۔
سعید بن یسار سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت ابن عمرؓ کے ساتھ مکہ کے راستہ پر سفر کررہا تھا۔ سعید کہتے ہیں کہ جب مجھے صبح ہونے کا خیال ہوا تو میں (سواری سے) نیچے اترا اور وتر پڑھے پھر ان سے جاملا۔ حضرت ابن عمر ؓ نے مجھ سے پوچھا تم کہاں تھے؟ میں نے ان سے کہا کہ مجھے فجر کے بارہ میں خیال ہوا چنانچہ میں نیچے اترا اور وتر پڑھے۔ حضرت عبداللہؓ کہنے لگے کیا رسول اللہﷺ میں تمہارے لئے اُسوہ نہیں ہے؟ میں نے کہا کیوں نہیں اللہ کی قسم۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہﷺ اونٹ پر ہی وتر پڑھ لیتے تھے۔