بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 186 hadith
حضرت ابن عباسؓ کے پاس لوگوں نے نبیذ کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کے لئے مشکیزہ میں نبیذ بنائی جاتی تھی _ شعبہ کہتے ہیں پیر کی رات اور پیر اور منگل (کے دن) عصر تک_ اگر اس میں سے کچھ بچ جاتی تو خادم کو پلا دیتے یا سارے کو گرا دیتے۔
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کے لئے منقہ بھگویا جاتا تھا تو آپؐ اسے اس دن، اگلے دن اور اگلے دن شام تک پیتے تھے۔ پھر آپؐ ارشاد فرماتے تو اسے پی لیا جاتا یا گرا دیا جاتا۔
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے لئے مشکیزہ میں منقہ کی نبیذ بنائی جاتی۔ آپؐ اسے اس دن اگلے دن اور تیسرے دن پیتے اور جب تیسرے دن کی شام ہوتی تو آپؐ اسے پیتے اور پلاتے اور اگر کچھ بچ رہتا تو اسے گرانے کا ارشاد فرماتے۔
لوگوں نے حضرت ابن عباسؓ سے شراب بیچنے اور خریدنے اور اس کی تجارت کے بارہ میں سوال کیا۔ انہوں نے کہا کیا تم مسلمان ہو؟ انہوں نے کہا ہاں۔ انہوں نے کہا تو سنو! اس کا خریدنا اور بیچنا اور اس کی تجارت کرنا درست نہیں ہے۔ راوی کہتے ہیں انہوں نے ان سے نبیذ سے متعلق پوچھا۔ انہوں نے کہا رسول اللہ ﷺ ایک سفر کے لئے نکلے پھر آپؐ واپس تشریف لائے۔ آپؐ کے صحابہؓ نے حنتم اور نقیر اور دباء میں نبیذ بنائی۔ آپؐ نے اس کے متعلق ارشاد فرمایا تو وہ گرا دی گئی۔ پھر آپؐ نے مشکیزہ کے بارہ میں ارشاد فرمایا تو اس میں منقہ اور پانی ڈالا گیا تو رات کو بنایا گیا۔ جب صبح ہوئی تو اس دن آپؐ نے اس میں سے پیا اور اگلی رات اور اگلے روز یہاں تک کہ شام ہو گئی اور آپؐ نے پیا اور پلایا۔ جب صبح ہوئی تو اس میں سے جو باقی رہا اس کے بارہ میں آپؐ نے ارشاد فرمایا تو اسے بہا دیا گیا۔
ثمامہ یعنی ابن حزن قشیری بیان کرتے ہیں وہ کہتے ہیں میں حضرت عائشہؓ سے ملا اور ان سے نبیذ کے متعلق پوچھا۔ حضرت عائشہؓ نے ایک حبشی لڑکی کو بلایا اور کہا اس سے پوچھو کیونکہ یہ رسول اللہﷺ کے لئے نبیذ بناتی تھی۔ اس نے کہا میں آپؐ کے لئے مشکیزہ میں رات کے وقت نبیذ بناتی تھی اور اس کا منہ بند کردیتی تھی اور اسے لٹکا دیتی۔ جب صبح ہوتی تو آپؐ اس میں سے پیتے۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے آپؓ فرماتی ہیں ہم رسول اللہﷺ کے لئے مشکیزہ میں نبیذ بناتے تھے جس کے اوپر کا حصہ باندھ دیا جاتا تھا اور اس کا چھوٹا منہ تھا۔ ہم صبح کو نبیذ بناتے آپؐ اسے رات کو پیتے اور ہم رات کو نبیذ بناتے، آپؐ اسے صبح کو پیتے۔
حضرت سہل بن سعدؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں حضرت ابو اسید ساعدیؓ نے رسول اللہﷺ کو اپنی شادی میں دعوت دی۔ اس دن ان کی بیوی ان کی خدمت کر رہی تھی اور وہی دلہن تھی۔ حضرت سہلؓ کہتے ہیں تم جانتے ہو اس نے رسول اللہﷺ کو کیا پلایا۔ اس نے آپؐ کے لئے ایک برتن میں رات کو کھجوریں بھگو دیں۔ جب آپؐ نے کھانا کھا لیا تو اس نے آپؐ کو وہ پلایا۔ ایک اور روایت میں فَلَمَّا أَکَلَ سَقَتْہُ اِیَّاہُ کے الفاظ نہیں ہیں۔ اور ایک روایت میں ہے کہ انہوں نے کہا ایک پتھر کے برتن میں (بھگوئیں) تو جب رسول اللہﷺ کھانے سے فارغ ہوئے تو اس نے اس کو حلّ کیا اور آپؐ کو پلایا۔ خاص کر آپؐ کو پیش کیا۔
حضرت سہل بن سعدؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہﷺ کے سامنے ایک عرب خاتون کا ذکر ہوا۔ آپؐ نے ابو اُسیدؓ کو اسے پیغام بھیجنے کے لئے فرمایا۔ انہوں نے پیغام بھیجا وہ آئی اور بنو ساعدہ کے قلعہ میں اتری۔ رسول اللہﷺ باہر تشریف لائے یہانتک کہ اس کے پاس آگئے۔ کیا دیکھتے ہیں کہ وہ عورت اپنا سر جھکائے ہوئے ہے۔ جب رسول اللہﷺ نے اس سے گفتگو فرمائی تو اس نے کہا میں آپؐ سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں۔ آپؐ نے فرمایا میں نے تجھے اپنے آپ سے پناہ دی۔ لوگوں نے اسے کہا کیا تو جانتی ہے کہ یہ کون تھے؟ اس نے کہا نہیں انہوں نے کہا یہ رسول اللہﷺ تھے جو تیرے پاس تشریف لائے تھے تاکہ تمہیں شادی کا پیغام دیں۔ اس نے کہا میں اس سے بہت ہی زیادہ بے نصیب تھی۔ حضرت سہلؓ کہتے ہیں اس دن رسول اللہﷺ اپنے صحابہؓ کے ساتھ سقیفہ بنی ساعدہ میں تشریف لائے۔ پھر آپؐ نے سہلؓ سے فرمایا کہ ہمیں (پانی) پلاؤ۔ وہ کہتے ہیں میں نے اپنا یہ پیالا نکالا اور اس میں لوگوں کو پلایا۔ ابو حازم کہتے ہیں حضرت سہلؓ نے ہمارے لئے وہ پیالہ نکالا پس ہم نے اس میں پیا۔ راوی کہتے ہیں اس کے بعد عمر بن عبد العزیزؒ نے ان سے وہ پیالہ بطور ہبہ چاہا انہوں نے وہ انہیں ہبہ کردیا۔ ایک روایت میں اِسْقِنَا یَا سَہْلُ کے الفاظ ہیں۔
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ میں نے اپنے اس پیالہ سے رسول اللہﷺ کو تمام مشروب پلائے ہیں شہد اور نبیذ اور پانی اور دودھ۔
حضرت براءؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں حضرت ابو بکر صدیقؓ بیان کرتے تھے جب ہم نبی ﷺ کے ساتھ مکہ سے مدینہ کی طرف گئے تو ہم ایک چرواہے کے پاس سے گذرے اور رسول اللہ ﷺ نے پیاس محسوس کی۔ وہ کہتے ہیں میں نے آپؐ کے لئے تھوڑا سا دودھ دوہا اور آپؐ کے پاس لے کر آیا۔ آپؐ نے پیا یہاں تک کہ میں خوش ہوگیا۔