بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 186 hadith
حضرت براءؓ کہتے ہیں جب رسول اللہﷺ مکہ سے مدینہ تشریف لا رہے تھے تو سراقہ بن مالک بن جُعْشُم نے آپؐ کا تعاقب کیا۔ وہ کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے اس کے خلاف دعا کی اس کا گھوڑا دھنس گیا۔ اس نے کہا آپؐ میرے لئے دعا کریں، میں آپؐ کو کوئی نقصان نہیں پہنچاؤں گا۔ وہ کہتے ہیں آپؐ نے اللہ سے دعا کی۔ وہ کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے پیاس محسوس کی۔ وہ ایک بکریاں چرانے والے کے پاس سے گذرے۔ حضرت ابو بکر صدیق ؓ کہتے ہیں میں نے پیالہ لیا اور اس میں رسول اللہﷺ کے لئے تھوڑا سا دودھ دوہا۔ اور وہ آپؐ کے پاس لے کر آیا۔ آپؐ نے پیا یہاں تک کہ میں خوش ہوگیا۔
حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں نبی ﷺ کے پاس جس رات آپؐ کو ایلیاء لے جایا گیا تو دو پیالے شراب اور دودھ کے لائے گئے۔ آپؐ نے ان دونوں کی طرف دیکھا اور دودھ لے لیا۔ جبرائیل علیہ السلام نے آپؐ سے کہا سب تعریف اللہ ہی کے لئے ہے جس نے فطرت کی آپؐ کو رہنمائی کی۔ اگر آپؐ شراب لے لیتے تو آپ کی اُمت گمراہ ہو جاتی۔ ایک اور روایت میں ایلیاء کا ذکر نہیں ہے۔
حضرت جابرؓ بن عبد اللہ کہتے ہیں مجھے حضرت ابو حُمیدؓ ساعدی نے بتایا وہ کہتے ہیں میں نقیع سے (دودھ کا ایک) پیالہ جو ڈھکا ہوا نہیں تھا، نبی ﷺ کی خدمت میں لایا۔ آپؐ نے فرمایا تم نے اسے ڈھانکا کیوں نہیں؟ اگرچہ لکڑی سے ہی۔ حضرت ابو حمیدؓ کہتے تھے مشکیزوں کے بارہ میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ ان کے منہ باندھے جائیں اور دروازوں کے بارہ میں یہ کہ وہ رات کو بند کئے جائیں۔ ایک اور روایت میں (اَتَیْتُ کی بجائے) اَتَی کے الفاظ ہیں اور رات کا ذکر نہیں۔
حضرت جابرؓ بن عبد اللہ سے روایت ہے وہ کہتے تھے ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ تھے کہ آپؐ نے پانی طلب فرمایا۔ ایک شخص نے کہا یا رسولؐ اللہ! کیا ہم آپؐ کو نبیذ نہ پلائیں؟ آپؐ نے فرمایا کیوں نہیں۔ وہ کہتے ہیں وہ شخص تیزی سے نکلا اور ایک پیالہ لایا جس میں نبیذ تھی۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا تم نے اسے کیوں نہیں ڈھانکا؟ اگر چہ لکڑی سے ہی سہی۔ راوی کہتے ہیں پھر آپؐ نے پی لیا۔
حضرت جابرؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں ایک شخص جس کا نام حضرت ابو حمیدؓ تھا، نقیع سے دودھ کا ایک پیالہ لے کر آیا۔ رسول اللہﷺ نے اسے فرمایا تم نے کیوں نہ اسے ڈھانکا، خواہ تم اس پر ایک لکڑی ہی رکھتے۔
حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا برتن ڈھانک کر رکھو اور مشکیزے کا منہ باندھو اور دروازہ بند رکھو اور چراغ بجھا دو کیونکہ شیطان مشکیزہ نہیں کھولتا اور نہ دروازہ کھولتا ہے اور نہ ہی برتن کا ڈھکنا اٹھاتا ہے۔ پس اگر تم میں سے کوئی کچھ نہ پائے سوائے اس کے کہ اپنے برتن پر کوئی لکڑی (ہی) رکھ دے اور اللہ کا نام لے تو ایسا کرے کیونکہ چوہیا لوگوں پر ان کے گھر جلا دیتی ہے اور قتیبہ نے اپنی روایت میں أَغْلِقُوا البَابَ کا ذکر نہیں کیا۔ ایک اور روایت میں (غَطُّو الْاِنَائَ کی بجائے) أَکْفِئُو الْاِنَائَ یا خَمِّرُو الْاِنَائَ کے الفاظ ہیں۔ ایک اور روایت أَغْلِقُوا الْبَابَ سے شروع ہوتی ہے اور اس میں (غَطُّوا الْإِنَاءَ کی بجائے) خَمِّرُوا الْآنِيَةَ کے الفاظ ہیں اور (عَلَى أَهْلِ الْبَيْتِ بَيْتَهُمْ کی بجائے) تُضْرِمُ عَلَى أَهْلِ الْبَيْتِ ثِيَابَهُمْ کے الفاظ ہیں۔ اور ایک روایت میں تُضْرِمُ الْبَيْتَ عَلَى أَهْلِهِ کے الفاظ ہیں۔
حضرت جابرؓ بن عبد اللہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جب رات آجائے یا (فرمایا) شام ہو جائے تو اپنے بچوں کو روک رکھو کیونکہ شیطان اس وقت پھیل جاتے ہیں اور جب رات کی ایک گھڑی گزر جائے تو انہیں چھوڑ دو اور دروازے بند کر دو اور اللہ کا نام لو کیونکہ شیطان بند دروازہ نہیں کھولتا اور مشکیزوں کے منہ باندھو اور اللہ کا نام لو اور اپنے برتن ڈھانکو اور اللہ کا نام لو خواہ تم ان پر کوئی چیز رکھ دو اور اپنے چراغ بجھا دو۔ ایک روایت میں وَاذْکُرُوا اسْمَ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ کے الفاظ نہیں ہیں۔
حضرت جابرؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب سورج غروب ہو جائے تو اپنے جانوروں اور بچوں کو باہر نہ جانے دو یہاں تک کہ شروع رات کی تاریکی جاتی رہے کیونکہ جب سورج غروب ہوتا ہے تو شیطان نکلتے ہیں یہاں تک کہ شروع رات کی تاریکی جاتی رہے۔
حضرت جابرؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ برتن ڈھانکو اور مشکیزہ کا منہ باندھو کیونکہ سال میں کوئی رات ایسی بھی ہوتی ہے جس میں وباء نازل ہوتی ہے۔ وہ کسی ایسے برتن کے پاس سے گزرتی ہے جس پر ڈھکنا نہ ہو یا ایسے مشکیزہ کے پاس سے جس کا منہ باندھا نہیں گیا تو وہ وباء اس میں نازل ہوتی ہے۔ ایک اور روایت میں (لَیْلَۃ کی بجائے) یَومًا کا لفظ ہے اور اس روایت کے آخر میں راوی لیث نے یہ اضافہ کیا ہے کہ ہمارے ہاں عجمی لوگ کانون الاوّل میں اس سے بچتے تھے۔
سالم اپنے والدؓ سے روایت کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا جب سونے لگو تو اپنے گھروں میں آگ (جلتی) نہ چھوڑو۔