بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 168 hadith
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی نو ۹ سال تک خدمت کی۔ میرے علم میں نہیں کہ کبھی آپؐ نے مجھ سے فرمایا ہو کہ تم نے اس اس طرح کیوں کیا۔ نہ ہی آپؐ نے کبھی میرا کوئی عیب نکالا۔
حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ اخلاق میں سب لوگوں سے زیادہ اچھے تھے۔ ایک روز آپؐ نے مجھے کسی کام کے لئے بھیجا۔ میں نے کہہ دیا بخدا میں نہیں جاؤں گا لیکن میرے دل میں تھا کہ اس بات کے لئے اللہ کے نبیﷺ نے مجھے حکم دیا ہے میں جاؤں گا۔ چنانچہ میں نکلا یہاں تک کہ بچوں کے پاس سے گزرا اور وہ بازار میں کھیل رہے تھے تو رسول اللہﷺ نے پیچھے سے اچانک مجھے گردن کے پچھلے حصہ سے پکڑا۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے آپؐ کی طرف دیکھا۔ آپؐ ہنس رہے تھے۔ پھر آپؐ نے فرمایا: اے اُنَیس! کیا تم وہاں گئے ہو جہاں میں نے تمہیں (جانے کا) کہا تھا؟ وہ کہتے ہیں میں نے کہا جی ہاں یا رسولؐ اللہ! میں جا رہا ہوں۔ حضرت انسؓ کہتے ہیں کہ خدا کی قسم میں نے آپؐ کی نو ۹ سال خدمت کی ہے۔ میرے علم میں نہیں کہ کسی کام پر جو میں نے کیا ہو آپؐ نے فرمایا ہو کہ تم نے یہ یہ کیوں کیا یا کسی کام کے بارہ میں جسے میں نے چھوڑا ہو (فرمایا ہو) کہ تم نے یہ یہ کیوں نہ کیا۔
حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سب لوگوں سے زیادہ خوبصورت اخلاق والے تھے۔
حضرت جابر بن عبداللہؓ بیان کرتے ہیں کہ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ رسول اللہﷺ سے کوئی چیز مانگی گئی ہو اور آپؐ نے ’’نہ‘‘ کہا ہو۔
موسیٰ بن انس اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب بھی رسول اللہ ﷺ سے اسلام پر کوئی چیز مانگی گئی آپؐ نے وہ عطا فرمائی۔ وہ کہتے ہیں ایک شخص آپؐ کے پاس آیا۔ آپؐ نے اسے دو پہاڑوں کے درمیان (کی تمام) بکریاں عطا فرمائیں۔ وہ اپنی قوم کی طرف لوٹا اور کہا اے میری قوم! اسلام لے آؤ۔ محمد ﷺ تو اتنا دیتے ہیں کہ فاقہ کا ڈر نہیں رہتا۔
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبیﷺ سے دو پہاڑوں کے درمیان جتنی (بھی) بکریاں تھیں مانگ لیں۔ آپؐ نے اسے وہ عطا فرما دیں۔ پھر وہ اپنی قوم کے پاس آیا اور کہا اے میری قوم ! اسلام لے آؤ۔ خدا کی قسم ! محمدﷺ تو اتنا دیتے ہیں کہ غُربت کا ڈر نہیں رہتا۔ حضرت انسؓ کہتے ہیں کہ بعض اوقات کوئی آدمی صرف دنیا کے لئے اسلام قبول کرتا تھا مگر جو نہی اسلام قبول کرتا تو اسلام اسے دنیا وما فیھا سے بڑھ کر محبوب ہو جاتا تھا۔
ابنِ شہاب سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے الفتح یعنی فتحِ مکہ کا غزوہ سرانجام دیا رسول اللہ ﷺ ان مسلمانوں کے ساتھ نکلے جو آپؐ کے ہمراہ تھے۔ حُنین کے مقام پر انہوں نے جنگ کی تو اللہ نے اپنے دین اور مسلمانوں کی مدد فرمائی۔ اس روز رسول اللہ ﷺ نے صفوان بن امیّہ کو سو 100 اونٹ دئیے پھر سو دیئے پھر سو (اور) دیئے۔ ابنِ شہاب کہتے ہیں کہ مجھے سعید بن مسّیب نے بتایا کہ حضرت صفوانؓ نے کہا کہ خدا کی قسم ! مجھے رسول اللہ ﷺ نے دیا اور جو دیا، جبکہ لوگوں میں سے سب سے زیادہ مجھے آپؐ کی ذات سے بُغض تھا آپؐ مجھے عطا فرماتے رہے یہانتک کہ آپؐ مجھے سب لوگوں سے زیادہ محبوب ہو گئے۔
حضرت جابرؓ بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ اگر ہمارے پاس بحرین کا مال آیا تو میں تمہیں ایسے اور ایسے اور ایسے دوں گا۔ آپؐ نے اپنے دونوں ہاتھوں کو اکٹھا کرتے ہوئے ارشاد فرمایا لیکن بحرین کا مال آنے سے قبل نبیﷺ کی وفات ہو گئی۔ پھر وہ (مال) آپؐ کے بعد حضرت ابو بکرؓ کے پاس آیا۔ آپؓ نے ایک اعلان کرنے والے کو حکم دیا کہ جس کا نبیﷺ کے ذمہ کوئی وعدہ یا قرض ہو تو اسے چاہئے کہ وہ آئے۔ اس پر میں کھڑا ہوگیا اور عرض کیا کہ نبیﷺ نے فرمایا تھا کہ اگر بحرین کا مال آیا تو میں تمہیں ایسے اور ایسے اور ایسے دوں گا۔ اس پر حضرت ابو بکرؓ نے ایک اوک بھرا پھر مجھ سے فرمایا کہ اس کی گنتی کرو۔ چنانچہ میں نے گنا تو وہ پانچ سو نکلے۔ پھر آپؓ نے فرمایا کہ اس سے دو گنا اور لے لو۔ حضرت جابر بن عبداللہؓ سے روایت ہے جب نبیﷺ فوت ہو گئے تو حضرت ابو بکرؓ کے پاس علاء بن حضرمی کی طرف سے مال آیا۔ اس پر حضرت ابو بکرؓ نے فرمایا: جس کسی کا نبیﷺ کے ذمہ کوئی قرض یا آپؐ کی طرف سے کوئی وعدہ ہو تو اسے چاہئے کہ وہ ہمارے پاس آئے۔۔۔ باقی روایت پہلی روایت کی طرح ہے۔
حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا رات میرے ہاں بچہ کی ولادت ہوئی۔ میں نے اس کا نام اپنے باپ ابراہیم کے نام پر رکھا ہے۔ پھر آپؐ نے اسے ایک لوہار ابو سیف کی بیوی امّ سیف کے پاس بھیج دیا۔ حضورؐ اس کے پاس جانے کے لئے چلے اور میں بھی آپؐ کے ساتھ گیا۔ ہم ابو سیف کے پاس پہنچے اور وہ بھٹی دھونک رہا تھا۔ اس کا گھر دھوئیں سے بھر گیا تھا۔ تو میں تیزی سے رسول اللہﷺ کے آگے چلا۔ میں نے کہا اے ابو سیف! رُک جاؤ، رسول اللہﷺ تشریف لا رہے ہیں۔ وہ رُک گیا۔ پھر نبیﷺ نے بچہ کو بلوایا اور اسے اپنے ساتھ چمٹایا پھر جو اللہ نے چاہا آپؐ نے فرمایا۔ حضرت انسؓ کہتے ہیں میں نے دیکھا ہے کہ وہ (بچہ) رسول اللہﷺ کے سامنے آخری سانس لے رہا تھا اور رسول اللہﷺ کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ پھر آپؐ نے فرمایا آنکھ آنسو بہاتی ہے اور دل غمگین ہوتا ہے مگر ہم اس کے سوا کچھ نہیں کہتے سوائے اس کے جس میں ہمارے رب کی رضا ہے۔ خدا کی قسم اے ابراہیمؓ! یقینا ہم تیری وجہ سے غمگین ہیں۔
حضرت انسؓ بن مالک بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ سے بڑھ کر بچّوں پر شفقت کرنے والا کوئی نہیں دیکھا۔ وہ کہتے ہیں کہ ابراہیم کے لئے مدینہ کے بالائی مضافات میں دودھ پلانے کا انتظام تھا اور حضور وہاں جایا کرتے تو ہم بھی آپؐ کے ساتھ ہوتے۔ آپؐ گھر میں داخل ہوتے تو وہاں بہت دھواں ہوتا۔ ابراہیم کا رضاعی باپ لوہار تھا۔ پس حضورؐ اسے (ابراہیم کو) لیتے اور اسے بوسہ دیتے پھر واپس آجاتے۔ عمرو نے کہا کہ جب ابراہیم کی وفات ہوئی تو رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ ابراہیم میرا بیٹا ہے اور اس کی وفات شیرخوارگی میں ہوئی ہے اس کے لئے یقینًا اس کی دو رضاعی مائیں ہیں جو اس کی رضاعت جنّت میں مکمل کریں گی۔