بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 473 hadith
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپؓ نے فرمایا کہ ہم ذوالحجہ کا چاند نکلنے کے قریب رسول اللہﷺ کے ساتھ حجۃ الوداع کے لئے گئے۔ آپؓ فرماتی ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا جو تم میں سے عمرہ کا احرام باندھنا چاہے وہ باندھ لے۔ اگر میرے ساتھ قربانی نہ ہوتی تو میں عمرہ کا احرام باندھتا۔ وہ کہتی ہیں لوگوں میں سے بعض نے صرف عمرہ کا احرام باندھا اور بعض نے حج کا احرام باندھا۔ آپؓ فرماتی ہیں میں ان میں سے تھی جنہوں نے عمرہ کا احرام باندھا پھر ہم نکل پڑے یہاں تک کہ مکہ پہنچ گئے اور مجھ پر عرفہ کا دن اس حال میں آیا کہ میں حائضہ تھی میں نے اپنے عمرہ کا احرام نہیں کھولا۔ میں نے نبیﷺ سے اس بارہ میں شکایت کی تو آپؐ نے فرمایا اپنے عمرہ کا ارادہ ترک کر دو اور اپنا سر کھولو اور کنگھی کرو اور حج کا احرام باندھو۔ آپؓ فرماتی ہیں میں نے ایسا ہی کیا جب حصبہ کی رات آئی اور اللہ تعالیٰ نے ہمارا حج پورا کر دیا تو آپؐ نے میرے ساتھ عبد الرحمان بن ابو بکرؓ کو بھیجا۔ انہوں نے (اونٹ پر) مجھے اپنے پیچھے بٹھایا اور مجھے تنعیم لے گئے۔ میں نے پھر عمرہ کا احرام باندھا۔ یوں اللہ نے ہمارا حج اور عمرہ پورا کر دیا اور اس سلسلہ میں کوئی قربانی یا کوئی صدقہ یا کوئی روزہ (تدارک کے طور پر واجب) نہیں ہوا۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت عائشہؓ نے فرمایا کہ ہم ذوالحجہ کا چاند نکلنے کے قریب رسول اللہﷺ کے ساتھ نکلے اور ہم حج ہی سمجھے تھے پھر رسول اللہﷺ نے فرمایا جو تم میں سے عمرہ کا احرام باندھنا چاہے تو وہ عمرہ کا احرام باندھ لے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ ذوالحجہ کا چاند نکلنے کے قریب ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ نکلے۔ وہ فرماتی ہیں ہم میں سے کچھ وہ تھے جنہوں نے عمرہ کا احرام باندھا اور کچھ وہ تھے جنہوں نے حج اور عمرہ کا احرام باندھا اور میں ان میں سے تھی جنہوں نے عمرہ کا احرام باندھا تھا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ عروہ نے کہا کہ اللہ نے ان کا (حضرت عائشہؓ کا) حج اور عمرہ پورا کر دیا اور ہشام کہتے ہیں کہ (عمرہ کا احرام کھولنے پر) کوئی قربانی یا کوئی روزہ یا کوئی صدقہ (واجب) نہیں ہوا۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپؓ فرماتی ہیں کہ ہم حجۃ الوداع کے سال رسول اللہﷺ کے ساتھ نکلے ہم میں سے بعض ایسے تھے جنہوں نے عمرہ کا احرام باندھا اور ہم میں سے بعض ایسے تھے جنہوں نے حج اور عمرہ (دونوں) کا احرام باندھا اور ہم میں سے بعض ایسے تھے جنہوں نے حج کا احرام باندھا۔ اور رسول اللہﷺ نے حج کا احرام باندھا تھا۔ جس نے عمرہ کا احرام باندھا تھا اس نے (عمرہ کرکے) احرام کھول دیا اور جس نے حج کا احرام باندھا تھا یا حج اور عمرہ کو جمع کیا تھا انہوں نے احرام نہیں کھولا یہاں تک کہ قربانی کا دن آگیا۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپؓ فرماتی ہیں کہ ہم نبیﷺ کے ساتھ نکلے اور ہم حج ہی سمجھتے تھے۔ یہاں تک کہ ہم سرف (مقام) یا اس کے قریب پہنچے تو میں حائضہ ہوگئی۔ نبیﷺ میرے پاس تشریف لائے تو میں رو رہی تھی۔ آپؐ نے فرمایا کیا تم حائضہ ہوگئی ہو؟ وہ کہتی ہیں میں نے عرض کیا جی۔ آپؐ نے فرمایا یہ تو ایسی چیز ہے جو اللہ نے آدم کی بیٹیوں کے لئے لکھ دی ہے پس تم وہ مناسک پورے کرو جنہیں حج کرنے والا پورا کرتا ہے سوائے اس کے کہ تم بیت اللہ کا طواف نہ کرو یہاں تک کہ تم غسل کرلو۔ وہ کہتی ہیں رسول اللہﷺ نے اپنی ازواج کی طرف سے گائے کی قربانی کی۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے اور ہم حج کا ہی ذکر کرتے تھے۔ جب ہم سرف (مقام) پر پہنچے تو میں حائضہ ہوگئی رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے تو میں رو رہی تھی۔ آپؐ نے فرمایا تم کیوں رو رہی ہو؟ میں نے عرض کیا اللہ کی قسم میں نے چاہا میں اس سال (حج کے لئے) نہ نکلی ہوتی۔ آپؐ نے فرمایا تمہیں کیا ہوا ہے؟ شاید تمہیں حیض آگیا ہے۔ میں نے عرض کیا جی۔ آپؐ نے فرمایا یہ تو ایسی چیز ہے جو اللہ نے آدم کی بیٹیوں کے لئے لکھ دی ہے۔ تم کرو جو حج کرنے والا کرتا ہے مگر تم بیت اللہ کا طواف نہ کرنا یہانتک کہ تم پاک ہوجاؤ۔ آپؓ فرماتی ہیں جب میں مکہ آئی تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہؓ سے فرمایا اس کو عمرہ بناؤ۔ پس سب لوگوں نے سوائے ان کے جن کے پاس قربانی تھی احرام کھول دئیے۔ وہ فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ کے پاس بھی قربانی تھی اور حضرت ابو بکرؓ اور حضرت عمرؓ اور (اسی طرح دوسرے) آسودہ حال لوگوں کے پاس قربانی تھی۔ پھر جب وہ چلے تو انہوں نے احرام باندھا۔ آپؓ فرماتی ہیں جب قربانی کا دن تھا میں پاک ہوگئی۔ رسول اللہ ﷺ نے مجھے حکم دیا اور میں نے طوافِ افاضہ کیا۔ آپؓ فرماتی ہیں ہمارے پاس گائے کا گوشت لایا گیا میں نے کہا یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیویوں کی طرف سے گائے کی قربانی دی ہے۔ پھر جب حصبہ کی رات آئی تو میں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! لوگ تو حج اور عمرہ (دونوں) کر کے لوٹیں گے اور میں صرف حج کرکے لوٹوں گی۔ وہ بیان فرماتی ہیں آپؐ نے عبد الرحمان بن ابو بکرؓ کو ارشاد فرمایا انہوں نے مجھے اپنے اونٹ پر پیچھے بٹھا لیا۔ وہ کہتی ہیں مجھے یاد ہے میں نوجوان لڑکی تھی۔ مجھے اونگھ آجاتی تھی اور میرا چہرہ کجاوہ کی پچھلی لکڑی سے جا لگتا تھا۔ یہاں تک کہ ہم تنعیم پہنچ گئے وہاں سے میں نے عمرہ کا احرام باندھا اس عمرہ کے عوض جو لوگوں نے کیا تھا۔ ایک اور روایت میں ہے حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ ہم نے حج کا احرام باندھا یہانتک کہ ہم سرف (مقام) پر تھے تو میں حائضہ ہوگئی رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے تو میں رو رہی تھی۔ باقی روایت پہلی روایت کی طرح ہی ہے مگر اس روایت میں فَکَانَ الْھَدْیُ مَعَ النَّبِیِّ ﷺ وَاَبِیْ بَکْرٍ وَعُمَرَ وَذَوِی الْیَسَارَۃِ ثُمَّ اَھَلُّوْا حِیْنَ رَاحُوْا اور وَاَنَا جَارِیَۃٌ حَدِیْثَۃُ السِّنِّ اَنْعَسُ فَیُصِیْبُ وَجْھِیْ مُؤْخِرَۃَ الرَّحْلِ کے الفاظ نہیں ہیں۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حج مفرد کیا تھا۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ حج کا احرام باندھے ہوئے حج کے مہینوں میں حج کے اوقات اور مقامات میں اور حج کی راتوں میں نکلے یہاں تک کہ ہم سرف مقام میں اترے۔ آپﷺ اپنے صحابہ کے پاس گئے اور فرمایا تم میں سے جس کے پاس قربانی نہیں اور وہ چاہے کہ اس کو عمرہ بنا لے تو وہ ایسا کرے اور جس کے پاس قربانی ہو تو وہ ایسا نہ کرے۔ تو ان میں سے جن کے پاس قربانی کا جانور نہ تھا ان میں سے بعض نے اس طرح کر لیا اور بعض نے چھوڑ دیا۔ رسول اللہﷺ کے ساتھ قربانی کا جانور تھا اور آپؐ کے صحابہؓ میں سے صاحبِ مقدرت کے ساتھ بھی۔ رسول اللہﷺ میرے پاس تشریف لائے اور میں رو رہی تھی۔ آپؐ نے فرمایا تم کیوں رو رہی ہو؟ میں نے عرض کیا میں نے آپؐ کی گفتگو آپؐ کے اصحاب کے ساتھ سنی اور میں نے عمرہ کا بھی سنا ہے یا کہا مجھے عمرہ منع ہو گیا ہے۔ آپؐ نے فرمایا تمہیں کیا ہوا ہے؟ میں نے کہا میں نماز نہیں پڑھ سکتی۔ آپؐ نے فرمایا کوئی ہرج نہیں۔ تم اپنا حج کرو۔ بعید نہیں کہ اللہ تمہیں عمرہ کی توفیق بھی دیدے۔ تم آدم کی بیٹیوں میں سے ہی ہو۔ اللہ نے تمہارے لئے بھی وہی لکھا ہے جو اُن کے لئے لکھا ہے۔ وہ کہتی ہیں میں اپنے حج کے لئے نکلی یہاں تک کہ ہم منٰی میں اترے۔ میں پاک ہوگئی پھر ہم نے بیت اللہ کا طواف کیا۔ رسول اللہﷺ محصب مقام پر اترے۔ اور عبد الرحمان بن ابوبکرؓ کو بلایا اور فرمایا تم اپنی بہن کے ساتھ حرم سے باہر جاؤ اور وہ عمرہ کا احرام باندھے اور بیت اللہ کا طواف کرے۔ اور میں تم دونوں کا یہاں انتظار کروں گا۔ وہ (حضرت عائشہؓ) فرماتی ہیں پس ہم نکلے۔ میں نے احرام باندھا پھر میں نے خانہ کعبہ کا طواف کیا اور صفا اور مروہ کا بھی۔ ہم رات کے وقت رسول اللہﷺ کے پاس پہنچے۔ آدھی رات آپؐ اپنی منزل میں تھے۔ آپؐ نے فرمایا کیا تم فارغ ہوگئیں میں نے عرض کیا جی ہاں تو آپؐ نے اپنے صحابہؓ کو کوچ کا حکم دیا پھر آپؐ نکلے اور خانہ کعبہ کے پاس سے گذرے اور فجر کی نماز سے پہلے اس کا طواف کیا۔ پھر مدینہ کی طرف چل پڑے۔
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپؓ فرماتی ہیں کہ ہم میں سے بعض نے حج مفرد کا احرام باندھا تھا اور ہم میں سے بعض نے حج قِران کیا اور ہم میں سے بعض نے حج تمتع کیا تھا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت عائشہؓ حج کے ارادہ سے آئی تھیں۔
یحی بن سعید، عمرہ سے روایت کرتے ہیں وہ بیان کرتی ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو فرماتے ہوئے سنا ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے جبکہ ذی قعدہ کے پانچ دن باقی تھے اور ہم سمجھتے تھے کہ یہ صرف حج ہے۔ یہاں تک کہ جب ہم مکہ کے قریب پہنچے تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس کے پاس قربانی نہیں ہے وہ جب بیت اللہ اور صفا و مروہ کا طواف کرلے تو احرام کھول دے۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ قربانی کے دن ہمارے پاس گائے کا گوشت آیا۔ میں نے کہا یہ کیا ہے تو کہا گیا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی ازواج کی طرف سے قربانی کی ہے۔ (راوی) یحیٰ کہتے ہیں کہ میں نے یہ روایت قاسم بن محمد سے بیان کی تو انہوں نے کہا اللہ کی قسم اس (عمرہ) نے تمہارے پاس بالکل ٹھیک ٹھیک روایت بیان کی۔
ام المؤمنین (حضرت عائشہؓ ) فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ ! لوگ دو عبادتیں کر کے لوٹیں گے اور میں ایک عبادت کرکے واپس جاؤں گی۔ آپؐ نے فرمایا انتظار کرو جب تم پاک ہوجاؤ تو تنعیم جانا اور وہاں سے احرام باندھنا پھر فلاں جگہ ہم سے آملنا _ راوی کہتے ہیں میرا خیال ہے آپؐ نے فرمایا کل _ لیکن یہ تمہاری محنت یا فرمایا تمہارے خرچ کے مطابق ہوتی ہے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے اور ہم اسے حج ہی سمجھتے تھے جب ہم مکہ آئے تو ہم نے بیت اللہ کا طواف کیا تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس نے قربانی ساتھ نہیں لی وہ احرام کھول دے وہ کہتی ہیں جس کے پاس قربانی نہیں تھی اس نے احرام کھول دیا اور آپؐ کی ازواجؓ کے پاس قربانی نہیں تھی انہوں نے بھی احرام کھول دیا۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں میں حائضہ ہوگئی تو میں نے خانہ کعبہ کا طواف نہ کیا پھر جب حصبہ کی رات آئی تو آپؑ فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! لوگ تو حج اور عمرہ (دونوں) ادا کرکے لوٹیں گے اور میں صرف حج ادا کرکے لوٹوں گی۔ آپؐ نے فرمایا جس روز ہم مکہ آئے تھے تم نے طواف نہیں کیا تھا؟ وہ کہتی ہیں میں نے کہا نہیں۔ آپؐ نے فرمایا تم اپنے بھائی کے ساتھ تنعیم جاؤ اور عمرہ کا احرام باندھو پھر فلاں فلاں جگہ پر آملنا۔ حضرت صفیہؓ نے کہا میرا خیال ہے میں بھی آپ کو روکنے والی ہوں۔ آپؐ نے فرمایا اللہ بھلا کرے کیا تم نے قربانی کے دن طواف نہیں کیا تھا انہوں نے کہا جی ہاں! آپؐ نے فرمایا کوئی ہرج نہیں واپسی کی تیاری کرو حضرت عائشہؓ کہتی ہیں رسول اللہ ﷺ مجھے مکہ سے آتے ہوئے بلندی پر چڑھتے ہوئے جبکہ میں اُتر رہی تھی ملے یا میں چڑھ رہی تھی اور آپؐ اتر رہے تھے۔ اسحاق راوی نے مُتَھَبِّطَۃٌ اور مُتَھَبِّطٌ کے لفظ استعمال کئے ہیں۔ ایک اور روایت میں ہے حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تلبیہ کہتے ہوئے نکلے جبکہ ہم نے حج اور عمرہ کا کوئی ذکر نہیں کیا۔۔۔ اور باقی روایت پہلی روایت کی طرح ہے۔