بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 473 hadith
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ عمرہ ہے جس کا ہم نے (حج کے ساتھ) فائدہ اٹھایا ہے۔ جس کے ساتھ قربانی نہیں ہے وہ پورے طور پر احرام کھول دے۔ یقینا عمرہ قیامت کے دن تک حج میں داخل ہو چکا ہے۔
ابو جمرہ ضُبَعی کہتے ہیں میں نے حج تمتع کیا بعض لوگوں نے مجھے اس سے منع کیا۔ میں حضرت ابن عباسؓ کے پاس آیا اور آپؓ سے اس بارہ میں پوچھا۔ آپؓ نے مجھے اس کا حکم دیا۔ راوی کہتے ہیں پھر میں بیت اللہ کے پاس آیا اور سو گیا اور ایک آنے والا میری خواب میں آیا اور کہا مقبول عمرہ اور نیکی پر مشتمل حج۔ راوی کہتے ہیں میں حضرت ابن عباسؓ کے پاس آیا اور میں نے انہیں اپنی رؤیا بیان کی۔ انہوں نے کہا اللہ اکبر، اللہ اکبر۔ (یہ) حضرت ابو القاسمﷺ کی سنت ہے۔
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے ظہر کی نماز ذوالحلیفہ میں پڑھائی۔ پھر اپنی اونٹنی منگوائی اور اس کی کوہان کے دائیں پہلو میں نشان لگایا اور خون پونچھ دیا اور اس کے گلے میں دو جوتوں کی گانی پہنائی۔ پھر اپنی سواری پر سوار ہوئے۔ آپؐ کی سواری آپؐ کو لے کر بیداء مقام پر کھڑی ہوئی تو آپؐ نے حج کے لئے تلبیہ کہا ایک اور روایت میں (صَلَّی رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ الظُّہْرَ بِذِی الْحُلَیْفَۃَ کی بجائے) اِ نَّ نَبِیَّ اللّٰہِﷺ لَمَّا أَتَی ذَا الْحُلَیْفَۃَ کے الفاظ ہیں۔
قتادہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں نے ابو حسّان الاعرج سے سنا۔ وہ کہتے تھے بنو ھُجَیم کے ایک شخص نے حضرت ابن عباسؓ سے کہا یہ کیا فتویٰ ہے جو لوگوں کو بہت پسند آیا ہے یا جس نے لوگوں میں اختلاف پیدا کر دیا ہے کہ جس نے بیت اللہ کا طواف کر لیا ہے وہ احرام کھول دے۔ انہوں نے کہا یہ تمہارے نبیﷺ کی سنت ہے خواہ تمہیں پسند نہ ہو۔
ابو حسّان سے روایت ہے وہ کہتے ہیں حضرت ابن عباسؓ سے کہا گیا یہ بات لوگوں میں بہت پھیل گئی ہے جو بیت اللہ کا طواف کر لے وہ احرام کھول لے۔ یہ طواف عمرہ ہے۔ انہوں نے کہا یہ تمہارے نبیﷺ کی سنت ہے خواہ تمہیں یہ پسند نہ ہو۔
عطاء کہتے ہیں حضرت ابن عباسؓ کہا کرتے تھے جس شخص نے (مکہ میں آکر) بیت اللہ کا طواف کرلیا خواہ اس کا ارادہ حج کا تھا یا حج کا ارادہ نہیں تھا تو وہ (طواف کے بعد) احرام کھول دے۔ (راوی کہتے ہیں) میں نے عطاء سے کہا وہ (حضرت ابن عباسؓ) کس حوالہ سے ایسا کہتے تھے؟ انہوں نے کہا اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی وجہ سے ثُمَّ مَحِلُّھَا۔۔۔ (الحج: 34) پھر انہیں (قربانی کے مویشیوں کو) قدیم گھر تک پہنچانا ہے۔ راوی کہتے ہیں میں نے کہا یہ تو عرفات کے بعد ہے! تو انہوں نے کہا حضرت ابن عباسؓ کہا کرتے تھے یہ عرفات کے بعد ہے اور اس سے پہلے بھی، اور وہ یہ بات نبیﷺ کے ارشاد سے اخذ کرتے تھے جب آپؐ نے حجۃ الوداع کے موقعہ پر لوگوں کو حکم دیا کہ وہ (حجۃ الوداع میں) احرام کھول دیں۔
حضرت ابن عباسؓ نے بیان کیا مجھے حضرت معاویہؓ نے کہا کیا آپ کو علم ہے کہ میں نے رسول اللہﷺ کے سر کے بال مروہ میں کسی کاٹنے والے آلہ سے کاٹے تھے۔ میں نے انہیں کہا میں تو اِسے تمہارے خلاف حجت سمجھتا ہوں۔
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ معاویہ بن ابی سفیان نے انہیں بتایا وہ کہتے تھے کہ میں نے کاٹنے والے آلہ سے رسول اللہﷺ کے سر کے بال کاٹے تھے جبکہ آپؐ مروہ (پہاڑی) پر تھے یا (کہا) میں نے آپؐ کو دیکھا کہ آپؐ کے بال کاٹنے والے آلہ سے کاٹے جا رہے تھے جبکہ آپؐ مروہ (پہاڑی) پر تھے۔
حضرت ابو سعیدؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ (تلبیہ کی) آواز حج کے لئے بلند کرتے ہوئے نکلے جب ہم مکہ پہنچے۔ آپؐ نے ہمیں ارشاد فرمایا ہم اس کو عمرہ بنا دیں۔ سوائے اس شخص کے جس کے ساتھ قربانی ہے جب یوم الترویہ ہوا اور ہم منٰی کی طرف چلے تو ہم نے حج کا احرام باندھا۔
حضرت جابر اور حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں ہم نبی ﷺ کے ساتھ آئے اور ہم حج کے لئے بآواز بلند تلبیہ کہہ رہے تھے۔