ابو نضرہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں حضرت جابر بن عبداللہؓ کے پاس تھا کہ ان کے پاس ایک آنے والا آیا۔ اور اس نے کہا کہ حضرت ابن عباسؓ اور حضرت ابن زبیرؓ نے دو متعوں کے بارہ میں اختلاف کیا ہے۔ اس پر حضرت جابرؓ نے کہا ہم نے یہ دونوں رسول اللہﷺ کی معیت میں کئے تھے۔ پھر ہمیں ان دونوں سے حضرت عمرؓ نے منع کر دیا تو ہم نے ان کا اعادہ نہیں کیا۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت علیؓ یمن سے آئے۔ نبیﷺ نے انہیں فرمایا تم نے کون سا احرام باندھا ہے۔ انہوں نے کہا میں نے نبیﷺ کے احرام جیسا احرام باندھا ہے۔ آپؐ نے فرمایا اگر میرے ساتھ قربانی نہ ہوتی تو میں احرام کھول دیتا۔
ایک اور روایت میں (لَاَحْلَلْتُ کی بجائے) لَحَلَلْتُ کے الفاظ ہیں۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کو حج اور عمرہ دونوں کے لئے اکٹھے تلبیہ کہتے ہوئے سنا کہ؛ میں حاضر ہوں عمرہ اور حج کے لئے، میں حاضر ہوں عمرہ اور حج کے لئے۔
سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ
لَبَّيْكَ بِعُمْرَةٍ وَحَجٍّ
.
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی ﷺ کو کہتے سنا میں حاضر ہوں عمرہ اور حج کے لئے۔
ایک اور روایت میں (عُمْرَۃً وَ حَجًّا کی بجائے) بِعُمْرَۃٍ وَّ حَجٍّ کے الفاظ ہیں۔
- رضى الله عنه - يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ
. بِمِثْلِ حَدِيثِهِمَا .
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی ﷺ نے فرمایا اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ضرور ابن مریم روحاء کی گھاٹی سے حج یا عمرہ کا احرام باندھیں گے یا (فرمایا) ان دونوں کا۔ ایک اور روایت میں (وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہِ کی بجائے) وَالَّذِیْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ کے الفاظ ہیں۔
حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ أَنَّ أَنَسًا - رضى الله عنه - أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اعْتَمَرَ أَرْبَعَ عُمَرٍ كُلُّهُنَّ فِي ذِي الْقَعْدَةِ إِلاَّ الَّتِي مَعَ حَجَّتِهِ عُمْرَةً مِنَ الْحُدَيْبِيَةِ أَوْ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ فِي ذِي الْقَعْدَةِ وَعُمْرَةً مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ فِي ذِي الْقَعْدَةِ وَعُمْرَةً مِنْ جِعْرَانَةَ حَيْثُ قَسَمَ غَنَائِمَ حُنَيْنٍ فِي ذِي الْقَعْدَةِ وَعُمْرَةً مَعَ حَجَّتِهِ. حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ قَالَ سَأَلْتُ أَنَسًا كَمْ حَجَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ حَجَّةً وَاحِدَةً وَاعْتَمَرَ أَرْبَعَ عُمَرٍ . ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ هَدَّابٍ .
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے چار عمرے کئے۔ وہ سب ذوالقعدہ میں تھے۔ سوائے اس کے جو آپؐ نے اپنے حج کے ساتھ کیا۔ ایک عمرہ حدیبیہ کا یا حدیبیہ کے زمانہ کا ذی القعدہ میں تھا اور ایک عمرہ اگلے سال بھی ذی قعدہ میں تھا اور ایک جعرانہ سے ذی قعدہ میں کیا جہاں آپؐ نے حنین کے اموالِ غنیمت تقسیم کئے۔ اور ایک عمرہ اپنے حج کے ساتھ۔ ایک اور روایت میں ہے قتادہ کہتے ہیں میں نے حضرت انسؓ سے پوچھا رسول اللہ ﷺ نے کتنے حج کئے؟ انہوں نے کہا آپؐ نے ایک حج اور چار عمرے کئے۔
ابو اسحاق سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں نے حضرت زید بن ارقمؓ سے پوچھا آپؓ نے رسول اللہﷺ کی معیت میں کتنے غزوات کئے؟ انہوں نے کہا سترہ 17۔ راوی کہتے ہیں اور مجھے حضرت زید بن ارقمؓ نے بتایا کہ رسول اللہﷺ نے انیس 19 غزوات کئے اور ہجرت کے بعد آپؐ نے صرف ایک حج (یعنی) حجۃ الوداع کیا۔ ابو اسحاق کہتے ہیں اور دوسرا مکّی دور میں۔
عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں کہ میں اور حضرت ابن عمرؓ، حضرت عائشہؓ کے حجرہ سے ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے اور ہم ان کے دانت صاف کرتے ہوئے مسواک کی آواز سن رہے تھے۔ راوی (عروہ بن زبیرؓ) کہتے ہیں میں نے کہا اے ابو عبدالرحمان (ابنِ عمرؓ)! نبیﷺ نے رجب میں عمرہ کیا تھا؟ انہوں نے کہا ہاں۔ میں نے حضرت عائشہؓ سے کہا۔ اے امّاں! کیا آپ نے سنا نہیں جو ابو عبدالرحمان کہہ رہے ہیں؟ انہوں نے کہا وہ کیا کہتے ہیں۔ میں نے کہا وہ کہتے ہیں نبیﷺ نے رجب میں عمرہ کیا۔ انہوں نے کہا اللہ ابو عبدالرحمان کی مغفرت فرمائے۔ میری عمر کی قسم! آپؐ نے رجب میں کوئی عمرہ نہیں کیا۔ اور نہ ہی کوئی عمرہ کیا مگر یہ (ابن عمرؓ) آپؐ کے ساتھ تھے۔ راوی کہتے ہیں حضرت ابن عمرؓ سن رہے تھے۔ انہوں نے نہ تو نہ کہا نہ ہاں بلکہ خاموش رہے۔
مجاہد سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں اور عروہ بن زبیر مسجد (نبویؐ) میں داخل ہوئے تو کیا دیکھا کہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ، حضرت عائشہؓ کے حجرہ کے پاس بیٹھے ہوئے ہیں اور لوگ مسجد میں چاشت کی نماز پڑھ رہے ہیں۔ ہم نے ان (عبداللہ بن عمرؓ) سے ان لوگوں کی نماز کے بارہ میں پوچھا۔ وہ کہنے لگے۔ بدعت ہے۔ عروہ نے ان سے کہا اے ابو عبدالرحمان! رسول اللہﷺ نے کتنے عمرے کئے؟ انہوں نے کہا چار عمرے۔ ایک ان میں سے رجب میں تھا۔ (راوی کہتے ہیں) ہم نے ناپسند کیا کہ انہیں جھٹلائیں اور ان کی تردید کریں۔ ہم نے حضرت عائشہؓ کی حجرہ میں دانت صاف کرنے کی آواز سنی۔ عروہ نے کہا اے ام المؤمنین! کیا آپؓ سن نہیں رہیں جو ابو عبدالرحمان کہہ رہے ہیں؟ انہوں نے کہا وہ کیا کہتے ہیں؟ راوی نے کہا وہ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے چار عمرے کئے۔ ایک ان میں سے رجب میں تھا۔ آپؓ (حضرت عائشہؓ) نے فرمایا اللہ ابو عبدالرحمان پر رحم کرے۔ رسول اللہﷺ نے کوئی عمرہ نہیں کیا مگر وہ (ابن عمرؓ) آپؐ کے ساتھ تھے۔ اور آپؐ نے ہر گز کوئی عمرہ رجب میں نہیں کیا۔
عطاء کہتے ہیں میں نے حضرت ابن عباسؓ سے سنا۔ انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ رسول اللہﷺ نے ایک انصاری عورت سے فرمایا _ حضرت ابن عباسؓ نے اس کا نام بھی لیا تھا مگر میں اس کا نام بھول گیا ہوں _ تمہیں کس بات نے ہمارے ساتھ حج کرنے سے روکا؟ اس نے جواب دیا ہمارے پاس پانی لانے والے دو ہی اونٹ ہیں۔ ایک اونٹ پر باپ بیٹا حج پر گئے اور دوسرا ہمارے لئے چھوڑا جس پر ہم پانی لاتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا جب رمضان آئے تو تم عمرہ کر لینا کیونکہ اس مہینہ میں عمرہ حج کے برابر ہے۔