بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 473 hadith
حضرت عبداللہ بن عمرؓ کہتے ہیں میں نے رسول اللہﷺ کو دیکھا جب آپؐ مکہ تشریف لاتے تو آپؐ تشریف لانے پر پہلا طواف فرماتے، حجرِ اسود کو بوسہ دیتے۔ آپؐ سات میں سے تین چکر دوڑ کر لگاتے۔
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ حجرِ (اسود) سے حجرِ (اسود) تک تین چکر تیز چلے اور چار عام رفتار سے چلے۔
نافع سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمرؓ حجرِ (اسود) سے حجرِ (اسود) تک تیز چلے اور بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے بھی ایسا ہی کیا تھا۔
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا۔ آپؐ نے حجرِ اسود سے حجرِ اسود تک تیز چلتے ہوئے تین چکر لگائے۔
حضرت جابر بن عبداللہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے حجرِ اسود سے حجرِ اسود تک تیز چلتے ہوئے تین چکر لگائے۔
ابو طفیل سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں نے حضرت ابن عباسؓ سے کہا بیت اللہ کے تین چکروں میں دوڑنے اور چار چکروں میں عام رفتار سے چلنے کے بارہ میں آپ کی کیا رائے ہے کیا یہ سنت ہے؟ کیونکہ آپ کی قوم کے لوگ کہتے ہیں کہ یہ سنت ہے۔ راوی کہتے ہیں انہوں نے کہا وہ درست بھی کہتے ہیں اور غلط بھی۔ راوی کہتے ہیں میں نے کہا آپ کی اس بات کا کیا مطلب ہوا کہ انہوں نے درست بھی کہا ہے اور غلط بھی کہا ہے؟ انہوں نے کہا رسول اللہﷺ مکّہ تشریف لائے تو مشرکوں نے کہا کہ محمدؐ اور آپؐ کے ساتھی کمزوری کی وجہ سے بیت اللہ کا طواف نہیں کرسکیں گے وہ آپؐ سے حسد کرتے تھے۔ انہوں نے کہا اس پر رسول اللہﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ تین (چکر) دوڑ کر لگائیں اور چار عام رفتار سے۔ راوی کہتے ہیں میں نے ان سے کہا مجھے صفا اور مروہ کے درمیان سوار ہوکر طواف کرنے کے بارہ میں بتائیں۔ کیا یہ سنت ہے؟ کیونکہ آپ کی قوم کے لوگ اسے سنت سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا انہوں نے درست کہا اور غلط کہا ہے۔ راوی کہتے ہیں میں نے کہا آپ کی اس بات کا کیا مطلب ہے کہ انہوں نے درست کہا ہے اور غلط کہا ہے۔ انہوں نے کہا رسول اللہﷺ (کی زیارت) کے لئے لوگ بھاری تعداد میں آگئے۔ وہ کہتے تھے یہ محمدؐ ہیں۔ یہ محمدؐ ہیں۔ یہاں تک کہ جوان لڑکیاں بھی گھروں سے نکل آئیں۔ انہوں نے کہا اور رسول اللہﷺ کے لئے لوگوں کو مار کر ہٹایا نہیں جاتا تھا۔ جب آپؐ پر لوگوں کا ہجوم ہوا تو آپؐ سوار ہو گئے مگر چلنا اور سعی کرنا افضل ہے۔ ایک اور روایت میں ہے اہلِ مکہ حسد کرنے والے لوگ تھے اور اس روایت میں یَحْسُدُوْنَہُ کے الفاظ نہیں ہیں۔
ابو طفیل سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں نے حضرت ابن عباسؓ سے کہا آپ کی قوم کہتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دوڑ کر بیت اللہ اور صفا اور مروہ کے درمیان طواف کیا اور یہ سنت ہے۔ انہوں نے کہا انہوں نے درست بھی کہا اور غلط بھی۔
ابو طفیل سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں نے حضرت ابن عباسؓ سے کہا میرا خیال ہے میں نے رسول اللہﷺ کو دیکھا ہے۔ انہوں نے کہا مجھ سے آپؐ کی کیفیت بیان کرو۔ راوی کہتے ہیں میں نے کہا میں نے آپؐ کو مروہ کے پاس ایک اونٹنی پر سوار دیکھا اور آپؐ کے گرد لوگوں کا ہجوم تھا۔ راوی کہتے ہیں حضرت ابن عباسؓ نے کہا یہ رسول اللہﷺ ہی تھے۔ لوگوں کو آپؐ سے دھکے دے کر ہٹایا نہیں جاتا تھا اور نہ ان کو مجبور کر کے لایا جاتا تھا۔
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہﷺ اور آپؐ کے صحابہ مکّہ آئے۔ انہیں یثرب کے بخار نے کمزور کر دیا تھا۔ مشرکوں نے کہا کل تمہارے پاس ایسے لوگ آئیں گے جنہیں بخار نے کمزور کر دیا ہے۔ انہوں نے اس بخار سے بہت تکلیف اٹھائی تھی تو وہ حجر (حطیم) کی طرف بیٹھ گئے۔ نبیﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ تین چکر تیز چلیں اور دو رکنوں کے درمیان (عام رفتار سے) چلیں تاکہ مشرک ان کی قوت کو دیکھیں۔ مشرکوں نے کہا یہ وہ لوگ ہیں جن کے بارہ میں تم خیال کرتے تھے کہ انہیں بخار نے کمزور کر دیا ہے۔ یہ اس اس سے بھی بڑھ کر مضبوط ہیں۔ اور حضرت ابن عباسؓ کہتے ہیں آپؐ کو انہیں سارے چکروں میں دوڑنے کا حکم دینے سے صرف ان پر شفقت (کے احساس) نے روکا تھا۔
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ اس لئے بیت اللہ (کے طواف) میں دوڑے اور تیز چلے کہ مشرکوں کو اپنی قوت دکھائیں۔