بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 473 hadith
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ حضرت سودہؓ بھاری بھرکم آہستہ چلنے والی خاتون تھیں۔ انہوں نے رسول اللہﷺ سے اجازت لی کہ رات کو ہی مزدلفہ سے (مِنٰی) واپس چلی جائیں۔ آپؐ نے انہیں اجازت دے دی۔ حضرت عائشہؓ کہتی ہیں کاش! میں نے بھی رسول اللہﷺ سے اجازت لے لی ہوتی جیسا کہ حضرت سودہؓ نے آپؐ سے اجازت لی تھی اور حضرت عائشہؓ امام کے ساتھ ہی واپس جایا کرتی تھیں۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں میں چاہتی ہوں کہ میں نے بھی رسول اللہﷺ سے اجازت لے لی ہوتی جیسے حضرت سودہؓ نے آپؐ سے اجازت لے لی تھی اور میں فجر کی نماز منٰی میں پڑھتی اور لوگوں کے آنے سے پہلے رمی جمرہ کر لیتی۔ حضرت عائشہؓ سے کہا گیا کہ حضرت سودہؓ نے آپؐ (ﷺ) سے اجازت لی تھی؟ انہوں نے کہا ہاں، وہ ایک بھاری بھرکم آہستہ چلنے والی خاتون تھیں۔ انہوں نے رسول اللہﷺ سے اجازت چاہی اور آپؐ نے انہیں اجازت دے دی۔
حضرت اسماءؓ کے آزاد کردہ غلام عبداللہ کہتے ہیں مجھے حضرت اسماءؓ نے جبکہ وہ مزدلفہ والے گھر کے پاس ٹھہری ہوئی تھیں کہا کیا چاند چھپ گیا ہے؟ میں نے کہا نہیں۔ انہوں نے کچھ دیر نماز پڑھی۔ پھر پوچھا اے بیٹے! کیا چاند چھپ گیا ہے؟ میں نے کہا ہاں وہ کہنے لگیں میری سواری لے چلو۔ پھر ہم نے کوچ کیا یہا ں تک کہ جمرہ کو کنکریاں ماریں۔ پھر اپنے پڑا ؤ کی جگہ میں نماز پڑھی۔ میں نے ان سے کہا اے بی بی! ہم کچھ اندھیرے ہی چلے آئے۔ وہ کہنے لگیں ہر گز نہیں، اے میرے بیٹے! نبیﷺ نے عورتوں کو (اس کی) رخصت دی ہے۔ ایک اور روایت میں (قَالَتْ کَلَّا أَیْ بُنَیَّ اِنَّ النَّبِیَّﷺ أَذِنَ لِلظُّعُنِ کی بجائے) قَالَتْ لَا أَیْ بُنَیَّ اِنَّ النَّبِیَّﷺ أَذِنَ لِظُعُنِہِ کے الفاظ ہیں۔
ابن شوّال نے بتایا کہ وہ حضرت ام حبیبہؓ کے پاس گئے۔ آپؓ نے انہیں بتایا کہ نبیﷺ نے انہیں مزدلفہ سے رات کو ہی بھیج دیا تھا۔
حضرت ام حبیبہؓ سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہﷺ کے زمانہ میں مزدلفہ سے منٰی کو منہ اندھیرے ہی چلے جاتے تھے۔ ناقد کی روایت میں نُغَلِّسُ مِنْ مُزْدَلِفَۃَ کے الفاظ ہیں۔
حضرت ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ مجھے رسول اللہﷺ نے سامان کے ساتھ یا کہا کمزوروں کے ساتھ مزدلفہ سے رات کو ہی بھجوا دیا تھا۔
حضرت ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ میں ان لوگوں میں سے تھا جنہیں رسول اللہﷺ نے اپنے خاندان کے کمزور افراد کے ساتھ پہلے بھجوا دیا تھا۔
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں ان (لوگوں) میں شامل تھا جنہیں رسول اللہ ﷺ نے اپنے خاندان کے کمزور افراد کے ساتھ پہلے بھجوا دیا تھا۔
ابن جریج نے بیان کیا کہ عطاء نے ہمیں بتایا کہ حضرت ابن عباسؓ کہتے تھے کہ مجھے رسول اللہﷺ نے مزدلفہ سے سحر کے وقت نبیﷺ کے سامان کے ساتھ بھیج دیا تھا۔ میں نے کہا کیا آپ کو یہ بات پہنچی ہے کہ حضرت ابن عباسؓ کہتے تھے کہ مجھے رات گئے بھجوا دیا تھا؟ انہوں نے کہا نہیں، مگر اسی طرح سحر کے الفاظ کہے تھے۔ میں نے ان سے کہا حضرت ابن عباسؓ کہتے تھے ہم نے فجر سے پہلے رمی جمرہ کر لی تھی تو انہوں نے نماز فجر کہاں پڑھی تھی۔ وہ کہنے لگے نہیں اسی طرح کہا تھا۔
سالم بن عبداللہؓ نے بتایا کہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ اپنے گھر والوں میں سے کمزور لوگوں کو پہلے بھیج دیتے تھے۔ وہ رات کو (تو) مزدلفہ میں مشعرِ حرام کے پاس وقوف کرتے اور جو ذکرِ الٰہی چاہتے، وہ کرتے۔ وہ امام کے کھڑے ہونے اور واپس روانہ ہونے سے پہلے روانہ ہو جاتے۔ ان میں سے کچھ تو فجر کی نماز کے لئے منٰی آ جاتے تھے اور ان میں سے کچھ اس کے بعد آ جاتے تھے۔ اور جب وہ آتے وہ رمی جمرہ کرتے اور حضرت ابن عمرؓ کہا کرتے تھے کہ ان لوگوں کے بارہ میں رسول اللہﷺ نے رخصت عطا فرمائی تھی۔