بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 473 hadith
عبداللہ بن عبید کہتے ہیں کہ حارث بن عبداللہ، عبدالملک بن مروان کی خلافت کے زمانہ میں ان کے پاس آیا۔ عبدالملک نے کہا میرا خیال نہیں کہ ابو خُبَیب یعنی ابن زبیرؓ نے حضرت عائشہؓ سے وہ سنا جس کا وہ دعویٰ کرتے تھے کہ انہوں نے ان سے سنا ہے۔ حارث نے کہا کیوں نہیں ! میں نے خود اُن (حضرت عائشہؓ) سے یہ بات سنی ہے۔ اس (عبدالملک) نے کہا تم نے انہیں کیا کہتے سنا ہے؟ انہوں نے کہا وہ فرماتی تھیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ تمہاری قوم نے بیت اللہ کی عمارت کو چھوٹا کر دیا تھا اور اگر وہ نئے نئے شرک سے نہ آئے ہوتے تو جو حصہ انہوں نے اس (بیت اللہ) سے چھوڑا تھا میں اُسے واپس لوٹا دیتا۔ پس اگر تمہاری قوم کی میرے بعد یہ رائے ہو کہ وہ اسے بنالیں تو تم آؤ تاکہ جو انہوں نے اس سے چھوڑا ہے میں تمہیں دکھاؤں۔ چنانچہ آپؐ نے ان کو قریبًا سات ہاتھ جگہ دکھائی۔ یہ روایت عبداللہ بن عبید کی ہے۔ ولید بن عطاء کی روایت میں مزید کہا ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا میں اس کے دو دروازے بناتا جو زمین کے ساتھ لگے ہوں۔ ایک مشرق کی طرف اور ایک مغرب کی طرف اور کیا تم جانتی ہو کہ تمہاری قوم نے اس کا دروازہ اونچا کیوں رکھا تھا؟ آپؓ بیان کرتی ہیں کہ میں نے عرض کیا نہیں۔ آپؐ نے فرمایا تکبر اور طاقت کے اظہار کے طور پر کہ اس میں وہی داخل ہو جسے وہ چاہیں اور جب کوئی شخص اس میں داخل ہونے لگتا تو وہ اسے چڑھنے دیتے یہانتک کہ جب وہ داخل ہونے کے قریب ہوتا اسے دھکا دیتے اور وہ گِر جاتا۔ عبدالملک نے حارث سے کہا تم نے خود اُن (حضرت عائشہؓ) کو یہ کہتے ہوئے سنا؟ انہوں نے کہا ہاں۔ راوی کہتے ہیں پھر کچھ دیر عبدالملک اپنے سونٹے کے ساتھ زمین کو کریدتا رہا پھر کہا میرا دل کرتا ہے کہ میں نے اس کو اور جو بوجھ اس نے اٹھایا ہے اس کو چھوڑ دیا ہوتا۔
ابی قزعۃ سے روایت ہے کہ عبدالملک بن مروان نے بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے جب کہا اللہ تعالیٰ ابن زبیرؓ کا بُرا کرے کہ وہ ام المؤمنینؓ سے غلط روایت کرتا تھا وہ کہتا تھا میں نے اُن کو کہتے سنا ہے رسول اللہﷺ نے فرمایا اے عائشہؓ ! اگر تیری قوم نئی نئی کفر سے نہ آئی ہوتی تو میں ضرور بیت اللہ کو منہدم کر دیتا اور اُسے حِجر تک بڑھا دیتا کیونکہ تمہاری قوم نے تعمیر کو چھوٹا کر دیا تھا۔ حارث بن عبداللہ بن ابی ربیعہ نے کہا اے امیر المؤمنین ! یہ نہ کہیں۔ میں نے ام المؤمنینؓ کو یہ حدیث بیان کرتے سنا ہے۔ (عبدالملک بن مروان) نے کہا اگر میں اسے گرانے سے پہلے یہ سن لیتا تو میں ضرور اسے ابن زبیرؓ کی تعمیر پر چھوڑ دیتا۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے آپؓ فرماتی ہیں میں نے رسول اللہﷺ سے حطیم کے بارہ میں پوچھا کہ کیا وہ بیت اللہ کا حصہ ہے؟ آپؐ نے فرمایا ہاں۔ میں نے عرض کیا تو انہوں نے اسے بیت اللہ میں کیوں شامل نہیں کیا؟ آپؐ نے فرمایا تمہاری قوم کے پاس خرچ کم ہو گیا تھا۔ میں نے کہا اس کے دروازہ کے اونچا ہونے کی کیا وجہ ہے؟ آپؐ نے فرمایا تمہاری قوم نے یہ کیا ہے تاکہ وہ جسے چاہیں داخل کریں اور جسے چاہیں روک دیں۔ اگر تمہاری قوم جاہلیت سے نئی نئی نہ آئی ہوتی اور مجھے یہ ڈر نہ ہوتا کہ ان کے دل اوپرا جانیں گے تو میری رائے تھی کہ حطیم کو بیت اللہ میں داخل کر دوں اور اس کے دروازے کو زمین کے ساتھ لگا دوں۔ ایک اور روایت حضرت عائشہؓ سے مروی ہے اس میں جدر کے بجائے حجر کا لفظ ہے اور اسی طرح یہ بات بھی بیان ہے کہ میں نے پوچھا اس کا دروازہ کیوں بلند ہے اس پر سیڑھی کے بغیر چڑھا نہیں جا سکتا۔۔۔ اور اَخَافُ اَنْ تُنْکِرَ قُلُوْبُہُمْ کی بجائے مَخَافَۃَ اَنْ تَنْفِرَ قُلُوْبُہُمْ کے الفاظ ہیں۔
حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں فضل بن عباسؓ رسول اللہﷺ کے پیچھے سواری پر بیٹھے ہوئے تھے۔ خثعم قبیلہ کی ایک عورت آپ کے پاس آئی اور آپؓ سے پوچھنے لگی۔ فضلؓ اس کی طرف دیکھنے لگے اور وہ ان کی طرف دیکھتی تھی۔ رسول اللہﷺ فضل کا چہرہ دوسری جانب پھیرنے لگے۔ اس (خاتون) نے کہا یا رسولؐ اللہ! حج کے بارہ میں اللہ کا جو فریضہ اس کے بندوں پر ہے میرے باپ پر بڑھاپے کی عمر میں واجب ہوا ہے۔ وہ سواری پر جم کر بیٹھ نہیں سکتے۔ کیا میں اُن کی طرف سے حج کروں؟ آپؐ نے فرمایا ہاں اور یہ حجۃ الوداع کی بات ہے۔
حضرت ابن عباسؓ نے حضرت فضلؓ سے روایت کی ہے کہ خثعم قبیلہ کی ایک عورت نے کہا یا رسولؐ اللہ! میرا باپ بہت بوڑھا ہے اس پر حج کے بارہ میں اللہ کا فریضہ واجب ہوا ہے اور وہ اپنے اونٹ کی پشت پر جم کر بیٹھ نہیں سکتا۔ اس پر نبیﷺ نے فرمایا تم اس کی طرف سے حج کرلو۔
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ روحاء مقام پر ایک قافلہ سے مِلے اور فرمایا کون لوگ ہو؟ انہوں نے کہا مسلمان۔ اور انہوں نے پوچھا آپؐ کون ہیں؟ آپؐ نے فرمایا اللہ کا رسولؐ تو ایک عورت نے بچہ کو آپؐ کی طرف اٹھا کر کہا کیا اس کا حج ہے؟ آپؐ نے فرمایا ہاں اور تمہارے لئے اجر ہے۔
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں ایک عورت نے اپنا بچہ اٹھایا اور کہا یا رسولؐ اللہ! کیا اس کا حج ہے؟ آپؐ نے فرمایا ہاں اور تمہیں اجر ہوگا۔
کُریب سے روایت ہے ایک عورت نے بچہ اٹھایا اور کہا یا رسولؐ اللہ! کیا اس کا حج ہے؟ آپؐ نے فرمایا ہاں اور تیرے لئے اجر ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے ہم سے خطاب کیا اور فرمایا اے لوگو! اللہ نے تم پر حج فرض کیا ہے، پس حج کرو۔ ایک شخص نے کہا یا رسولؐ اللہ! کیا ہر سال؟ آپؐ خاموش رہے یہاں تک کہ اس نے تین مرتبہ یہ سوال کیا۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا اگر میں ہاں کہہ دیتا تو یہ فرض ہو جاتا اور تم اس کی طاقت نہ رکھتے۔ پھر آپؐ نے فرمایا جب تک میں تمہیں چھوڑے رکھوں تم بھی مجھے کچھ نہ کہو یقینا تم سے پہلے لوگ اپنے سوالات کی کثرت کی وجہ سے اور اپنے انبیاء سے اختلاف کرنے کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔ پس جب میں تمہیں کسی چیز کا حکم دوں تو جتنی تم میں طاقت ہے اسے بجا لاؤ اور جب میں تمہیں کسی چیز سے منع کروں تو اسے چھوڑ دو۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا عورت تین دن کا سفر نہ کرے سوائے اس کے کہ اس کے ساتھ اس کا محرم ہو۔ ایک اور روایت میں ثَلَاثًا کی بجائے فَوْقَ ثَلَاثٍ (تین دن سے زائد) کے الفاظ ہیں اور ایک دوسری روایت میں ثَلَا ثًا کی بجائے ثَلَا ثَۃً کے الفاظ ہیں۔ اور ایک دوسری روایت میں ثَلَاثًا کی بجائے ثَلَاثَۃً کے الفاظ ہیں۔