بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 473 hadith
سالم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا رسول اللہ ﷺ اور اسامہ بن زیدؓ اور بلالؓ اور عثمان بن طلحہؓ بیت اللہ میں داخل ہوئے۔ انہوں نے دروازہ بند کر لیا۔ پھر جب انہوں نے کھولا تو میں سب سے پہلے اندر داخل ہونے والوں میں تھا۔ میں بلالؓ سے ملا اور اُن سے پوچھا کیا رسول اللہ ﷺ نے اس میں نماز پڑھی ہے؟ انہوں نے کہا ہاں۔ آپؐ نے دو یمانی ستونوں کے درمیان نماز پڑھی۔
سالم بن عبداللہؓ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بتایا کہ میں نے رسول اللہﷺ اور اسامہ بن زیدؓ اور بلالؓ اور عثمانؓ بن طلحہ کو کعبہ میں داخل ہوتے دیکھا اور ان کے ساتھ کوئی اور اس میں داخل نہ ہوا۔ پھر دروازہ (ان کے اندر جانے پر) بند کر دیا گیا۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ کہتے ہیں بلالؓ یا عثمان بن طلحہ نے مجھے بتایا کہ رسول اللہﷺ نے کعبہ کے اندر دو یمانی ستونوں کے درمیان نماز پڑھی۔
ابن جریج کہتے ہیں میں نے عطاء سے کہا کیا آپ نے حضرت ابن عباسؓ کو یہ کہتے سنا ہے کہ تمہیں صرف طواف کا حکم دیا گیا ہے اور تمہیں اس (بیت اللہ) میں داخل ہونے کا حکم نہیں دیا گیا۔ انہوں (عطاء) نے کہا وہ (یعنی ابن عباسؓ) اس میں داخل ہونے سے منع نہیں کرتے تھے لیکن میں نے انہیں سنا ہے کہ مجھے حضرت اسامہ بن زیدؓ نے بتایا ہے کہ نبیﷺ جب بیت اللہ میں داخل ہوئے تو آپؐ نے اس کے تمام اطراف میں دعا کی اور اس میں نماز نہیں پڑھی یہاں تک کہ آپؐ باہر تشریف لائے۔ جب آپؐ باہر تشریف لائے تو بیت اللہ کے سامنے دو رکعت نماز ادا کی اور فرمایا یہ قبلہ ہے۔ میں نے کہا کیا اس کے اطراف یا اس کے کونوں میں؟ انہوں نے کہا بیت اللہ کے ہر رُخ پر۔
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ کعبہ میں داخل ہوئے اور اس میں چھ ستون تھے۔ آپؐ ایک ستون کے پاس کھڑے ہوئے اور دعا کی اور آپؐ نے نماز نہیں پڑھی۔
اسماعیل بن ابی خالد کہتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کے صحابی حضرت عبداللہ بن ابی اوفٰیؓ سے پوچھا کیا رسول اللہ ﷺ اپنے عمرہ میں بیت اللہ میں داخل ہوئے تھے؟ انہوں نے کہا نہیں۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے آپؓ فرماتی ہیں کہ مجھے رسول اللہﷺ نے فرمایا اگر تیری قوم نئی نئی کفر سے نہ آئی ہوتی تو میں ضرور کعبہ کو منہدم کرتا اور اسے لازماً ابراہیمؑ کی بنیاد پر بناتا کیونکہ قریش نے جب بیت اللہ کو تعمیر کیا تو (اسے) چھوٹا کر دیا اور میں ضرور اس کے لئے پچھلی جانب ایک دروازہ بناتا۔
نبی ﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تم نہیں جانتیں کہ جب تمہاری قوم نے خانہ کعبہ تعمیر کیا تو وہ اسے ابراہیمؑ کی پوری بنیادوں پر تعمیر سے قاصر رہے۔ وہ کہتی ہیں میں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! کیا آپؐ اسے ابراہیمؑ کی بنیادوں پر دوبارہ تعمیر نہیں کریں گے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر تمہاری قوم کفر سے نئی نئی نہ آئی ہوتی تو میں ضرور ایسا کرتا۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ کہتے تھے اگر یہ بات حضرت عائشہؓ نے رسول اللہ ﷺ سے سنی تھی تو میرا خیال ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان دونوں رکنوں کو جو حطیم کے قریب ہیں کو چھونا صرف اس لئے چھوڑ دیا تھا کہ بیت اللہ ابراہیمی بنیادوں پر مکمل نہیں کیا گیا۔
حضرت عبداللہ بن عمرؓ نبیﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہؓ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے۔ اگر تمہاری قوم کے لوگ نئے نئے زمانہ جاہلیت سے یا فرمایا کہ کفر سے نہ آئے ہوتے تو میں ضرور کعبہ کا خزانہ اللہ کی راہ میں خرچ کر دیتا اور اس کا دروازہ زمین (کی سطح) پر بنا دیتا اور میں اس میں حِجر (حطیم) کو داخل کر دیتا۔
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا اے عائشہ! اگر تمہاری قوم کے لوگ شرک کے زمانہ سے نئے نئے نہ آئے ہوتے تو میں ضرور کعبہ (کی اس عمارت) کو گِرا دیتا اور اس کا فرش سطحِ زمین سے ملا دیتا اور اس کے دو دروازے بناتا۔ ایک شرقی دروازہ اور ایک غربی دروازہ اور اس میں حِجر (حطیم) کے چھ ہاتھ شامل کر دیتا کیونکہ قریش نے جب اسے بنایا تو اسے چھوٹا کر دیا۔
عطاء سے روایت ہے وہ کہتے ہیں جب یزید بن معاویہ کے زمانہ میں بیت اللہ کو آگ لگی جب اہلِ شام نے اس پر حملہ کیا تو اس کا معاملہ جو ہوا سو ہوا۔ حضرت ابن زبیرؓ نے اس کو (اسی طرح) چھوڑ دیا یہانتک کہ لوگ حج پر آئے۔ وہ (ابن زبیرؓ) چاہتے تھے کہ لوگوں کو اہلِ شام کے خلاف ابھاریں یا جنگ پر آمادہ کریں۔ جب لوگ واپس جانے لگے تو حضرت ابن زبیرؓ نے کہا اے لوگو! مجھے کعبہ کے بارہ میں مشورہ دو۔ میں اسے توڑ کر پھر تعمیر کروں یا (صرف) اس کے گرے ہوئے حصہ کی درستی کروں۔ حضرت ابن عباسؓ نے کہا میری رائے اس میں مختلف ہے۔ میرا خیال ہے کہ اس کے گرے ہوئے حصہ کی آپ مرمت کریں اور اس گھر کو اسی طرح چھوڑ دیں جس پر لوگوں نے اسلام قبول کیا تھا اور ان پتھروں کو اسی طرح چھوڑ دیں جس پر لوگوں نے اسلام قبول کیا تھا۔ اور جس پر نبیؐ کی بعثت ہوئی تھی۔ حضرت ابن زبیرؓ نے کہا اگر تم میں سے کسی شخص کے گھر کو آگ لگ جائے تو جب تک کہ وہ اس کو نئے سرے سے نہ بنا لے مطمئن نہیں ہوتا تو پھر کیوں نہ تمہارے رب کا گھر (نئے سرے سے بنایا جائے۔) میں اپنے رب سے تین دن استخارہ کروں گا پھر میں نے جو کرنا ہے اس کا فیصلہ کروں گا۔ پھر جب تین دن گزر گئے تو انہوں نے اسے توڑنے کا فیصلہ کر لیا۔ لوگ اس سے بچتے کہ مبادا وہ پہلا شخص جو توڑنے کے لئے اس پر چڑھے اس پر کوئی مصیبت آسمان سے نازل نہ ہو یہانتک کہ ایک شخص اس پر چڑھا اور اس کا ایک پتھر پھینکا۔ جب لوگوں نے اس پر کوئی مصیبت نازل ہوتے نہ دیکھی تو پے در پے جانے لگے اور اسے منہدم کر دیا یہانتک کہ اسے زمین سے مِلا دیا اور پھر حضرت ابن زبیرؓ نے ستون بنائے اور ان کو پردوں سے ڈھانک دیا یہاں تک کہ اس کی عمارت بلند ہوگئی۔ اور حضرت ابن زبیرؓ نے کہا میں نے حضرت عائشہؓ کو فرماتے سنا تھا کہ نبی ﷺ نے فرمایا اگر لوگ کفر کے زمانہ سے نئے نئے نہ آئے ہوتے اور میرے پاس اتنا خرچ نہیں کہ میں اس کی تعمیر کر سکتا ورنہ میں نے ضرور اس میں حِجر سے پانچ ہاتھ شامل کر دئیے ہوتے۔ اور میں نے اس کے لئے ایک دروازہ بنایا ہوتا جس سے لوگ داخل ہوتے اور دوسرا دروازہ جس سے وہ نکلتے اور انہوں (ابن زبیرؓ) نے کہا آج مجھے خرچ کرنے کی توفیق ہے اور مجھے لوگوں کا ڈر بھی نہیں ہے راوی کہتے ہیں انہوں نے اس میں پانچ ہاتھ حجر سے بڑھا دئیے یہانتک کہ اس میں سے وہ بنیاد ظاہر کر دی جسے لوگوں نے دیکھا اور انہوں نے اس پر عمارت بنائی۔ کعبہ کی لمبائی اٹھارہ ہاتھ تھی۔ پھر جب اضافہ ہوا تو انہوں نے اس کو کم سمجھا اور اس میں دس ہاتھ کا اضافہ کیا اور اس کے دو 2 دروازے بنائے۔ ان میں سے ایک داخلہ کا تھا اور دوسرا نکلنے کا تھا۔ جب حضرت ابن زبیرؓ کو شہید کر دیا گیا تو حجاج نے عبدالملک بن مروان کو اس کی خبر دیتے ہوئے لکھا اور اسے یہ بھی بتایا کہ ابن زبیرؓ نے عمارت کو اس کی بنیاد پر بنایا تھا جسے مکہ کے قابلِ اعتبار لوگوں نے دیکھا تھا۔ عبدالملک نے اسے لکھا کہ ابن زبیرؓ کی ملاوٹ سے ہمیں کوئی تعلق نہیں اور جو اس نے لمبائی میں اضافہ کیا ہے اسے قائم رہنے دو اور جو حصہ انہوں نے حِجر (حطیم) سے بڑھایا ہے اسے واپس اس کی بنیاد پر لوٹا دو اور وہ دروازہ جو انہوں نے کھولا تھا اسے بند کر دو۔ انہوں نے اس کو منہدم کر دیا اور اسے اس کی بنیاد پر لوٹا دیا۔