بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 473 hadith
حضرت ابن عمرؓ نے بتایا کہ رسول اللہﷺ جب سفر پر نکلتے ہوئے اپنے اونٹ پر بیٹھتے تو تین دفعہ اللہ اکبر کہتے۔ پھر کہتے پاک ہے وہ جس نے اسے ہمارے لئے مسخر کیا اور ہم اس کو زیرِ نگیں کرنے کی طاقت نہیں رکھتے تھے اور یقینا ہم اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔ (الزخرف: 14، 15) اے اللہ! ہم اپنے اس سفر میں تجھ سے نیکی اور تقویٰ اور ایسے عمل کی توفیق چاہتے ہیں جس سے تو راضی ہو جائے۔ اے اللہ! ہم پر ہمارا یہ سفر آسان کر دے اور اس کے فاصلہ کو (بسہولت) طے کرا دے۔ اے اللہ! سفر میں بھی تو ہی ساتھی ہے اور گھر میں بھی تو ہی جانشین۔ اے اللہ! میں سفر کی مشقت، کسی اندوہناک منظر اور مال اور گھر کے لحاظ سے بُری واپسی سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور جب واپس تشریف لاتے تو یہی الفاظ کہتے اور ان میں یہ اضافہ فرماتے ہم لوٹنے والے، توبہ کرنے والے، عبادت کرنے والے اور اپنے رب کی حمد کرنے والے ہیں۔
حضرت عبداللہ بن سرجسؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں جب رسول اللہﷺ سفر کرتے تو سفر کی مشقت سے اور بُرے حالات میں لوٹنے سے اور (اچھی حالت) کے بعد نقصان سے اور مظلوم کی بد دعا سے اور گھر والوں اور مال میں بُرا منظر دیکھنے سے پناہ مانگتے تھے۔ راوی عبدالواحد کی روایت میں (فِی الْاَہْلِ وَالْمَالِ کی بجائے) فِی الْمَالِ وَالْاَہْلِ کے الفاظ ہیں اور راوی محمد بن خازم کی روایت میں واپسی پر اہلِ خانہ سے ابتداء فرماتے اور ان دونوں راویوں کی روایت میں (یَتَعَوَّذُ مِنْ وَعْثَائِ السَّفَرِ) کی بجائے اَللّٰہُمَّ اِنِّی اَعُوْذُ بِکَ مِنْ وَعْثَائِ السَّفَرِ کے الفاظ ہیں۔
حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ جب کسی لشکر سے یا مہم سے یا حج سے یا عمرہ سے واپس لوٹتے تو جب کسی گھاٹی یا ٹیلہ پر پہنچتے تو تین دفعہ اللہ اکبر کہتے۔ پھر کہتے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ وہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں، بادشاہت اسی کی ہے اور سب حمد اسی کی ہے اور وہ ہر ایک چیز پر قادر ہے۔ ہم لوٹنے والے، توبہ کرنے والے، عبادت کرنے والے، فرمانبرداری کرنے والے، اپنے رب کی تعریف کرنے والے ہیں۔ اللہ نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا اور اپنے بندے کی مدد کی اور لشکروں کو اس نے اکیلے ہی شکست دے دی۔ ایک اور روایت میں کَبَّرَ ثَلَاثًا کی بجائے دو مرتبہ اللہ اکبر کہنے کا ذکر ہے۔
حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبیﷺ کے ساتھ آئے میں اور حضرت ابو طلحہؓ، اور حضرت صفیہؓ آپؐ کی اونٹنی پر آپؐ کے پیچھے بیٹھی تھیں یہاں تک کہ جب ہم مدینہ کی بلندی پر پہنچے تو آپؐ نے فرمایا ہم لوٹنے والے، توبہ کرنے والے، عبادت کرنے والے، اپنے رب کی حمد کرنے والے ہیں۔ پھر آپؐ یہ کہتے رہے یہاں تک کہ ہم مدینہ پہنچ گئے۔
حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی اونٹنی اس بطحاء میں بٹھائی جو ذوالحلیفہ میں ہے اور وہاں پر نماز پڑھائی۔ (راوی کہتے ہیں) حضرت عبداللہ بن عمرؓ ایسا ہی کیا کرتے تھے۔
نافع سے روایت ہے وہ کہتے ہیں حضرت ابن عمرؓ اس بطحاء میں جو ذوالحلیفہ میں ہے سواری بٹھاتے تھے جس میں رسول اللہﷺ اپنی سواری بٹھایا کرتے تھے اور وہاں نماز پڑھا کرتے تھے۔
نافع سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ جب حج یا عمرہ سے لوٹتے تو اس بطحاء میں سواری بٹھاتے جو ذوالحلیفہ میں ہے جس میں رسول اللہ ﷺ سواری بٹھاتے تھے۔
سالم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آپؐ کے ذوالحلیفہ میں رات کے قیام گاہ میں ایک آنے والا آیا اور آپؐ کو کہا گیا کہ آپؐ ایک بابرکت پتھریلے میدان میں ہیں۔
سالم بن عبداللہؓ بن عمرؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبیﷺ کے پاس ایک آنے والا آیا اور آپؐ ذو الحلیفہ میں اپنے رات کے قیام گاہ میں وادی کے نشیب میں تھے اور آپؐ سے کہا گیا کہ آپؐ مبارک پتھریلی زمین میں ہیں۔ راوی موسیٰ نے کہا کہ ہمیں سالم نے اس مسجد کے اونٹوں کے اترنے کی جگہ میں اتارا جہاں حضرت عبداللہؓ اپنی سواری رسول اللہﷺ کے جائے قیام کی جگہ تلاش کرتے ہوئے بٹھایا کرتے تھے اور وہ (جائے قیام) اس مسجد سے نیچے ہے جو وادی کے نشیب میں ہے۔ اُس اور قبلہ کے مابین ان کے وسط میں۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں حضرت ابو بکر صدیق ؓ نے اس حج میں جس میں رسول اللہﷺ نے حجۃ الوداع سے پہلے آپؓ کو امیر مقرر کیا تھا مجھے کچھ لوگوں کے ساتھ بھیجا جو لوگوں میں قربانی کے دن یہ اعلان کریں کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہیں کرے گا اور کوئی برہنہ شخص بیت اللہ کا طواف نہیں کرے گا۔ ابن شہاب کہتے ہیں حُمَید بن عبدالرحمٰن حضرت ابوہریرہؓ کی روایت کی بناء پر کہتے تھے قربانی کا دن (ہی) حج اکبر کا دن ہے۔