بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 39 hadith
حضرت عبادہؓ بن صامت سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھ سے لے لو مجھ سے لے لو۔ اللہ تعالیٰ نے ان عورتوں کے لئے راہ نکال دی ہے۔ غیر شادی شدہ غیر شادی شدہ کے ساتھ سو درّے اور ایک سال کی جلا وطنی ہے اور شادی شدہ شادی شدہ کے ساتھ سو درّے اور رجم ہے۔
حضرت عبادہؓ بن صامت سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے نبیﷺ پر جب وحی نازل ہوتی تھی تو آپؐ اس کی وجہ سے فکر مند ہوتے اور آپؐ کے چہرہ کا رنگ متغیر ہو جاتا۔ وہ کہتے ہیں ایک دن جب آپؐ پر وحی نازل ہوئی تو آپؐ پر وہی حالت وارد ہوئی اور جب وہ کیفیت جاتی رہی آپؐ نے فرمایا مجھ سے لے لو، اللہ تعالیٰ نے ان عورتوں کے لئے راہ نکال دی ہے۔ شادی شدہ شادی شدہ کے ساتھ اور غیر شادی شدہ غیر شادی شدہ کے ساتھ۔ شادی شدہ کے لئے سو درّے اور پتھروں سے رجم ہے اور غیر شادی شدہ کے لئے سو درّے اور ایک سال کی جلا وطنی ہے۔ ایک اور روایت میں یہ ہے کہ غیر شادی شدہ کو درّے لگائے جائیں گے اور جلا وطن کیا جائے گا اور شادی شدہ کو درّے لگائے جائیں اور رجم کیا جائے گا مگر اس روایت میں سَنَۃً اور مِائَۃً کا ذکر نہیں ہے۔
حضرت عبداللہؓ بن عباس بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطابؓ نے رسول اللہﷺ کے منبر پر بیٹھے ہوئے فرمایا یقینا اللہ تعالیٰ نے محمدﷺ کو حق کے ساتھ بھیجا اور آپؐ پر کتاب نازل فرمائی اور جو آپؐ پر نازل کیا گیا اس میں رجم کی آیت بھی تھی جسے ہم نے پڑھا اور محفوظ کیا اور سمجھا۔ رسول اللہﷺ نے رجم کیا اور ہم نے بھی آپؐ کے بعد رجم کیا اور میں ڈرتا ہوں کہ اگر لوگوں پر زیادہ عرصہ گذر گیا تو کوئی کہنے والا کہے گا کہ ہم رجم کو اللہ کی کتاب میں نہیں پاتے تو وہ ایک ایسے فریضہ کو چھوڑ کر گمراہ ہو جائیں جسے اللہ نے نازل کیا ہے اور یقینا اللہ کی کتاب میں اس شخص کا رجم لازم ہے جو مردوں اور عورتوں میں سے شادی کے بعد زنا کا ارتکاب کرے جب دلیل قائم ہو یا حمل ہو جائے یا اعتراف ہو۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ مسلمانوں میں سے ایک شخص رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپؐ مسجد میں تھے۔ اس نے آپؐ کو پکار کر کہا یا رسولؐ اللہ! میں نے زنا کیا ہے آپؐ نے اس سے منہ پھیر لیا۔ اس نے آپؐ کے چہرے کی جانب رُخ کر کے آپؐ سے عرض کیا یا رسولؐ اللہ !میں نے زنا کیا ہے۔ آپؐ نے پھر اس سے رُخ پھیر لیا یہاں تک کہ چار مرتبہ وہ گھوم کر آپؐ کے سامنے آیا۔ جب اس (شخص) نے اپنے نفس کے خلاف چار گواہیاں دے دیں۔ رسول اللہﷺ نے اُسے بلایا اور فرمایا کیا تمہیں جنون ہے؟ اس نے کہا نہیں۔ آپؐ نے فرمایا کیا تم شادی شدہ ہو؟ اس نے کہا ہاں۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا اسے لے جاؤ اور رجم کردو۔ ابن شہاب کہتے ہیں مجھے اس شخص نے بتایا جس نے حضرت جابرؓ بن عبد اللہ کو کہتے سنا تھا کہ میں ان میں شامل تھا جنہوں نے اُسے رجم کیا اور ہم نے اسے عید گاہ میں رجم کیا جب اُسے پتھر لگے تو وہ بھاگ اُٹھا تو ہم نے اُسے حرہ (پتھریلے میدان) میں جا لیا اور اسے رجم کر دیا۔
حضرت جابرؓ بن سمرہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے ماعز بن مالک کو دیکھا جب اُسے نبی ﷺ کی خدمت میں لایا گیا چھوٹے قد کا آدمی، گتھے ہوئے بدن والا، اس پر کوئی چادر نہ تھی۔ اس نے خود اپنے خلاف چار مرتبہ گواہی دی کہ اس نے زنا کیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا شاید کہ تم نے۔۔۔۔ اُس نے کہا نہیں اس پیچھے رہنے والے نے زنا کیا ہے۔ وہ (حضرت جابرؓ) کہتے ہیں پھر رسول اللہ ﷺ نے اُسے رجم کیا اور آپؐ نے خطبہ دیا اور فرمایا سنو! جب کبھی ہم اللہ کی راہ میں جہاد کے لئے نکلتے ہیں تو ان میں سے کوئی شخص پیچھے رہ جاتا ہے جس کی بکرے کی آواز کی طرح آواز ہوتی ہے اور تھوڑا سا کچھ دیتا ہے۔ سنو! اللہ کی قسم! اگر وہ مجھے ان میں سے کسی پر قدرت دے تو میں ضرور اسے عبرتناک سزا دوں گا۔
سماک بن حرب سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں نے حضرت جابرؓ بن سمرہ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہﷺ کے پاس ایک شخص لایا گیا، چھوٹے قد کا، پریشان بال، گتھے ہوئے بدن والا صرف تہہ بند پہنے اور اس نے زنا کیا تھا۔ آپؐ نے اُسے دو مرتبہ واپس کر دیا۔ پھر آپؐ نے اس کے رجم کرنے کا حکم دیا پھر رسول اللہﷺ نے فرمایا جب کبھی ہم اللہ کی راہ میں جہاد کرنے نکلتے ہیں تو تم میں سے کوئی ایک پیچھے رہ جاتا ہے۔ وہ نر بکرے کی آواز نکالنے کی طرح آواز نکالتا ہے اور ان میں سے کسی عورت کو تھوڑی سی چیز دیتا ہے۔ اگر اللہ مجھے ان میں سے کسی پر قدرت دے تو میں اسے عبرت کا نشان بنا ؤں گا یا (فرمایا) اسے عبرت ناک سزا دوں گا۔ سماک کہتے ہیں میں نے یہ حدیث سعید بن جبیر کو سنائی انہوں نے کہا آپؐ نے اسے چار مرتبہ واپس کیا۔ ایک روایت میں فَرَدَّہُ مَرَّتینِ اور ایک اور روایت میں فَرَدَّہُ مَرَّتَیْنِ اَوْ ثَلَا ثاً کے الفاظ ہیں۔
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ماعز بن مالک سے فرمایا کیا جو بات مجھے تمہارے بارہ میں پہنچی ہے سچ ہے؟ اس نے کہا آپؐ کو میرے بارہ میں کیا خبر پہنچی ہے؟ آپؐ نے فرمایا مجھے پتہ چلا ہے کہ تم نے فلاں قبیلہ کی لڑکی سے بدکاری کی ہے اس نے کہا ہاں۔ وہ (حضرت ابن عباسؓ) کہتے ہیں پھر اس نے چار دفعہ اس کی شہادت دی پھر آپؐ نے اس کے بارہ میں حکم دیا اور وہ رجم کیا گیا۔
حضرت ابو سعیدؓ سے روایت ہے کہ اسلم قبیلہ کا ایک شخص تھا جسے ماعز بن مالک کہتے تھے وہ رسول اللہﷺ کے پاس آیا اور کہا کہ میں بدکاری کا مرتکب ہوا ہوں۔ میرے اوپر حد قائم فرمائیں۔ نبیﷺ نے اسے کئی دفعہ واپس لوٹا یا۔ راوی کہتے ہیں پھر آپؐ نے اس کی قوم سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ہم اس میں کوئی برائی نہیں دیکھتے مگر اب یہ ایک برا کام کر بیٹھا ہے اور خیال کرتا ہے کہ اس سے خلاصی سوائے اس کے نہیں ہو سکتی کہ اس (جرم) میں حد قائم کی جائے۔ (ابو سعیدؓ ) کہتے ہیں پھر وہ رسول اللہﷺ کے پاس لوٹ کر آیا۔ آپؐ نے ہمیں اس کے رجم کرنے کا ارشاد فرمایا۔ وہ کہتے ہیں ہم اسے لے کر بقیع الغرقد گئے۔ وہ کہتے ہیں نہ ہم نے اسے باندھا نہ اس کے لئے گڑھا کھودا۔ وہ کہتے ہیں ہم نے اسے ہڈیاں، ڈھیلے اور ٹھیکریاں ماریں۔ وہ کہتے ہیں وہ دوڑ پڑا اور ہم بھی اس کے پیچھے دوڑے یہانتک کہ وہ حرہ (میدان) کے کنارہ پہنچا اور ہمارے لئے رک گیا۔ ہم نے اس پر حرہ کے (میدان) کے پتھر مارے یہانتک کہ وہ خاموش ہو گیا (یعنی مر گیا۔) وہ کہتے ہیں پھر رسول اللہﷺ شام کو خطبہ ارشاد فرمانے کے لئے کھڑے ہوئے اور فرمایا کیا جب کبھی بھی ہم اللہ کی راہ میں جہاد کے لئے نکلتے ہیں تو کوئی شخص ہمارے بال بچوں کے پاس پیچھے رہ جاتا ہے اور اس کی آواز نَر بکرے کی آواز کی طرح ہوتی ہے۔ میری ذمہ داری ہے کہ میرے پاس کوئی ایسا شخص لایا جائے جو ایسی حرکت کرے تو میں اسے عبرتناک سزا دوں۔ وہ کہتے ہیں کہ آپؐ نے اس کے لئے نہ تو بخشش طلب کی اور نہ ہی اُسے برا بھلا کہا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ نبیﷺ شام کو کھڑے ہوئے آپؐ نے اللہ کی حمد و ثنا کی پھر اس کے بعد فرمایا ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ جب ہم جہاد کے لئے جاتے ہیں تو ان میں سے کوئی شخص ہم سے پیچھے رہ جاتا ہے۔ اس کی آواز نَر بکرے کی آواز کی طرح ہوتی ہے۔ مگر اس روایت میں عِیَالَناَ کے الفاظ نہیں ہیں اور ایک روایت میں یہ اضافہ ہے کہ اس شخص نے تین مرتبہ زنا کا اعتراف کیا۔
سلیمان بن بریدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ ماعز بن مالک نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسولؐ اللہ! مجھے پاک کردیں۔ آپؐ نے فرمایا تیرا برا ہو، واپس جا اور اللہ سے استغفار کر اور توبہ کر۔ وہ کہتے ہیں وہ تھوڑی دیر کے بعد واپس آیا اور کہا یا رسولؐ اللہ! مجھے پاک کریں۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تیرا برا ہو واپس جا اور اللہ سے بخشش طلب کر اور اس سے توبہ کر۔ وہ کہتے ہیں وہ تھوڑی دیر کے بعد واپس آیا اور کہا یا رسولؐ اللہ! مجھے پاک کریں اس پر رسول اللہ ﷺ نے پہلے کی طرح جواب دیا یہاں تک کہ جب ایسا چوتھی مرتبہ ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں تجھے کس سے پاک کروں؟ اس نے کہا زنا سے۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے پوچھا کیا اسے جنون ہے؟ آپؐ کو بتایا گیا کہ وہ مجنون نہیں ہے۔ پھر آپؐ نے فرمایا کیا اس نے شراب پی ہے؟ تو ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے اس کے منہ کی بو سونگھی تو اس سے شراب کی بو نہ پائی۔ وہ کہتے ہیں اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تم نے زنا کیا ہے؟ اس نے کہا ہاں۔ آپؐ نے اس کے بارے میں حکم دیا اور اُسے رجم کیا گیا۔ لوگ اس کے بارے میں دو گروہ ہوگئے ایک کہنے والا کہتا یہ ہلاک ہوگیا اس کے گناہ نے اسے گھیر لیا۔ دوسرا کہتا ماعز کی توبہ سے بہتر کوئی توبہ نہیں کیونکہ وہ نبی ﷺ کے پاس آیا اور اپنا ہاتھ آپؐ کے ہاتھ میں رکھا پھر کہا مجھے پتھروں سے قتل کردیں۔ وہ کہتے ہیں پس لوگ اس حالت میں دو یا تین دن رہے۔ پھر رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور وہ لوگ بیٹھے تھے۔ آپؐ نے سلام کیا پھر تشریف فرما ہوئے۔ پھر فرمایا ماعز بن مالک کے لئے بخشش طلب کرو۔ وہ کہتے ہیں اس پر وہ کہنے لگے اللہ ماعز بن مالک کو معاف کرے وہ کہتے ہیں اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر وہ ایک امت پر بھی تقسیم کی جائے تو ان پر بھی حاوی ہو۔ وہ کہتے ہیں پھر ایک عورت آئی جو ازد کی شاخ غامد سے تھی۔ اس نے کہا یا رسولؐ اللہ! مجھے پاک کریں، آپؐ نے فرمایا تیرا برا ہو تو واپس جا، اللہ سے بخشش طلب کر اور اس کی طرف توبہ کر۔ اس پر اس نے کہا ’’میرا خیال ہے آپؐ مجھے ویسے ہی واپس لوٹا رہے ہیں جیسے ’’ماعز بن مالک کو آپؐ نے واپس کر دیا تھا‘‘ آپؐ نے فرمایا’’تجھے کیا ہوا ہے؟‘‘ اُس نے کہا کہ وہ زنا کی وجہ سے حاملہ ہو گئی ہے۔ آپؐ نے فرمایا کیا تو ہو گئی ہے؟ اس نے کہا ہاں۔ آپؐ نے اُسے فرمایا یہاں تک کہ تم وہ جنوں جو تمہارے پیٹ میں ہے۔ اس عورت کی انصار میں سے ایک شخص نے کفالت کی یہاں تک کہ اس (عورت) نے بچہ کو جنم دے دیا۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہا کہ غامدیہ (غامد قبیلہ کی عورت) نے بچہ کو جنم دے دیا۔ آپؐ نے فرمایا تب تو ہم اسے رجم نہیں کریں گے اس حال میں کہ اس کے بچہ کو کم سنی میں چھوڑ دیں کہ کوئی اسے دودھ پلانے والا نہ ہو۔ اس پر انصار میں سے ایک شخص کہنے لگا اے اللہ کے نبیؐ اس بچہ کی رضاعت میرے ذمہ ہے۔ آپؐ نے فرمایا اسے رجم کردو۔
عبداللہ بن بریدہ اپنے والدؓ سے روایت کرتے ہیں کہ ماعز بن مالک اسلمی رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا یا رسولؐ اللہ! میں نے اپنی جان پر ظلم کیا ہے اور میں نے زنا کیا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ آپؐ مجھے پاک کریں۔ آپؐ نے اسے واپس بھیج دیا جب اگلا دن ہوا تو وہ پھر آیا اور عرض کیا یا رسولؐ اللہ! یقینا میں نے زنا کیا ہے۔ آپؐ نے دوبارہ اسے واپس لوٹا دیا۔ ایک شخص کو رسول اللہ ﷺ نے اس کی قوم کی طرف بھیجا اور پوچھا کیا تم اس کی عقل میں کوئی ایسا فتور دیکھتے ہو جِسے تم کچھ اوپرا سمجھتے ہو۔ انہوں نے کہا ہم جہاں تک جانتے ہیں اسے اپنے نیک لوگوں میں سے صاحبِ عقل و فراست پاتے ہیں۔ پھر وہ تیسری مرتبہ آیا تو رسول اللہ ﷺ نے پھر ایک آدمی ان کی طرف اس کے بارہ میں رائے لینے کیلئے بھیجا۔ انہوں نے آپؐ کو بتایا کہ اس میں کوئی خرابی ہے نہ اس کی عقل میں کوئی خرابی ہے۔ جب چوتھی دفعہ ہوئی تو اس کے لئے ایک گڑھا کھودا اور آپؐ نے اس کے بارہ میں حکم دیا تو اسے رجم کیا گیا۔ راوی کہتے ہیں پھر غامدیہ (عورت) آئی اور عرض کیا یا رسولؐ اللہ! یقینا میں نے زنا کیا ہے، مجھے پاک کریں اور آپؐ نے اسے لوٹا دیا پھر جب اگلا روز آیا اس نے کہا یا رسولؐ اللہ! آپؐ مجھے کیوں لوٹاتے ہیں؟ شاید آپؐ مجھے لوٹاتے ہیں جیسے آپؐ نے ماعز کو لوٹا یا تھا۔ اللہ کی قسم! میں حاملہ ہوں۔ آپؐ نے فرمایا اگر ایسا ہے تو پھر نہیں، لوٹ جا یہانتک کہ تو جنم دے لے۔ جب اس نے بچہ کو جنم دے لیا تو وہ بچہ کو آپؐ کے پاس ایک کپڑے کے ٹکڑے میں لے کر آئی۔ اس نے کہا یہ ہے جسے میں نے جنم دیا ہے۔ آپؐ نے فرمایا جاؤ اور اسے دودھ پلاؤ یہانتک کہ تم اس کا دودھ چھڑاؤ۔ پھر جب اس نے اس کا دودھ چھڑوا دیا تو وہ بچہ کو لائی۔ اس کے ہاتھ میں روٹی کا ٹکڑا تھا۔ اس نے کہا اے اللہ کے نبیؐ! یہ ہے، میں نے اسے دودھ چھڑوا دیا ہے اور یہ کھانا کھانے لگ گیا ہے۔ پھر آپؐ نے اس بچہ کو ایک مسلمان شخص کے سپرد کیا۔ پھر اس کے بارہ میں حکم دیا اور اس کے سینہ تک گڑھا کھودا گیا۔ آپؐ نے لوگوں کو حکم دیا اور انہوں نے اسے سنگسار کر دیا۔ خالد بن ولیدؓ ایک پتھر لے کر آگے بڑھے اور اس کو اس کے سر پر مارا تو خون کے چھینٹے خالدؓ کے منہ پر پڑے جس پر انہوں (خالدؓ) نے اسے بُرا بھلا کہا۔ اللہ کے نبی ﷺ نے ان کا وہ بُرا بھلا کہنا سُن لیا اور فرمایا ٹھہرو خالد! مجھے اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے۔ اس نے ایسی توبہ کی ہے اگر (ناجائز) محصول لینے والا بھی ایسی توبہ کرے تو ضرور بخش دیا جائے۔ پھر آپؐ نے اس کے بارہ میں ارشاد فرمایا اور اس کی نماز (جنازہ) پڑھی اور وہ دفن کی گئی۔