بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 9 of 39 hadith
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبیﷺ نے شراب (پینے کے جرم) میں کھجور کی شاخ اور جوتیوں کے ساتھ سزا دی۔ پھر حضرت ابو بکرؓ نے چالیس دُرّے لگائے۔ پھر جب حضرت عمرؓ کا زمانہ آیا اور لوگ سرسبز علاقہ اور بستیوں کے قریب ہوگئے تو انہوں نے فرمایا شراب (کے جرم) میں درّے لگانے کے بارہ میں تمہاری کیا رائے ہے؟ حضرت عبد الرحمان بن عوفؓ نے کہا میری رائے ہے کہ آپؓ اسے کم از کم سب سے ہلکی حد کے برابر رکھیں۔ وہ (حضرت انسؓ) کہتے ہیں تو حضرت عمرؓ نے اسّی درّے لگائے۔ ایک اور روایت میں (اَنَّ نَبِیَّ اللّٰہِﷺ جَلَدَ فِیْ الْخَمْرِ بِالْجَرِیْدِ وَالنِّعَالِ کی بجائے) کَانَ یَضْرِبُ فَی الخَمْرِ بِالنِّعَالِ وَالْجَریدِ اَرْبَعینَ کے الفاظ ہیں۔ مگر اس روایت میں الرِّیْفُ اور القُرَی کا ذکر نہیں۔
حُضَین بن منذر ابو ساسان بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت عثمان بن عفانؓ کے پاس حاضر تھا اور آپؐ کے پاس ولید کو لایا گیا اس نے صبح کی دو رکعت پڑھائی تھیں پھر کہا میں تمہیں مزید پڑھاتا ہوں اس کے خلاف دو آدمیوں نے گواہی دی۔ ان میں سے ایک (کا نام) حمران تھا (جس نے کہا کہ) اس نے شراب پی ہے اور دوسرے نے گواہی دی کہ اس نے اسے قے کرتے دیکھا ہے۔ اس پر حضرت عثمانؓ نے کہا اس نے قے نہیں کی مگر اس لئے کہ اس نے شراب پی تھی۔ پھر کہا اے علیؓ! اٹھو اور اسے دُرّے مارو۔ حضرت علیؓ نے کہا اے حسنؓ! کھڑے ہو اور اسے درے مارو۔ حضرت حسنؓ نے کہا اس کی گرمی اُس کے سپرد کریں جو اِس کی ٹھنڈ کا ذمہ دار ہے پس گویا ان کو ان کی بات گراں گذری اور انہوں نے کہا اے عبد اللہ بن جعفرؓ! اٹھو اس کو درّے لگاؤ۔ پس انہوں نے اس کو دُرّے لگائے اور حضرت علیؓ گن رہے تھے یہان تک کہ وہ چالیس تک پہنچے۔ انہوں (حضرت علیؓ) نے کہا رک جاؤ اور کہا رسول اللہﷺ نے چالیس دُرّے لگوائے تھے۔ اور ابو بکرؓ نے بھی چالیس اور حضرت عمرؓ نے اسّی درّے اور یہ سب سنت ہے اور مجھے یہ زیادہ پسند ہے۔ ایک روایت میں مزید یہ ہے راوی اسماعیل کہتے ہیں کہ میں نے یہ روایت راوی الدّا ناج سے سنی مگر میں اس کو یاد نہیں رکھ سکا۔
عمیر بن سعید حضرت علیؓ سے روایت کرتے ہیں کہ میں کسی پر ایسی حد جاری نہیں کرتا تھا جس کے نتیجہ میں وہ مر جائے اور میں اس کی وجہ سے اپنے دل میں افسوس محسوس کروں۔ سوائے شراب پینے والے کے کیونکہ اگر وہ مر جائے تو میں اس کی دیت دوں گا کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے یہ سنت جاری نہیں فرمائی۔
حضرت ابو بردہ انصاریؓ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ کسی شخص کو دس سے زیادہ درے نہ مارے جائیں گے۔ سوائے اس کے کہ اللہ کی حدود میں سے کوئی حد ہو۔
حضرت عبادہ بن صامتؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ ایک مجلس میں تھے۔ آپؐ نے فرمایا تم میری بیعت اس بات پر کرو کہ کسی کو اللہ کا شریک نہیں ٹھہراؤ گے اور نہ زنا کرو گے اور نہ چوری کرو گے اور نہ کسی نفس کو جسے اللہ نے حرام ٹھہرایا ہے قتل کرو گے سوائے حق کے۔ پس تم میں سے جو اس (عہد) کو پورا کرے گا اس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے اور جو کوئی ان میں سے کسی برائی کا ارتکاب کرے اور اسے اس پر سزا مل جائے تو یہ اس کے لئے کفارہ ہوگا۔ اور جو اس کا مرتکب ہو اور اللہ اس کی پردہ پوشی کرے تو اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے اگر وہ چاہے تو اسے معاف کردے اور چاہے تو اسے عذاب دے۔ ایک اور روایت میں یہ اضافہ ہے کہ پھر آپﷺ نے ہمیں خواتین (کی بیعت) کے بارہ میں یہ آیت اَنْ لَا یُشْرِکْنَ باللّٰہِ شَیئاً پڑھ کر سنائی۔
حضرت عبادہؓ بن صامت بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ہم سے بھی ویسا ہی عہد لیا جیسا کہ عورتوں سے لیا تھا کہ ہم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔ نہ ہم چوری کریں گے اور نہ ہم زنا کریں گے اور نہ ہم اپنی اولاد کو قتل کریں گے۔ ہم میں سے کوئی دوسرے پر الزام نہیں لگائے گا اور جو کوئی تم میں سے اس عہد کو پورا کرے گا تو اس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے اور جو کوئی تم میں سے حد (والے جرم) کا ارتکاب کرے اور وہ اس پر نافذ کی جائے تو وہ اس کے لئے کفارہ ہے اور جس کی اللہ تعالیٰ پردہ پوشی فرمائے تو اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے۔ اگر وہ چاہے تو اسے عذاب دے اور اگر چاہے تو اسے معاف فرما دے۔
حضرت عبادہ ؓ بن صامت بیان کرتے ہیں کہ میں ان نقباء میں سے تھا جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کی بیعت کی تھی اور وہ (یعنی عبادہؓ بن صامت) بیان کرتے ہیں کہ ہم نے آپؐ کی اس بات پر بیعت کی تھی کہ ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے اور نہ ہم زنا کریں گے اور نہ چوری کریں گے اور نہ ہم کسی نفس کو قتل کریں گے جسے (قتل کرنا) اللہ نے حرام قرار دیا ہے سوائے حق کے اور نہ ہم لوٹ مار کریں گے اور نہ ہم نافرمانی کریں گے۔ اگر ہم (ان ارشادات کی) تعمیل کریں تو ہمارے لئے جنت ہے اور اگر ہم ان میں سے کسی کا ارتکاب کریں تو اس کا فیصلہ اللہ کے ہاتھ میں ہے ایک اور روایت میں (قَضَائُ ذَلِکَ اِلَی اللّٰہِ) کی بجائے قَضَائُہُ اِلَی اللّٰہِ کے الفاظ ہیں۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ بے زبان جانور (کا لگایا ہوا) زخم معاف ہے اور کنویں کا (زخم) معاف ہے اور معدن (کا زخم) معاف ہے اور دفینے میں پانچواں حصہ ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کنویں کا زخم معاف ہے اور معدن کا زخم معاف ہے، اور بے زبان جانور کی طرف سے لگنے والا زخم معاف ہے اور دفینے میں پانچواں حصہ ہے۔