عَمرہؓ سے روایت ہے انہوں نے حضرت عائشہؓ کو فرماتے ہوئے سنا کہ آپؓ نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ ہاتھ کاٹا نہ جائے گا مگر دینار کے چوتھے حصہ اور اس سے زائد پر۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہﷺ کے عہد میں چور کا ہاتھ ڈھال کی قیمت سے کم میں نہیں کاٹا جاتا تھا خواہ وہ ڈھال حجفۃ ہو یا تُرس اور وہ دونوں قیمتی ہوتی تھیں۔ ایک اور روایت میں (وَکِلَاھُمَا ذُوْثَمَنٍ کی بجائے) وَھُوَ یَوْمَئِذٍ ذُوْثَمَنٍ کے الفاظ ہیں۔ حجفۃ چمڑے سے بنی ہوئی ڈھال ہوتی تھی اور ترس لوہے کی ڈھال ہوتی تھی۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ایک چور کا ہاتھ ایک ڈھال کے عوض کاٹا تھا جس کی قیمت تین درھم تھی۔ بعض روایات میں قِیْمَتُہُ اور بعض روایات میں ثَمَنُہُ کے الفاظ ہیں۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا اللہ لعنت کرے چور پر جو انڈا چراتا ہے اور اس کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے اور وہ رسی چراتا ہے اور اس کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے۔ ایک اور روایت میں (یَسْرِقُ الْبَیْضَۃَ اور یَسْرِقُ الحَبْلَ کی بجائے) اِنْ سَرَقَ حَبْلًا اور اِنْ سَرَقَ بَیْضَۃً کے الفاظ ہیں۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنَ عَائِشَةَ أَنَّ قُرَيْشًا أَهَمَّهُمْ شَأْنُ الْمَرْأَةِ الْمَخْزُومِيَّةِ الَّتِي سَرَقَتْ فَقَالُوا مَنْ يُكَلِّمُ فِيهَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا وَمَنْ يَجْتَرِئُ عَلَيْهِ إِلاَّ أُسَامَةُ حِبُّ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَكَلَّمَهُ أُسَامَةُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَتَشْفَعُ فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ . ثُمَّ قَامَ فَاخْتَطَبَ فَقَالَ أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّمَا أَهْلَكَ الَّذِينَ قَبْلَكُمْ أَنَّهُمْ كَانُوا إِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الشَّرِيفُ تَرَكُوهُ وَإِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الضَّعِيفُ أَقَامُوا عَلَيْهِ الْحَدَّ وَايْمُ اللَّهِ لَوْ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ لَقَطَعْتُ يَدَهَا . وَفِي حَدِيثِ ابْنِ رُمْحٍ إِنَّمَا هَلَكَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ .
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ قریش کو اس مخزومی عورت کے معاملہ سے فکر پیدا ہوئی جس نے چوری کی تھی۔ انہوں نے کہا اس کے بارہ میں کون رسول اللہﷺ سے بات کرے؟ تو انہوں نے کہا کہ اس کی رسول اللہﷺ کے محبوب اُسامہؓ کے سوا کون جرأت کر سکتا ہے۔ چنانچہ آپؐ سے اُسامہؓ نے بات کی۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا کیا تم اللہ کی حدود میں سے ایک حد کے بارہ میں سفارش کرتے ہو؟ پھر آپؐ کھڑے ہوئے اور خطبہ دیا اور فرمایا ’’اے لوگو! تم سے پہلے لوگوں کو اس بات نے ہلاک کیا کہ جب ان میں سے کوئی معزز چوری کرتا تھا تو اُسے چھوڑ دیتے تھے اور جب اُن میں کوئی کمزور چوری کرتا تھا تو اُس پر حد قائم کرتے تھے اور اللہ کی قسم اگر فاطمہؓ بنت محمدؐ بھی چوری کرتی تو میں ضرور اس کا ہاتھ کاٹ دیتا۔‘‘ ایک اور روایت میں (اِنَّمَا أَھْلَکَ الَّذِیْنَ قَبْلَکُمْ کی بجائے) اِنَّمَا ھَلَکَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ کے الفاظ ہیں۔
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى - وَاللَّفْظُ لِحَرْمَلَةَ - قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ قُرَيْشًا أَهَمَّهُمْ شَأْنُ الْمَرْأَةِ الَّتِي سَرَقَتْ فِي عَهْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي غَزْوَةِ الْفَتْحِ فَقَالُوا مَنْ يُكَلِّمُ فِيهَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا وَمَنْ يَجْتَرِئُ عَلَيْهِ إِلاَّ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ حِبُّ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَأُتِيَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَكَلَّمَهُ فِيهَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ فَتَلَوَّنَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ أَتَشْفَعُ فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ . فَقَالَ لَهُ أُسَامَةُ اسْتَغْفِرْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَلَمَّا كَانَ الْعَشِيُّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَاخْتَطَبَ فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّمَا أَهْلَكَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ أَنَّهُمْ كَانُوا إِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الشَّرِيفُ تَرَكُوهُ وَإِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الضَّعِيفُ أَقَامُوا عَلَيْهِ الْحَدَّ وَإِنِّي وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ لَقَطَعْتُ يَدَهَا . ثُمَّ أَمَرَ بِتِلْكَ الْمَرْأَةِ الَّتِي سَرَقَتْ فَقُطِعَتْ يَدُهَا . قَالَ
نبیﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ قریش کو اس عورت کے معاملہ نے فکر میں ڈالا جس نے نبیﷺ کے عہد میں غزوہ فتح (مکہ) میں چوری کی تھی۔ انہوں نے کہا اس کے بارہ میں رسول اللہﷺ سے کون بات کرے گا؟ تو انہوں نے کہا کہ اُسامہؓ بن زید کے سوا جو رسول اللہﷺ کو محبوب ہے کون اس بات کی جرأت کر سکتا ہے۔ پس اس عورت کو رسول اللہﷺ کی خدمت میں لایا گیا اور اُسامہ بن زیدؓ نے اس کے بارہ میں آپؐ سے بات کی۔ رسول اللہﷺ کے چہرہ کا رنگ متغیر ہوگیا اور آپؐ نے فرمایا کیا تم اللہ کی حدود میں ایک حد کے بارہ میں سفارش کرتے ہو؟ حضرت اُسامہؓ نے آپؐ سے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! میرے لئے اللہ سے بخشش طلب کیجئے۔ پھر جب شام ہوئی رسول اللہﷺ کھڑے ہوئے اور خطاب فرمایا۔ آپؐ نے اللہ کی ثناء بیان کی جس کا وہ مستحق ہے پھر فرمایا امّابعد تم سے پہلے لوگوں کو اس بات نے ہلاک کیا کہ ان میں سے جب کوئی بڑا آدمی چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور جب ان میں سے کوئی کمزور چوری کرتا تو اس پر حد قائم کرتے۔ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر فاطمہ بنت محمدؐ نے بھی چوری کی ہوتی تو میں اس کا ہاتھ کاٹ دیتا۔ پھر آپؐ نے اس عورت کے بارہ میں جس نے چوری کی تھی حکم دیا اور اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں اس کے بعد اس کی توبہ بہت اچھی ہوئی اور اس نے شادی کرلی اس کے بعد وہ میرے پاس آیا کرتی تھی اور میں اس کی ضرورت رسول اللہﷺ تک پہنچاتی تھی۔ ایک اور روایت میں ہے حضرت عائشہؓ نے فرمایا وہ ایک مخزومی عورت تھی جو عاریۃً سامان لیتی تھی اور پھر اس کا جانتے بوجھتے ہوئے انکار کردیتی تھی۔ رسول اللہﷺ نے اس کے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا تو اس کے گھر والے حضرت اسامہؓ بن زید کے پاس آئے اور اُن سے گفتگو کی اور انہوں نے اس بارہ میں رسول اللہﷺ سے بات کی۔ باقی روایت سابقہ روایت کی طرح ہے۔
أَنَّ امْرَأَةً مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ سَرَقَتْ فَأُتِيَ بِهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَعَاذَتْ بِأُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم
حضرت جابرؓ بیان کرتے ہیں کہ بنی مخزوم کی ایک عورت نے چوری کی اسے نبی ﷺ کے پاس لایا گیا اس نے نبی ﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت اُمّ سلمہؓ کی پناہ لی۔ نبی ﷺ نے فرمایا اللہ کی قسم اگر فاطمہؓ بھی ہوتی تو میں اس کا (بھی) ہاتھ کاٹ دیتا۔ پس (اس مخزومی عورت کا) ہاتھ کاٹ دیا گیا۔
فَحَسُنَتْ تَوْبَتُهَا بَعْدُ وَتَزَوَّجَتْ وَكَانَتْ تَأْتِينِي بَعْدَ ذَلِكَ فَأَرْفَعُ حَاجَتَهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . وَحَدَّثَنَا
قَالَتْ كَانَتِ امْرَأَةٌ مَخْزُومِيَّةٌ تَسْتَعِيرُ الْمَتَاعَ وَتَجْحَدُهُ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ تُقْطَعَ يَدُهَا فَأَتَى أَهْلُهَا
أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ
فَكَلَّمُوهُ فَكَلَّمَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِيهَا . ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ اللَّيْثِ وَيُونُسَ .