بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 319 hadith
حضرت عبداللہ بن عمرؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپؐ نے حجۃ الوداع کے موقعہ پر فرمایا (ویحکم یا ویلکم) اللہ تمہارے بھلا کرے میرے بعد کافر نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ دو باتیں لوگوں میں ہیں جو کفر کا موجب ہیں۔ نسب میں طعن کرنا اور میّت پر نوحہ کرنا۔
شَعبی حضرت جریرؓ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ان کو کہتے ہوئے سنا کہ جو کوئی غلام اپنے مالکوں سے بھاگ گیا اُس نے کفر کیا یہانتک کہ وہ ان کے پاس واپس آجائے۔ منصور نے کہا کہ اللہ کی قسم یہ روایت نبیﷺ سے کی گئی ہے لیکن میں پسند نہیں کرتا کہ مجھ سے یہ روایت یہاں بصرہ میں کی جائے۔
حضرت جریرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جو غلام بھی بھاگ گیا اس کے بارہ میں ذمہ داری نہ رہی۔
حضرت زید بنؓ خالد جُہنی سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ہمیں حدیبیہ میں صبح کی نماز پڑھائی رات ہونے والی بارش کے بعد جب آپؐ (نماز سے) فارغ ہوئے تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کیا تمہیں علم ہے کہ تمہارے رب نے کیا کہا ہے؟ انہوں نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسولؐ بہتر جانتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا وہ فرماتا ہے کہ میرے بعض بندوں نے مجھ پر ایمان لاتے ہوئے صبح کی اور بعض نے کفر کرتے ہوئے۔ جنہوں نے کہا کہ ہم پر اللہ کے فضل اور اس کی ر حمت کے باعث بارش ہوئی۔ وہ مجھ پر ایمان لانے والا ہے اور ستارے کا کافر ہے اور جنہوں نے کہا کہ ہم پر فلاں فلاں ستارے کی وجہ سے بارش ہوئی ہے تو وہ میرا کافر ہے اور ستارے پر ایمان لانے والا ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ نے کہا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ کیا تمہیں پتہ نہیں کہ تمہارے رب نے کیا فرمایا ہے؟ اس نے کہا ہے کہ میں نے اپنے بندوں پر کوئی نعمت نہیں کی مگر ان میں سے ایک فریق اس کا انکار کرنے والا ہوتا ہے۔ وہ کہتا ہے الکواکب یا بالکواکب یعنی وہ کہتے ہیں ستاروں یا ستاروں کی وجہ سے۔
حضرت ابو ہریرہؓ رسول اللہﷺ سے روایت کرتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا کہ اللہ نے آسمان سے کوئی برکت نہیں اُتاری مگر لوگوں میں سے ایک فریق اس (نعمت) کا انکاری ہو جاتا ہے۔ اللہ بارش اتارتا ہے تو وہ کہتے ہیں فلاں فلاں ستارے (نے کیا ہے)۔ اور مُرادی کی روایت میں بکوکب کذا کذا کے الفاظ ہیں۔ (یعنی فلاں فلاں ستارے کی وجہ سے)
حضرت ابنِ عباسؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ کے زمانہ میں لوگوں پر بارش ہوئی۔ اس پر نبیﷺ نے فرمایا کہ لوگوں میں سے بعض شکرگذار ہو گئے اور بعض کافر ہو گئے۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی رحمت ہے اور بعض کہتے ہیں کہ فلاں فلاں ستارہ سچّا ثابت ہوا۔ وہ کہتے ہیں اس پر یہ آیت اتری (ترجمہ) پس میں ضرور ستاروں کے جھرمٹوں کو گواہ کے طور پر پیش کرتا ہوں اور یقینا یہ ایک بہت بڑی گواہی ہے کاش تم جانتے۔ یقینا یہ ایک عزت والا قرآن ہے ایک چھپی ہوئی کتاب میں (محفوظ)۔ کوئی اسے چھو نہیں سکتا سوائے پاک کئے ہوئے لوگوں کے۔ (اس کا) اتارا جانا تمام جہانوں کے رب کی طرف سے ہے۔ پس کیا اس بیان کے متعلق تم چاپلوسی کی باتیں کرتے ہو اور تم اپنا رزق بناتے ہو اسی بناء پر کہ تم جھٹلاتے ہو۔ (الواقعہ: 76 تا 83)
حضرت انسؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ انصارؓ سے بغض منافق کی علامت ہے اور انصارؓ سے محبت مؤمن کی علامت ہے۔