بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 319 hadith
حضرت ثابت بن ضحاکؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے (حدیبہ میں) درخت کے نیچے رسول اللہﷺ کی بیعت کی تھی اور یہ کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا تھا جس نے جھوٹا ہوتے ہوئے اسلام کے علاوہ کسی دوسرے دین قسم کھائی تو وہ ویسا ہی ہے جیسے اس نے کہا اور جس نے جس چیز سے خود کشی کی تو قیامت کے دن اسے اسی چیز سے عذاب دیا جائے گا اور آدمی کے لئے اس چیز کی نذر (ماننا) درست نہیں جس چیز کا وہ مالک نہیں۔
حضرت ثابت بن ضحاکؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ انسان پر اس چیز کی نذر (پورا کرنے) کی ذمہ داری نہیں جس کا وہ مالک نہیں اور مومن پر لعنت کرنا اس کو قتل کرنے کی طرح ہے اور جس نے دنیا میں کسی چیز سے خودکشی کی اسے قیامت کے دن اسی چیز سے عذاب دیا جائے گا اور جس نے اپنا (مال) بڑھانے کے لئے جھوٹا دعوٰی کیا اللہ تعالیٰ اسے قِلّت میں بڑھائے گا اور جس نے جھوٹی قسم مجبوراً کھائی۔
حضرت ثابت بن ضحاکؓ انصاری کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا جس نے اسلام کے سوا کسی اور مذہب کے مطابق جان بوجھ کر جھوٹی قسم کھائی تو وہ ویسا ہی ہو گا جیسا اس نے کہا اور جس نے کسی چیز سے خودکشی کی تو اسے جہنم کی آگ میں اسی چیز سے اللہ عذاب دے گا یہ سفیان کی روایت ہے۔ شعبہ کی روایت میں ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جس نے اسلام کے سوا کسی اور دین کے مطابق جھوٹی قسم کھائی تو وہ ویسا ہی ہو گا جیسا اس نے کہا اور جس نے کسی چیز سے اپنے آپ کو ذبح کیا وہ قیامت کے دن اسی چیز سے ذبح کیا جائے گا۔
حضرت ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ حنین میں حاضر تھے تو آپؐ نے ایک شخص کے متعلق جو مسلمان کہلاتا تھا فرمایا کہ یہ آگ والوں میں سے ہے۔ جب لڑائی کا وقت آیا تو یہ شخص خوب اچھی طرح لڑا اور اسے زخم آئے تو کہا گیا یا رسول اللہ ! وہ جس کے بارہ میں آپؐ نے ابھی فرمایا تھا کہ جہنمی ہے وہ تو آج خوب لڑا ہے اور مر گیا ہے تو رسول اللہﷺ نے فرمایا (وہ) آگ کی طرف (گیا ہے۔) قریب تھا کہ بعض مسلمان شک میں پڑتے اور ابھی یہی صورتِ حال تھی کہ کہا گیا وہ شخص مرا نہیں ہاں اُسے شدید زخم آئے ہیں۔ جب رات ہوئی تو وہ زخموں پر صبر نہ کر سکا اور خودکشی کر لی۔ اور رسول اللہﷺ کو اس کی خبر دی گئی تو فرمایا: اللہ اکبر، میں گواہی دیتا ہوں کہ میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسولؐ ہوں۔ پھر آپؐ نے بلالؓ کو حکم دیا اور انہوں نے لوگوں میں اعلان کیا کہ جنت میں صرف فرمانبردار نفس ہی داخل ہو گا۔ ہاں اللہ تعالیٰ اس دین کی بعض دفعہ کسی فاجر کے ذریعہ بھی تائید کر دیتا ہے۔
حضرت سہل بن سعد ساعدیؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ اور مشرکوں کی مٹھ بھیڑ ہوئی اور انہوں نے جنگ کی پھر جب رسول اللہﷺ اپنے لشکر کی (قیام گاہ) کی طرف گئے اور دوسرے اپنے لشکر کی (قیام گاہ) کی طرف گئے۔ رسول اللہﷺ کے صحابہؓ کے درمیان ایک ایسا شخص تھا کہ ان مسلمانوں کے لئے کسی اِکّا دُکّا کو نہ چھوڑتا تھا بلکہ اس کا پیچھا کرتا اور اپنی تلوار سے اسے ہلاک کر دیتا (لوگوں) نے کہا آج یہ شخص جیسا ہمارے کام آیا ہے اور کوئی نہیں آیا۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: سنو! یہ تو جہنمی ہے۔ لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا: میں ہمہ وقت اس کے ساتھ لگا رہوں گا۔ چنانچہ وہ اس کے ساتھ نکل پڑا، جب وہ کہیں ٹھہرتا تو یہ بھی ٹھہر جاتا اور جب وہ تیز چلتا تو یہ بھی اس کے ساتھ تیز چلتا۔ اس نے بتایا کہ پھر وہ شخص شدید زخمی ہو گیا اور موت کو جلدی چاہا۔ اس نے تلوار زمین پر رکھی اور اس کی دھار اپنی چھاتی کے درمیان میں رکھی اور اپنی تلوار پر بوجھ ڈال دیا اور خود کشی کر لی۔ تب وہ (تعاقب کرنے والا) آدمی رسول اللہﷺ کے پاس آیا اور کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ آپؐ اللہ کے رسولؐ ہیں۔ آپؐ نے پوچھا کیا بات ہے؟ اس نے کہا کہ وہ شخص جس کے متعلق آپؐ نے ابھی فرمایا تھا کہ وہ آگ والوں میں سے ہے اور لوگوں کو یہ بڑا (عجیب) لگا تھا اور میں نے کہا تھا کہ میں تمہاری طرف سے اس کے ساتھ رہوں گا تو میں اس کے پیچھے ہو لیا یہاں تک کہ وہ شدید زخمی ہو گیا اور اس نے جلدی موت چاہی اور اپنی تلوار زمین پر رکھی اور اس کی دھار کو اپنے سینہ کے درمیان اور پھر اپنا بوجھ اس پر ڈال دیا اور خودکشی کر لی۔ رسول اللہﷺ نے اس پر فرمایا: ایک شخص لوگوں کی نگاہ میں اہلِ جنت کے اعمال کرتا رہتا ہے حالانکہ وہ جہنمی ہوتا ہے اور ایک شخص لوگوں کی نگاہ میں آگ والوں کے سے عمل کرتا رہتا ہے حالانکہ وہ اہلِ جنت میں سے ہوتا ہے۔
حضرت حسن سے روایت ہے۔ انہوں نے فرمایا تم سے پہلے لوگوں میں سے ایک شخص کو پھوڑا نکلا پھر جب اس کو اس پھوڑے کی بہت اذیت محسوس ہوئی تو اس نے اپنی ترکش میں سے تیر نکالا اور پھوڑے کو چیر دیا۔ اس کا خون نہ رکا یہاں تک کہ وہ مر گیا۔ تمہارے رب نے فرمایا میں نے اس پر جنت حرام کر دی ہے۔ پھر انہوں نے اپنا ہاتھ مسجد کی طرف بڑھایا اور کہا خدا کی قسم رسول اللہﷺ کی یہ حدیث مجھ سے جندبؓ نے اسی مسجد میں بیان کی۔ حضرت حسن سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ حضرت جندبؓ بن عبداللہ البجلی نے ہم سے اس مسجد میں یہ روایت بیان کی اور ہم اسے نہیں بھولے اور نہ ہمیں خدشہ تھا کہ حضرت جندبؓ نے رسول اللہﷺ پر جھوٹ بولا ہو۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے پہلے لوگوں میں سے ایک شخص کو پھوڑا نکلا پھر باقی واقعہ اسی طرح بیان کیا۔
حضرت عمر بن خطابؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جب خیبر کا دن تھا نبیﷺ کے کچھ صحابہؓ آئے اور کہنے لگے فلاں شہید، فلاں شہید یہاں تک کہ وہ ایک شخص کے پاس سے گزرے انہوں نے کہا فلاں (بھی) شہید ہے۔ اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا ہر گز نہیں، میں نے تو اسے جہنم میں دیکھا ہے ایک چادر کی وجہ سے جس میں اس نے خیانت کی تھی یا ایک عباء کی وجہ سے۔ پھر رسول اللہﷺ نے فرمایا: اے ابنِ خطاب! جاؤ اور لوگوں میں اعلان کر دو کہ جنت میں صرف مومن داخل ہوں گے۔ وہ کہتے ہیں۔ چنانچہ میں نکلا اور اعلان کیا کہ سنو جنت میں مومنوں کے سوا کوئی داخل نہیں ہوگا۔
حضرت ابو ہریرہؓ نے کہا کہ ہم نبیﷺ کے ساتھ خیبر کی طرف نکلے اور اللہ نے ہمیں فتح دی۔ ہمیں کوئی سونا اور چاندی غنیمت میں نہیں ملا۔ ہمیں کچھ سامان اور غلہ اور کپڑے غنیمت میں ملے تھے۔ پھر ہم وادی کی طرف گئے اور رسول اللہﷺ کے ساتھ آپؐ کا ایک غلام تھا جو جذام (قبیلہ) کی شاخ بنی الضُبیب کے رفاعہ بن زید نامی ایک شخص نے آپؐ کی خدمت میں بطور ہبہ پیش کیا تھا۔ جب ہم وادی میں اترے رسول اللہﷺ کا غلام کھڑا کجاوہ کھول رہا تھا کہ اُسے ایک تیر لگا جس سے وہ مر گیا۔ ہم نے کہا: اسے شہادت مبارک ہو یا رسول اللہ! مگر رسول اللہﷺ نے فرمایا: ہرگز نہیں، اُس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمدؐ کی جان ہے وہ چادر اس پر آگ بھڑکا رہی ہے جو اس نے خیبر کے دن مال غنیمت کی تقسیم سے پہلے لے لی تھی۔ راوی کہتے ہیں کہ لوگ گھبرا گئے۔ ایک آدمی ایک یا دو تسمے لے آیا اور کہا: یا رسول اللہ! یہ خیبر کے دن مَیں نے لے لئے تھے تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: آگ کا تسمہ یا آگ کے دو تسمے۔
حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ حضرت طفیلؓ بن عمرو الدوسی نبی کریمﷺ کے پاس آئے اور کہا: یا رسول اللہ! کیا آپؐ ایک مضبوط قلعہ اور حفاظت کرنے والے چاہتے ہیں؟ حضرت جابرؓ کہتے ہیں کہ جاہلیت میں دوس کا ایک قلعہ تھا۔ مگر رسول اللہﷺ نے اس کا انکار کر دیا کیونکہ اللہ نے یہ سعادت انصارؓ کے لئے رکھی ہوئی تھی۔ جب رسول اللہﷺ نے مدینہ کی طرف ہجرت کی تو حضرت طفیلؓ بن عمرو اور ان کے ایک ہم قوم شخص نے بھی مدینہ ہجرت کی لیکن مدینہ کی آب و ہوا انہیں راس نہ آئی اور ان کا ساتھی بیمار ہو گیا اور گھبرا گیا۔ اس نے اپنے تیر لئے اور اُن سے اپنی انگلیوں کے جوڑ کاٹ ڈالے جس سے اُس کے ہاتھوں سے بہت سا خون بہہ گیا اور وہ مر گیا۔ حضرت طفیلؓ بن عمرو نے اس کو خواب میں اس طرح دیکھا کہ اس کی حالت تو اچھی تھی مگر انہوں نے دیکھا کہ اس نے اپنے ہاتھ ڈھانپے ہوئے تھے۔ انہوں نے پوچھا: تیرے رب نے تیرے ساتھ کیا سلوک کیا؟ اُس نے کہا: اللہ نے مجھے اپنے نبیﷺ کی طرف ہجرت کرنے کی وجہ سے بخش دیا۔ انہوں نے کہا: پھر کیا بات ہے میں دیکھتا ہوں کہ تم نے اپنے ہاتھ ڈھانپے ہوئے ہیں؟ اس نے کہا: مجھے کہا گیا کہ جو تو نے خود بگاڑا ہم اس کو درست نہیں کریں گے۔ حضرت طفیلؓ نے یہ (رؤیا) رسول اللہﷺ کے سامنے بیان کی تو آپؐ نے دعا کی: اے اللہ! اس کے دونوں ہاتھوں کو بھی بخش دے۔
حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ یمن سے ایک ہوا چلائے گا جو ریشم سے زیادہ نرم ہوگی اور جس کے دل میں (بقول ابو علقمہ کے) ایک دانے کے برابر اور (بمطابق روایت عبد العزیز) ذرہ کے برابر بھی ایمان ہوگا تو کسی ایک کو نہ چھوڑے گی مگر اُس کو قبض کر لے گی۔