بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 319 hadith
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: نیک اعمال جلد بجا لاؤ، ان فتنوں کے آنے سے پہلے جو اندھیری رات کے ٹکڑوں کی طرح ہوں گے۔ صبح کو آدمی مومن ہوگا اور شام کو کافر ہوگا یا شام کو مومن ہوگا اور صبح کافر ہوگا اور اپنے دین کو دنیا کے سامان کے بدلے بیچ ڈالے گا۔
حضرت انس بن مالکؓ کہتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی ترجمہ: اے لوگو جو ایمان لائے ہو نبیؐ کی آواز سے اپنی آوازیں بلند نہ کیا کرو۔ یہ آیت آخر تک۔ (الحجرات: 2) تو حضرت ثابتؓ بن قیس اپنے گھر بیٹھ رہے اور کہا: میں تو آگ والوں میں سے ہوں اور نبیﷺ کے پاس جانے سے رک گئے۔ اس پر نبیﷺ نے حضرت سعدؓ بن معاذ سے پوچھا اور فرمایا: اے ابو عمرو! ثابتؓ کا کیا حال ہے؟ کیا وہ بیمار ہے؟ حضرت سعدؓ نے کہا: وہ میرا ہمسایہ ہے اور مجھے ان کی بیماری کا علم نہیں۔ راوی کہتے ہیں حضرت سعدؓ اُن کے پاس گئے اور رسول اللہﷺ کی بات کا ذکر کیا۔ اس پر حضرت ثابتؓ نے کہا: یہ آیت نازل ہوئی ہے اور تم لوگ جانتے ہو کہ رسول اللہﷺ کے سامنے میری آواز تم سب سے اونچی ہوتی ہے۔ اس لئے میں آگ والوں میں سے ہوں اور حضرت سعدؓ نے یہ بات نبیﷺ کی خدمت میں ذکر کر دی تو رسول اللہﷺ نے فرمایا نہیں بلکہ وہ تو جنتیوں میں سے ہے۔ حضرت انس بن مالکؓ کہتے ہیں کہ حضرت ثابتؓ بن قیس بن شماس انصار کے خطیب تھے جب یہ آیت نازل ہوئی۔۔۔۔ حماد کی روایت میں حضرت سعدؓ بن معاذ کا ذکر نہیں۔ حضرت انسؓ کہتے ہیں کہ جب آیت اتری۔ ترجمہ: اے لوگو جو ایمان لائے ہو نبیؐ کی آواز سے اپنی آوازیں بلند نہ کیا کرو۔ آیت کے آخر تک۔ (الحجرات: 2) مگر حدیث میں حضرت سعدؓ کا ذکر نہیں کیا۔ حضرت انسؓ کہتے ہیں کہ جب یہ آیت اتری اور یہ پھر سارا واقعہ بیان کیا اور حضرت سعدؓ کا ذکر نہیں کیا، یہ اضافہ کیا ہم انہیں دیکھا کرتے تھے کہ ایک جنتی شخص ہمارے درمیان چلتا پھرتا ہے۔
حضرت عبداللہؓ کہتے ہیں کہ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے کہا: یا رسول اللہ ! کیا جو ہم نے (زمانہ) جاہلیت میں اعمال کئے ان پر ہماری گرفت ہوگی؟ فرمایا: تم میں سے جس نے اسلام میں اچھے کام کئے اس کی ان (جاہلیت کے) اعمال پر گرفت نہیں ہوگی اور جس نے برے کام کئے وہ جاہلیت اور اسلام (دونوں) میں اپنے عمل کی وجہ سے پکڑا جائے گا۔
حضرت عبداللہؓ کہتے ہیں کہ ہم نے پوچھا یا رسول اللہ! ہم نے جاہلیت میں جو اعمال کئے تھے کیا ہم ان کی وجہ سے پکڑے جائیں گے؟ آپؐ نے فرمایا: جس نے اسلام میں اچھے عمل کئے اس کا ان اعمال کی وجہ سے مواخذہ نہیں ہوگا جو اس نے جاہلیت میں کئے اور جس نے اسلام میں برے اعمال کئے وہ پہلے اور پچھلے (بُرے اعمال) کی وجہ سے پکڑا جائے گا۔
ابن شَماسہ المہری کہتے ہیں ہم حضرت عمروؓ بن العاص کے پاس حاضر ہوئے جبکہ وہ جان کنی کی حالت میں تھے وہ بہت دیر تک روتے رہے اور اپنا چہرہ دیوار کی طرف پھیر لیا۔ ان کا بیٹا ان سے کہنے لگا: اے ابا! کیا رسول اللہﷺ نے آپ کو یہ خوشخبری نہیں دی اور کیا رسول اللہﷺ نے آپ کو وہ خوشخبری نہیں دی۔ راوی کہتے ہیں کہ انہوں نے (ہماری طرف) اپنا رخ پھیرا اور کہا سب سے افضل بات ہم اس شہادت کو سمجھتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمدؐ اللہ کے رسول ہیں۔ میں تین ادوار سے گذرا ہوں۔ میں نے اپنے تئیں اس طرح دیکھا تھا کہ کوئی رسول اللہﷺ کے بغض میں مجھ سے بڑھا ہوا نہیں تھا اور میری سب سے بڑی خواہش یہ تھی کہ میں آپؐ پر قابو پاؤں اور آپؐ کو قتل کر دوں اگر میں اس حال میں مر جاتا تو جہنمی ہوتا۔ پھر جب اللہ نے اسلام میرے دل میں ڈال دیا تو میں نبیﷺ کے پاس آیا اور کہا: اپنا دایاں ہاتھ بڑھائیے کہ میں آپؐ کی بیعت کروں۔ آپؐ نے اپنا دایاں ہاتھ بڑھایا تو کہتے ہیں کہ میں نے اپنا ہاتھ واپس کھینچ لیا۔ آپؐ نے فرمایا اے عمرو! تمہیں کیا ہوا؟ وہ کہتے ہیں میں نے کہا: میں ایک شرط کرنا چاہتا ہوں۔ فرمایا: تم کیا شرط کرنا چاہتے ہو؟ میں نے کہا یہ کہ مجھے بخش دیا جائے۔ فرمایا: کیا تم نہیں جانتے کہ اسلام پہلے کی تمام عمارت کو گرا دیتا ہے اور ہجرت بھی اپنے سے پہلے تمام عمارت کو گرا دیتی ہے اور حج بھی اپنے سے پہلے تمام عمارت کو گرا دیتا ہے۔ پھر رسول اللہﷺ سے زیادہ مجھے کوئی محبوب نہ تھا اور نہ میری نظر میں آپؐ سے زیادہ کوئی صاحب عظمت تھا اور مجھے یہ طاقت نہیں تھی کہ میں آپؐ کے جلال کی وجہ سے آپؐ کو آنکھ بھر کر دیکھ سکوں اور اگر مجھ سے آپؐ کا حلیہ پوچھا جائے تو میں بیان نہ کر سکوں کیونکہ میں نے آپؐ کو نظر بھر کر دیکھا ہی نہیں تھا۔ اگر میں اس حال میں مر جاتا تو امید کرتا ہوں کہ میں جنتی ہوتا۔ پھر کچھ امور کے ہم ذمہ وار بنے، میں نہیں جانتا کہ ان میں میرا کیا حال ہے اس لئے جب میں مر جاؤں تو میرے جنازے کے ساتھ کوئی نوحہ کرنے والی نہ ہو اور نہ آگ ہو اور جب تم مجھے دفن کر دو تو مجھ پر اچھی طرح مٹی ڈال دینا اور میری قبر کے پاس کھڑے رہنا جتنی دیر میں اونٹ ذبح کرکے اس کا گوشت تقسیم کیا جاتا ہے تا کہ مجھے تمہاری وجہ سے تسکین رہے اور میں دیکھ لوں کہ میں اپنے رب کے قاصدوں سے کیا سوال جواب کرتا ہوں۔
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ مشرکوں میں سے کچھ لوگوں نے قتل کئے تھے اور بہت قتل کئے تھے اور زنا کیا تھا اور بہت زنا کیا تھا پھر وہ محمدﷺ کے پاس آئے اور کہا آپؐ جو کچھ کہتے ہیں اور جس کی طرف بلاتے ہیں وہ بہت اچھا ہے اور آپؐ ہمیں بتا دیں کہ جو ہم نے عمل کئے ان کا کفارہ ہے؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ وَالَّذِیْنَ لَا یَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰہِ۔۔۔ اور وہ لوگ جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے اور کسی ایسی جان کو جسے اللہ نے حُرمت بخشی ہو ناحق قتل نہیں کرتے اور زنا نہیں کرتے اور جو کوئی ایسا کرے گا (گناہ) کی سزا پائے گا (الفرقان: 69) اور یہ آیت اُتری (ترجمہ) اے میرے بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ (الزمر: 54)
حضرت حکیمؓ بن حزام کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا آپؐ فرمائیے کہ وہ کام جو گناہ سے بچنے کے لئے جاہلیت میں کرتا تھا کیا مجھے ان کا اجر ملے گا؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم نے ماضی میں جو اچھے کام کئے تھے انہی کی وجہ سے تو تم نے اسلام قبول کیا ہے۔ (راوی کہتے ہیں) تَحَنُّث عبادت کرنے کو کہتے ہیں۔
حضرت حکیم بن حزامؓ نے بتایا کہ انہوں نے رسول اللہﷺ سے عرض کیا: یا رسول اللہ! فرمائیے گناہوں سے بچنے کے لئے جو نیک کام میں جاہلیت میں کرتا رہا ہوں یعنی صدقہ اور غلاموں کی آزادی اور صلہ رحمی، کیا ان کا کوئی اجر ہے؟ تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: تم نے جو نیک کام پہلے کئے تھے انہی کی وجہ سے تم نے اسلام قبول کیا ہے۔
حضرت حکیم بن حزامؓ سے روایت ہے کہ میں نے کہا: یا رسول اللہ! میں جاہلیت میں کچھ کام کیا کرتا تھا۔ ہشام کہتے ہیں کہ ان کی مراد تھی کہ جو نیک کام میں کیا کرتا تھا۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: تم نے انہی گذشتہ نیکیوں کی وجہ سے اسلام قبول کیا ہے۔ اس پر میں نے کہا: اللہ کی قسم کہ میں جو جاہلیت میں کرتا تھا ان کو کبھی نہیں چھوڑوں گا بلکہ اسلام میں بھی ویسے ہی کام کرتا رہوں گا۔ ہشام بن عروہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت حکیم بن حزامؓ نے جاہلیت میں ایک سو غلام آزاد کئے اور سو اونٹ سواری کے لئے دئیے تھے پھر انہوں نے اسلام میں ایک سو غلام آزاد کئے اور سو اونٹ سواری کے لئے دئیے پھر وہ نبیﷺ کے پاس آئے۔ پھر راوی نے (سابقہ راویوں) کی طرح حدیث بیان کی۔
حضرت عبداللہؓ کہتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی (ترجمہ) : وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان کو کسی ظلم کے ذریعہ مشکوک نہیں بنایا (الانعام: 83) تو رسول اللہﷺ کے صحابہؓ پر یہ معاملہ بہت گراں گزرا۔ انہوں نے کہا: ہم میں سے کون ہے جو اپنے نفس پر ظلم نہیں کرتا تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: یہ وہ بات نہیں جیسا تم خیال کرتے ہو۔ یہ تو صرف وہی بات ہے جو لقمان نے اپنے بیٹے سے کہی تھی۔ اے میرے پیارے بیٹے! اللہ کے ساتھ شریک نہ ٹھہرا۔ یقینا شرک تو ایک بہت بڑا ظلم ہے۔ (لقمان: 14)