بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 319 hadith
حضرت ابو بردہؓ بن ابی موسیٰؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو موسیٰؓ سخت بیمار ہو گئے اور ان پر غشی طاری ہو گئی ان کا سر ان کے اہل میں سے ایک عورت کی گود میں تھا۔ ان کے اہلِ خانہ میں سے ایک عورت چیخنے چلانے لگی۔ حضرت ابو موسیٰؓ کو اس کو روکنے کی طاقت نہ تھی۔ جب انہیں ہوش آیا تو انہوں نے کہا میں اس بات سے بیزار ہوں جس سے رسول اللہﷺ نے بیزاری کا اظہار فرمایا تھا کیونکہ رسول اللہﷺ نے نوحہ کرنے والی، (ماتم کے لئے) بال منڈوانے والی اور کپڑے پھاڑنے والی عورت سے بیزاری کا اظہار کیا تھا۔
عبدالرحمٰن بن یزید اور ابو بردہ بن ابی موسیٰ سے روایت ہے کہ حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ پر غشی طاری ہو گئی، ان کی بیوی اُمِّ عبداللہ بلند آواز سے رونے، چلانے لگی۔ دونوں کا بیان ہے کہ حضرت ابو موسیٰ ؓ کو افاقہ ہوا تو انہوں نے اس عورت سے حدیث بیان کرتے ہوئے کہا کیا تم نہیں جانتیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا میں اس سے بیزار ہوں جس نے (ماتم میں) سرمنڈوایا اور نوحہ کیا اور کپڑے پھاڑے۔ حضرت ابو موسیٰ ؓ نے نبیﷺ سے یہی حدیث روایت کی ہے سوائے اس کے کہ عیاض الاشعری کی روایت میں ہے آپؐ نے فرمایا کہ وہ ہم میں سے نہیں۔ عیاض الاشعری نے لَیْسَ مِنَّا کہا ہے اور بَرِیئٌ نہیں کہا۔
حضرت حذیفہؓ کو خبر پہنچی کہ ایک آدمی چغلیاں کرتا پھرتا ہے تو حضرت حذیفہؓ نے فرمایا میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ چغل خور جنت میں نہیں جائے گا۔
ھمام بن حارث سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک شخص امیر کے پاس باتیں پہنچایا کرتا تھا۔ ہم مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے تو لوگوں نے کہا یہ شخص ان میں سے ہے جو امیر تک بات پہنچاتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں وہ شخص آیا اور ہمارے پاس بیٹھ گیا۔ حضرت حذیفہؓ نے کہا میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ چغل خور جنت میں داخل نہیں ہوگا۔
ھمام بن حارث سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم مسجد میں حضرت حذیفہؓ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ ایک آدمی آیا اور ہمارے پاس آ کر بیٹھ گیا اور حضرت حذیفہؓ سے کہا گیا کہ یہ شخص حاکم تک باتیں پہنچاتا ہے تو حضرت حذیفہؓ نے اس کو سنانے کے ارادہ سے کہا کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ چغل خور جنت میں داخل نہیں ہوگا۔
حضرت ابو ذرؓ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپؐ نے فرمایا: تین (شخص) ایسے ہیں کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان سے کلام نہ کرے گا، نہ ان کو اللہ تعالیٰ دیکھے گا اور نہ ان کو پاک ٹھہرائے گا اور ان کے لئے دردناک عذاب ہو گا۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے تین بار اس کو پڑھا۔ حضرت ابو ذرؓ نے کہا وہ لوگ خائب و خاسر ہو گئے یا رسول اللہ! وہ کون ہیں؟ آپؐ نے فرمایا ازار (تکبر سے) لٹکانے والا، احسان جتلانے والا، اور جھوٹی قسم کھا کر سودا نکالنے والا۔
حضرت ابو ذرؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپؐ نے فرمایا: تین (آدمی) ایسے ہیں جن سے اللہ قیامت کے دن کلام نہیں کرے گا، احسان کرنے والا جو کچھ دیتا ہے مگر اس پر احسان جتاتا ہے اور جھوٹی قسم کے ذریعہ سودا بیچنے والا اور ازار لٹکانے والا۔ سلیمان سے اسی سند سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: تین آدمیوں سے اللہ کلام نہیں کرے گا، نہ ان کی طرف دیکھے گا، نہ انہیں پاک قرار دے گا اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا تین (آدمی) ایسے ہیں جن سے خدا قیامت کے دن کلام نہیں کرے گا، نہ انہیں پاک قرار دے گا۔ ابو معاویہ کی روایت میں ہے کہ نہ ان کی طرف دیکھے گا اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔ بوڑھا زانی، جھوٹا بادشاہ اور محتاج متکبر۔
حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا تین (آدمی) ہیں جن سے اللہ قیامت کے دن کلام نہیں کرے گا اور نہ ان کی طرف دیکھے گا اور نہ انہیں پاک قرار دے گا اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔ ایک وہ جس کے پاس بیابان میں ضرورت سے زیادہ پانی ہو اور پھر مسافر کو اس سے روکتا ہے، اور ایک وہ آدمی جس نے کسی کے ہاتھ عصر کے بعد کوئی سودا بیچا اور اس سے اللہ کی قسم کھائی کہ اس نے یہ اتنے اتنے میں لیا ہے اور اس نے اسے سچا سمجھا حالانکہ بات یہ نہیں اور وہ جس نے کسی امام کی بیعت کی مگر اس نے اس کی بیعت صرف دنیا کے لئے کی ہے پھر اگر وہ اسے اس میں سے کچھ دیتا ہے تو وہ وفادار رہتا ہے اور اگر اس میں سے کچھ نہیں دیتا تو وفاداری نہیں کرتا۔ جریر کی روایت ہے بَایَعَ کی جگہ سَاوَمَ کا لفظ ہے حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے (راوی کہتے ہیں میرا خیال ہے کہ یہ روایت مرفوع ہے) آپؐ نے فرمایا: تین آدمی ایسے ہیں جن سے۔ اللہ قیامت کے دن کلام نہیں کرے گا اور نہ ان کی طرف دیکھے گا اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے، وہ آدمی جس نے نمازِ عصر کے بعد قسم کھا کر کسی مسلمان کا مال ہتھیا لیا اور باقی حدیث اعمش والی روایت کے مطابق ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جس نے لوہے کے ہتھیار سے خودکشی کی وہ ہتھیار اس کے ہاتھ میں ہوگا اور وہ جہنم کی آگ میں اسے اپنے پیٹ میں ہمیشہ ہمیش گھونپتا رہے گا اور جس نے زہر پی کر خودکشی کی تو وہ جہنم میں اسے گھونٹ گھونٹ ہمیشہ ہمیش پیتا رہے گا اور جس نے پہاڑ سے اپنے آپ کو گرا کر خود کشی کی وہ جہنم کی آگ میں (بلندی سے) ہمیشہ ہمیش گرتا رہے گا۔