بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 319 hadith
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہﷺ پر یہ آیت نازل ہوئی (ترجمہ) اللہ ہی کا ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اور خواہ تم اُسے ظاہر کرو جو تمہارے دلوں میں ہے یا اسے چھپاؤ اللہ اس کے بارہ میں تمہارا محاسبہ کرے گا۔ پس جسے وہ چاہے گا بخش دے گا اور جسے چاہے گا عذاب دے گا اور اللہ ہر چیز پر جسے وہ چاہے دائمی قدرت رکھتا ہے (البقرہ: 285) تو یہ بات رسول اللہﷺ کے صحابہؓ پر بہت گراں گذری (راوی کہتے ہیں کہ) اور (صحابہؓ) رسول اللہﷺ کے پاس آئے اور دو زانو ہو کر بیٹھ گئے اور کہا یا رسول اللہ! ہم پر اتنے اعمال کی ذمہ داری ڈالی گئی ہے جن کی ہمیں طاقت ہے نماز، روزہ، جہاد اور صدقہ اور یہ آیت آپؐ پر اتاری گئی جس کی ہم طاقت نہیں رکھتے۔ تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: کیا تم چاہتے ہو کہ وہی کچھ کہو جو تم سے پہلے دو کتاب والوں (یہود و نصارٰی) نے کہا تھا کہ ہم نے سنا اور ہم نے نافرمانی کی بلکہ تم یہ کہو کہ ’’ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی۔ تیری بخشش کے طلبگار ہیں اے ہمارے رب! اور تیری ہی طرف لوٹ کر جانا ہے‘‘۔ چنانچہ صحابہؓ نے کہا ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی۔ تیری بخشش کے طلبگار ہیں اے ہمارے رب! اور تیری ہی طرف لوٹ کر جانا ہے (البقرہ: 286) جب لوگ یہ (آیت) خوب پڑھنے لگے تو ان کی زبانیں اس (آیت) پر رواں ہو گئیں تو اس کے بعد اللہ عزّ وجل نے یہ (آیت) نازل کی۔ (ترجمہ): رسول اس پر ایمان لے آیا جو اس کے رب کی طرف سے اس پر اُتارا گیا اور مؤمن بھی، ان میں سے ہر ایک ایمان لے آیا اللہ پر، اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر یہ کہتے ہوئے کہ ہم اس کے رسولوں میں سے کسی کے درمیان تفریق نہیں کریں گے اور انہوں نے کہا کہ ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی۔ تیری بخشش کے طلبگار ہیں اے ہمارے رب! اور تیری طرف ہی لوٹ کر جانا ہے (البقرہ: 287) جب صحابہؓ نے ایسا کیا تو اللہ نے اس (غلط فہمی کو) دور کر دیا اور یہ آیت نازل فرمائی۔ ترجمہ: اللہ کسی جان پر اس کی طاقت سے بڑھ کر بوجھ نہیں ڈالتا۔ اس کے لئے ہے جو اس نے کمایا اور اس کا وبال بھی اسی پر ہے جو اس نے (بدی کا) اکتساب کیا۔ (البقرہ: 287) اللہ نے فرمایا: ٹھیک ہے۔ ترجمہ: اے ہمارے رب! ہمارا مؤاخذہ نہ کر، اگر ہم بھول جائیں یا ہم سے کوئی خطا ہو جائے۔ اللہ نے فرمایا ٹھیک ہے (ترجمہ) اے ہمارے رب! ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جیسا ہم سے پہلے لوگوں پر (ان کے گناہوں کے نتیجہ میں) تو نے ڈالا۔ اللہ نے فرمایا ٹھیک ہے۔ (ترجمہ) اور اے ہمارے رب! ہم پر کوئی ایسا بوجھ نہ ڈال جو ہماری طاقت سے بڑھ کر ہو۔ اللہ نے فرمایا ٹھیک ہے۔ (ترجمہ) اور ہم سے درگزر کر اور ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم کر۔ تو ہی ہمارا والی ہے۔ پس ہمیں کافر قوم کے مقابل پر نصرت عطا کر (البقرہ: 287) اللہ نے فرمایا: ٹھیک ہے۔
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی (ترجمہ): اور خواہ تم اسے ظاہر کرو جو تمہارے دلوں میں ہے۔ یا اُسے چھپاؤ، اللہ اس کے بارہ میں تمہارا محاسبہ کرے گا۔ (البقرہ: 285) تو لوگوں کے دلوں میں اس کی وجہ سے کچھ (انقباض) ہوا جو کسی اور وجہ سے نہیں ہوا تھا۔ اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا: کہو ہم نے سنا، ہم نے اطاعت کی اور ہم نے تسلیم کیا۔ راوی کہتے ہیں کہ اس پر اللہ نے ان کے دلوں میں ایمان ڈال دیا۔ پھر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ (ترجمہ) اللہ کسی جان پر اس کی طاقت سے بڑھ کر بوجھ نہیں ڈالتا۔ اس کے لئے ہے جو اس نے کمایا اور اس کا وبال بھی اسی پر ہے جو اس نے (بدی کا) اکتساب کیا۔ اے ہمارے رب! ہمارا مؤاخذہ نہ کر، اگر ہم بھول جائیں یا ہم سے کوئی خطاء ہو جائے تو (اللہ نے) فرمایا: ہاں میں نے ایسا کردیا۔ اے ہمارے رب ہم پر ایسا بوجھ نہ ڈال جیسا ہم سے پہلے لوگوں پر (ان کے گناہوں کی وجہ سے) تونے ڈالا۔ (اللہ نے) فرمایا میں نے ایسا ہی کر دیا اور ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما تو ہی ہمارا والی ہے۔ (البقرہ: 287) (اللہ نے) فرمایا میں نے ایسا کر دیا۔
حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یقینًا اللہ نے میری اُمّت کو ان باتوں سے جو وہ اپنے نفس سے کرتے ہیں، معاف کردیا ہے جب تک وہ ان کو بیان نہ کریں یا ان پر عمل نہ کریں۔
حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے میری امت کی ان باتوں سے درگزر کر دیا ہے جو وہ اپنے نفس سے بات کرتے ہیں جب تک وہ ان پر عمل نہ کریں یا ان کو بیان نہ کریں۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: اللہ عزوجل فرماتا ہے جب میرا بندہ کسی برائی کا ارادہ کرے تو اس کو اس کے ذمہ نہ لکھو، پھر اگر وہ اس پر عمل کرے تو اسے ایک برائی لکھ لو اور جب وہ نیکی کا ارادہ کرے مگر عمل نہ کرے تو اسے ایک نیکی لکھ لو پھر اگر وہ اس پر عمل بھی کرے تو اسے دس (نیکیاں) لکھ لو۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: اللہ عزوجل فرماتا ہے جب میرا بندہ کسی نیکی کا ارادہ کرتا ہے مگر اس پر عمل نہیں کرتا تو میں اس کے حق میں ایک نیکی لکھ لیتا ہوں اور اگر وہ اس پر عمل کرے تو میں اسے دس سے سات سو گنا تک نیکیاں لکھ لیتا ہوں مگر جب وہ کسی بدی کا ارادہ کرے مگر عمل نہ کرے تو میں اس کے ذمہ نہیں لکھتا اور اگر وہ اس پر عمل کرے تو صرف ایک بدی لکھتا ہوں۔
ھمّام بن منبّہ کہتے ہیں کہ یہ وہ روایت ہے جو حضرت ابو ہریرہؓ نے محمد رسول اللہ ﷺ سے بیان کی کہ انہوں نے کہا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ عزّوجل فرماتا ہے جب میرا بندہ کہتا ہے کہ وہ کوئی نیکی کرے گا تو میں اسے اس کے حق میں ایک نیکی لکھ دیتا ہوں جب تک وہ اس پر عمل نہ کرے اور جب وہ اس پر عمل کر لیتا ہے تو میں اس کو اس جیسی دس (نیکیاں) لکھ دیتا ہوں اور جب وہ کہتا ہے کہ میں کوئی بدی کروں گا تو میں اسے وہ بخش دیتا ہوں جب تک وہ اس پر عمل نہ کرے جب وہ اس پر عمل کر لیتا ہے تو میں اس کے ذمّہ وہی ایک (بدی) لکھتا ہوں اور رسول اللہ ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ فرشتے کہتے ہیں اے میرے رب! یہ تیرا بندہ ہے جو بدی کرنے کا ارادہ رکھتا ہے حالانکہ وہ (اللہ تعالیٰ) اسے زیادہ دیکھنے والا ہے وہ فرماتا ہے اس کی نگرانی کرتے رہو اگر وہ اس پر عمل کرے تو اس کے ذمہ ایک بدی لکھ لو اور اگر اس کو چھوڑ دے تو اس کے حق میں ایک نیکی لکھ لو کیونکہ اس نے اس کو صرف میری خاطر ترک کیا ہے اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنے اسلام میں حسن پیدا کر لیتا ہے تو ہر نیکی جو وہ بجا لاتا ہے اسے دس سے سات سو گنا تک لکھا جاتا ہے اور ہر بدی جو وہ کرتا ہے اسے اسی قدر لکھا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ سے جا ملتا ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا: جس نے کسی نیکی کا ارادہ کیا مگر اس پر عمل نہ کیا اس کے لئے ایک نیکی لکھ لی جاتی ہے اور جو نیکی کا ارادہ کرے اور اس پر عمل بھی کرے اس کے لئے دس سے سات سو گنا تک (نیکیاں) لکھی جاتیں ہیں اور جو بدی کا ارادہ کرے مگر اس پر عمل نہ کرے اسے نہیں لکھا جاتا۔ اگر وہ اس پر عمل کر لے تو اس کو لکھ لیا جاتا ہے۔
حضرت ابنِ عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ان باتوں میں سے جو آپؐ نے اپنے رب تبارک و تعالیٰ سے روایت کی ہیں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے نیکیاں اور بدیاں لکھ دی ہیں پھر ان کو کھول کر بیان کر دیا ہے۔ پس جو نیکی کا ارادہ کرے مگر اس پر عمل نہ کرے اللہ اس کو اپنے ہاں پوری نیکی لکھ لیتا ہے اور اگر وہ اس کا ارادہ کرے پھر کر (بھی) لے تو اسے اللہ عز و جل اپنے ہاں دس سے لے کر سات سو گنا تک لکھ لیتا ہے بلکہ کئی گنا زیادہ۔ لیکن اگر وہ بدی کا ارادہ کرے مگر اس پر عمل نہ کرے تو اللہ اس کو اپنے ہاں ایک پوری نیکی لکھ لیتا ہے اور اگر وہ اس کا ارادہ کرے اور عمل (بھی) کرے تو پھر اللہ اسے صرف ایک بدی لکھ لیتا ہے۔ ابو عثمان نے اسی سند سے عبدالوارث کی روایت کے مطابق روایت کی ہے اور یہ اضافہ کیا کہ اللہ تعالیٰ اُسے مٹا دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ (کی اس رحمت) کے باوجود ہلاک ہونے والا وہی ہوتا ہے جو (خود ہی) ہلاک ہوتا ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ کے صحابہؓ میں سے کچھ لوگ آئے اور انہوں نے آپؐ سے پوچھا کہ ہم اپنے نفسوں میں وہ پاتے ہیں جس کا بیان کرنا بھی ہم میں ہر کوئی بڑا (گناہ) سمجھتا ہے آپؐ نے فرمایا: تم واقعی یہ کیفیت پاتے ہو؟ انہوں نے کہا: ہاں تو آپؐ نے فرمایا یہ تو عین ایمان ہے۔