بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 319 hadith
حضرت ابو ذرؓ کہتے ہیں کہ میں مسجد میں داخل ہوا اور رسول اللہﷺ وہاں تشریف فرما تھے جب سورج غروب ہوا تو آپؐ نے فرمایا: اے ابوذرؓ ! کیا تم جانتے ہو کہ یہ کہاں جاتا ہے؟ وہ کہتے ہیں میں نے کہا: اللہ اور اس کا رسولؐ ہی بہتر جانتے ہیں فرمایا: یہ جاتا ہے اور سجدے کی اجازت مانگتا ہے چنانچہ اسے اجازت دی جاتی ہے اور اسے گویا کہا گیا ہے کہ جہاں سے آیا ہے وہیں لوٹ جا۔ چنانچہ وہ اپنے مغرب سے طلوع ہوگا۔ راوی کہتے ہیں پھر (حضرت ابو ذرؓ نے) عبداللہؓ کی قراءت کے موافق پڑھا اور یہ اس کا مستقر ہے۔
حضرت ابو ذرؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ سے اس ارشاد کے بارہ میں پوچھا وَالشَّمْسُ تَجْرِیْ لِمُسْتَقَرٍ لَھَا (یٰس 39: ) یعنی اور سورج (ہمیشہ) اپنی مقررہ منزل کی طرف رواں دواں ہے۔ آپؐ نے فرمایا: اس کا مستقر عرش کے نیچے ہے۔
حضرت عائشہؓ نبیﷺ کی زوجہ مطہرہ بیان کرتی ہیں کہ پہلے پہل رسول اللہﷺ پر نیند میں سچی رویاء سے وحی کی ابتداء ہوئی اور آپؐ جو بھی رؤیا دیکھتے وہ صبحِ صادق کی طرح پوری ہو جاتی تھی۔ پھر آپؐ کو خلوت پسند آنے لگی اور آپؐ غارِ حرا میں تنہا رہتے تھے اور کئی راتیں عبادت میں مصروف رہتے (تحنّث کے معنے عبادت کے ہیں) قبل اس کے کہ آپؐ اپنے اہل کی طرف لوٹتے اور اس غرض کے لئے توشہ لیتے۔ پھر آپؐ حضرت خدیجہؓ کی طرف واپس آتے اور اتنی ہی (راتوں کے لئے) توشہ لیتے یہاں تک کہ آپؐ کے پاس اچانک حق آ گیا اور آپؐ غارِ حرا میں تھے آپؐ کے پاس فرشتہ آیا اور اس نے کہا: پڑھ! فرمایا: میں تو پڑھنے والا نہیں۔ آپؐ نے فرمایا: اس نے مجھے پکڑ لیا اور مجھے اس قدر بھینچا کہ میری طاقت جواب دے گئی پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور کہا: پڑھ۔ میں نے کہا: میں تو پڑھنے والا نہیں تو اس نے مجھے پکڑ لیا اور دوسری دفعہ بھینچا اور میری طاقت جواب دے گئی۔ پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور کہا پڑھ۔ میں نے کہا: میں تو پڑھنے والا نہیں۔ تو اس نے مجھے پکڑ لیا اور تیسری دفعہ بھینچا یہاں تک کہ میری طاقت جواب دے گئی پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور کہا اِقْرَا بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ (ترجمہ) پڑھ اپنے رب کے نام کے ساتھ جس نے پیدا کیا۔ اس نے انسان کو ایک چمٹ جانے والے لوتھڑے سے پیدا کیا، پڑھ اور تیرا رب سب سے زیادہ معزز ہے۔ جس نے قلم کے ذریعہ سکھایا۔ انسان کو وہ کچھ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا۔ (العلق: 2 تا 6) چنانچہ رسول اللہﷺ ان (آیات کے ساتھ) واپس لوٹے اور آپؐ کے کندھوں کے پٹھے کانپ رہے تھے۔ یہاں تک کہ آپؐ حضرت خدیجہؓ کے پاس آئے اور کہا: مجھے کپڑا اوڑھا دو، مجھے کپڑا اوڑھا دو۔ چنانچہ انہوں نے آپؐ کو کپڑا اوڑھا دیا اور پھر آپؐ سے وہ گھبراہٹ جاتی رہی۔ پھر آپؐ نے حضرت خدیجہؓ سے فرمایا: اے خدیجہ! میرے ساتھ کیا گزری اور پھر ان کو ساری بات بتائی۔ آپؐ نے فرمایا: مجھے تو (اتنی بڑی ذمہ داری لیتے ہوئے) اپنی جان کا ڈر ہے۔ حضرت خدیجہؓ نے آپؐ سے عرض کیا: ہر گز نہیں، آپؐ کو خوشخبری ہو۔ بخدا اللہ تعالیٰ آپؐ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا۔ بخدا بلا شبہ آپؐ صلہ رحمی کرتے ہیں اور سچ بولتے ہیں اور تھکے ہاروں کے بوجھ اُٹھاتے ہیں اور خوبیاں جو معدوم ہو چکی ہیں بجا لاتے ہیں اور مہمان نوازی کرتے ہیں اور مصائبِ حقّہ (حوادثِ زمانہ) پر مدد کرتے ہیں۔ پھر حضرت خدیجہؓ آپؐ کو ورقہ بن نوفل بن اسد بن عبدالعزٰی کے پاس لے گئیں۔ وہ حضرت خدیجہؓ کے چچا کے بیٹے تھے، ان کے باپ کے بھائی کے بیٹے، اور ایک ایسے شخص تھے جو زمانہ جاہلیت میں عیسائی ہو گئے تھے۔ اور عربی لکھنا (پڑھنا) جانتے تھے اور انجیل میں سے عربی زبان میں جتنا اللہ چاہے کہ لکھیں وہ لکھا کرتے تھے وہ بہت بوڑھے تھے اور نابینا ہو گئے تھے۔ حضرت خدیجہؓ نے ان سے کہا: اے میرے چچا! اپنے بھتیجے کی بات سنیں۔ ورقہ بن نوفل نے کہا: اے میرے بھتیجے! تم کیا دیکھتے ہو؟ رسول اللہﷺ نے جو دیکھا تھا ان کو بتایا تو ورقہ نے آپؐ سے کہا: یہ تو وہی فرشتہ ہے جو موسیٰؑ پر اترا تھا۔ کاش میں اس وقت جوان ہوتا اور زندہ ہوتا جب تیری قوم تجھے نکال دے گی تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: کیا وہ مجھے نکال دیں گے؟ ورقہ نے کہا ہاں، جب بھی کوئی شخص تیرے جیسا پیغام لایا ہے تو اس سے دشمنی کی گئی ہے اور اگر میں نے تیرا زمانہ پایا تو میں تیری زبردست مدد کروں گا۔ حضرت عائشہؓ سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ پہلے پہل جو وحی رسول اللہﷺ کو ہوئی۔ اس کے آگے راوی نے یونس جیسی روایت بیان کی سوائے ان کی اس بات کے کہ خدا کی قسم اللہ آپؐ کو کبھی غم نہیں پہنچائے گا نیز انہوں نے کہا کہ حضرت خدیجہؓ نے فرمایا: اے میرے چچا کے بیٹے! اپنے بھتیجے کی بات سنو۔ ابن شہاب کہتے ہیں کہ میں نے عروہ بن زبیر کو کہتے ہوئے سنا کہ نبیﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہؓ نے فرمایا نبیﷺ حضرت خدیجہؓ کے پاس تشریف لائے اور آپؐ کا دل دھڑک رہا تھا۔ اور پھر یونس اور معمر والی روایت کی مانند بیان کیا اور ان دونوں کی روایت میں یہ ذکر نہیں کیا اَوَّلُ مَا بُدِیَٔ بِہِ رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ مِنَ الْوَحْیِ الرُّؤْیَا الصَّالِحَۃُ رسول اللہﷺ پر وحی کی ابتدا رؤیا صادقہ کے ساتھ ہوئی اور یونس کے اس قول کی متابعت کی ہے خدا کی قسم اللہ آپؐ کو رسوا نہیں کرے گا نیز حضرت خدیجہؓ کے اس قول کا ذکر کیا ہے ’’اے میرے چچا کے بیٹے! اپنے بھتیجے کی بات سنئے‘‘۔
حضرت جابرؓ بن عبداللہ انصاری جو رسول اللہﷺ کے اصحاب میں سے تھے وہ (رسول اللہﷺ سے) احادیث بیان کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جب آپؐ فترۃُ الوحی (یعنی وحی کے آنے میں عارضی وقفہ) کے بارہ میں بات کر رہے تھے۔ آپؐ نے اپنے بیان میں فرمایا اس اثناء میں کہ میں چلا جا رہا تھا کہ میں نے آسمان سے ایک آواز سنی، میں نے اپنا سر اُٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہی فرشتہ جو میرے پاس غارِ حرا میں آیا تھا آسمان اور زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہوا ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ میں اس سے مرعوب ہو گیا۔ میں واپس لوٹ آیا اور میں نے کہا: مجھے کپڑا اوڑھا دو، مجھے کپڑا اوڑھا دو چنانچہ انہوں نے میرے اوپر کپڑا ڈال دیا۔ تب اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ وحی نازل فرمائی (ترجمہ): اے کپڑا اوڑھنے والے! اُٹھ کھڑا ہو اور انتباہ کر۔ اور اپنے ربّ ہی کی بڑائی بیان کر۔ اور جہاں تک تیرے کپڑوں (یعنی قریبی ساتھیوں) کا تعلق ہے تُو (انہیں) بہت پاک کر۔ اور جہاں تک ناپاکی کا تعلق ہے تو اس سے کلیۃً الگ رہ۔ (سورۃ المدثر 2 تا 6) رجز سے مراد بُت ہیں وہ کہتے ہیں پھر وحی تواتر سے آنے لگی۔ ابنِ شہاب سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن کو کہتے ہوئے سنا کہ مجھے حضرت جابرؓ بن عبداللہ نے بتایا کہ انہوں نے رسول اللہﷺ کو سنا آپؐ فرما رہے تھے کہ پھر مجھ پر وحی میں کچھ عرصہ کے لئے وقفہ آگیا۔ اس اثناء میں کہ میں چلا جا رہا تھا۔۔۔ پھر راوی نے یونس والی حدیث بیان فرمائی سوائے اس بات کے کہ جو آپؐ نے فرمایا کہ میں بہت زیادہ گھبرا گیا یہاں تک کہ زمین کی طرف تیزی سے جھکا۔ نیز وہ کہتے ہیں کہ ابو سلمہ نے کہا: الرُّجْزُ سے مراد ’’اَلْاَوْثَانُ‘‘ یعنی بُت ہیں۔ آپؐ نے فرمایا کہ اس کے بعد وحی خوب زور سے شروع ہوئی اور لگا تار ہوتی رہی۔ زہری سے اسی اسناد سے یونس والی حدیث مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ پھر اللہ تبارک تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (ترجمہ): اے کپڑا اوڑھنے والے! اُٹھ کھڑا ہو اور انتباہ کر۔ اور اپنے ربّ ہی کی بڑائی بیان کر۔ اور جہاں تک تیرے کپڑوں (یعنی قریبی ساتھیوں) کا تعلق ہے تُو (انہیں) بہت پاک کر۔ اور جہاں تک ناپاکی کا تعلق ہے تو اس سے کلیۃً الگ رہ‘‘ تک اور یہ نماز فرض ہونے سے پہلے کی بات ہے اور الرُّجز سے مراد بُت ہیں راوی نے کہا عقیل کی روایت کے مطابق فَجُثِثْتُ مِنْہُ کے الفاظ ہیں۔
یحیٰ کہتے ہیں کہ میں نے ابو سلمہ سے پوچھا سب سے پہلے قرآن (کا) کونسا (حصہ) نازل ہوا؟ انہوں نے کہا: یٰاَیُّھَا الْمُدَّثِّرُ میں نے کہا: یا اِقْرَا ْتو انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت جابرؓ بن عبداللہ سے سوال کیا کہ قرآن کا کونسا حصہ پہلے نازل ہوا؟ انہوں نے کہا: یٰاَیُّھَا الْمُدَّثِّر ُمیں نے کہا: یا اِقْرَاْ حضرت جابرؓ کہنے لگے کہ میں تمہیں وہ بات بتاتا ہوں جو ہمیں رسول اللہﷺ نے بتائی آپؐ نے فرمایا کہ میں حراء میں ایک مہینہ رہا جب میں نے اس پر اپنے قیام کا عرصہ پورا کرلیا تو میں نیچے اُترا اور وادی کے نشیب میں پہنچا۔ مجھے پُکارا گیا چنانچہ میں نے اپنے آگے اور پیچھے اور اپنے دائیں اور بائیں نظر ڈالی لیکن میں نے کسی کو نہ دیکھا پھر مجھے پکارا گیا پھر میں نے نظر ڈالی میں نے کسی کو نہ دیکھا پھر مجھے پُکارا گیا تو میں نے اپنا سر اُٹھایا تو دیکھا کہ وہ تخت پر فضا میں تھے یعنی جبرائیل علیہ السلام، مجھ پر شدید لرزہ طاری ہوا، میں خدیجہؓ کے پاس آیا اور کہا: مجھے کپڑا اوڑھا دو، مجھے کپڑا اوڑھا دو۔ چنانچہ انہوں نے مجھے کپڑا اوڑھا دیا اور مجھ پر پانی بھی ڈالا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی۔ (ترجمہ): اے کپڑا اوڑھنے والے! اُٹھ کھڑا ہو اور انتباہ کر، اور اپنے رب ہی کی بڑائی بیان کر اور جہاں تک تیرے کپڑوں (یعنی قریبی ساتھیوں) کا تعلق ہے تو (انہیں) بہت پاک کر۔ (المدثر 2 تا 6) یحیٰ بن ابو کثیر اسی اسناد سے روایت کرتے ہیں کہ آپؐ نے فرمایا کہ وہ (جبرائیل علیہ السلام) تخت پر آسمان و زمین کے درمیان بیٹھے ہوئے تھے۔
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ میرے پاس براق لایا گیا۔ وہ ایک سفید رنگ کا لمبا جانور تھا جو گدھے سے بڑا اور خچر سے چھوٹا تھا۔ وہ اپنا قدم اپنی حدّ نظر تک رکھتا تھا۔ آپؐ نے فرمایا پھر میں اس پر سوار ہو گیا یہاں تک کہ میں بیت المقدس پہنچ گیا۔ فرمایا پھر میں نے اسے اس حلقہ سے باندھ دیا جس سے انبیاء باندھتے تھے۔ فرمایا پھر میں مسجد میں داخل ہوا اور اس میں دور کعتیں ادا کیں پھر باہر آیا تو جبرئیل میرے پاس ایک برتن میں شراب اور ایک برتن میں دودھ لے کر آئے۔ میں نے دودھ کا انتخاب کیا۔ اس پر جبرائیلؑ نے کہا کہ آپؐ نے فطرت کا انتخاب کیا ہے۔ پھر وہ ہمیں آسمان تک لے گئے تو جبرائیل نے اسے کھلوانا چاہا۔ تب کہا گیا کہ تم کون ہو؟ انہوں نے کہا جبرائیل۔ کہا گیا کہ تمہارے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے کہا محمدﷺ۔ کہا گیا انہیں بُلایا گیا ہے؟ انہوں نے کہا انہیں بُلایا گیا ہے پھر ہمارے لئے (دروازہ) کھولا گیا۔ میں کیا دیکھتا ہوں کہ آدمؑ ہیں۔ انہوں نے مجھے خوش آمدید کہا اور میرے لئے خیر کی دعا کی۔ پھر وہ ہمیں لے کر دوسرے آسمان پر گئے۔ جبرائیل علیہ السلام نے (دروازہ) کھلوانا چاہا۔ کہا گیا کہ تم کون ہو؟ انہوں نے کہا جبرائیل۔ کہا گیا کہ تمہارے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے کہا محمدﷺ۔ کہا گیا انہیں بُلایا گیا ہے؟ انہوں نے کہا انہیں بلوایا گیا ہے۔ چنانچہ ہمارے لئے کھولا گیا تو میرے سامنے دو خالہ زاد بھائی عیسیؑ ابن مریم اور یحیٰ بن زکریا صلوات اللہ علیھما ہیں۔ ان دونوں نے خوش آمدید کہا اور مجھے خیر کی دعا دی۔ پھر وہ مجھے لے کر تیسرے آسمان کی طرف بلند ہوئے۔ جبرائیلؑ نے (دروازہ) کھلوانا چاہا۔ کہا گیا کہ تم کون ہو؟ انہوں نے کہا جبرائیل۔ کہا گیا کہ تمہارے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے کہا محمدﷺ۔ کہا گیا انہیں بُلایا گیا ہے؟ انہوں نے کہا انہیں بلایا گیا ہے۔ چنانچہ ہمارے لئے (دروازہ) کھولا گیا تو میرے سامنے یوسفؑ تھے۔ کیا دیکھتا ہوں کہ ان کو نصف حسن عطا کیا گیا ہے۔ انہوں نے مجھے خوش آمدید کہا اور میرے حق میں دعائے خیر کی۔ پھر وہ ہمیں لے کر چوتھے آسمان کی طرف بلند ہوئے۔ پھر جبرائیل علیہ السلام نے (دروازہ) کھلوانا چاہا۔ کہا گیا کون ہے؟ انہوں نے کہا جبرائیل۔ کہا گیا کہ تمہارے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے کہا محمدﷺ۔ کہا گیا انہیں بُلایا گیا ہے؟ انہوں نے کہا انہیں بلایا گیا ہے۔ چنانچہ ہمارے لئے دروازہ کھولا گیا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ میرے سامنے ادریسؑ ہیں انہوں نے مجھے خوش آمدید کہا اور میرے حق میں دعائے خیر کی۔ اللہ عزوجل نے فرمایا (ترجمہ) ہم نے اسے نہایت اعلیٰ مقام پر پہنچایا تھا (مریم: 58) پھر وہ ہمیں لے کر پانچویں آسمان کی طرف بلند ہوئے۔ جبرائیل نے (دروازہ) کھلوانا چاہا۔ کہا گیا کہ کون ہے؟ انہوں نے کہا جبرائیل۔ کہا گیا کہ تمہارے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے کہا محمدﷺ۔ کہا گیا انہیں بُلایا گیا ہے؟ انہوں نے کہا انہیں بلایا گیا ہے۔ پھر ہمارے لئے دروازہ کھولا گیا تو میں کیا دیکھتا ہوں کہ ہارونؑ ہیں۔ آپ نے مجھے خوش آمدید کہا اور میرے لئے دعائے خیر کی۔ پھر وہ ہمیں لے کر چھٹے آسمان کی طرف بلند ہوئے۔ جبرائیل علیہ السلام نے (دروازہ) کھلوانا چاہا۔ کہا گیا کہ کون ہے؟ انہوں نے کہا جبرائیل۔ کہا گیا کہ تمہارے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے کہا محمدﷺ۔ کہا گیا انہیں بُلایا گیا ہے؟ انہوں نے کہا انہیں بلایا گیا ہے۔ پھر ہمارے لئے (دروازہ) کھولا گیا تو مَیں کیا دیکھتا ہوں کہ موسیٰؑ ہیں۔ انہوں نے مجھے خوش آمدید کہا اور میرے لئے دعائے خیر کی۔ پھر وہ ساتویں آسمان کی طرف بلند ہوئے۔ پھر جبرائیل نے دروازہ کھلوانا چاہا۔ کہا گیا کہ کون ہے؟ انہوں نے کہا جبرائیل۔ کہا گیا کہ تمہارے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے کہا محمدﷺ۔ کہا گیا انہیں بُلایا گیا ہے؟ انہوں نے کہا انہیں بلایا گیا ہے۔ پھر ہمارے لئے دروازہ کھولا گیا تو میں کیا دیکھتا ہوں کہ ابراہیمؑ بیت معمور کے ساتھ اپنی پشت لگائے ہوئے ہیں اور دیکھو اس میں روزانہ ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں اور دوبارہ نہیں آتے۔ پھر وہ مجھے سدرۃ المنتہیٰ کی طرف لے گئے جس کے پتے ہاتھیوں کے کانوں کی طرح اور اس کا پھل مٹکوں کی طرح ہے۔ آپؐ نے فرمایا جب اسے امرِ الٰہی میں سے اس نے ڈھانپ لیا جس نے ڈھانپ لیا تو وہ تبدیل ہو گئی اور مخلوق الٰہی میں سے کوئی بھی اس کے حسن کی تعریف کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ پھر اللہ نے میری طرف وحی کی جو اس نے وحی کی اور مجھ پر ہر دن اور رات میں پچاس نمازیں فرض کیں۔ پھر میں موسیٰؑ کے پاس آیا تو انہوں نے کہا کہ آپؐ کے رب نے آپؐ کی امت پر کیا فرض کیا ہے؟ میں نے کہا پچاس نمازیں۔ انہوں نے کہا آپؐ اپنے رب کے پاس واپس جائیں اور اس سے کچھ کمی کی درخواست کریں کیونکہ آپؐ کی امت اس کی طاقت نہیں رکھے گی کیونکہ میں نے بنی اسرائیل کو آزمایا ہے اور خوب جانچا ہے۔ آپؐ نے فرمایا میں پھر اپنے رب کی طرف واپس گیا اور عرض کیا کہ اے میرے رب! میری امت پر تخفیف فرما دیجئے۔ پس اس نے مجھ سے پانچ کم کر دیں۔ میں پھر موسیٰ کے پاس گیا اور کہا کہ اس نے مجھ سے پانچ کم کر دی ہیں۔ انہوں نے کہا آپؐ کی امت اس کی (بھی) طاقت نہیں رکھے گی۔ اپنے رب کی طرف واپس جائیں اور اس سے تخفیف چاہیں۔ فرمایا پھر میں اپنے رب تبارک و تعالیٰ اور موسیٰ کے درمیان آتا جاتا رہا۔ یہاں تک کہ اللہ نے فرمایا اے محمدﷺ! ہر دن اور رات میں یہ پانچ نمازیں ہیں۔ ہر نماز کے لئے دس اجر ہیں۔ پس یہ پچاس نمازیں ہی ہوئیں۔ جس نے کسی نیکی کا ارادہ کیا اور اسے نہ کر سکا تو اس کے لئے ایک نیکی لکھی جائے گی اور اگر اس نے وہ نیکی کر لی تو اس کے لئے دس نیکیاں لکھی جائیں گی اور جس نے کسی برائی کا ارادہ کیا اور اسے نہ کر سکا تو اس کے لئے کچھ بھی نہیں لکھا جائے گا اور اگر اس نے وہ (بدی) کر لی تو ایک بدی لکھی جائے گی۔ فرمایا پھر میں نیچے اترا اور موسیٰﷺ تک پہنچ گیا اور انہیں اس بارہ میں بتایا تو انہوں نے کہا اپنے رب کے پاس پھر جائیں اور اس سے تخفیف چاہیں۔ اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ میں نے کہا کہ میں اپنے رب کے پاس بار بار گیا ہوں اور اب مجھے اس سے شرم محسوس ہوتی ہے۔
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا میرے پاس (فرشتے) آئے۔ پھر وہ مجھے زمزم کی طرف لے گئے اور میرا سینہ کھولا گیا۔ پھر زمزم کے پانی سے دھویا گیا۔ پھر مجھے اُتارا گیا۔
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ کے پاس جبرائیلﷺ آئے جبکہ آپؐ بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے۔ انہوں نے آپؐ کو پکڑا اور لٹا دیا۔ پھر دل کے قریب سے چاک کیا اور دل کو نکالا اور اس میں سے ایک لوتھڑا نکال دیا اور کہا آپ کی طرف سے شیطان کا یہ حصّہ تھا پھر اس (دل) کو سونے کی ایک طشتری میں زمزم کے پانی سے دھویا پھر اسے جوڑ دیا اور اسے دوبارہ اس کی جگہ پر رکھ دیا۔ بچے دوڑتے ہوئے آپؐ کی ماں یعنی آپؐ کی رضاعی والدہ کے پاس آئے اور کہا کہ محمدؐ کو قتل کر دیا گیا ہے۔ جب وہ آپؐ کے پاس آئے اور آپؐ کا رنگ بدلا ہوا تھا۔ حضرت انسؓ کہتے ہیں کہ میں اس سلائی کا نشان آپؐ کے سینہ پر دیکھا کرتا تھا۔ عبداللہ بن ابو نمیر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس بن مالکؓ کو کہتے ہوئے سنا۔ وہ ہمیں بتاتے تھے کہ جس رات رسول اللہﷺ کو کعبہ کی مسجد (یعنی مسجدِ حرام) سے اسراء کرایا گیا جبکہ آپؐ مسجدِ حرام میں سو رہے تھے اس وقت آپؐ کے پاس تین آدمی آئے اور یہ اس سے قبل کی بات ہے جب آپؐ کی طرف وحی کی گئی۔ آگے ثابت بنانی کی طرح سارا واقعہ بیان کیا لیکن کچھ آگے پیچھے کر دیا اور کچھ کمی بیشی کر دی۔
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ حضرت ابو ذرؓ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جب میں مکہ میں تھا تو میرے گھر کی چھت کھولی گئی۔ پھر جبرائیلﷺ اترے اور انہوں نے میرا سینہ کھولا۔ پھر اسے آبِ زمزم سے دھویا۔ پھر وہ ایک سونے کا طشت لائے جو حکمت اور ایمان سے بھرا ہوا تھا اور اسے میرے سینہ میں انڈیل دیا۔ پھر اسے بند کر دیا۔ پھر میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے آسمان کی طرف لے گئے۔ جب ہم ورلے آسمان تک پہنچے تو جبریل نے ورلے آسمان کے محافظ سے کہا کھولو! اس نے پوچھا کون ہے؟ انہوں نے جواب دیا جبریل۔ اس نے پوچھا تمہارے ساتھ کوئی ہے؟ انہوں نے کہا ہاں، میرے ساتھ محمدﷺ ہیں۔ اس نے پوچھا کیا ان کو بُلایا گیا ہے؟ انہوں نے کہا ہاں۔ چنانچہ اس نے (دروازہ) کھولا۔ فرمایا جب ہم ورلے آسمان کے اوپر پہنچے تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک شخص ہے جس کے دائیں طرف بھی بہت سے آدمی ہیں اور بائیں طرف بھی بہت سے آدمی ہیں۔ فرمایا جب وہ اپنے دائیں طرف دیکھتا تو ہنس پڑتا اور جب اپنی بائیں طرف دیکھتا تو رو پڑتا۔ (آپؐ نے) فرمایا اس (آدمی) نے کہا کہ اس صالح نبی اور صالح بیٹے کو خوش آمدید۔ آپؐ نے فرمایا کہ جبرائیل سے میں نے پوچھا اے جبرائیل یہ کون ہیں؟ اس نے کہا کہ یہ آدمﷺ ہیں اور یہ لوگ جو ان کے دائیں بائیں ہیں یہ ان کی اولاد کی روحیں ہیں۔ دائیں طرف والے جنتی ہیں اور جو ان کے بائیں طرف ہیں دوزخی ہیں۔ جب وہ اپنے دائیں دیکھتے ہیں تو ہنس پڑتے ہیں اور جب اپنے بائیں طرف دیکھتے ہیں تو رو پڑتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا کہ پھر جبرائیل مجھے اوپر لے گئے یہان تک کہ وہ دوسرے آسمان پر آگئے۔ اور انہوں نے اس کے محافظ سے کہا کہ کھولو۔ آپؐ نے فرمایا کہ اس کے محافظ نے ان کو وہی جواب دیا جو ورلے آسمان کے محافظ نے دیا تھا۔ پس اس نے (دروازہ) کھول دیا۔ حضرت انس بن مالکؓ نے کہا اور یہ ذکر کیا کہ آپؐ نے آسمانوں میں آدمؑ اور ادریسؑ اور عیسیٰؑ اور موسیٰؑ اور ابراہیمؑ سب پر خدا کی رحمتیں ہوں کو موجود پایا۔ مگر (حضرت انسؓ) نے ان کی (اپنے بیان میں) منازل متعین نہیں کیں۔ سوائے اس بات کے کہ انہوں نے آدمؑ کو سب سے نچلے آسمان پر اور حضرت ابراہیمؑ کو چھَٹے آسمان میں پایا۔ (حضرت انسؓ) کہتے ہیں کہ جب جبرائیل اور رسول اللہﷺ ادریس صلوٰات اللہ علیہ کے پاس سے گزرے تو انہوں نے کہا کہ اس صالح نبی کو اور صالح بھائی کو خوش آمدید۔ آپؐ نے فرمایا پھر جب وہ گزرے تو میں نے پوچھا کہ یہ کون ہیں؟ تو انہوں نے کہا یہ ادریسؑ ہیں۔ آپؐ نے فرمایا پھر میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گزرا تو انہوں نے کہا کہ صالح نبی اور صالح بھائی کو خوش آمدید۔ آپؐ فرماتے ہیں کہ میں نے پوچھا یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا یہ موسیٰؑ ہیں۔ آپؐ نے فرمایا کہ پھر میں عیسیٰؑ کے پاس سے گزرا تو انہوں نے کہا کہ صالح نبی اور صالح بھائی کو خوش آمدید۔ آپؐ فرماتے ہیں کہ میں نے پوچھا یہ کون ہیں؟ انہوں نے کہا یہ عیسیٰؑ بن مریم ہیں۔ آپؐ نے فرمایا پھر میں ابراہیم علیہ السلام کے پاس سے گزرا تو انہوں نے کہا کہ صالح نبی اور صالح بیٹے کو خوش آمدید۔ آپؐ فرماتے ہیں کہ میں نے پوچھا یہ کون ہیں؟ انہوں نے کہا یہ ابراہیمؑ ہیں۔ ابنِ شہاب کہتے ہیں کہ مجھے ابن حزم نے بتایا کہ حضرت ابنِ عباسؓ اور حضرت ابو حبّہ انصاری کہتے تھے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ پھر وہ مجھے اور اوپر لے گئے یہان تک کہ میں ایک ہموار جگہ پر چڑھا۔ جہاں میں قلموں کے لکھنے کی آواز سنتا تھا۔ ابن حزم اور حضرت انس بن مالکؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا اللہ نے میری امت پر پچاس نمازیں فرض کیں۔ آپؐ نے فرمایا کہ اس حکم کے ساتھ میں واپس لوٹا یہان تک کہ جب میں موسیٰؑ کے پاس سے گزرا تو انہوں نے پوچھا کہ آپؐ کے رب نے آپؐ کی امت پر کیا فرض کیا ہے؟ میں نے کہا ان پر پچاس نمازیں فرض کی ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام نے مجھے کہا کہ اپنے رب سے بات کرو کیونکہ آپؐ کی امت اس کی طاقت نہیں رکھے گی۔ آپؐ نے فرمایا کہ پھر میں نے اپنے رب سے بات کی تو اس نے اس میں سے نصف کم کر دیں۔ آپؐ فرماتے ہیں کہ پھر میں موسیٰؑ کے پاس گیا اور انہیں اس بارہ میں بتایا۔ انہوں نے کہا کہ پھر اپنے رب سے بات کرو کیونکہ آپؐ کی امت اس کی بھی طاقت نہیں رکھے گی۔ آپؐ نے فرمایا کہ پھر میں نے اپنے رب سے بات کی تو (اللہ نے) فرمایا کہ یہ پانچ ہیں اور یہی پچاس ہیں۔ میرے حضور بات تبدیل نہیں کی جاتی۔ آپؐ نے فرمایا میں پھر موسیٰؑ کے پاس گیا تو انہوں نے کہا کہ اپنے رب سے بات کرو۔ تب میں نے کہا کہ اب مجھے اپنے رب سے شرم آتی ہے۔ آپؐ نے فرمایا پھر جبرائیل مجھے لے کر چل پڑے یہان تک کہ ہم سدرۃ المنتھٰی تک پہنچ گئے۔ جسے کئی رنگوں نے ڈھانپا ہوا تھا۔ مجھے معلوم نہیں کہ وہ کیا(رنگ) ہیں۔ فرمایا پھر مجھے جنت میں داخل کر دیا گیا تو اس میں موتیوں کے گنبد تھے اور اس کی مٹی مشک تھی۔
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے راوی کہتے ہیں کہ غالباً انہوں نے اپنی قوم کے ایک شخص حضرت مالک بن صعصعہؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ اللہ کے نبیﷺ نے فرمایا کہ میں بیت اللہ کے پاس نیند اور بیداری کے درمیان کی حالت میں تھا کہ میں نے کسی کہنے والے کو سنا جو کہہ رہا تھا ’’تین میں سے ایک دو مردوں کے درمیان‘‘ (یہ ہیں) وہ میرے پاس آئے اور مجھے لے جایا گیا۔ پھر میرے پاس سونے کی ایک طشتری لائی گئی جس میں زمزم کا پانی تھا۔ پھر یہاں سے یہاں تک میرا سینہ کھولا گیا (قتادہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے ساتھی سے پوچھا کہ اس کا کیا مطلب ہے؟ انہوں نے کہا آپؐ کے پیٹ کے نیچے تک) پھر میرا دل باہر نکالا گیا، پھر اسے زمزم کے پانی سے دھویا گیا اور پھر اسے اپنی جگہ پر واپس رکھ دیا گیا۔ پھر اسے ایمان اور حکمت سے لبریز کر دیا گیا۔ اور میرے پاس ایک سفید جانور لایا گیا جسے براق کہا جاتا تھا جو گدھے سے بڑا اور خچر سے چھوٹا تھا۔ اس کا قدم اپنی حدِّ نظر تک پڑتا تھا۔ پس مجھے اس پر سوار کرایا گیا۔ پھر ہم چلے یہاں تک کہ پہلے آسمان تک پہنچے تو جبرائیلؑ نے کھلوانا چاہا۔ پوچھا گیا کہ کون ہیں؟ انہوں نے کہا جبرائیل۔ پوچھا گیا کہ تمہارے ساتھ کون ہیں؟ انہوں نے کہا محمدﷺ۔ کہا گیا کیا انہیں بلایا گیا ہے؟ انہوں نے کہا ہاں۔ آپؐ نے فرمایا کہ پھر اس نے ہمارے لئے (دروازہ) کھولا اور کہا خوش آمدید! کیا ہی خوبصورت آمد ہے۔ آپؐ نے فرمایا پھر ہم آدمؑ کے پاس آئے۔ آگے سارا واقعہ سنایا۔ راوی نے ذکر کیا کہ دوسرے آسمان پر آپؐ عیسیٰؑ و یحیٰ علیہما السلام سے ملے اور تیسرے پر یوسفؑ اور چوتھے پر ادریسؑ سے ملے اور پانچویں پر ہارون سے ملے صلوات اللہ علیہم۔ آپؐ نے فرمایا کہ پھر ہم چلے یہاں تک کہ چھٹے آسمان تک پہنچے تو میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا اور انہیں سلام کہا۔ انہوں نے کہا کہ صالح بھائی اور صالح نبی کو خوش آمدید۔ جب میں انہیں چھوڑ کر ان سے آگے بڑھا تو وہ رو پڑے۔ ان سے کہا گیا کہ آپ کو کس چیز نے رُلایا؟ انہوں نے کہا اے میرے رب! یہ وہ نوجوان ہے جسے تونے میرے بعد مبعوث کیا اور اس کی امت میں میری امت کی نسبت زیادہ لوگ جنت میں جائیں گے۔ آپؐ نے فرمایا کہ پھر ہم چلے یہاں تک کہ ہم ساتویں آسمان تک پہنچ گئے۔ اور میں ابراہیمؑ کے پاس آیا۔ انہوں نے حدیث میں بیان کیا کہ اللہ کے نبیﷺ نے بیان فرمایا کہ آپؐ نے چار دریا دیکھے جو اس کی تہہ سے نکلتے تھے دو ظاہری دریا اور دو باطنی دریا۔ میں نے پوچھا اے جبرائیل! یہ دریا کیسے ہیں؟ اس نے کہا کہ جہاں تک دو باطنی دریاؤں کا تعلق ہے وہ دونوں جنت میں ہیں اور جو دو ظاہری دریا ہیں وہ نیل اور فرات ہیں۔ پھر بیت معمور میرے لئے بلند کیا گیا۔ میں نے پوچھا اے جبرائیل! یہ کیا ہے؟ اس نے کہا کہ یہ بیت معمور ہے۔ جس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں۔ پھر جب اس میں سے نکل جاتے ہیں تو واپس لوٹ کر نہیں آتے۔ یہ ان کی اس ذمہ داری کا اختتام ہے۔ پھر میرے پاس دو برتن لائے گئے۔ جن میں سے ایک شراب، دوسرا دودھ کا تھا۔ پس دونوں میرے سامنے پیش کئے گئے۔ میں نے دودھ چن لیا تو کہا گیا کہ آپؐ نے ٹھیک کیا ہے۔ اللہ آپؐ کی امت کو آپؐ کے ذریعہ فطرت پر رکھے گا۔ پھر مجھ پر ہر روز پچاس نمازیں فرض کی گئیں۔ پھر انہوں نے حدیث کے آخر تک کا قصہ بیان کیا۔ حضرت مالک بن صعصعہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: آگے راوی نے وہی واقعہ بیان کیا اور مزید یہ بیان کیا (آپؐ نے فرمایا) کہ میرے پاس ایک سونے کی طشتری لائی گئی جو حکمت اور ایمان سے لبریز تھی۔ پھر میری گردن سے پیٹ کے نیچے تک چیرا گیا۔ پھر زمزم کے پانی سے دھویا گیا۔ پھر اسے حکمت اور ایمان سے بھر دیا گیا۔