بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 319 hadith
صالح بن صالح ہمدانی نے شعبی سے روایت کی ہے۔ انہوں نے کہا: کہ میں نے اہل خراسان میں سے ایک شخص کو دیکھا جس نے شعبی سے سوال کیا اور کہا اے ابو عمرو! ہماری طرف کے اہلِ خراسان میں سے بعض کہتے ہیں کہ جو شخص اپنی لونڈی کو آزاد کرے اور پھر اس سے نکاح کرے ایسا ہی ہے جیسے کوئی اپنی قربانی کے جانور پر سوار ہو جائے۔ شعبی نے کہا: مجھ سے ابو بُردہ بن ابی موسیٰ نے اپنے والد کے حوالہ سے بیان کیا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: تین لوگ ایسے ہیں جن کو دوہرا اجر دیا جائے گا، ایک اہلِ کتاب میں سے وہ شخص جو اپنے نبی پر ایمان لایا اور پھر اس نبیﷺ کو پایا اور آپؐ پر بھی ایمان لایا اور آپؐ کی اتباع کی اور آپؐ کی تصدیق کی تو اس کے لئے دو اجر ہیں اور وہ غلام جو اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرے اور اپنے آقا کا حق (بھی) ادا کرے اس کے لئے دو اجر ہیں اور وہ شخص جس کی لونڈی ہو، وہ اس کو اچھا کھلائے پلائے اور اس کی اچھی تربیت کرے پھر اسے آزاد کرے اور اس سے نکاح کر لے تو اس کے لئے بھی دو اجر ہیں۔ پھر شعبی نے اس خراسانی سے کہا: یہ حدیث بغیر کسی معاوضہ کے لے لو، اس سے کم کے لئے آدمی مدینہ کا سفر کیا کرتا تھا۔
حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے عنقریب تم میں ابنِ مریمﷺ نازل ہوں گے منصف حکم کی حیثیت سے، وہ صلیب کو توڑیں گے اور خنزیر قتل کریں گے اور جزیہ موقوف کریں گے اور مال زیادہ ہو جائے گا یہاں تک کہ کوئی اسے قبول نہیں کرے گا۔ ابنِ عیینہ کی روایت میں یہ الفاظ ہیں وہ منصف امام اور سراپا عدل ہوگا اور یونس کی روایت میں حَکَمًا عَدْلًا ہے۔ اِمَامًا مُقْسِطًا کا ذکر نہیں اور صالح کی روایت میں حَکَمًا مُقْسِطًا ہے جیسے لیث کہتے ہیں ان کی روایت میں یہ بات بھی زائد ہے کہ یہاں تک کہ ایک سجدہ دنیا وما فیھا سے بہتر ہوگا پھر حضرت ابو ہریرہؓ کہتے تھے اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھو وَ اِنْ مِنْ اَھْلِ الْکِتَابِ۔ (ترجمہ): اور اہلِ کتاب میں سے کوئی (فریق) نہیں مگر اس کی موت سے پہلے یقینا اس پر ایمان لے آئے گا (النسآء: 160)
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا اللہ کی قسم: ابنِ مریم حَکَم عَدْل کی حیثیت سے ضرور نازل ہوں گے اور وہ لازمًا صلیب کو توڑ دیں گے اور خنزیر کو قتل کر دیں گے اور جزیہ موقوف کر دیں گے اور جوان اونٹنیاں چھوڑ دی جائیں گی اور ان پر (سوار ہو کر) دوڑایا نہیں جائے گا اور دشمنی اور باہمی بغض اور حسد جاتے رہیں گے اور وہ مال کی طرف بلائے گا مگر کوئی اس کو قبول نہیں کرے گا۔
حضرت ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: تمہارا کیا حال ہوگا جب ابنِ مریم تم میں نازل ہوگا اور تمہارا امام تم میں سے ہوگا۔
حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمہارا کیا حال ہوگا جب ابن مریم تم میں نازل ہوگا اور وہ تمہاری امامت کرے گا۔
حضرت ابو ہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: تمہارا کیا حال ہوگا جب ابنِ مریم تم میں نازل ہوگا اور تمہاری امامت تم میں سے ہوتے ہوئے کرے گا۔ میں نے ابنِ ابی ذئب سے کہا کہ اوزاعی نے زہری سے، انہوں نے نافع سے، انہوں نے حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت کی ہے کہ وَ اِمَامُکُمْ مِنْکُمْ۔ تو ابن ابی ذئب نے کہا: تمہیں پتہ ہے کہ أَمَّکُمْ مِنْکُمْ کا کیا مطلب ہے؟ میں نے کہا آپ مجھے بتا دیں۔ انہوں نے کہا: وہ تمہارے رب تبارک و تعالیٰ کی کتاب اور تمہارے نبیﷺ کی سنت کے مطابق امامت کریں گے۔
حضرت جابرؓ بن عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: میری امت کا ایک حصہ حق پر قائم رہتے ہوئے بر سرِ پیکار رہے گا اور قیامت تک غالب آتا رہے گا۔ فرمایا: پھر عیسیٰ بن مریمؑ نازل ہوں گے، ان کا امیر کہے گا آئیے اور ہمیں نماز پڑھائیں۔ تو وہ کہیں گے نہیں تم میں بعض بعض کے امیر مقرر ہیں یہ بات اللہ کی طرف سے اس امت کے لئے بطورِ عزت ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: وہ گھڑی قائم نہیں ہو گی جب تک سورج اپنے مغرب سے طلوع نہ ہو۔ جب وہ اپنے مغرب سے طلوع ہوگا تو سب لوگ ایمان لے آئیں گے۔ پس اس دن کسی ایسی جان کو اس کا ایمان فائدہ نہیں دے گا جو اس سے پہلے ایمان نہ لائی ہو یا اپنے ایمان کی حالت میں کوئی نیکی نہ کما چکی ہو۔ (الانعام: 159)
حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: تین باتیں ہیں جب وہ ظاہر ہو گئیں تو کسی نفس کو اس کا ایمان فائدہ نہیں دے گا جو پہلے ایمان نہیں لایا یا ایمان میں کوئی نیکی نہیں کمائی تھی مغرب سے سورج کا طلوع ہونا اور دجال اور دابۃ الارض۔
حضرت ابو ذرؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے ایک دن فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ یہ سورج کہاں جاتا ہے؟ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسولؐ بہتر جانتے ہیں۔ فرمایا: یہ چلتا رہتا ہے یہاں تک کہ عرش کے نیچے اپنے مستقر تک پہنچتا ہے وہاں سجدہ میں گر جاتا ہے اور اسی حالت میں رہتا ہے یہاں تک کہ اسے کہا جاتا ہے کہ اُٹھ اور جہاں سے آیا تھا واپس چلا جا۔ چنانچہ سورج واپس جاتا ہے اور پھر صبح کے وقت اپنے طلوع ہونے کی جگہ سے طلوع ہو جاتا ہے پھر چلتا رہتا ہے اور یہاں تک عرش کے نیچے اپنے مستقر تک پہنچتا ہے اور سجدہ میں گر جاتا ہے اور اسی حالت میں رہتا ہے یہاں تک کہ اسے کہا جاتا ہے اُٹھ اور جہاں سے آیا تھا وہیں لوٹ جا۔ چنانچہ وہ لوٹتا ہے اور صبح کے وقت اپنے طلوع ہونے کی جگہ سے طلوع ہوتا ہے۔ پھر وہ چلتا رہتا ہے اور لوگ اس میں کوئی اجنبیت محسوس نہیں کرتے یہاں تک کہ وہ عرش کے نیچے اپنے مستقر تک پہنچے گا اور اسے کہا جائے گا اپنے مغرب سے طلوع ہو جا اور وہ مغرب سے طلوع ہو جائے گا۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جانتے ہو یہ کب ہوگا؟ یہ اس وقت ہوگا جب کسی ایسی جان کو اس کا ایمان فائدہ نہیں دے گا جو اس سے پہلے ایمان نہ لائی ہو یا اپنے ایمان کی حالت میں کوئی نیکی نہ کما چکی ہو۔ (الانعام: 159)