بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 319 hadith
حضرت ابو شریحؓ خزاعیؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جو شخص اللہ اور آخری دن پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے ہمسایہ سے حسنِ سلوک کرے اور جو شخص اللہ اور آخری دن پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے مہمان کا احترام کرے اور جو شخص اللہ اور آخری دن پر ایمان رکھتا ہے وہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔
طارق بن شہاب کہتے ہیں کہ سب سے پہلے جس نے عید کے دن نماز سے پہلے خطبہ دینا شروع کیا وہ مروان تھا۔ ایک شخص کھڑا ہو گیا اور کہا نماز خطبہ سے پہلے ہوتی ہے۔ اس نے کہا یہاں جو ہوا کرتا تھا اس کو ترک کر دیا گیا ہے۔ اس پر حضرت ابو سعیدؓ نے کہا اس شخص نے اپنا فرض ادا کر دیا۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے تم میں سے جو کوئی ناپسندیدہ کام دیکھے وہ اسے اپنے ہاتھ سے بدل دے، اگر اسے طاقت نہ ہو تو پھر اپنی زبان سے اور اگر یہ طاقت بھی نہ ہو تو اپنے دل سے اور یہ کمزور ترین ایمان ہے۔
حضرت عبداللہؓ بن مسعود کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھ سے پہلے کسی امت میں جو بھی نبی مبعوث کیا اس کے اس کی امت میں سے حواری اور صحابہ تھے جو اس کی سنت کو اختیار کرتے تھے اور اس کے احکام کی پیروی کرتے تھے۔ پھر ان کے بعد ایسے ناخلف پیدا ہوئے وہ جو کہتے تھے اس پر عمل نہیں کرتے تھے اور وہ کرتے تھے جس کا انہیں حکم نہیں دیا جاتا تھا جو اُن سے ہاتھ کے ذریعہ جہاد کرے وہ مومن ہے اور جو اُن سے زبان کے ذریعہ جہاد کرے وہ مومن ہے اور جو اُن کے ساتھ دل کے ساتھ جہاد کرے وہ مومن ہے اور اس کے بعد رائی کے دانہ کے برابر بھی ایمان نہیں۔ ابو رافع کہتے ہیں کہ میں نے یہ روایت حضرت عبداللہ بن عمرؓ کے پاس بیان کی تو انہوں نے میری بات سے انکار کر دیا۔ پھر حضرت ابن مسعودؓ آئے اور (وادی) قناۃ میں اترے تو حضرت عبداللہؓ بن عمرؓ نے مجھے بھی ساتھ چلنے کے لئے کہا۔ وہ ان کی عیادت کرنے جا رہے تھے۔ میں ان کے ساتھ گیا۔ جب ہم بیٹھے تو میں نے حضرت ابنؓ مسعود سے اس حدیث کے بارہ میں پوچھا تو انہوں نے مجھے وہ اسی طرح سنائی جس طرح میں نے حضرت ابنؓ عمر کو سنائی تھی صالح نے کہا ابو رافع سے یہ حدیث اسی طرح بیان کی گئی ہے۔ حضرت عبداللہؓ بن مسعود کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ہر نبی کے کچھ حواری ہوتے ہیں جو اس کی ہدایت سے ہدایت پاتے اور اس کی سنت پر چلتے ہیں۔ بقیہ روایت صالح کی روایت کی طرح ہے لیکن اس میں حضرت ابن مسعودؓ کے آنے اور حضرت ابن عمرؓ کے ساتھ ملاقات کا ذکر نہیں ہے۔
حضرت ابو مسعودؓ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے اپنے ہاتھ سے یمن کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا سنو ! ایمان یہاں ہے اور شدت اور سخت دلی اُن ہانکنے والوں میں ہے جو اونٹوں کی دُموں کے پاس ہیں جدھر سے شیطان کے سینگ طلوع ہوتے ہیں یعنی ربیعہ اور مضر قبائل میں۔ شیطان کے سینگ طلوع ہونے سے مراد ان فتنوں کا ظہور ہے جو مشرق سے ظاہر ہونے والے تھے۔
حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اہلِ یمن آئے ہیں وہ بہت نرم دل ہیں ایمان تو یمنی ہے اور سمجھ بوجھ بھی یمنی ہے اور حکمت بھی یمنی ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا تمہارے پاس اہلِ یمن آئے ہیں، ان کے قلوب بہت نرم اور ان کے دل بہت گداز ہیں۔ سمجھ بوجھ تو یمنی اور حکمت بھی یمنی ہے۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کفر کی چوٹی مشرق کی طرف ہے اور فخر اور تکبر گھوڑوں اور اونٹوں کے مالکوں میں ہے اونٹوں کے ہانکنے والوں اور اونٹ والوں میں ہے اور سکینت بھیڑ بکری والوں میں ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ایمان یمنی ہے اور کفر مشرق کی طرف ہے اور سکینت بھیڑ بکری والوں میں ہے اور فخر اور ریاء ہانکنے والوں، گھوڑے اور اونٹ رکھنے والوں میں ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ فخر اور تکبّر اونٹوں کے ہانکنے والوں اور اونٹوں کے مالکوں میں ہے اور بھیڑ بکری والوں میں سکینت ہے۔ شعیب نے زہری سے اسی سند سے اس جیسی روایت کی ہے اور یہ اضافہ کیا کہ ایمان یمنی ہے اور حکمت یمنی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " جَاءَ أَهْلُ الْيَمَنِ هُمْ أَرَقُّ أَفْئِدَةً وَأَضْعَفُ قُلُوبًا الإِيمَانُ يَمَانٍ وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ السَّكِينَةُ فِي أَهْلِ الْغَنَمِ وَالْفَخْرُ وَالْخُيَلاَءُ فِي الْفَدَّادِينَ أَهْلِ الْوَبَرِ قِبَلَ مَطْلِعِ الشَّمْسِ " ۔