بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 171 hadith
حضرت انسؓ بن مالک بیان کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا جو بھی جنت میں داخل ہوتا ہے اور وہ دنیا کی طرف لوٹنا پسند نہیں کرتا خواہ سب کچھ جو زمین پر ہے اس کا ہو، سوائے شہید کے۔ وہ تمنا کرتا ہے کہ وہ لوٹے اور (اللہ کی راہ میں) دس مرتبہ مارا جائے بوجہ اس اعزاز کے جو وہ دیکھتا ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ کی خدمت میں عرض کیا گیا اللہ عزوجل کی راہ میں جہاد کرنے کے برابر کونسی چیز ہے؟ آپؐ نے فرمایا تم اس کی طاقت نہیں رکھتے۔ راوی کہتے ہیں لوگوں نے دو یا تین مرتبہ آپؐ کی خدمت میں اس بات کو دہرایا۔ ہر دفعہ آپؐ فرماتے تم اس کی طاقت نہیں رکھتے۔ تیسری مرتبہ آپؐ نے فرمایا اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی حالت اس روزہ دار، عبادت گذار کی طرح ہے۔ اللہ کی آیات کی فرمانبرداری کرنے والا جو نہ روزہ چھوڑتا ہے نہ نماز یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والا واپس آجائے۔
حضرت نعمانؓ بن بشیر کہتے ہیں کہ میں رسول اللہﷺ کے منبر کے پاس تھا تو ایک شخص نے کہا کہ مجھے تو کوئی پرواہ نہیں کہ میں اسلام کے بعد کوئی عمل نہ کروں ہاں مگر میں حج کرنے والوں کو پانی پلاؤں گا اور دوسرے نے کہا کہ مجھے تو کوئی پرواہ نہیں کہ میں اسلام کے بعد کوئی عمل نہ کروں سوائے اس کے کہ میں مسجد حرام کو آباد کروں گا۔ ایک اور نے کہا کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنا اس سے زیادہ افضل ہے جو تم نے کہا۔ اس پر حضرت عمرؓ نے انہیں ڈانٹا اور فرمایا منبر رسولﷺ کے پاس اپنی آوازیں بلند نہ کرو اور وہ جمعہ کا دن تھا مگر جب میں نے جمعہ پڑھ لیا تو میں اندر گیا اور ان سے اس بارہ میں پوچھا جس میں تم نے اختلاف کیا تھا تو اللہ عزّوجل نازل فرما چکا ہے ’’اَجَعَلْتُمْ سِقَایَۃَ الْحَاجِّ وَعِمَارَۃَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ کَمَنْ اٰمَنَ بِاللَّہِ وَالْیَوم الْاٰخِرِ‘‘ الآخ کیا تم نے حج کرنے والوں کو پانی پلانا اور مسجد حرام کی دیکھ بھال کرنا ایسا ہی سمجھ رکھا ہے جیسے کوئی اللہ پر ایمان لائے اور آخرت کے دن پر بھی۔
حضرت انسؓ بن مالک سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا اللہ کی راہ میں ایک صبح نکلنا یا ایک شام نکلنا دنیا اور جو کچھ اس میں ہے اس سے بہتر ہے۔
حضرت سہل بن سعدؓ ساعدی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بندہ جو اللہ کی راہ میں صبح کو جاتا ہے وہ دنیا اور جو کچھ اس میں ہے سے بہتر ہے۔
حضرت سہل بن سعدؓ ساعدی سے روایت ہے نبیؐ نے فرمایا کہ صبح یا شام کے وقت اللہ کی راہ میں نکلنا دنیا اور جو کچھ اس میں ہے اس سے بہتر ہے۔ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہؐ نے فرمایا اگر میری امت کے کچھ لوگ نہ ہوتے۔۔۔ اور راوی نے باقی روایت بیان کی اور اس میں یہ بیان ہے کہ ضرور شام کے وقت اللہ کی راہ میں نکلنا یا صبح کے وقت دنیا و مافیھا سے بہت بہتر ہے۔
حضرت ابو ایّوبؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا اللہ کی راہ میں ایک صبح یا ایک شام نکلنا ہر اس چیز سے بہتر ہے جس پر سورج طلوع ہوتا ہے اور ڈوبتا ہے۔
حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا اے ابو سعید جو شخص اللہ کے رب ہونے پر اور اسلام کے دین ہونے پر اور محمدﷺ کے نبی ہونے پر راضی ہو اس کے لئے جنت واجب ہوگئی۔ حضرت ابو سعیدؓ کو یہ بات بہت پسند آئی تو انہوں نے کہا یا رسولؐ اللہ! یہ مجھے دوبارہ فرمایئے۔ آپؐ نے ایسا ہی کیا۔ پھر آپؐ نے فرمایا اور ایک اور عمل ہے جس کی وجہ سے بندے کو جنت میں سو درجے ملیں گے اور ہر درجے کے درمیان اتنا فاصلہ ہوگا جتنا آسمان اور زمین کے درمیان فاصلہ ہے۔ انہوں نے کہا یا رسولؐ اللہ! وہ کونسا عمل ہے؟ آپؐ نے فرمایا اللہ کی راہ میں جہاد کرنا، اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔
حضرت ابو قتادہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے اور ان سے فرمایا کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنا اور اللہ پر ایمان لانا سب سے افضل عمل ہے۔ اس پر ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! فرمائیے اگر میں اللہ کی راہ میں قتل کیا جاؤں میری خطائیں معاف کردی جائیں گی؟ اسے رسول اللہﷺ نے فرمایا ہاں اگر تو اللہ کی راہ میں قتل کیا جائے اور تو صبر کرنے والا ہو اور خدا کی رضا چاہنے والا ہو، آگے بڑھنے والا ہو پیٹھ دکھانے والا نہ ہو۔ پھر رسول اللہﷺ نے فرمایا تم نے کیا کہا تھا؟ اس نے کہا فرمائیے اگر میں اللہ کی راہ میں قتل کیا جاؤں تو کیا میری خطائیں معاف کردی جائیں گی؟ رسول اللہﷺ نے فرمایا ہاں اگر تو صبر کرنے والا ہو اور خدا کی رضا چاہنے والا ہو، آگے بڑھنے والا ہو، پیٹھ دکھانے والا نہ ہو، سوائے قرض کے کیونکہ جبرائیل علیہ السلام نے مجھ سے یہ کہا ہے۔ دیگر روایات میں (عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِﷺ أَنَّہُ قَامَ فِیْہِمْ۔۔۔ کی بجائے) جَائَ رَجُلٌ اِلَی رَسُوْلِ اللّٰہِﷺ اور أَنَّ رَجُلًا أَتَی النَّبِیَّﷺ سے شروع ہوتی ہیں اور یہ اضافہ بھی ہے کہ اس پوچھنے والے نے عرض کیا أَ رَأَ یْتَ اِنْ ضَرَبْتُ بِسَیْفِیْ۔۔۔
حضرت عبد اللہ بن عمر و بن عاصؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قرض کے علاوہ شہید کا ہر گناہ بخش دیا جائے گا۔