بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 171 hadith
حضرت جریر بن عبد اللہ ؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا۔ آپ ؐ گھوڑے کی پیشانی کے بالوں کو اپنی انگلی سے بٹا رہے تھے اور آپ ؐ فرما رہے تھے گھوڑوں کی پیشانیوں سے قیامت کے دن تک خیر وابستہ کر دی گئی ہے۔ اجر اور غنیمت۔
حضرت عروہ بارقیؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا گھوڑوں کی پیشانیوں سے قیامت کے دن تک خیر وابستہ کر دی گئی ہے۔ اجر اور غنیمت۔
حضرت عروہ بارِقیؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا بھلائی گھوڑے کی پیشانیوں سے وابستہ کر دی گئی ہے۔ راوی کہتے ہیں آپؐ سے عرض کیا گیا کیسے یا رسولؐ اللہ؟ آپؐ نے فرمایا اجر اور غنیمت قیامت کے دن تک۔ ایک اور روایت میں اَلْاَجْرَ وَالْمَغَنَمَ کا ذکر نہیں ہے۔
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ گھوڑوں کی پیشانیوں میں برکت ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہﷺ ’’شِکال‘‘ گھوڑے کو ناپسند کرتے تھے۔ ایک اور روایت میں یہ اضافہ ہے کہ شِکال وہ گھوڑا ہے کہ اس کے دائیں پاؤں اور بائیں ہاتھ میں سفیدی ہو یا دائیں ہاتھ میں اور بائیں پاؤں میں (سفیدی ہو)۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا اللہ اس شخص کا ضامن ہے جو اس کی راہ میں نکلتا ہے۔ اسے صرف میرے راستہ میں جہاد اور مجھ پر ایمان اور میرے رسولوں کی تصدیق ہی نکالتی ہے تو وہ میری ضمانت میں ہے کہ میں اُسے جنت میں داخل کروں یا اسے اس کی جائے رہائش میں لوٹا دوں جہاں سے وہ نکلا تھا۔ اجر یا غنیمت کے ساتھ جو اس نے حاصل کی۔ مجھے اس کی قسم جس کے ہاتھ میں محمدؐ کی جان ہے۔ کوئی بھی ایسا زخم نہیں ہے جو اللہ کی راہ میں لگے مگر وہ قیامت کے دن اسی حالت میں آئے گا جب کہ وہ زخم لگا تھا۔ اس کا رنگ تو خون کا رنگ ہوگا مگر اس کی خوشبو مشک کی ہوگی۔ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں محمدؐ کی جان ہے۔ اگر مسلمانوں پر بوجھ نہ ہوتا تو میں کسی ایسی مہم سے پیچھے نہ رہتا جو اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والی ہو مگر میں استطاعت نہیں رکھتا کہ انہیں سواری مہیا کروں اور نہ ہی وہ خود استطاعت رکھتے ہیں اور مجھ سے پیچھے رہنا ان پر گراں گذرتا ہے۔ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں محمدؐ کی جان ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ میں اللہ کی راہ میں جہاد کروں اور قتل کیا جاؤں پھر (زندہ ہوکر) جہاد کروں اور قتل کیا جاؤں پھر (زندہ ہوکر) جہاد کروں اور پھر قتل کیا جاؤں۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا اللہ نے اس شخص کی ضمانت دی ہے جو بھی اس کی راہ میں جہاد کرتا ہے اور وہ اپنے گھر سے محض اس کی راہ میں جہاد کی غرض سے اور اس کی باتوں کی تصدیق کے لئے نکلتا ہے کہ وہ اسے جنت میں داخل کرے یا اسے اس کے مسکن کی طرف جہاں سے وہ نکلا، اجر اور غنیمت کے ساتھ جو اس نے حاصل کئے واپس لوٹائے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کوئی شخص بھی اللہ کی راہ میں زخمی نہیں ہوتا _اور اللہ جانتا ہے کہ کون اُس کی راہ میں زخمی ہوا ہے_ مگر وہ قیامت کے دن اِس حال میں آئے گا کہ اس کے زخم سے خون بہہ رہا ہوگا۔ رنگ خون کا ہوگا اور خوشبو مشک کی خوشبو ہوگی۔
ہمَّام بن مُنَبّہ کہتے ہیں یہ رسول اللہﷺ کی وہ احادیث ہیں جو حضرت ابو ہریرہؓ نے ہم سے بیان کیں۔ پھر انہوں نے کچھ احادیث بیان کیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ہر وہ زخم جو کسی مسلمان کو اللہ کی راہ میں لگتا ہے۔ وہ قیامت کے دن اسی شکل میں ہوگا جب وہ زخم لگا تھا۔ خون پھوٹ کر بہے گا۔ رنگ خون کا ہوگا اور خوشبو مشک کی ہوگی۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا اس کی قسم جس کے ہاتھ میں محمدؐ کی جان ہے۔ اگر میں مؤمنوں پر بوجھ نہ ڈال دیتا تو میں کسی سریہ سے جو اللہ کی راہ میں (جہاد) کے لئے نکلتا پیچھے نہ رہتا۔ لیکن میں اتنی وسعت نہیں رکھتا کہ انہیں سواری مہیا کروں اور نہ ہی وہ اتنی وسعت رکھتے ہیں کہ میرے پیچھے آویں اور نہ ہی ان کے نفس یہ پسند کرتے ہیں کہ وہ میرے بعد بیٹھے رہیں۔ ایک روایت میں (خَلَفَ کی بجائے) خِلَافَ کا لفظ ہے اور (وَالَّذِیْ نَفْسُ مُحَمَّدؐ فِیْ یَدِہِ کی بجائے) وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہِ لَوَدِدْتُ اَنِّیْ اُقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ثُمَّ اُحْیٰ کے الفاظ ہیں۔ یعنی اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں چاہتا ہوں کہ اللہ کی راہ میں قتل کیا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں۔۔۔۔ ایک روایت میں (لَو لَا اَنْ اَشُقَّ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ کی بجائے) لَو لَا اَنْ اَشُقَ عَلَی اُمَّتِیْ کے الفاظ ہیں اور (مَا قَعَدْتُ خَلْفَ سَرِیَّۃٍ کی بجائے) لَاََحْبَبْتُ اَنْ لَا اَتَخَلَّفَ خَلْفَ سَرِیَّۃٍ کے الفاظ ہیں۔ ایک اور روایت میں مَا تَخَلَّفْتُ خِلَافَ سَرِیَّۃٍ تَغْزُو فِیْ سَبِیْلِ اللَّہِ تَعَالَی کے الفاظ ہیں۔
حضرت انسؓ بن مالک سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کوئی ایسا نفس نہیں جو مرے اور اس کے لئے اللہ کے حضور بھلائی ہو کہ اسے پسند آئے کہ وہ دنیا کی طرف لوٹے اس صورت میں بھی نہیں کہ دنیا و ما فیہا اس کے لئے ہو سوائے شہید کے۔ کیونکہ وہ تمنا کرتا ہے کہ وہ (دنیا کی طرف) لوٹے اور دنیا میں (اللہ کی راہ میں) مارا جائے کیونکہ وہ شہادت کی فضیلت دیکھتا ہے۔