بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 171 hadith
حضرت عبد اللہ بن عمروؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کوئی بھی بڑا یا چھوٹا لشکر جو غزوہ کرتا ہے اور مالِ غنیمت حاصل کرتا ہے اور سلامت رہتا ہے تو انہوں نے اپنے اجر کا دو تہائی حصہ حاصل کرلیا اور جو بڑا یا چھوٹا لشکر مالِ غنیمت حاصل نہ کرے اور اُن کو تکلیف پہنچے تو اُن کا اجر پورے کا پورا ہوگا۔
حضرت عمر بن خطابؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا اعمال کا دارومدار نیت پر ہے اور انسان کے لئے وہی کچھ ہے جس کی اس نے نیت کی۔ پس جس شخص کی ہجرت اللہ اور اس کے رسولؐ کے لئے ہے تو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسولؐ کے لئے ہے۔ اور جس کی ہجرت دنیا کے لئے ہے کہ وہ اُسے حاصل کرے یا کسی عورت کے لئے جس سے وہ شادی کرے تو اس کی ہجرت اسی کے لئے ہے جس کے لئے اس نے ہجرت کی۔ اور سفیان کی روایت میں ہے کہ میں نے حضرت عمر بن خطابؓ کو منبر پر سنا وہ نبیﷺ سے بیان کر رہے تھے۔
حضرت انسؓ بن مالک سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا جس نے سچے دل سے شہادت طلب کی تو وہ اسے دے دی گئی اگرچہ وہ (ظاہری طور پر) اسے نہ پہنچے۔
سہل بن ابی امامہ بن سہل بن حنیف نے اپنے باپ اور وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا جو شخص اللہ سے صدق سے شہادت مانگتا ہے اللہ اسے شہادت کے درجات تک پہنچا دے گا اگرچہ وہ اپنے بستر پر فوت ہو۔ ایک اور روایت میں بِصِدْقٍ کا ذکر نہیں کیا۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جو بغیر جہاد کئے مر گیا اور اپنے دل میں بھی جہاد کا خیال نہ کیا وہ نفاق کی ایک قسم پر مرا۔ عبداللہ بن مبارک کہتے ہیں کہ ہمارا خیال ہے یہ بات رسول اللہﷺ کے عہد کے متعلق ہے۔
حضرت جابرؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں ہم ایک غزوہ میں رسول اللہﷺ کے ساتھ تھے آپؐ نے فرمایا یقینا مدینہ میں بعض ایسے لوگ ہیں کہ تم کوئی سفر نہیں کرتے یا کوئی وادی طے نہیں کرتے مگر وہ تمہارے ساتھ ہوتے ہیں انہیں بیماری نے روک لیا ہے۔ ایک اور روایت میں (اِلَّا کَانُوْا مَعَکُمْ کی بجائے) اِلَّا شَرِکُوْکُمْ فیِ الْاَجْرِ کے الفاظ ہیں یعنی مگر وہ تمہارے ساتھ اجر میں شریک ہیں۔
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ حضرت ام حرامؓ بنت ملحان کے ہاں جاتے تھے وہ آپؐ کو کھانا پیش کرتی تھیں اور ام حرامؓ حضرت عبادہ بن صامتؓ کے نکاح میں تھیں۔ ایک دن رسول اللہﷺ ان کے ہاں گئے۔ انہوں نے آپؐ کو کھانا پیش کیا۔ پھر وہ بیٹھ کر آپؐ کا سر دیکھنے لگیں اور رسول اللہﷺ سو گئے۔ پھر آپؐ ہنستے ہوئے بیدار ہوئے۔ وہ کہتی ہیں میں نے کہا یا رسولؐ اللہ ! آپؐ کیوں ہنس رہے ہیں؟ آپؐ نے فرمایا میری امت کے کچھ لوگ میرے سامنے پیش کئے گئے جو اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کی غرض سے اِس سمندر کی لہروں پر اس طرح سوار تھے جیسے بادشاہ تختوں پر یا فرمایا بادشاہوں کی طرح تختوں پر _ راوی کو شک ہے کہ ان دونوں میں سے کون سے الفاظ فرمائے _ راوی کہتے ہیں وہ کہتی ہیں میں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! اللہ سے دعا کیجئے کہ اللہ مجھے بھی اُن میں سے بنا دے تو آپؐ نے اُن کے لئے دعا کی۔ پھر آپؐ نے سر رکھا اور سو گئے۔ پھر آپؐ بیدار ہوئے تو ہنس رہے تھے۔ وہ کہتی ہیں میں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! آپؐ کیوں ہنس رہے ہیں؟ آپؐ نے فرمایا میری امت کے بعض لوگ میرے سامنے اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے پیش کئے گئے جیسا کہ پہلی بار فرمایا تھا۔ وہ کہتی ہیں میں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! اللہ سے دعا کیجئے کہ مجھے ان میں سے بنا دے۔ تو آپؐ نے فرمایا تم پہلوں میں سے ہو۔ پھر حضرت ام حرامؓ بنت ملحان امیر معاویہ کے زمانہ میں سمندری سفر پر گئیں۔ جب سمندر سے باہر نکلیں تو اپنی سواری سے گر کر فوت ہوگئیں۔
حضرت انسؓ بن مالک حضرت ام حرامؓ سے روایت کرتے ہیں اور وہ حضرت انسؓ کی خالہ تھیں وہ کہتی ہیں ایک دن نبیﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور ہمارے ہاں قیلولہ فرمایا۔ پھر آپؐ ہنستے ہوئے بیدار ہوئے۔ میں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! میرے ماں باپ آپؐ پر قربان آپؐ کو کس بات نے ہنسایا ہے؟ آپؐ نے فرمایا مجھے اپنی امت کے بعض افراد سمندر میں سوار دکھائے گئے جیسے بادشاہ تختوں پر۔ میں نے عرض کیا اللہ سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے ان میں سے بنادے۔ آپؐ نے فرمایا تم ان میں سے ہو۔ وہ کہتی ہیں پھر آپؐ سو گئے اور اسی طرح ہنستے ہوئے بیدار ہوئے۔ میں نے آپؐ سے پوچھا آپؐ نے اپنی اسی بات کی طرح فرمایا۔ میں نے عرض کیا میرے لئے دعا کیجئے کہ اللہ مجھے ان میں سے بنادے۔ آپؐ نے فرمایا تم پہلوں میں سے ہو۔ راوی کہتے ہیں اس کے بعد ان سے حضرت عبادہؓ بن صامت نے شادی کی اور انہوں نے سمندر میں جہاد کیا اور انہیں بھی اپنے ساتھ لے گئے۔ جب وہ آئیں تو ان کے پاس ایک خچر لایا گیا۔ وہ اس پر سوار ہوئیں اس نے انہیں گرا دیا تو ان کی گردن ٹوٹ گئی۔ ایک اور روایت میں حضرت انسؓ بن مالک اپنی خالہ حضرت ام حرامؓ بنت ملحان سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بتایا ایک دن رسول اللہﷺ میرے ہاں سو گئے۔ پھر آپؐ ہنستے ہوئے بیدار ہوئے۔ وہ کہتی ہیں میں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! آپؐ کو کس بات نے ہنسایا ہے؟ آپؐ نے فرمایا میری امت کے بعض لوگ میرے سامنے پیش کئے گئے جو سبز سمندر میں سوار تھے۔ باقی روایت پہلی روایت کی طرح ہے۔ ایک اور روایت میں ہے حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہﷺ بنت ملحانؓ کے پاس تشریف لائے جو حضرت انسؓ کی خالہ تھیں اور ان کے ہاں آرام کیا۔
حضرت سلمانؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ایک دن رات سرحدوں کی نگرانی مہینہ بھر کے روزوں اور عبادت سے بہتر ہے۔ اور اگر وہ مر جائے تو اس کا وہ کام جو وہ کیا کرتا تھا اس پر چلتا رہے گا۔ اور اس کا رزق اس کے لئے جاری ہوگا اور وہ فتنہ پرداز سے امن میں آجائے گا۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ایک شخص نے راہ چلتے ہوئے کانٹوں کی ایک شاخ رستہ میں دیکھی تو اس نے اسے ہٹا دیا اللہ تعالیٰ نے اس کی قدر کی اور اسے بخش دیا اور آپؐ نے فرمایا شہید ہونے والے پانچ ہیں۔ طاعون سے مرنے والا۔ پیٹ کی بیماری سے مرنے والا، ڈوب کر مرنے والا، دب کر مرنے والا اور اللہ عزوجل کی راہ میں شہید ہونے والا۔