بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 98 hadith
عبداللہ بن ابی ملیکہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عثمان بن عفّانؓ کی بیٹی مکہ میں وفات پا گئیں۔ وہ کہتے ہیں ہم آئے تاکہ ان کی نمازِ جنازہ میں شامل ہوں۔ وہ کہتے ہیں اس (جنازہ) میں حضرت ابن عمرؓ اور حضرت ابن عباسؓ بھی شامل تھے۔ وہ کہتے ہیں اور میں ان دونوں کے درمیان بیٹھا ہوا تھا۔ وہ مزید کہتے ہیں میں ان میں سے ایک کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا کہ پھر دوسرے آئے اور میرے پہلو میں آ کر بیٹھ گئے۔ حضرت عبداللہؓ بن عمرؓ نے عمرو بن عثمان سے کہا اور وہ ان کے سامنے تھے۔ کیا تم رونے سے منع نہیں کرو گے؟ جبکہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے کہ میت کو اس کے اہل کے اس پر رونے کی وجہ سے ضرور عذاب دیا جاتا ہے۔ حضرت ابن عباسؓ نے کہا کہ حضرت عمرؓ بَعْضَ ذَلِکَ کہا کرتے تھے (یعنی بعض انداز کے رونے پر)۔ پھر انہوں نے یہ روایت بیان کی اور کہا میں حضرت عمرؓ کے ساتھ مکّہ سے نکلا یہاں تک کہ جب ہم بیداء (مقام) پر پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک قافلہ درخت کے سایہ میں اترا ہوا ہے۔ آپؓ نے کہا جاؤ اور دیکھو یہ قافلہ والے کون ہیں؟ میں نے دیکھا تو وہ حضرت صہیبؓ تھے۔ وہ کہتے ہیں میں نے آپ (حضرت عمرؓ) کو اطلاع دی۔ انہوں نے فرمایا اسے میرے پاس بلا لاؤ۔ وہ کہتے ہیں میں حضرت صہیبؓ کے پاس گیا اور میں نے کہا چلو اور امیر المؤمنین سے ملو۔ پھر جب حضرت عمرؓ پر حملہ ہوا حضرت صہیبؓ روتے ہوئے آئے وہ کہہ رہے تھے ہائے میرا بھائی! ہائے میرا دوست! حضرت عمرؓ نے کہا اے صہیب! کیا تم مجھ پر روتے ہو اور رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے کہ میّت کو اپنے گھر والوں کے اس پر بعض (انداز سے) رونے کی وجہ سے عذاب ملتا ہے۔ پھر حضرت ابن عباسؓ نے کہا جب حضرت عمرؓ وفات پا گئے تو میں نے حضرت عائشہؓ سے اس (بات) کا تذکرہ کیا۔ انہوں نے کہا اللہ تعالیٰ حضرت عمرؓ پر رحم فرمائے۔ نہیں، اللہ کی قسم! رسول اللہﷺ نے یہ نہیں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ مؤمن کو کسی کے رونے کی وجہ سے عذاب دیتا ہے بلکہ آپؐ نے فرمایا تھا کہ کافر کو اللہ تعالیٰ اس پر اس کے اہل کے رونے کی وجہ سے عذاب میں بڑھاتا ہے۔ (راوی) کہتے ہیں حضرت عائشہؓ نے کہا تمہارے لئے قرآن کافی ہے ’’اور کوئی بوجھ اٹھانے والی کسی کا بوجھ نہیں اٹھاتی‘‘ (الاسراء: 16) راوی کہتے ہیں اس پر حضرت ابن عباسؓ نے کہا اور اللہ ہی ہنساتا اور رُلاتا ہے (النجم: 44) ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں اللہ کی قسم! حضرت ابن عمرؓ نے کچھ نہیں کہا۔ عبد الرحمان بن بشر کی روایت جو ابن ملیکہ سے ہے اس میں (بنت عثمانؓ بن عفان) کے بجائے کُنَّا فِی جَنَازَۃِ اُمِّ اَبَانَ بِنْتِ عُثْمَانَ کے الفاظ ہیں اور باقی روایت اس طرح ہے اور حضرت عمرؓ سے نبیﷺ تک مرفوع ہونے کی صراحت نہیں کی جیسے ایوب اور ابن جریج نے کی ہے اور ان دونوں کی روایت عمرو کی روایت سے زیادہ مکمل ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میت کو زندوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔
ہشام بن عروہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا حضرت عائشہؓ کے پاس حضرت ابن عمرؓ کی اس بات کا ذکر ہوا کہ میّت کو اس کے گھر والوں کے اس پر رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔ انہوں نے فرمایا اللہ تعالیٰ ابو عبدالرحمان پر رحم فرمائے۔ انہوں نے ایک بات سنی پھر وہ انہیں یاد نہ رہی۔ بات یہ تھی ایک یہودی کا جنازہ رسول اللہﷺ کے سامنے سے گزرا اور وہ لوگ اس پر رو رہے تھے تو آپؐ نے فرمایا تم روتے ہو اور یقینا اسے عذاب دیا جا رہا ہے۔
ہشام اپنے والد سے روایت کرتے ہیں حضرت عائشہؓ کے پاس ذکر ہوا کہ حضرت ابن عمرؓ یہ بات نبیﷺ تک پہنچاتے تھے کہ میّت کو گھر والوں کے اس پر رونے کی وجہ سے اس کی قبر میں عذاب دیا جاتا ہے۔ انہوں (حضرت عائشہؓ ) نے فرمایا انہیں بھول ہوئی۔ رسول اللہﷺ نے صرف یہ فرمایا تھا اسے اس کی غلطی یا اس کے گناہ کی وجہ سے عذاب دیا جا رہا ہے۔ اور اس کے گھر والے اب اس پر رو رہے ہیں۔ اور یہ آپؐ کے اس فرمان کی طرح ہے جب رسول اللہﷺ بدر کے دن گڑھے پر کھڑے ہوئے اور اس میں مشرکوں میں سے بدر میں ہلاک ہونے والے پڑے ہوئے تھے۔ آپؐ نے ان سے جو فرمایا سو فرمایا۔ یہ یقینا وہ سن رہے ہیں جو میں کہہ رہا ہوں۔ یقینا ان (ابن عمرؓ ) کو اس میں بھول ہوئی۔ آپؐ نے صرف یہ فرمایا تھا کہ یقینا اب وہ جانتے ہیں جو کچھ میں ان سے کہتا تھا وہ حق ہے۔ پھر آپؓ (حضرت عائشہؓ ) نے یہ آیات پڑھیں اِنَّکَ لَا تُسْمِعُ۔۔۔ (النمل: 81) ترجمہ: تو ہرگز مُردوں کو نہیں سُنا سکتا وَمَا اَنْتَ بِمُسْمِعٍ۔۔۔ (فاطر: 23) اور جو قبروں میں پڑے ہوئے ہیں انہیں ہرگز نہیں سنا سکتا۔ آپؐ نے یہ اس وقت فرمایا جب انہوں نے آگ میں اپنی جگہیں بنا لی تھیں۔
حضرت عمرہ بنتِ عبدالرحمان سے روایت ہے وہ بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے حضرت عائشہؓ سے سنا جبکہ ان سے ذکر کیا گیا تھا کہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ میّت کو زندوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔ حضرت عائشہؓ نے کہا اللہ تعالیٰ ابو عبدالرحمان کی مغفرت فرمائے۔ انہوں نے (ارادۃً) غلط نہیں کہا مگر بھول گئے ہیں یا انہیں غلط فہمی ہوئی۔ بات یہ ہوئی کہ رسول اللہﷺ ایک یہودیہ کے پاس سے گزرے جس پر رویا جا رہا تھا۔ آپؐ نے فرمایا یہ اس پر رو رہے ہیں اور اسے اس کی قبر میں عذاب دیا جا رہا ہے۔
علی بن ربیعہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کوفہ میں سب سے پہلے جس پر نوحہ کیا گیا۔ وہ قرظہ بن کعب تھے۔ اس پر حضرت مغیرہ بن شعبہؓ نے کہا میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے جس پر نوحہ کیا جائے یقینا اسے اس نوحہ کی وجہ سے جو اس پر کیا گیا قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا۔
حضرت ابو مالک اشعریؓ نے بیان کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا چار چیزیں میری امت میں جاہلیت کے معاملات میں سے ہیں جسے وہ نہیں چھوڑیں گے۔ حسب میں فخر اور نسب میں طعنہ زنی، ستاروں کے ذریعہ بارش طلب کرنا اور نوحہ کرنا اور فرمایا نوحہ کرنے والی جب اپنی موت سے پہلے توبہ نہ کرے تو قیامت کے دن اسے اٹھایا جائے گا کہ اس پر تارکول کا لباس ہوگا اور قمیص خارش کی ہوگی۔
عمرہ کہتی ہیں انہوں نے حضرت عائشہؓ کو فرماتے ہوئے سنا جب رسول اللہﷺ کے پاس حضرت زید بن حارثہؓ اور حضرت جعفر بن ابی طالبؓ اور حضرت عبداللہ بن رواحہؓ کی شہادت کی خبر آئی، رسول اللہﷺ تشریف فرما تھے۔ آپؐ غمگین نظر آ رہے تھے۔ وہ فرماتی ہیں میں دروازہ کے سوراخ سے دیکھ رہی تھی کہ ایک شخص آپؐ کے پاس آیا۔ اُس نے کہا یا رسولؐ اللہ! جعفرؓ (کے خاندان) کی خواتین۔۔۔ اور اس نے ان کے رونے کا ذکر کیا۔ آپؐ نے اسے ارشاد فرمایا کہ وہ جا کر انہیں منع کرے وہ گیا اور پھر آپؐ کے پاس آ کر بتایا کہ انہوں نے اس کی بات نہیں مانی۔ آپؐ نے اسے دوبارہ ارشاد فرمایا کہ وہ جائے اور ان کو منع کرے۔ وہ گیا پھر آپؐ کے پاس آیا اور کہا خدا کی قسم یا رسولؐ اللہ! وہ ہم پر غالب آ گئی ہیں۔ راویہ کہتی ہیں حضرت عائشہؓ بیان کرتی تھیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جاؤ اور ان کے منہ میں مٹّی ڈالو۔ (یعنی انہیں ان کے حال پر چھوڑ دو)۔ حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں میں نے کہا اللہ تمہاری ناک خاک آلودہ کرے خدا کی قسم! نہ تو تم وہ کر سکے ہو جو تمہیں رسول اللہﷺ نے حکم دیا ہے اور نہ تم رسول اللہﷺ کو تکلیف دینے سے باز آتے ہو۔ عبدالعزیز کی روایت میں ہے اور تم رسول اللہﷺ کو تنگ کرنے سے باز نہیں آتے۔
حضرت ام عطیہّؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ہم سے بیعت کے ساتھ عہد لیا کہ ہم نوحہ نہ کریں گی۔ پس (حقیقتًا) ہم میں سے صرف ان پانچ عورتوں نے ہی یہ عہد نبھایا۔ ام سلیم، ام العلاء، ابو سبرہ کی بیٹی معاذ کی بیوی یا ابو سبرہ کی بیٹی اور معاذ کی بیوی۔
حضرت ام عطیہؓ سے روایت ہے وہ کہتی ہیں رسول اللہ ﷺ نے بیعت میں ہم سے یہ عہد لیا تھا کہ ہم نوحہ نہیں کریں گی۔ پھر ہم میں سے پانچ نے ہی اس کا حق ادا کیا۔ ان میں سے ام سلیمؓ بھی تھیں۔