بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 98 hadith
ابو سلمہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں نے نبی ﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہؓ سے پوچھا میں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کتنے (کپڑوں) میں کفن دئیے گئے تھے؟ انہوں نے فرمایا تین سحولی کپڑوں میں۔
ام المؤمنین حضرت عائشہؓ نے فرمایا کہ جب رسول اللہﷺ کی وفات ہوئی تو آپؐ پر یمنی چادر ڈالی گئی۔
حضرت جابر بن عبداللہؓ بیان کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے ایک دن خطبہ ارشاد فرمایا۔ آپؐ نے اپنے صحابہؓ میں سے ایک شخص کا ذکر فرمایا جو فوت ہوگیا تھا اور اسے معمولی سا کفن دے کر رات کو دفن کر دیا گیا تھا۔ نبیﷺ خفا ہوئے کہ رات کے وقت ایک شخص کو دفن کیا جائے یہاں تک کہ اس کی نماز جنازہ ادا کی جائے سوائے اس کے کہ انسان اس پر مجبور ہو جائے اور نبیﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو کفن دے تو چاہیے کہ اسے اچھی طرح کفن دے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جنازہ جلدی لے جاؤ۔ اگر تو وہ نیک ہے تو بھلائی ہی ہے _غالبًا آپؐ نے فرمایا_ جس کی طرف تم اسے آگے بھیجتے ہو اور اگر اس کے علاوہ ہے تو بُرائی ہے جسے تم اپنی گردنوں سے اُتارتے ہو۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے سنا۔ جنازہ جلدی لے جاؤ۔ اگر وہ نیک ہے تو تم اس کو بھلائی کے قریب کر دو گے۔ اگر کچھ اس کے علاوہ ہے تو شرّ ہے تم اسے اپنی گردنوں سے اتار دو گے۔
حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جو جنازے میں حاضر ہوا یہانتک کہ وہ (جنازہ) پڑھا گیا۔ اس کے لئے ایک قیراط ہے اور جو اس میں شریک ہوا یہانتک کہ وہ دفن کیا گیا اس کے لئے دو قیراط ہیں۔ پوچھا گیا دو قیراط کیا ہیں؟ فرمایا جیسے دو بڑے پہاڑ۔ حضرت ابن عمرؓ جنازہ پڑھنے کے بعد پھر چلے جاتے تھے۔ جب ان کو حضرت ابو ہریرہؓ کی روایت پہنچی تو کہنے لگے ہم نے بہت قیراط ضائع کر دئیے۔ معمر کی روایت میں جو حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے حضرت ابوہریرہؓ نبیﷺ کے اس ارشاد کہ دو بڑے پہاڑوں کے الفاظ تک کا ذکر ہے۔ اس کے بعد انہوں نے ذکر نہیں کیا اور عبدالاعلیٰ کی روایت میں (حَتّٰی تُدْفَنَ کی بجائے) حَتّٰی یُفْرَغَ مِنْھَا کے الفاظ ہیں اور عبدالرزاق کی عبارت میں حَتّٰی تُوْضَعَ فِی اللَّحْدِ کے الفاظ ہیں حضرت ابو ہریرہؓ سے دوسری روایت میں یہ ذکر ہے کہ جو (جنازہ کے) پیچھے جائے یہانتک کہ اُسے دفن کیا جائے۔ عقیل بن خالد کی روایت میں جو معمر کی روایت کے مطابق ہے حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے اس میں یہ الفاظ ہیں مَنِ اتَّبَعَھَا حَتّٰی تُدْفَنَ۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا جس نے کوئی جنازہ پڑھا مگر اس کے ساتھ نہ گیا اس کے لئے ایک قیراط ہے۔ اگر وہ اس کے ساتھ گیا تو اس کے لئے دو قیراط ہیں۔ عرض کیا گیا دو قیراط کیا ہیں؟ آپؐ نے فرمایا ان دونوں میں چھوٹا (قیراط) بھی احد کے برابر ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جس نے کوئی نمازِ جنازہ پڑھی تو اس کے لئے ایک قیراط ہے اور جو اس کے ساتھ گیا یہانتک کہ وہ (جنازہ) قبر میں رکھا گیا تو اس کے لئے دو قیراط ہیں۔ راوی کہتے ہیں میں نے کہا اے ابو ہریرہؓ قیراط کیا ہے؟ انہوں نے کہا احد کے برابر۔
نافع کہتے ہیں حضرت ابن عمرؓ سے کہا گیا کہ حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے سنا ہے جو جنازہ کے ساتھ جاتا ہے اس کے لیے ایک قیراط کا اجر ہے۔ حضرت ابن عمرؓ نے کہا حضرت ابو ہریرہؓ نے ہم سے بہت سی روایات بیان کی ہیں۔ پھر انہوں نے حضرت عائشہؓ کی طرف (کسی کو) پیغام دے کر بھیجا اور ان سے پوچھا انہوں نے حضرت ابو ہریرہؓ کی تصدیق کی۔ اس پر حضرت ابن عمرؓ نے کہا ہم نے بہت سے قیراط (حاصل کرنے میں) کوتاہی کی۔
داؤد بن عامر بن سعدؓ بن ابی وقاص نے اپنے والد سے بیان کیا کہ وہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ خباب صاحب مقصورہ آئے اور کہا اے عبداللہؓ بن عمر! کیا آپ نہیں سنتے جو حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے سنا جو گھر سے جنازہ کے ساتھ نکلا اور اس کی نماز جنازہ پڑھی۔ پھر اس کے ساتھ گیا یہانتک کہ دفن کیا گیا تو اس کے لئے دو قیراط اجر ہے۔ ہر قیراط احد کے برابر ہے اور جس نے اس کی نماز (جنازہ) پڑھی، پھر واپس چلا گیا تو اس کے لئے احد کے برابر ثواب ہے۔ حضرت ابن عمرؓ نے خباب کو حضرت عائشہؓ کی طرف بھجوایا کہ وہ ان سے حضرت ابو ہریرہؓ کی روایت کے بارہ میں پوچھیں پھر آ کر انہیں بتائیں کہ حضرت عائشہؓ نے کیا کہا ہے۔ حضرت ابن عمرؓ مسجد کے کنکروں کی ایک مٹھی لے کر اپنے ہاتھ میں الٹ پلٹ کرنے لگے یہانتک کہ قاصد ان کی طرف واپس آیا۔ اور کہا کہ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ حضرت ابو ہریرہؓ نے درست کہا۔ حضرت ابن عمرؓ نے ان کنکریوں کو جو ان کے ہاتھ میں تھیں زمین پر پھینکا پھر کہا ہم نے بہت سے قیراطوں کے بارہ میں کوتاہی کی۔