بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 98 hadith
حضرت ام عطیہؓ سے روایت ہے وہ کہتی ہیں جب یہ آیت نازل ہوئی۔ یُبَایِعْنَکَ۔۔۔ الخ: اے نبی! جب عورتیں تیری بیعت کریں کہ وہ کسی کو اللہ کا شریک نہیں ٹھہرائیں گی۔۔۔۔ اور نہ ہی معروف (امور) میں تیری نافرمانی کریں گی (الممتحنۃ: 13) انہوں نے کہا اس (معروف) میں نوحہ بھی تھا۔ انہوں نے کہا میں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! سوائے فلاں خاندان کے کیونکہ انہوں نے جاہلیت میں (نوحہ کرنے میں) میرا ساتھ دیا تھا۔ اب میرے لئے اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں کہ میں ان کا ساتھ دوں۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا سوائے فلاں خاندان کے۔
حضرت ام عطیہؓ کہتی ہیں ہمیں جنازوں کے پیچھے جانے سے منع کیا جاتا تھا مگر اس بارہ میں ہمیں سختی سے نہیں کہا جاتا تھا۔
حضرت ام عطیہؓ سے روایت ہے وہ کہتی ہیں ہمیں جنازوں کے پیچھے جانے سے روکا جاتا تھا مگر ہمیں اس بارہ میں سختی سے نہیں کہا جاتا تھا۔
حضرت ام عطیہؓ سے روایت ہے وہ کہتی ہیں نبی ﷺ ہمارے پاس آئے اور ہم آپؐ کی بیٹی کو غسل دے رہے تھے۔ آپؐ نے فرمایا اس کو تین یا پانچ مرتبہ غسل دینا، یا اگر تم (ضرورت) سمجھو تو اس سے زیادہ مرتبہ (غسل دو) پانی اور بیری (کے پتّوں سے) غسل دینا اور آخر میں کافور یا فرمایا کہ کچھ کافور ڈال دینا۔ پھر جب تم فارغ ہو تو مجھے اطلاع کرنا۔ جب ہم فارغ ہوئے ہم نے آپؐ کو اطلاع دی۔ آپؐ نے ہمیں اپنا ازار دیا اور فرمایا اس کو ان کا شعار بنا دینا۔ حضرت ام عطیہؓ سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ ہم نے ان کی تین مینڈھیاں بنائیں۔ حضرت ام عطیہؓ سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ نبی ﷺ کی ایک بیٹی فوت ہو گئیں اور ابن عُلیّہ کی روایت میں ہے کہ حضرت ام عطیہؓ نے کہا ہمارے پاس رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور ہم آپؐ کی صاحبزادی کو غسل دے رہے تھے اور مالک کی روایت میں ہے حضرت ام عطیہؓ نے کہا ہمارے پاس رسول اللہ ﷺ تشریف لائے۔ جب آپؐ کی صاحبزادی کی وفات ہوئی۔ باقی روایت پہلی روایت کی طرح ہے۔ دوسری روایت میں حضرت ام عطیہؓ سے یہی مروی ہے سوائے اس کے کہ اس میں یہ ذکر ہے کہ تین دفعہ یا پانچ دفعہ یا سات دفعہ یا اگر تم دیکھو تو اس سے زیادہ (غسل دو)۔ (راویہ) حفصہ حضرت ام عطیہؓ سے روایت کرتی ہیں کہ ہم نے (حضورؐ کی) اس (صاحبزادی) کی تین مینڈھیاں بنائیں تھیں۔ شعار اس کپڑے کو کہتے ہیں جو بدن کے ساتھ لگتا ہو۔ حضرت ام عطیہؓ سے روایت ہے وہ کہتی ہیں (کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا) اس کو طاق تعداد میں غسل دینا، تین یا پانچ یا سات دفعہ۔ راوی کہتے ہیں حضرت ام عطیہؓ نے کہا ہم نے ان کی تین مینڈھیاں بنائی تھیں۔
حضرت ام عطیہؓ سے روایت ہے وہ کہتی ہیں جب رسول اللہﷺ کی بیٹی زینب فوت ہوئیں تو رسول اللہﷺ نے ہمیں فرمایا اس کو طاق تین یا پانچ دفعہ غسل دینا اور پانچویں دفعہ کافور ڈالنا یا فرمایا کچھ کافور ڈالنا۔ جب تم ان کو غسل دے چکو تو مجھے اطلاع کرنا۔ وہ کہتی ہیں ہم نے آپؐ کو اطلاع دی۔ آپؐ نے ہمیں اپنا ازار عطا فرمایا اور فرمایا اسے ان کا شعار بنا دینا۔ حضرت ام عطیہؓ سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ ہمارے پاس رسول اللہﷺ تشریف لائے اور ہم آپؐ کی ایک صاحبزادی کو غسل دے رہے تھے۔ آپؐ نے فرمایا اسے طاق پانچ یا اس سے زیادہ دفعہ غسل دینا۔ ایک اور روایت میں ہے انہوں نے کہا ہم نے ان کے بالوں کی تین مینڈھیاں بنائیں۔ (سر کے) دونوں طرف اور سامنے۔
حضرت ام عطیہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے جب انہیں حکم دیا کہ وہ آپؐ کی بیٹی کو غسل دیں تو آپؐ نے فرمایا تھا اس کے داہنے پہلوؤں سے اور وضوء کے اعضاء سے شروع کرنا۔
حضرت ام عطیہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے انہیں اپنی بیٹی کے غسل کے بارہ میں فرمایا کہ اس کے داہنے پہلوؤں اور وضوء کے اعضاء سے شروع کرنا۔
حضرت خبابؓ بن الارت سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم نے اللہ کی راہ میں رسول اللہﷺ کے ساتھ ہجرت کی۔ ہم اللہ کی رضا چاہتے تھے۔ ہمارا اجر اللہ پر واجب ہو گیا۔ ہم میں سے جو گزر گئے انہوں نے اپنے اجر میں سے کچھ نہ کھایا۔ ان میں حضرت مُصعب بن عُمَیرؓ بھی تھے وہ احد کے دن شہید ہوئے۔ ان کے لئے سوائے ایک چادر کے کوئی چیز نہ پائی گئی جس میں ان کو کفن دیا جائے۔ وہ چادر جب ہم ان کے سر پر ڈالتے تھے تو ان کے پاؤں باہر نکل آتے اور جب ہم ان کے پاؤں پر ڈالتے تھے تو ان کا سر باہر رہ جاتا تھا۔ اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا اس سے ان کا سر (اور جسم وغیرہ) ڈھانک دو اور ان کے پاؤں پر اذخر (گھاس) ڈال دو اور ہم میں سے وہ بھی ہیں جن کا پھل ان کے لئے پک چکا ہے اور وہ اسے چن رہے ہیں۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہﷺ کو تین سفید رنگ کے سوتی سحولی کپڑوں میں کفن دیا گیا تھا ان میں قمیص اور عمامہ نہیں تھا۔ باقی رہا چادروں کا جوڑا اس کے بارہ میں لوگوں کو اشتباہ ہوا کیونکہ یہ آپؐ کو اس میں کفن دینے کے لئے خریدا گیا تھا اور تین سفید سحولی کپڑوں میں آپؐ کو کفن دیا گیا۔ وہ استعمال نہیں کیا گیا اور حضرت عبداللہ بن ابی بکرؓ نے لے لیا اور کہا میں یہ سنبھال کر رکھوں گا تاکہ مجھے اس میں کفن دیا جائے۔ پھر انہوں نے کہا اگر اللہ تعالیٰ اپنے نبیﷺ کے لئے یہ پسند کرتا تو وہ ضرور ان میں آپؐ کو کفن دلواتا۔ چنانچہ انہوں نے وہ بیچ دیا اور اس کی قیمت صدقہ کردی۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں رسول اللہﷺ کو دو یمنی چادروں میں لپیٹا گیا تھا جو عبداللہ بن ابی بکرؓ کی تھیں۔ پھر وہ اتار لی گئیں اور آپؐ کو تین یمنی سحولی کپڑوں میں کفن دیا گیا۔ ان میں عمامہ اور قمیص نہیں تھے۔ عبداللہؓ نے چادروں کا وہ جوڑا لے لیا اور کہا میں اس میں کفن دیا جاؤں گا۔ پھر انہوں نے کہا ان میں رسول اللہﷺ کو کفن نہیں دیا گیا اور مجھے اس میں کفن دیا جائے گا۔ پس انہوں نے اسے صدقہ کر دیا۔