وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ - يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ - عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم غَزَا خَيْبَرَ قَالَ فَصَلَّيْنَا عِنْدَهَا صَلاَةَ الْغَدَاةِ بِغَلَسٍ فَرَكِبَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَرَكِبَ أَبُو طَلْحَةَ وَأَنَا رَدِيفُ أَبِي طَلْحَةَ فَأَجْرَى نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي زُقَاقِ خَيْبَرَ وَإِنَّ رُكْبَتِي لَتَمَسُّ فَخِذَ نَبِيِّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَانْحَسَرَ الإِزَارُ عَنْ فَخِذِ نَبِيِّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَإِنِّي لأَرَى بَيَاضَ فَخِذِ نَبِيِّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا دَخَلَ الْقَرْيَةَ قَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ خَرِبَتْ خَيْبَرُ إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ . قَالَهَا ثَلاَثَ مِرَارٍ قَالَ وَقَدْ خَرَجَ الْقَوْمُ إِلَى أَعْمَالِهِمْ فَقَالُوا مُحَمَّدٌ - قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ وَقَالَ بَعْضُ أَصْحَابِنَا - وَالْخَمِيسَ قَالَ وَأَصَبْنَاهَا عَنْوَةً .
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ غزوئہ خیبر کے لئے نکلے۔ وہ کہتے ہیں ہم نے صبح کی نماز منہ اندھیرے اس (خیبر) کے قریب پڑھی۔ نبی ﷺ سوار ہوئے اور ابو طلحہؓ بھی سوار ہوئے اور میں ابو طلحہؓ کے پیچھے بیٹھا۔ اللہ کے نبی ﷺ نے خیبر کی گلیوں میں (گھوڑا) دوڑایا، میرا گھٹنا اللہ کے نبی ﷺ کی ران کو چھوتا تھا۔ چادر نبی ﷺ کی ران سے ہٹ گئی اور میں (اب بھی) نبی ﷺ کی ران کی سفیدی دیکھ رہا ہوں۔ جب آپؐ بستی میں داخل ہوئے تو آپؐ نے فرمایا اللہ اکبر، خیبر ویران ہو گیا۔ جب ہم کسی قوم کے صحن میں اترتے ہیں تو ڈرائے جانے والوں کی صبح بہت بری ہوتی ہے۔ آپؐ نے یہ تین مرتبہ دہرایا۔ راوی کہتے ہیں لوگ اپنے کاموں کے لئے نکلے تو کہنے لگے ’’محمدؐ_ !! راوی عبد العزیز کہتے ہیں کہ ہمارے بعض ساتھیوں نے روایت کی کہ (انہوں نے کہا تھا) محمدؐ لشکر کے ساتھ!!۔ راوی کہتے ہیں ہم نے (خیبر کو) جنگ کر کے فتح کیا۔
يَوْمَ خَيْبَرَ وَقَدَمِي تَمَسُّ قَدَمَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ فَأَتَيْنَاهُمْ حِينَ بَزَغَتِ الشَّمْسُ وَقَدْ أَخْرَجُوا مَوَاشِيَهُمْ وَخَرَجُوا بِفُئُوسِهِمْ وَمَكَاتِلِهِمْ وَمُرُورِهِمْ فَقَالُوا مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسَ . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
حضرت انسؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں ابو طلحہؓ کے پیچھے سواری پر بیٹھا تھا۔ اور میرے پاؤں رسول اللہ ﷺ کے پاؤں کو چھوتے تھے۔ راوی کہتے ہیں جب ہم ان کے پاس پہنچے تو سورج اچھی طرح نکل چکا تھا۔ انہوں نے اپنے جانور نکال لئے تھے اور کلہاڑیاں، ٹوکریاں، بیلچے اور کدالیں لے کر نکلے تھے۔ انہوں نے کہا محمد(ﷺ) لشکر کے ساتھ! وہ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا خیبر ویران ہو گیا۔ جب ہم کسی قوم کے صحن میں اترتے ہیں تو ڈرائے جانے والوں کی صبح بہت بری ہوتی ہے۔ راوی کہتے ہیں پھر اللہ عزّوجل نے انہیں شکست دی۔
حضرت سلمہؓ بن اکوع سے روایت ہے وہ کہتے ہیں ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ خیبر کی طرف نکلے تو ہم نے رات کا سفر اختیار کیا۔ لوگوں میں سے ایک شخص نے حضرت عامر بن اکوعؓ سے کہا کیا آپ ہمیں اپنے ہلکے پھُلکے کچھ شعر نہیں سنائیں گے؟ عامر ایک شاعر تھے وہ اترے اور قوم کے لئے حُدی خوانی کرنے لگے۔ ’’ اے اللہ اگر تو (ہمارا مدد گار) نہ ہوتا تو ہم ہدایت نہ پاتے۔ نہ ہم صدقہ کرتے اور نہ نماز پڑھتے۔ ہم تجھ پر فداء ہیں جب تک ہم باقی ہیں پس تو ہمیں بخش دے۔ اگر ہماری مڈھ بھیڑ ہو تو (ہمارے) قدموں کو ثبات بخش اور ہم پر سکینت ڈال۔ ہم تو وہ ہیں کہ جب بھی ہمیں للکارا جائے ہم آجاتے ہیں اور شور ڈالتے ہوئے وہ ہم پر چڑھ آئے ہیں۔‘‘ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ چلانے والا کون ہے؟ انہوں نے کہا عامرؓ۔ آپؐ نے فرمایا اللہ اس پر رحم کرے۔ لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا یا رسولؐ اللہ! واجب ہوگئی۔ آپؐ نے ہمیں کیوں نہ اس سے متمتع فرمایا! راوی کہتے ہیں ہم خیبر آئے اور ہم نے ان کا محاصرہ کیا یہانتک کہ ہمیں سخت بھوک لگی۔ پھر آپؐ نے (بشارت دیتے ہوئے) فرمایا اللہ تعالیٰ نے اسے تمہارے لئے فتح کردیا ہے۔ راوی نے کہا جب وہ شام ہوئی جس سے اگلے دن فتح ہوئی تو لوگوں نے بہت سی آگیں جلائیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ آگیں کیسی ہیں؟ کس چیز کے لئے یہ آگ جلائی ہے؟ انہوں نے کہا گوشت کے لئے۔ آپؐ نے فرمایا کونسا گوشت؟ انہوں نے کہا پالتو گدھوں کا گوشت۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا انہیں گرادو اور ان (ہانڈیوں کو) توڑ دو۔ اس پر ایک شخص نے کہا یا ان کو الٹا دیں اور دھو لیں۔ آپؐ نے فرمایا یا ایسے کرلو۔ راوی کہتے ہیں جب لوگ صف آراء ہوئے تو عامرؓ کی تلوار چھوٹی تھی۔ انہوں نے ایک یہودی کو مارنے کے لئے اس کی پنڈلی پر تلوار چلائی اور اس کی تلوار کی دھار واپس آکر عامرؓ کے گھٹنے کو لگی اور وہ اس سے فوت ہوگئے۔ راوی کہتے ہیں جب لوگ لوٹے تو سلمہؓ نے کہا اور وہ میرا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا جب رسول اللہ ﷺ نے مجھے خاموش دیکھا تو فرمایا تجھے کیا ہوا ہے؟ میں نے عرض کیا آپؐ پر میرے ماں باپ فدا ہوں۔ لوگ کہتے ہیں کہ عامرؓ کے اعمال ضائع ہوگئے۔ آپؐ نے فرمایا کس نے ایسا کہا؟ میں نے عرض کیا فلاں فلاں اور اسید بن حضیر انصاریؓ نے۔ آپؐ نے فرمایا جس نے ایسی بات کہی اس نے غلط کہا۔ اس کے لئے تو دو اجر ہیں اور آپؐ نے اپنی دو انگلیاں ملائیں (پھر فرمایا) وہ تو جہاد کرنے والا مجاہد ہے اس جیسا عرب اس (زمین) پر کم ہی چلا ہوگا۔ قتیبہ نے محمد سے روایت میں دو لفظوں میں اختلاف کیا ہے اور ابن عباد کی روایت میں ہے وَاَلْقِ سَکِیْنَۃً عَلَیْنَا کہ ہم پر سکینت ڈال۔
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ - وَنَسَبَهُ غَيْرُ ابْنِ وَهْبٍ فَقَالَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ - أَنَّ سَلَمَةَ بْنَ الأَكْوَعِ قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ خَيْبَرَ قَاتَلَ أَخِي قِتَالاً شَدِيدًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَارْتَدَّ عَلَيْهِ سَيْفُهُ فَقَتَلَهُ فَقَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي ذَلِكَ وَشَكُّوا فِيهِ رَجُلٌ مَاتَ فِي سِلاَحِهِ . وَشَكُّوا فِي بَعْضِ أَمْرِهِ . قَالَ سَلَمَةُ فَقَفَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ خَيْبَرَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ائْذَنْ لِي أَنْ أَرْجُزَ لَكَ . فَأَذِنَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَعْلَمُ مَا تَقُولُ قَالَ فَقُلْتُ وَاللَّهِ لَوْلاَ اللَّهُ مَا اهْتَدَيْنَا وَلاَ تَصَدَّقْنَا وَلاَ صَلَّيْنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَدَقْتَ . وَأَنْزِلَنَّ سَكِينَةً عَلَيْنَا وَثَبِّتِ الأَقْدَامَ إِنْ لاَقَيْنَا وَالْمُشْرِكُونَ قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا قَالَ فَلَمَّا قَضَيْتُ رَجَزِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَنْ قَالَ هَذَا . قُلْتُ قَالَهُ أَخِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَرْحَمُهُ اللَّهُ . قَالَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ نَاسًا لَيَهَابُونَ الصَّلاَةَ عَلَيْهِ يَقُولُونَ رَجُلٌ مَاتَ بِسِلاَحِهِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَاتَ جَاهِدًا مُجَاهِدًا . قَالَ ابْنُ شِهَابٍ ثُمَّ سَأَلْتُ ابْنًا لِسَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ فَحَدَّثَنِي عَنْ أَبِيهِ مِثْلَ ذَلِكَ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ - حِينَ قُلْتُ إِنَّ نَاسًا يَهَابُونَ الصَّلاَةَ عَلَيْهِ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
حضرت سلمہ بن اکوع ؓ کہتے ہیں جب خیبر کے دن میرے بھائی نے رسول اللہ ﷺ کی معیت میں خوب جنگ کی۔ اس کی اپنی تلوار اس کی طرف پلٹی اور اسے مار ڈالا۔ تو رسول اللہ ﷺ کے صحابہؓ نے اس بارہ میں کچھ بات کی اور اس پر کچھ شک کیا _ ایک آدمی جو اپنے ہتھیار سے ہی مر جائے۔ اور اس پر کسی امر میں شک کیا _ سلمہ ؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ خیبر سے لوٹے تو میں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! مجھے اجازت دیں کہ میں آپؐ کے سامنے رجزیہ اشعار پڑھوں۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں اجازت دی۔ حضرت عمر بن خطاب ؓ نے کہا میں جانتا ہوں جو تم کہنے والے ہو۔ وہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا : اللہ کی قسم! اگر اللہ (کا فضل) نہ ہوتا تو ہم ہدایت نہ پاتے اور نہ ہم صدقہ کرتے اور نہ نماز پڑھتے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم نے بالکل درست بات کہی۔ اور ہم پر سکینت نازل فرما اور جب (دشمن) سے مڈھ بھیڑ ہو تو ہمارے قدموں کو ثبات بخش اور مشرکوں نے ہم پر زیادتی کی ہے۔ جب میں نے اپنے رجزیہ اشعار ختم کئے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ کس نے کہے ہیں۔ میں نے عرض کیا میرے بھائی نے کہے ہیں۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ اس پر رحم فرمائے۔ راوی کہتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! بعض لوگ اس پر دعا کرتے ہوئے ڈرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں یہ شخص تو اپنے ہتھیار سے مرا ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وہ جہاد کرتے ہوئے مجاہد ہوتے ہوئے مرا ہے۔ ابن شہاب کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سلمہؓ بن اکوع کے ایک بیٹے سے پوچھا۔ انہوں نے اپنے والد سے ایسی ہی روایت مجھے بتائی۔ مگر انہوں نے یہ بھی کہا (سلمہؓ بن اکوع کہتے ہیں) جب میں نے کہا کچھ لوگ ان کے لئے دعا کرتے ہوئے جھجکتے ہیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وہ غلط سمجھتے ہیں۔ وہ جہاد کرتے ہوئے مجاہدہ کرتے ہوئے فوت ہوا۔ اس کے لئے دو بار اجر ہے اور آپؐ نے اپنی دو انگلیوں سے اشارہ فرمایا۔
ابو اسحاق سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں نے حضرت براءؓ سے سنا انہوں نے کہا رسول اللہ ﷺ احزاب والے دن ہمارے ساتھ مٹی اٹھاتے تھے اور مٹی نے آپ کے پیٹ کی سفیدی کو چھپا دیا تھا۔ آپؐ فرما رہے تھے اللہ کی قسم! اگر تو (یعنی تیرا فضل) نہ ہوتا تو ہم ہدایت نہ پاتے، نہ صدقہ کرتے اور نہ ہم نماز پڑھتے۔ تو ہم پر سکینت نازل فرما۔ یقینا یہ لوگ ہمارے (راستہ میں) روک بنے۔ یہ بڑے لوگ ہمارے (راستہ میں) روک بنے۔ جب انہوں نے ہمارے متعلق فتنہ کا ارادہ کیا تو ہم نے انکار کیا۔ راوی کہتے ہیں اس کو آپؐ آواز بلند سے کہتے تھے۔ ایک اور روایت میں (اِنَّ الاُلَی قَدْ اَبَوْا عَلَینَا کی بجائے) اِنَّ الاُلَی قَدْ بَغَوا عَلَینَا کے الفاظ ہیں یعنی ان لوگوں نے ہم پر زیادتی کی ہے۔
قَالَ جَاءَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَنَحْنُ نَحْفِرُ الْخَنْدَقَ وَنَنْقُلُ التُّرَابَ عَلَى أَكْتَافِنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
حضرت سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں ہمارے پاس رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور ہم خندق کھود رہے تھے اور اپنے کندھوں پر (اٹھا کر) مٹی ڈال رہے تھے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے اللہ! اصل زندگی تو آخرت کی زندگی ہے پس تو مہاجروں اور انصار کو بخش دے
حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے تھے ’’اصل زندگی تو آخرت کی زندگی ہے۔ راوی شعبہ نے کہا (اصل زندگی تو آخرت کی زندگی ہے کی بجائے آپؐ نے فرمایا) ’’اے اللہ! نہیں کوئی زندگی مگر آخرت کی زندگی پس اے اللہ! انصار اور مہاجروں کو عزت عطا فرما‘‘
قَالَ كَانُوا يَرْتَجِزُونَ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَعَهُمْ وَهُمْ يَقُولُونَ اللَّهُمَّ لاَ خَيْرَ إِلاَّ خَيْرُ الآخِرَهْ فَانْصُرِ الأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَهْ وَفِي حَدِيثِ شَيْبَانَ بَدَلَ فَانْصُرْ فَاغْفِرْ .
حضرت انس بن مالکؓ کہتے ہیں لوگ رَجزیہ اشعار پڑھتے تھے اور رسول اللہ ﷺ ان کے ساتھ ہوتے تھے اور لوگ کہتے تھے اے اللہ! اصل بھلائی تو آخرت کی بھلائی ہے پس تو انصار اور مہاجرین کی نصرت فرما شیبان کی روایت میں فَانْصُر کی بجائے فَاغْفِرْ کے الفاظ ہیں۔