بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 129 hadith
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ محمد ﷺ کے صحابہ ؓ خندق کے دن کہتے تھے ہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے اسلام پر ہمیشہ کے لئے محمد ﷺ کی بیعت کی جب تک ہم زندہ ہیں یا کہا جہاد پر۔ حماد کو اس میں شک ہے اور نبی ﷺ فرماتے تھے اے اللہ! یقینا اصل بھلائی آخرت کی بھلائی ہے پس تو انصار اور مہاجروں کو بخش دے
یزید بن ابی عبید سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں نے حضرت سلمہؓ بن اکوع کو کہتے ہوئے سنا کہ میں (صبح کی) اذان سے پہلے نکلا اور رسول اللہ ﷺ کی دودھ دینے والی اونٹنیاں ذی قرد میں چرا کرتی تھیں۔ وہ کہتے ہیں مجھے عبد الرحمان بن عوف کا غلام ملا۔ اس نے کہا رسول اللہ ﷺ کی دودھ دینے والی اونٹنیاں چھین لی گئی ہیں۔ میں نے کہا انہیں کس نے چھینا ہے؟ اس نے کہا غطفان نے۔ وہ کہتے ہیں میں نے تین بار چلا کر کہا یا صباحاہ وہ کہتے ہیں میں نے لاوے کے دو میدانوں کے درمیان (سارے) مدینہ والوں کو سنا دیا۔ پھر میں سیدھا چلا یہانتک کہ انہیں ذی قرد میں جا لیا۔ وہ پانی پلانے لگے ہی تھے کہ میں ان پر تیر برسانے لگا اور میں (اچھا) تیر انداز تھا اور میں کہتا تھا میں ابن اکوع ہوں آج کمینوں (کی تباہی کا) دن ہے۔ میں رَجزیہ اشعار پڑھتا رہا یہانتک کہ میں نے ان سے اونٹنیاں چھڑوالیں اور ان سے تیس چادریں چھین لیں۔ وہ کہتے ہیں نبی ﷺ اور دوسرے لوگ آئے۔ میں نے کہا اے اللہ کے نبی میں نے ان لوگوں کو پانی سے روک دیا اور وہ پیاسے ہیں۔ اسی وقت ان کی طرف (لشکر) بھیجئے۔ آپؐ نے فرمایا اے ابن اکوع تم نے غلبہ پالیا۔ اب نرمی کا سلوک کر۔ وہ کہتے ہیں پھر ہم لوٹے اور رسول اللہ ﷺ نے اپنی اونٹنی پر مجھے اپنے پیچھے بٹھا لیا یہانتک کہ ہم مدینہ میں داخل ہو گئے۔
ایاس بن سلمہ کہتے ہیں کہ مجھے میرے والد نے بتایا انہوں نے کہا ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حدیبیہ (کے کنویں پر) آئے اور ہم چودہ سو تھے اور اس (کنویں) پر پچاس بکریاں تھیں جن کو وہ سیراب نہیں کر سکتا تھا۔ راوی کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ کنویں کی منڈیر پر بیٹھے۔ آپؐ نے دعا کی یا اس میں لعابِ دہن ڈالا۔ راوی کہتے ہیں وہ جوش مارنے لگا۔ ہم نے پانی پلایا اور خود (بھی) پیا۔ راوی کہتے ہیں پھر رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک درخت کے نیچے بیعت کے لئے بلایا۔ راوی کہتے ہیں میں نے لوگوں میں سب سے پہلے بیعت کی، پھر آپؐ بیعت لیتے رہے یہانتک کہ نصف لوگوں نے بیعت کر لی۔ میں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! میں نے سب سے پہلے لوگوں میں بیعت کی ہے۔ آپؐ نے فرمایا پھر (کرو) اور رسول اللہ ﷺ نے مجھے بغیر ہتھیار کے دیکھا۔ وہ کہتے ہیں مجھے رسول اللہ ﷺ نے ڈھال دی پھر آپؐ بیعت لیتے رہے یہانتک کہ جب آپؐ نے لوگوں میں سے آخری لوگوں کی بیعت لے لی تو فرمایا اے سلمہؓ تم میری بیعت نہیں کرو گے! وہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! میں نے تو سب سے پہلے لوگوں کے اور پھر درمیان میں بیعت کی ہے۔ آپؐ نے فرمایا پھر سہی۔ وہ کہتے ہیں میں نے تیسری مرتبہ بیعت کی۔ پھر آپؐ نے مجھے فرمایا اے سلمہ تمہاری وہ چمڑے کی ڈھال جو میں نے تمہیں دی تھی کہاں ہے؟ وہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! مجھے میرے چچا عامرؓ ملے تھے اور وہ نہتے تھے تو میں نے وہ انہیں دے دی۔ وہ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ ہنس دئیے اور فرمایا تم اس کی طرح ہو جس نے کہا_ اس پہلے کی طرح _ اے اللہ! مجھے ایسا دوست دے جو مجھے اپنی جان سے بھی پیارا ہو پھر مشرکین نے ہمیں صلح کا پیغام بھیجا یہانتک کہ دونوں طرف کے آدمی ایک دوسرے کی طرف جانے لگے۔ پھر ہم نے صلح کر لی۔ راوی کہتے ہیں میں حضرت طلحہؓ بن عبید اللہ کی خدمت میں تھا میں ان کے گھوڑے کو پانی پلاتا تھا اور اس کی پیٹھ کھجاتا اور ان کی خدمت کرتا اور انہیں کے کھانے میں سے کھاتا تھا اور میں نے اللہ اور اس کے رسولؐ کے لئے ہجرت کرتے ہوئے اپنے اہل و عیال و مال چھوڑ دئیے تھے۔ وہ کہتے ہیں پس جب ہم نے اور اہل مکہ نے صلح کر لی اور ہم میں سے بعض ایک دوسرے کی طرف آنے جانے لگے میں ایک درخت کی طرف آیا اور اس کے کانٹے صاف کئے اور اس کے دامن میں لیٹ گیا وہ کہتے ہیں میرے پاس مکہ کے چار مشرک آئے اور رسول اللہ ﷺ کے بارے میں بدزبانی کرنے لگے۔ مجھے ان سے نفرت پیدا ہوئی میں دوسرے درخت کے نیچے چلا گیا انہوں نے اپنے ہتھیار لٹکائے اور لیٹ گئے۔ اس دوران جبکہ وہ اس حال میں تھے کہ کسی پکارنے والے نے وادی کے نشیب سے پکارا اے مہاجرو! ابن زُنیم کو قتل کر دیا گیا ہے۔ وہ کہتے ہیں میں نے اپنی تلوار سونتی اور میں ان چاروں پر حملہ آور ہوا جبکہ وہ سو رہے تھے۔ میں نے ان کے ہتھیار لے لئے اور اپنے ایک ہاتھ میں ان کا گٹھا بنا لیا۔ وہ کہتے ہیں پھر میں نے کہا اس کی قسم جس نے محمدؐ کے چہرہ کو عزت دی ہے، تم میں سے جو بھی سر اٹھائے گا میں اس کو وہاں ماروں گا جہاں اس کی دونوں آنکھیں ہیں۔ وہ کہتے ہیں پھر میں انہیں ہانکتا ہوا رسول اللہ ﷺ کے پاس لایا۔ وہ کہتے ہیں اور میرا چچا عامر عبلات میں سے ایک شخص کو لائے تھے جس کا نام مکرز تھا۔ مشرکین کے ستر آدمیوں کے ساتھ ایسے گھوڑے پر جس پر جھول پڑی ہوئی تھی لے آیا۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کی طرف دیکھا اور فرمایا انہیں چھوڑ دو کہ بد عہدی کی ابتدا اور تکرار ان کی طرف ہو۔ اور رسول اللہ ﷺ نے ان سے درگزر فرمایا اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور وہی ہے جس نے ان کے ہاتھ تم سے اور تمہارے ہاتھ ان سے وادی مکہ میں روک دئیے تھے۔ بعد اس کے کہ اس نے تمہیں ان پر کامیابی عطا کی۔۔۔ وہ کہتے ہیں پھر ہم مدینہ کی طرف واپس جانے کے لئے نکلے پھر ہم ایک جگہ اترے، ہمارے اور بنی لحیان کے درمیان ایک پہاڑ تھا وہ مشرک تھے۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے اس شخص کے لئے مغفرت کے لئے دعا کی جو اس پہاڑ پر رات کو چڑھے گویا وہ نبی ﷺ اور صحابہ ؓ کے لئے جاسوس کا کام دے۔ سلمہؓ کہتے ہیں میں اس رات دو یا تین مرتبہ چڑھا پھر ہم مدینہ پہنچے۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنے اونٹ رباح کے ہاتھ بھیجے جو رسول اللہ ﷺ کا غلام تھا اور میں حضرت طلحہؓ کے گھوڑے کے ساتھ اس پر سوار ہو کر نکلا اور میں اس کو اونٹوں کے ساتھ پانی پلانے کے لئے جا رہا تھا۔ جب صبح ہوئی تو عبد الرحمان فزاری نے رسول اللہ ﷺ کے اونٹوں پر حملہ کیا اور سب کو ہانک کر لے گیا اور ان کے چرواہے کو قتل کر دیا۔ راوی کہتے ہیں میں نے کہا اے رباح یہ گھوڑا پکڑ و اور اسے طلحہ بن عبید اللہ کو پہنچا دو اور رسول اللہ ﷺ کو خبر دو کہ مشرکوں نے آپؐ کے جانور لُوٹ لئے ہیں۔ وہ کہتے ہیں پھر میں ایک ٹیلہ پر مدینہ کی طرف منہ کر کے کھڑا ہوا اور تین دفعہ پکارا یا صباحاہ پھر میں ان لوگوں کے پیچھے تلاش کرتا ہوا اور انہیں تیر مارتا ہوا نکلا اور میں یہ َرجزیہ اشعار پڑھ رہا تھا اور میں کہہ رہا تھا میں ابن الاکوع ہوں یہ دن کمینوں کی تباہی کا دن ہے پس میں ان میں سے جس شخص سے بھی ملتا تو اس کے کجاوہ میں تیر مارتا یہانتک کہ تیر کا پھل نکل کر اس کے کندھے تک جا پہنچتا۔ وہ کہتے ہیں میں کہتا یہ لو میں اکوع کا بیٹا ہوں اور آج کمینوں کی (تباہی) کا دن ہے۔ وہ کہتے ہیں اللہ کی قسم! میں ان کو تیر مارتا رہا اور انہیں زخمی کرتا رہا اور جب میری طرف کوئی گھوڑ سوار آتا تو میں کسی درخت کی طرف آتا اور اس کے نیچے بیٹھ جاتا اور میں اسے تیر مار کر زخمی کر دیتا یہانتک کہ جب پہاڑ کا راستہ تنگ ہوگیا اور وہ اس تنگ راستہ میں داخل ہوئے تو میں پہاڑ پر چڑھ گیا اور انہیں پتھر مارنے لگا۔ وہ کہتے ہیں میں اسی طرح ان کا پیچھا کرتا رہا یہانتک کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کے اونٹوں میں سے کوئی اونٹ ایسا پیدا نہیں کیا جسے میں نے اپنے پیچھے نہ چھوڑ دیا ہو۔ اور انہوں نے ان کو میرے اور اپنے درمیان چھوڑ دیا پھر میں تیر اندازی کرتا رہا یہانتک کہ انہوں نے تیس سے زیادہ چادریں اور تیس نیزے ہلکا ہونے کے لئے پھینک دئیے۔ جو چیز بھی وہ پھینکتے تھے میں ان پر نشان کے طور پر پتھر رکھ دیتا تھا تاکہ رسول اللہ ﷺ اور آپؐ کے صحابہؓ پہچان لیں یہانتک کہ وہ ایک تنگ گھاٹی میں آئے جہاں انہیں بدر فزاری کا کوئی بیٹا ملا۔ وہ بیٹھ کر کھانا کھانے لگے اور میں ایک چوٹی پربیٹھا تھا۔ فزاری نے کہا یہ کون شخص ہے جسے میں دیکھ رہا ہوں؟ انہوں نے کہا اس شخص نے تو ہمیں تنگ کر رکھا ہے۔ اللہ کی قسم! یہ صبح سے ہم پر مسلسل تیر اندازی کر رہا ہے۔ یہانتک کہ اس نے ہم سے سب کچھ چھین لیا ہے۔ اس نے کہا چاہئے کہ تم میں سے چار آدمی اس کی طرف جائیں۔ وہ (ابن اکوع) کہتے ہیں ان میں سے چار میری طرف پہاڑ پر چڑھے وہ کہتے ہیں جب وہ میرے (اتنے قریب آئے) کہ میں ان سے بات کر سکا۔ وہ کہتے ہیں میں نے کہا کیا تم مجھے جانتے ہو؟ انہوں نے کہا نہیں تم کون ہو؟ وہ کہتے ہیں میں نے کہا میں سلمہ بن اکوع ہوں اس کی قسم جس نے محمد ﷺ کے چہرہ کو عزت عطا کی ہے میں تم میں سے جس شخص کو پکڑنا چاہوں اسے پکڑ سکتا ہوں لیکن تم میں سے کوئی شخص مجھے پکڑنا چاہے تو نہیں پکڑ سکتا۔ ان میں سے ایک نے کہا میرا (بھی) یہی خیال ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ لوٹ گئے اور میں اپنی جگہ پر بیٹھا رہا یہانتک کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے گھوڑے درختوں کے درمیان آتے ہوئے دیکھے۔ وہ کہتے ہیں ان میں سے سب سے پہلے اخرمؓ اسدی تھے اور ان کے پیچھے ابوقتادہؓ انصاری اور ان کے پیچھے مقدادؓ بن اسود کندی۔ وہ کہتے ہیں میں نے اخرمؓ کے گھوڑے کی لگام پکڑی۔ وہ کہتے ہیں تو وہ (چاروں) پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے۔ میں نے کہا اے اخرم تو ان سے بچ تاکہ وہ تجھے ہلاک نہ کردیں یہانتک کہ رسول اللہ ﷺ اور آپؐ کے صحابہؓ پہنچ نہ جائیں۔ اس نے کہا اے سلمہؓ اگر تو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے اور تو جانتا ہے کہ جنت حق ہے اور آگ (جہنم) حق ہے پس تو میرے اور شہادت کے درمیان حائل نہ ہو۔ وہ کہتے ہیں میں نے اسے چھوڑ دیا یہانتک کہ وہ (اخرم) اور عبد الرحمان باہم بر سر پیکار ہوئے۔ اور انہوں نے عبدالرحمان سمیت اس کے گھوڑے کو زخمی کردیا اور عبد الرحمان نے ان (اخرمؓ) کو نیزہ مار کر شہید کردیا اور ان کے گھوڑے پر سوار ہو کر مڑا اور رسول اللہ ﷺ کے شہسوار ابو قتادہؓ نے عبد الرحمان کو جا لیا اور اسے نیزہ مار کر قتل کردیا۔ پس اس کی قسم! جس نے محمد ﷺ کے چہرہ کو عزت عطا کی ہے میں نے دوڑتے ہوئے ان کا تعاقب جاری رکھا یہانتک کہ میں نے محمد ﷺ کے صحابہؓ میں سے کسی کو اور نہ ان کے غبار کو اپنے پیچھے پایا یہا نتک کہ وہ سورج غروب ہونے سے پہلے ایک گھاٹی میں پہنچے جہاں پانی تھا۔ اسے ذی قرد کہتے تھے وہ اس سے پینا چاہتے تھے اور وہ پیاسے تھے۔ وہ کہتے ہیں پھر انہوں نے مجھے اپنے پیچھے دوڑتے ہوئے دیکھا میں نے ان کو وہاں سے ہٹا دیا اور وہ اس میں سے ایک قطرہ بھی نہ پی سکے۔ وہ کہتے ہیں وہ نکلے اور ایک گھاٹی کی طرف تیزی سے بڑھے۔ وہ کہتے ہیں میں بھی دوڑا میں ان میں سے جس شخص کو بھی پاتا اس کے کندھے کی ہڈی میں تیر مارتا۔ وہ کہتے ہیں میں کہتا یہ لو اور میں اکوع کا بیٹا ہوں اور آج کمینوں کی تباہی کا دن ہے۔ اس نے کہا اکوع کو اس کی ماں کھوئے، کیا صبح والا اکوع ہے؟ وہ کہتے ہیں میں نے کہا ہاں اے اپنی جان کے دشمن تیرا صبح والا اکوع۔ وہ کہتے ہیں انہوں نے دو گھوڑے گھاٹی میں پیچھے چھوڑ دئیے۔ وہ کہتے ہیں میں ان دونوں کو ہانکتے ہوئے رسول اللہ ﷺ کے پاس چل پڑا۔ وہ کہتے ہیں مجھے عامر ایک چھا گل میں تھوڑے سے دودھ میں ملا ہوا پانی اور ایک چھاگل میں پانی لاتے ہوئے ملے۔ پھر میں نے وضوء کیا اور پیا پھر میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور آپؐ اس پانی پر تھے جہاں سے میں نے ان لوگوں کو بھگایا تھا۔ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ نے وہ اونٹ اور وہ سب چیزیں جو میں نے مشرکوں سے چھڑائی تھیں لے لیں۔ اور حضرت بلالؓ نے ان اونٹوں میں سے جو میں نے اُن سے چھینے تھے ایک اونٹنی ذبح کی۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے لئے کلیجی اور کوہان (کے گوشت سے) بھون رہے تھے۔ وہ کہتے ہیں میں نے کہا یا رسولؐ اللہ! مجھے لشکر میں سے سو آدمی منتخب کرنے کی اجازت عطا فرمائیں تو میں ان لوگوں کا پیچھا کر کے ان سب کو قتل کر دوں کہ کوئی ان کو خبر دینے والا بھی نہ بچے۔ رسول اللہ ﷺ کھل کھلا کر ہنسے یہانتک کہ آگ کی روشنی میں آپ کے دانت مبارک دکھائی دینے لگے۔ آپؐ نے فرمایا اے سلمہؓ! کیا تم سمجھتے ہو کہ تم یہ کر سکتے ہو؟ میں نے کہا ہاں اس کی قسم! جس نے آپؐ کو عزت عطا کی ہے۔ آپؐ نے فرمایا اب وہ غطفان کی سرحد پر پہنچ گئے ہیں۔ وہ کہتے ہیں بنی غطفان کا ایک شخص آیا اس نے کہا فلاں شخص نے ان کے لئے اونٹ ذبح کیا ہے۔ جب وہ اس کی جلد اتار رہے تھے تو انہوں نے ایک غبار دیکھا انہوں نے کہا وہ لوگ آگئے وہ وہاں سے بھی بھاگ گئے۔ جب صبح ہوئی تو آپؐ نے فرمایا آج ہمارے بہترین شہسوار ابو قتادہ ہیں اور پیادوں میں سے بہترین پیادہ سلمہؓ ہیں وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے دو حصے دئیے ایک سوار کا اور ایک پیدل کا وہ دونوں مجھے دئیے۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے مدینہ لوٹتے ہوئے مجھے عضباء اونٹنی پر اپنے پیچھے بٹھا لیا۔ وہ کہتے ہیں جب ہم جا رہے تھے تو انصار کے ایک شخص نے جس سے دوڑ میں کوئی آگے نہ بڑھ سکتا تھا، اس نے کہنا شروع کردیا کہ کوئی مدینہ تک دوڑ لگانے والا ہے؟ کیا کوئی دوڑ لگانے والا ہے؟ وہ اسے بار بار دہرانے لگا۔ وہ کہتے ہیں جب میں نے اس کی بات سنی تو میں نے کہا کیا تم کسی معزز کی عزت نہیں کرتے؟ اور کسی بزرگ سے نہیں ڈرتے؟ اس نے کہا نہیں سوائے اس کے کہ رسول اللہ ﷺ ہوں۔ وہ کہتے ہیں میں نے کہا یا رسولؐ اللہ! میرے ماں باپ آپؐ پر فدا ہوں، مجھے اس آدمی سے دوڑ لگانے دیں۔ آپؐ نے فرمایا (ٹھیک ہے) اگر تم چاہتے ہو وہ کہتے ہیں میں نے کہا چلو… میں نے اپنی پاؤں موڑے اور چھلانگ ماری اور دوڑ پڑا۔ وہ کہتے ہیں میں ایک یا دو گھاٹیا ں اس کے پیچھے دوڑا۔ میں اپنی طاقت بچا رہا تھا پھر میں آہستگی سے اس کے پیچھے دوڑا پھر میں تیز ہوا اور اُسے جا لیا۔ وہ کہتے ہیں میں نے اس کے کندھوں کے درمیان مکا مارا۔ وہ کہتے ہیں میں نے کہا اللہ کی قسم! تو پیچھے رہ گیا۔ راوی نے کہا انہوں نے کہا میرا خیال ہے۔ وہ کہتے ہیں میں مدینہ تک اس سے آگے رہا۔ وہ کہتے ہیں اللہ کی قسم! ہم صرف تین راتیں ٹھہرے یہانتک کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ خیبر کی طرف نکلے۔ وہ کہتے ہیں میرے چچا عامرؓ لوگوں کو رَجزیہ اشعار پڑھ کر سنانے لگے، اللہ کی قسم! اگر ہمیں اللہ تعالیٰ (تو ہدایت نہ دیتا) تو ہم ہدایت نہ پاتے اور نہ ہم صدقہ کرتے اور نہ نماز پڑھتے اور ہم تیرے فضل سے مستغنی نہیں اور اگر (دشمنوں سے) ہماری مڈھ بھیڑ ہو تو ہمیں ثبات قدم عطا فرمانا اور ہم پر سکینت نازل فرمانا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ کون ہے؟ اس نے کہا میں عامر ہوں۔ آپؐ نے فرمایا تمہارا رب تمہاری مغفرت فرمائے۔ راوی کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ جس انسان کو مغفرت کے لئے مخصوص فرماتے وہ شہید ہوجاتا تھا۔ وہ کہتے ہیں حضرت عمرؓ بن خطاب نے بلند سے پکارا اور وہ اپنے اونٹ پر تھے اے اللہ کے نبی! آپؐ نے جوعامرؓ کو متاع دی وہ آپؐ نے ہمیں کیوں نہ دی۔ راوی کہتے ہیں جب ہم خیبر پہنچے تو ان کا سردار مرحب اپنی تلوار لہراتا ہوا نکلا اور وہ کہہ رہا تھا خیبر جانتا ہے کہ میں مرحب ہتھیار بند، بہادر، تجربہ کار ہوں۔ جب جنگیں شعلے بھڑکاتی ہوئی آئیں۔ راوی کہتے ہیں اس کے مقابلہ کے لئے میرے چچا عامرؓ نکلے اور انہوں نے کہا خیبر جانتا ہے کہ میں عامر، ہتھیار بند، بہادر، خطرات میں اپنے آپ کو ڈالنے والا ہوں۔ راوی کہتے ہیں دونوں نے ضربیں لگائیں۔ مرحب کی تلوار عامر کی ڈھال پر پڑی اور عامر اس پر نیچے سے وار کرنے لگے کہ ان کی اپنی تلوار ہی ان کو آلگی اور اس نے ان کی رگ کاٹ دی اور وہ اسی سے فوت ہوگئے۔ سلمہؓ کہتے ہیں میں نکلا تو نبی ﷺ کے بعض صحابہؓ کہہ رہے تھے عامرؓ کے عمل باطل ہو گئے۔ اس نے اپنے آپ کو قتل کیا۔ وہ کہتے ہیں میں روتے ہوئے نبی ﷺ کے پاس آیا میں نے کہا یا رسولؐ اللہ! عامرؓ کے عمل ضائع ہو گئے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ کس نے کہا؟ وہ کہتے ہیں میں نے کہا آپؐ کے بعض صحابہؓ نے۔ آپؐ نے فرمایا جس نے یہ کہا غلط کہا۔ اس کے لئے تو دہرا اجر ہے۔ پھر آپؐ نے مجھے حضرت علیؓ کی طرف بھیجا ان کی آنکھیں آئی ہوئی تھیں۔ آپؐ نے فرمایا میں اس شخص کو جھنڈا دوں گا جو اللہ اور اس کے رسولؐ سے محبت کرتا ہے یا اللہ اور اس کا رسولؐ اس سے محبت کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں میں حضرت علیؓ کے پاس گیا اور انہیں ساتھ لے کر چل پڑا۔ ان کی آنکھیں آئی ہوئی تھیں یہانتک کہ میں انہیں لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچا۔ آپؐ نے ان کی آنکھوں میں لعاب دہن لگایا وہ ٹھیک ہوگئیں۔ آپؐ نے انہیں جھنڈا دیا اور مرحب نکلا اور اس نے کہا خیبر جانتا ہے کہ میں مرحب ہوں، ہتھیار بند، بہادر، تجربہ کار جبکہ جنگیں شعلے بھڑکاتی ہوئی آئیں۔ حضرت علیؓ نے کہا میں وہ ہوں میرا نام میری ماں نے حیدر رکھا ہے ہیبت ناک شکل والے شیر کی مانند جو جنگلوں میں ہوتا ہے میں ایک صاع کے بدلے سندرہ دیتا ہوں۔ وہ کہتے ہیں انہوں نے مرحب کے سر پر ضرب لگائی اور اسے قتل کر دیا پھر ان کے ہاتھوں فتح ہوئی۔
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے اہل مکہ کے اسّی مسلح آدمی تنعیم کے پہاڑ سے رسول اللہ ﷺ کے پاس اترے کہ وہ نبی ﷺ اور آپؐ کے صحابہؓ کو غفلت میں پائیں اور آپؐ پر حملہ کردیں۔ آپؐ نے انہیں بغیر لڑائی کے پکڑ لیا اور ان کو زندہ رکھا تو اللہ عزوّجل نے یہ آیت نازل فرمائی وہی ہے جس نے ان کے ہاتھ تم سے اور تمہارے ہاتھ ان سے وادی مکہ میں روک دئیے بعد اس کے کہ اس نے تمہیں ان پر کامیابی عطا کی۔
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ حضرت ام سلیمؓ نے حنین کے دن ایک خنجر لیا۔ وہ ان کے پاس تھا تو حضرت ابو طلحہؓ نے انہیں دیکھا۔ انہوں نے کہا یا رسولؐ اللہ ! یہ ام سلیم ہے اس کے پاس خنجر ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں فرمایا یہ خنجر کس لئے ہے؟ انہوں نے جواب دیا میں نے یہ اس لئے لیا ہے کہ اگر مشرکوں سے کوئی میرے قریب آیا تو میں اس کا پیٹ پھاڑ دوں گی۔ رسول اللہ ﷺ ہنسنے لگے۔ انہوں نے کہا یا رسول اللہ ہمارے بعد جو طلقاء (یعنی آزاد کئے گئے) ملے جنہوں نے آپؐ کے ساتھ (ہوتے ہوئے ) شکست کھائی ان کو قتل کر دیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے ام سلیم یقینا اللہ (دشمن کے مقابلہ میں ) کافی ہوا اور اس نے احسان فرمایا ہے۔
حضرت انسؓ بن مالک سے روایت ہے وہ کہتے ہیں احد کے دن لوگوں میں سے کچھ نبی ﷺ سے ہٹ گئے اور ابو طلحہؓ نبی ﷺ کے سامنے ڈھال سے اوٹ کئے ہوئے تھے۔ وہ کہتے ہیں حضرت ابو طلحہؓ زبردست تیر انداز تھے۔ اس دن انہوں نے دو یا تین کمانیں توڑیں۔ راوی کہتے ہیں جب کوئی شخص تیروں کا ترکش لے کر گزرتا تو آپؐ فرماتے یہ ابو طلحہؓ کے لئے بکھیر دو۔ وہ کہتے ہیں نبی ﷺ سر اٹھا کر ان لوگوں کو دیکھتے تو ابو طلحہ کہتے اے اللہ کے نبیؐ! میرے ماں باپ آپؐ پر قربان ہوں، آپؐ سر اُٹھا کر نہ دیکھئے کہیں لوگوں کا کوئی تیر آپؐ کو نہ لگ جائے۔ میرا سینہ آپ کے سینہ کے سامنے ہے۔ وہ کہتے ہیں میں نے حضرت عائشہؓ بنت ابی بکر اور ام سلیمؓ کو دیکھا وہ مستعدی سے کام کر رہی تھیں مجھے ان کی پازیب نظر آ رہی تھی۔ وہ دونوں اپنی کمر پر مشکیں اُٹھا کر لاتی تھیں پھر ان کے منہ (پانی) میں ڈالتی تھیں۔ پھر جاتیں اور پھر بھر کر لاتیں اور لوگوں کے منہ میں ڈالتیں اور حضرت ابو طلحہؓ کے ہاتھ سے اونگھ کی وجہ سے دو یا تین مرتبہ تلوار گر پڑی۔
یزید بن ہرمز سے روایت ہے کہ نجدہ نے پانچ باتیں پوچھنے کے لئے حضرت ابن عباسؓ کو خط لکھا حضرت ابن عباسؓ نے کہا ! اگر یہ بات نہ ہوتی کہ میں علم چھپاتا ہوں تو میں اسے جواب نہ لکھتا۔ نجدہ نے انہیں لکھا تھا اما بعد۔ مجھے بتائیں کہ کیا رسول اللہ ﷺ غزوات میں عورتوں کو ساتھ لے جاتے تھے ؟ اور کیا انہیں (مالِ غنیمت میں سے) حصہ دیتے تھے ؟ اور کیا آپؐ بچوں کو قتل کرتے تھے ؟ اور یتیم کی یتیمی کب ختم ہوتی ہے ؟ اور خمس کس کا حق ہے ؟ حضرت ابن عباسؓ نے انہیں (جواباً) لکھا تم نے یہ پوچھنے کے لئے لکھا ہے کہ کیا رسول اللہ ﷺ غزوات میں عورتوں کو ساتھ رکھتے تھے ؟ آپؐ انہیں ساتھ لے جاتے تھے۔ وہ زخمیوں کی دیکھ بھال کرتیں اور انہیں غنیمت سے کچھ حصہ دیا جاتا تھا اور مالِ غنیمت میں ان کا علیحدہ حصہ مقرر نہیں تھا۔ اور رسول اللہ ﷺ بچوں کو قتل نہیں کرتے تھے۔ پس تم بھی بچوں کو قتل نہ کرنا۔ اور تم نے مجھ سے لکھ کر پوچھا ہے کہ یتیم کی یتیمی کب ختم ہوتی ہے ؟ میری عمر کی قسم بعض آدمی ایسے ہوتے ہیں کہ انہیں داڑھی آجاتی ہے لیکن وہ اپنے لینے اور دینے کا شعور نہیں رکھتے پھر جب وہ اپنے نفس کے لئے وہ صلاحیت حاصل کر لے جو لوگ حاصل کرتے ہیں تو ان کی یتیمی جاتی رہتی ہے اور تم نے مجھ سے خمس کے بارہ میں پوچھنے کے لئے لکھا ہے کہ یہ کس کا حق ہے ؟ تو ہم تو کہتے تھے یہ ہمارا حق ہے لیکن ہماری قوم نے ہمیں وہ دینے سے انکار کیا ہے۔ ایک روایت میں لِمَنْ خُمُسُ فُلَانٍ کی بجائے عَنْ فُلَانٍ کے الفاظ ہیں ہاں اس روایت میں یہ بھی ہے کہ رسول اللہ ﷺ بچوں کو قتل نہیں کرتے تھے پس تم بھی بچوں کو قتل نہ کرو سوائے اس کے کہ تم بھی وہ جان لو جو خضر نے اس بچہ کے بارہ میں جان لیا تھا جسے اس نے قتل کر دیا۔ اور مزید یہ ہے کہ تم مومن کی پہچان کرو، کافر کو قتل کرو اور مومن کو چھوڑ دو۔
یزید بن ہرمز سے روایت ہے وہ کہتے ہیں نجدہ بن عامر حروری نے حضرت ابن عباسؓ کو لکھا ان سے (جہاد میں شامل ہونے والے ) غلام اور عورت کے بارہ میں دریافت کرتا تھا کہ وہ غنیمت (کی تقسیم کے وقت) حاضر ہوں تو کیا انہیں حصہ دیا جائے گا نیز بچوں کو (جنگ میں) قتل کرنے کے بارہ میں پوچھا اور یتیم کے متعلق کہ اس کی یتیمی کب ختم ہوگی ؟ اور قریبی رشتہ دار، ان کے متعلق پوچھا کہ وہ کون ہیں ؟ آپؓ نے یزید سے کہا اسے لکھو اور اگر وہ حماقت میں پڑنے والا نہ ہوتا تو میں اسے نہ لکھتا۔ لکھو کہ تم نے مجھ سے عورت اور غلام سے متعلق یہ پوچھنے کے لئے لکھا ہے کہ اگر جہاد میں شریک ہوں اور وہ غنیمت کی (تقسیم کے وقت) حاضر ہوں تو کیا انہیں حصہ ملے گا؟ بات یہ ہے کہ ان کے لئے (کوئی) حصہ نہیں ، ہاں انہیں کچھ دیا جائے اور تم نے مجھ سے بچوں کے قتل کے بارہ میں لکھ کر پوچھا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں قتل نہیں کیا تو تم بھی انہیں قتل نہ کرو سوائے اس کے کہ تم بھی ان کے متعلق وہی کچھ جانتے ہو جو صاحبِ موسیٰ اس بچہ کے بارہ میں جانتے تھے جسے انہوں نے قتل کیا اور تم نے مجھے یتیم کے بارہ میں کہ اس کی یتیمی کب ختم ہوگی لکھ کر پوچھا ہے تو اس کی یتیمی ختم نہیں ہوگی یہانتک کہ وہ بالغ ہو جائے۔ اور اس میں رشد و ہدایت نظر آئے۔ اور تم نے قریبی رشتہ داروں کے متعلق پوچھنے کے لئے لکھا ہے کہ وہ کون ہیں؟ اور ہمارا خیال ہے کہ وہ ہم ہیں۔ اسے ہماری قوم نے تسلیم نہیں کیا۔
یزید بن ہرمز سے روایت ہے وہ کہتے ہیں نجدہ بن عامر نے حضرت ابن عباسؓ کو لکھا وہ کہتے ہیں میں حضرت ابن عباسؓ کے پاس موجود تھا جب انہوں نے اس کا خط پڑھا اور جب انہوں نے اس کا جواب لکھا۔ حضرت ابن عباسؓ نے کہا اللہ کی قسم اگر مجھے اسے نجاست سے بچانا نہ ہوتا جس میں وہ گر رہا ہے تو میں اُسے نہ لکھتا، اس کی آنکھ ٹھنڈی نہ ہو۔ وہ کہتے ہیں انہوں نے اس کی طرف لکھا تم نے ان اقرباء کے حصہ کے بارہ میں جن کا اللہ نے ذکر کیا ہے پوچھا ہے کہ وہ کون ہیں؟ ہمارا خیال ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے قربت والے ہم ہیں لیکن ہماری قوم نے اِسے نہیں مانا اور تم نے یتیم کے بارہ میں پوچھا ہے کہ اس کی یتیمی کب ختم ہوگی؟ جب وہ نکاح کی عمر کو پہنچ جائے اور اس میں سمجھ بوجھ پائی جائے اور اس کی طرف اس کا مال لوٹایا جائے تو اس کی یتیمی ختم ہوجاتی ہے۔ اور تم نے یہ (بھی) پوچھا ہے کہ کیا رسول اللہ ﷺ مشرکین کے بچوں میں سے کسی کو قتل کرتے تھے؟ یقینا رسول اللہ ﷺ نے ان میں سے کسی کو قتل نہیں کیا۔ تم بھی ان میں سے کسی کو قتل نہ کرو۔ سوائے اس کے کہ تم ان کے بارہ میں وہ جان لو جو خضر نے اس بچہ کے بارہ میں جان لیا تھا جب انہوں نے اس کو قتل کیا تھا اور تم نے عورت اور غلام کے بارہ میں پوچھا ہے کہ کیا ان دونوں کو مقررہ حصہ دیا جائے گا جب وہ جنگ میں شامل ہوں۔ ان کے لئے کوئی مقررہ حصہ نہیں سوائے اس کے کہ لوگوں کے غنائم میں سے انہیں (کچھ) عطا کیا جائے۔