بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 129 hadith
حضرت عبد اللہ ؓ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ سجدے میں تھے اور آپؐ کے گرد قریش کے لوگ تھے۔ کہ عقبہ بن ابی مُعَیط اونٹنی کی بچہ دانی لایا اور رسول اللہ ﷺ کی پشت پر ڈال دی اور آپؐ نے اپنا سر نہیں اُٹھایا۔ پھر حضرت فاطمہؓ آئیں اور اسے آپؐ کی پشت سے ہٹا دیا اور جس نے ایسا کیا تھا اس کے خلاف دعا کی۔ اور آپ ﷺ نے کہا اے اللہ تو قریش کے سرداروں پر گرفت فرما۔ ابو جہل بن ہشام اور عتبہ بن ربیعہ اور عقبہ بن ابی معیط اور شیبہ بن ربیعہ اور امیہ بن خلف یا ابی بن خلف، شعبہ کو اس بارہ میں شک ہے پر گرفت کر۔ راوی کہتے ہیں میں نے انہیں بدر کے دن دیکھا۔ وہ بدر کے دن قتل ہوئے اور انہیں گڑھے میں ڈال دیا گیا۔ مگر امیہ یا ابی کے جس کے اعضاء ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے تھے اور وہ گڑھے میں نہیں ڈالا گیا۔ ابو اسحاق اسی سند سے اس جیسی روایت کرتے ہیں اور یہ مزید کہتے ہیں کہ آپؐ تین مرتبہ (کہنے کو) پسند فرماتے تھے۔ آپؐ کہتے تھے۔ اے اللہ! تو قریش پر گرفت کر، اے اللہ! تو قریش پر گرفت کر اے اللہ! تو قریش پر گرفت کر۔ تین دفعہ۔ اور انہوں نے ان میں ولید بن عتبہ اور امیہ بن خلف کا ذکر کیا ہے۔ اور (اس میں) شک نہیں کیا۔ ابو اسحاق کہتے ہیں کہ میں ساتویں کو بھول گیا ہوں۔
حضرت عبد اللہ ؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بیت اللہ کی طرف رُخ کیا اور قریش کے چھ لوگوں کے خلاف دعا کی ان میں ابو جہل اور امیہ بن خلف اور عتبہ بن ربیعہ اور شیبہ بن ربیعہ اور عقبہ بن ابی معیط تھے اور میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں نے انہیں بدر میں گرے ہوئے دیکھا دھوپ نے ان کی شکلیں بگاڑ دی تھیں اور وہ دن سخت گرم تھا۔
ابن شہاب سے روایت ہے کہ مجھے عروہ بن زبیر ؓ نے بتایا کہ نبی ﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہؓ نے انہیں بتایا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا۔ یا رسول اللہ! آپؐ پر احد کے دن سے بھی زیادہ سخت کوئی دن آیا ہے؟ آپؐ نے فرمایا میں نے تیری قوم سے بہت دکھ اُٹھایا ہے اور جو دکھ میں نے اُن سے عقبہ کے دن اٹھایا وہ سب سے زیادہ سخت تھا۔ جب میں نے اپنے آپ کو ابن عبد یا لیل بن عبد کلال پر پیش کیا تو جو میں چاہتا تھا۔ اس نے وہ جواب نہ دیا۔ پس میں چلا اور میں فکر مند اپنے دھیان میں جا رہا تھا۔ جب میں قرن الثعالب پہنچا تو یہ کیفیت دور ہوئی اور میں نے اپنا سر اُٹھایا تو دیکھا کہ ایک بادل نے مجھ پر سایہ کیا ہے میں نے دیکھا اس میں جبرائیل ہیں۔ انہوں نے مجھے پکار کر کہا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے بارہ میں تمہاری قوم کی بات سن لی ہے اور جو انہوں نے تمہیں جواب دیا ہے اور تمہاری طرف پہاڑوں کا فرشتہ بھیجا ہے کہ تم جو چاہو اسے ان کے بارہ میں حکم کرو۔ آپؐ فرماتے ہیں پھر مجھے پہاڑوں کے فرشتہ نے پکارا اور مجھے سلام کہا پھر کہا اے محمد ؐ! اللہ تعالیٰ نے آپؐ قوم کی بات جو انہوں نے آپؐ سے کہی سن لی ہے اور میں پہاڑوں کا فرشتہ ہوں اور میرے رب نے مجھے آپ کی طرف بھیجا ہے تا کہ آپؐ مجھے اپنے معاملہ میں جو چاہیں حکم دیں۔ اگر آپؐ چاہیں تو میں ان دو پہاڑوں کو ان پر ملا دوں۔ تو رسول اللہ ﷺ نے اسے فرمایا نہیں میں امید کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کی اولاد سے ایسے لوگ پیدا کرے گا جو ایک اللہ کی عبادت کریں گے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔
حضرت جندب ؓ بن سفیان سے روایت ہے وہ کہتے ہیں ایک غزوئہ میں رسول اللہ ﷺ کی انگلی زخمی ہوگئی اور اس میں سے خون نکلا۔ آپؐ نے فرمایا تو صرف ایک انگلی ہے جس سے (اللہ کی راہ میں) خون نکلا ہے اور جو بھی تکلیف تجھے پہنچی ہے اللہ کی راہ میں پہنچی ہے۔ اسود بن قیس سے اسی سند سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ ایک غار میں تھے تو آپؐ کی انگلی زخمی ہوئی۔
اسود بن قیس سے روایت ہے انہوں نے حضرت جندبؓ سے سنا وہ کہتے ہیں کہ جبرائیل نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آنے میں دیر کی تو مشرکوں نے کہا محمد (رسول اللہ ﷺ) کو چھوڑ دیا گیا ہے۔ تو اللہ عزّو جل نے (یہ آیت) نازل فرمائی: وَالضُّحٰی وَاللَّیْلِ اِذَا سَجیٰ۔۔۔ قسم ہے دن کی جب وہ خوب روشن ہو چکا ہو اور رات کی جب وہ خوب تاریک ہو جائے تجھے تیرے رب نے نہ چھوڑا ہے اور نہ تجھ سے ناراض ہوا ہے۔
اسود بن قیس سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں نے حضرت جندبؓ بن سفیان سے سنا وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ بیمار ہوئے تو دو راتیں یا تین راتیں آپؐ نے قیام نہ فرمایا۔ آپؐ کے پاس ایک عورت آئی اور اس نے کہا اے محمد( ﷺ) میرا خیال ہے تیرے شیطان نے تجھے چھوڑ دیا ہے میں نہیں دیکھ رہی کہ وہ تمہارے پاس آتا ہے۔ راوی کہتے ہیں پھر اللہ عزّو جل نے (یہ آیت) نازل فرمائی : وَالضُّحٰی وَاللَّیْلِ اِذَا سَجیٰ۔۔۔قسم ہے دن کی جب وہ خوب روشن ہو چکا ہو اور رات کی جب وہ خوب تاریک ہو جائے تیرے رب نے نہ چھوڑا ہے اور نہ تجھ سے ناراض ہوا ہے ۔
عروہ سے روایت ہے کہ حضرت اسامہ بن زیدؓ نے انہیں بتایا کہ نبی ﷺ ایک گدھے پر سوار ہوئے جس پر پالان تھا اور اس کے نیچے فدک کی چادر تھی اور آپؐ نے اپنے پیچھے اسامہؓ کو بٹھایا۔ آپؐ حضرت سعد بن عبادہؓ کی عیادت کے لئے بنی حارث بن خزرج قبیلہ میں تشریف لے گئے۔ یہ بدر کے واقعہ سے پہلے کی بات ہے۔ آپؐ ایک مجلس کے پاس سے گزرے جس میں مسلمان اور مشرکین بتوں کے پجاری اور یہود ملے جلے بیٹھے تھے۔ ان میں عبد اللہ بن اُبیَ بھی تھا اور اس مجلس میں عبد اللہ بن رواحہؓ بھی تھے۔ جب مجلس میں جانور کی گرد پہنچی تو عبد اللہ بن اُبیَ نے اپنی ناک اپنی چادر سے ڈھانپ لی پھر کہنے لگا ہم پر گرد نہ ڈالو۔ نبی ﷺ نے انہیں السلام علیکم کہا پھر ٹھہرے اور (سواری سے) اُترے اور انہیں اللہ کی طرف بلایا اور ان پر قرآن پڑھا۔ عبد اللہ بن ابی کہنے لگا اے شخص یہ اچھی بات نہیں، اگر جو تم کہتے ہو سچ ہے تو ہماری مجالس میں ہمیں تکلیف نہ دو اور اپنے ڈیرہ کی طرف لوٹ جاؤ اور جو تمہارے پاس آئے اس کے پاس بیان کرو۔ عبد اللہ بن رواحہؓ نے کہا آپؐ ہماری مجالس میں تشریف لایا کریں ہم یہ پسند کرتے ہیں۔ پھر مسلمان اور مشرک اور یہود ایک دوسرے کو برا بھلا کہنے لگے یہاں تک کہ انہوں نے ارادہ کیا کہ ایک دوسرے پر حملہ کریں۔ راوی کہتے ہیں نبی ﷺ انہیں تحمل کی تلقین کرتے رہے۔ پھر آپؐ اپنی سواری پر سوار ہوئے یہاں تک کہ حضرت سعد بن عبادہؓ کے پاس آئے اور فرمایا اے سعد کیا تم نے نہیں سنا جو ابو حباب نے کہا ؟ آپؐ کی مراد عبد اللہ بن اُبیَ سے تھی۔ اس نے یہ یہ کہا ہے۔ انہوں نے کہا یا رسولؐ اللہ! اس سے درگزر فرمائیے اور اسے معاف کیجئے۔ اللہ کی قسم ! اللہ نے آپ کو عطا فرمایا ہے جو بھی عطا فرمایا ہے۔ اس علاقہ والوں نے تو اس پر مصالحت کی تھی کہ اسے تاج پہنائیں اور اس کی دستار بندی کریں۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان کے اس ارادہ کو اس حق کی وجہ سے جو اس نے آپؐ کو دیا ہے رد کر دیا۔ اس کو غصہ آیا اس وجہ سے اس نے وہ کیا جسے آپؐ نے ملاحظہ فرمایا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے اس سے درگزر فرمایا۔ عقیل کی روایت میں ہے کہ یہ اس سے پہلے کی بات ہے جب عبد اللہ مسلمان ہوا تھا۔
حضرت انسؓ بن مالک سے روایت ہے وہ کہتے ہیں نبی ﷺ سے عرض کیا گیا اگر آپؐ عبداللہ بن اُبیَ کے پاس تشریف لے جاتے۔ راوی کہتے ہیں آپؐ اُس کی طرف چلے اور آپؐ گدھے پر سوار تھے (دوسرے) مسلمان (بھی) چلے اور وہ بنجر شورہ زمین تھی۔ جب نبی ﷺ اس کے پاس آئے۔ اس نے کہا ہم سے دور رہو کیونکہ تمہارے گدھے کی بو نے ہمیں تکلیف دی ہے۔ راوی کہتے ہیں انصار کے ایک شخص نے کہا اللہ کی قسم! رسول اللہ ﷺ کے گدھے کی بو تجھ سے زیادہ اچھی ہے۔ راوی کہتے ہیں عبداللہ کی قوم کا ایک شخص ناراض ہوا۔ اور دونوں طرف کے لوگوں کو غصہ آیا۔ راوی کہتے ہیں اور وہ ایک دوسرے کو چھڑی، ہاتھوں اور جوتوں سے مارنے لگے۔ راوی کہتے ہیں ہم تک یہ روایت پہنچی ہے کہ ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے۔ ’’اگر مؤمنوں میں سے دو جماعتیں آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کرواؤ‘‘۔
حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہمارے لئے کون دیکھے گا کہ ابو جہل کا کیا ہوا؟ ابن مسعودؓ گئے اور اسے اس حال میں پایا کہ عفراء کے دو بیٹوں نے اسے ضرب لگائی تھی یہاں تک کہ وہ گھٹنوں کے بل گر پڑا۔ راوی کہتے ہیں انہوں (ابن مسعودؓ) نے اس کی داڑھی پکڑ لی اور کہا تو ابو جہل ہے؟ تو اس نے کہا کیا تم نے اس سے بڑے کسی آدمی کو قتل کیا ہے؟ یا اس نے کہا اس کو اس کی قوم نے قتل کیا ہو؟ راوی کہتے ہیں ابو مجلز نے کہا کہ ابوجہل نے کہا اے کاش کسان کے علاوہ مجھے کوئی اور مارتا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے (مَنْ یَّنْظُرُ لَنَا مَا صَنَعَ اَبُوْ جَہْلٍ کی بجائے) مَنْ یَّعْلَمُ لِیْ مَا فَعَلَ اَبُوْ جَہْلٍ فرمایا۔
عمر و سے روایت ہے کہ میں نے حضرت جابرؓ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کعب بن اشرف سے کون نمٹے گا؟ اس نے اللہ اور اس کے رسول کو اذیت دی ہے۔ محمدؓ بن مسلمہ نے کہا یا رسولؐ اللہ! کیا آپؐ چاہتے ہیں کہ میں اسے قتل کر دوں۔ آپؐ نے فرمایا ہاں اس نے کہا مجھے کچھ کہنے کی اجازت دیں۔ آپؐ نے فرمایا کہو۔ پس وہ اس کے پاس آئے اور اس سے باتیں کیں اور ان دونوں کے درمیان جو معاملہ تھا اسے بیان کیا اور کہا یہ شخص صدقہ چاہتا ہے اور اس نے ہم پر بوجھ ڈال دیا ہے۔ جب اس نے یہ بات سنی اس نے کہا ابھی تو اور۔۔۔ اللہ کی قسم! تم ضرور اس سے اکتا جاؤ گے۔ انہوں نے کہا اب تو ہم اس کی اتباع کر چکے ہیں اور اسے چھوڑنا برا سمجھتے ہیں یہاں تک کہ ہم اس کا انجام دیکھ لیں۔ انہوں نے کہا میں چاہتا ہوں تم مجھے قرض دو۔ اس نے کہا تم میرے پاس کیا رہن رکھو گے؟ انہوں نے کہا تم کیا چاہتے ہو؟ اس نے کہا تم اپنی عورتیں میرے پاس گروی رکھو۔ انہوں نے کہا تم عرب کے خوبصورت ترین شخص ہو کیا ہم تمہارے پاس اپنی عورتیں رہن رکھ دیں؟ اس نے اس سے کہا تم اپنی اولاد میرے پاس رہن رکھ دو۔ اس نے کہا ہمارے کسی بیٹے کو برا بھلا کہا جائے گا اور کہا جائے گا کہ (صرف) دو وسق کھجور میں رہن رکھا گیا ہے۔ لیکن ہم تمہارے پاس اسلحہ رہن رکھیں گے۔ اس نے کہا ہاں۔ اس نے اس سے وعدہ لیا کہ اس کے پاس حارث اور ابی عبس بن جبر اور عباد بن بشر لے کر آئے گا۔ راوی کہتے ہیں پس وہ آئے اور انہوں نے رات کو اسے پکارا۔ وہ ان کے پاس آیا۔ عمرو کے علاوہ راوی کہتے ہیں کہ اس کی بیوی نے اسے کہا یقینا میں ایسی آواز سن رہی ہوں گویا کہ وہ خون کی آواز ہے۔ اس نے کہا یہ محمد بن مسلمہ، اس کا رضاعی بھائی ابو نائلہ ہے۔ یقیناً بڑا آدمی جب رات کو نیزہ کے وار کی طرف بھی بلایا جائے تو ضرور جائے گا۔ محمد (بن مسلمہ) نے (اپنے ساتھیوں سے) کہا جب وہ آئے گا تو میں اپنا ہاتھ اس کے سر کی طرف بڑھاؤں گا۔ پس جب میں اس پر قابو پا لوں تو تم اس کو پکڑ لینا۔ وہ کہتے ہیں وہ اترا اور جب وہ اترا تو وہ اسلحہ سے لیس تھا تو انہوں نے کہا کہ ہمیں تجھ سے خوشبو آرہی ہے۔ اس نے کہا ہاں فلاں عورت میری بیوی ہے اور وہ عرب کی عورتوں میں سب سے زیادہ خوشبودار ہے۔ اس نے کہا کہ پھر مجھے اجازت دو کہ میں یہ (خوشبو) میں سے سونگھ لوں۔ اس نے کہا ہاں سونگھ لو۔ پس وہ قریب ہوا اور خوشبو سونگھی پھر کہا کیا تم مجھے دوبارہ (سونگھنے) کی اجازت دیتے ہو؟ وہ کہتے ہیں پس انہوں نے اس کو قابو کر لیا اور کہا پکڑ لو۔ راوی کہتے ہیں پھر انہوں نے اسے قتل کر دیا۔