بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 70 hadith
ایاس بن سلمہ بن الاکوع اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ نمازِ جمعہ ادا کرتے تھے پھر ہم لوٹتے تھے تو دیواروں کی اتنی چھاؤں نہیں پاتے تھے جس کا سایہ ہم لے سکیں۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ جمعہ کے دن کھڑے ہو کر خطبہ دیتے تھے پھر تشریف رکھتے پھر کھڑے ہو جاتے راوی کہتے ہیں کہ جس طرح لوگ آج کل کرتے ہیں۔
حضرت جابر بن سمرہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ کے دو خطبے ہوتے تھے۔ آپؐ ان دونوں کے درمیان بیٹھتے تھے۔ آپؐ قرآن پڑھتے اور لوگوں کو نصیحت فرماتے۔
حضرت جابر بن سمرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ کھڑے ہو کر خطبہ دیتے تھے پھر بیٹھ جاتے پھر کھڑے ہوجاتے۔ آپؐ کھڑے ہو کر خطبہ دیتے تھے پس جس نے تمہیں یہ بتایا کہ آپؐ بیٹھ کر خطبہ دیتے تھے تو اس نے غلط کہا۔ پس اللہ کی قسم! میں نے آپؐ کے ساتھ دو ہزار سے زائد نمازیں پڑھی ہیں۔
حضرت جابر بن عبداللہؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ جمعہ کے دن کھڑے ہو کر خطبہ دے رہے تھے۔ شام سے ایک تجارتی قافلہ آیا۔ لوگ اس کی طرف چلے گئے یہاں تک کہ سوائے بارہ آدمیوں کے کوئی بھی نہ رہا تب یہ آیت اتری جو سورۃ جمعہ میں ہے۔ وَاِذَا رَأَوْا تِجَارَۃً اَوْ لَھْوَنِ انفَضُّوْا اِلَیْھَا وَتَرَکُوْکَ قَائِمًا (سورۃ الجمعۃ: 12) اور جب یہ لوگ تجارت یا کھیل کی بات دیکھتے ہیں تو تجھ سے الگ ہوکر اس کی طرف چلے جاتے ہیں اور تجھ کو اکیلا چھوڑ دیتے ہیں تو ان سے کہہ دے جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ کھیل کی بات بلکہ تجارت سے بھی اچھا ہے اور اللہ بہتر رزق دینے والا ہے۔ ایک اور روایت میں رسول اللہ ﷺ کے بارہ میں یَخْطُبُ قَائِماً کی بجائے یَخْطُبُ کا لفظ ہے۔
حضرت جابر بن عبداللہؓ سے روایت ہے کہ ہم جمعہ کے دن رسول اللہﷺ کے ساتھ تھے کہ ایک تجارتی قافلہ آیا راوی کہتے ہیں کہ لوگ اس کی طرف چلے گئے اور سوائے بارہ آدمیوں کے کوئی بھی نہ رہا اور میں ان میں تھا وہ کہتے ہیں تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ وَاِذَا رَأَوْا تِجَارَۃً اَوْ لَھْوًا انْفَضُّوْا اِلَیْھَا وَتَرَکُوْکَ قَائِمًا (سورۃ الجمعۃ: 12) اور جب یہ لوگ تجارت یا کھیل کی بات دیکھتے ہیں تو تجھ سے الگ ہو کر اس کی طرف چلے جاتے ہیں اور تجھ کو اکیلا چھوڑ دیتے ہیں تو ان سے کہہ دے جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ کھیل کی بات بلکہ تجارت سے بھی اچھا ہے اور اللہ بہتر رزق دینے والا ہے۔
حضرت جابر بن عبداللہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ جمعہ کے دن کھڑے تھے کہ مدینہ کی طرف ایک قافلہ آیا رسول اللہﷺ کے صحابہ جلدی سے اس کی طرف چلے گئے یہاں تک کہ آپؐ کے پاس سوائے بارہ آدمیوں کے کوئی بھی نہ رہا۔ ان (بارہ) میں حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ تھے۔ راوی کہتے ہیں تب یہ آیت نازل ہوئی وَاِذَا رَأَوْا تِجَارَۃً اَوْ لَھْوَ اِنْفَضُّوْا اِلَیْھَا (سورۃ الجمعۃ: 12)
حضرت کعب بن عُجرہؓ سے روایت ہے کہ وہ مسجد میں داخل ہوئے تو عبد الرحمان بن ام الحکم بیٹھ کر خطبہ دے رہے تھے اس پہ انہوں نے کہا کہ اس لا علم کو دیکھو بیٹھ کر خطبہ دے رہا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَاِذَا رَأَوْا تِجَارَۃً اَوْ لَھْوَنِا انْفَضُّوْا اِلَیْھَا وَتَرَکُوْکَ قَائِمًا (سورۃ الجمعۃ: 12) اور جب وہ کوئی تجارت یا دل بہلاوہ دیکھیں گے تو اس کی طرف دوڑ پڑیں گے اور تجھے اکیلا کھڑا ہوا چھوڑ دیں گے۔
حضرت عبد اللہ بن عمرؓ اور حضرت ابو ہریرہؓ دونوں نے بیان کیا کہ انہوں نے رسول اللہﷺ کو لکڑی کے منبر پر فرماتے ہوئے سنا کہ لوگ جمعہ چھوڑنے سے ضرور باز آ جائیں ورنہ اللہ ان کے دلوں پر ضرور مہر کر دے گا پھر وہ غافلوں میں سے ہو جائیں گے۔
حضرت جابر بن سمرہؓ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہﷺ کے ساتھ نماز پڑھا کرتا تھا آپؐ کی نماز بھی درمیانی ہوتی تھی اور خطبہ بھی درمیانہ ہوتا تھا۔