بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 70 hadith
حضرت جابر بن عبد اللہؓ سے روایت ہے اس اثناء میں کہ نبی ﷺ جمعہ کے دن خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ ایک شخص آیا نبی ﷺ نے اس سے فرمایا اے فلاں کیا تم نے نماز پڑھی ہے؟ اس نے کہا نہیں آپؐ نے فرمایا اُٹھو اور نماز پڑھو۔ ایک اور روایت میں دو رکعتوں کا ذکر نہیں
حضرت جابر بن عبد اللہؓ کہتے ہیں ایک شخص مسجد میں داخل ہوا اور رسول اللہﷺ جمعہ کے دن خطبہ ارشاد فرما رہے تھے نبیﷺ نے اس سے فرمایا کیا تم نے نماز پڑھی ہے؟ اس نے کہا نہیں آپؐ نے فرمایا اُٹھو اور دو رکعت نماز پڑھو۔ قتیبہ کی روایت میں قُمْ کے الفاظ نہیں ہیں۔
حضرت جابر بن عبد اللہؓ کہتے ہیں ایک شخص آیا اور نبیﷺ جمعہ کے دن منبر پر خطبہ ارشاد فرما رہے تھے آپؐ نے اس سے فرمایا کیا تم نے دو رکعت پڑھی ہیں؟ اس نے کہا نہیں آپؐ نے فرمایا نماز پڑھو۔
حضرت جابر بن عبد اللہؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے خطبہ دیا اور فرمایا جب تم میں سے کوئی جمعہ کے دن آئے اور امام آچکا ہو تو چاہیے کہ وہ دو رکعت پڑھ لے۔
حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ ُسلیکؓ غطفانی جمعہ کے دن آئے اور رسول اللہﷺ منبر پر تشریف فرما تھے۔ ُسلیکؓ نماز پڑھنے سے پہلے بیٹھ گئے۔ نبیﷺ نے اسے فرمایا کیا تم نے دو رکعت پڑھی ہیں؟ اس نے کہا نہیں۔ آپؐ نے فرمایا اٹھو اور دو (رکعت) پڑھو۔
حضرت جابرؓ بن عبد اللہ سے روایت ہے کہ سلیکؓ غطفانی جمعہ کے دن آئے اور رسول اللہﷺ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے وہ بیٹھ گئے۔ آپؐ نے ان سے کہا اے سلیکؓ اُٹھو اور دو رکعتیں پڑھو اور ان میں اختصار کرو، پھر (آپؐ نے) فرمایا جب تم میں سے کوئی جمعہ کے دن آئے اور امام خطبہ دے رہا ہو تو اسے چاہیے کہ وہ دو رکعتیں پڑھے مگر مختصر پڑھے۔
ابو رفاعہؓ کہتے ہیں کہ میں نبیﷺ کے پاس پہنچا اور آپؐ خطبہ دے رہے تھے وہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! ایک مسافر آدمی اپنے دین کے بارہ میں سوال کرنے آیا ہے اور نہیں جانتا کہ اس کا دین کیا ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہﷺ میری طرف متوجہ ہوئے اور اپنا خطبہ چھوڑ دیا یہاں تک کہ میرے پاس پہنچ گئے پھر (آپؐ کے لئے) ایک کرسی لائی گئی میرا خیال ہے کہ اس کے پائے لوہے کے تھے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ اس پر بیٹھ گئے اور جو اللہ نے آپ کو سکھایا ہے اس میں سے مجھے سکھانے لگے پھر آپؐ اپنے خطبہ کی طرف آئے اور اسے آخر تک مکمل کیا۔
ابن ابی رافع سے روایت ہے کہ مروان نے حضرت ابوہریرہؓ کو مدینہ پر اپنا قائم مقام مقرر کیا اور خود مکہ گیا ہمیں حضرت ابوہریرہؓ نے جمعہ پڑھایا اور سورۃ جمعہ کے بعد دوسری رکعت میں اِذَا جَائَ کَ الْمُنَافِقُوْنَ (سورۃ المنافقون) پڑھی۔ راوی کہتے ہیں جب ابو ہریرہؓ (جمعہ سے) فارغ ہوئے میں ان سے ملا اور ان سے کہا کہ آپ نے دو سورتیں پڑھی ہیں جو حضرت علیؓ بن ابی طالب کوفہ میں پڑھا کرتے تھے۔ حضرت ابوہریرہؓ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو جمعہ کے دن ان دونوں سورتوں کو پڑھتے سنا ہے۔ عبیداللہ بن ابی رافع سے روایت ہے کہ مروان نے حضرت ابوہریرہؓ کو قائم مقام مقرر کیا۔ ایک اور روایت میں فَقَرَئَ بَعْدَ سُوْرَۃِ الْجُمُعَۃِ فِی الرَّکْعَۃِ الْآخِرَۃِ اِذَا جَائَ کَ الْمُنَافِقُوْنَ کی بجائے فَقَرَئَ سُوْرَۃَ الْجُمُعَۃِ فِی السَّجْدَۃِ الْاُوْلٰی وَفِی الْآخِرَۃِ اِذَا جَائَ کَ الْمُنَافِقُوْنَ کے الفاظ ہیں۔
حضرت نعمان بن بشیرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ دونوں عیدوں اور جمعہ میں سورۃ اعلیٰ اور سورۃ غاشیہ پڑھتے تھے وہ کہتے ہیں جب عید اور جمعہ ایک ہی دن میں جمع ہو جاتے پھر بھی آپؐ ان دونوں سورتوں کو دونوں نمازوں میں پڑھا کرتے تھے۔
ضحاک بن قیس نے حضرت نعمان بن بشیرؓ کو سوال کرتے ہوئے لکھا کہ جمعہ کے دن رسول اللہﷺ سورۃ جمعہ کے علاوہ کونسی (سورۃ) پڑھتے تھے؟ انہوں نے کہا آپؐ ھَلْ اَتَاکَ (سورۃ الغاشیہ) پڑھتے تھے۔