حضرت سعید بن مسیبؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو ہریرہؓ نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جمعہ کے دن جب امام خطبہ دے رہا ہو اور تم اپنے ساتھی سے کہو کہ خاموش ہو جاؤ تو تم نے لغو کام کیا۔
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا جمعہ کے دن جب امام خطبہ دے رہا ہو اور تم اپنے ساتھی سے کہو کہ خاموش رہو تو تم نے لغو کام کیا ابو زنا د کہتے ہیں کہ یہ (لغیتَ) حضرت ابو ہریرہؓ کی بولی ہے اور (یہ لفظ) لَغَوتََ ہے۔
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے جمعہ کے دن کا ذکر کیا اور فرمایا اس میں ایک گھڑی ہوتی ہے اگر ایک مسلمان بندہ نماز پڑھتے ہوئے اس سے موافقت کر جائے اور اللہ سے کچھ مانگے تو وہ ضرور اسے عطاء کر دیتا ہے۔ قتیبہ نے اپنی روایت میں مزید یہ کہا کہ آپؐ نے اس (گھڑی) کے چھوٹا ہونے کا اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ابو القاسم ﷺ نے فرمایا جمعہ میں ایک ایسی گھڑی ہوتی ہے جو کوئی مسلمان کھڑے نماز پڑھتے ہوئے اس سے موافقت کر جائے اور اللہ سے خیر مانگے تو وہ ضرور اسے عطاء کر دیتا ہے اور آپؐ نے ہاتھ کے اشارہ سے اس کو بہت چھوٹا بہت مختصر بتایا۔
عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . وَلَمْ يَقُلْ وَهِيَ سَاعَةٌ خَفِيفَةٌ .
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جمعہ میں ایک ایسی گھڑی ہوتی ہے اگر ایک مسلمان اس سے موافقت کر جائے اور اس میں اللہ سے خیر مانگے تو وہ ضرور اسے عطاء کر دیتا ہے۔ آپؐ نے فرمایا وہ بہت مختصر گھڑی ہے۔ ہمام بن منبہ کی روایت میں حضرت ابو ہریرہؓ نے نبیﷺ سے جو روایت کی ہے اس میں یہ نہیں کہا کہ وہ گھڑی مختصر ہے۔
ابو بردہ بن حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ نے مجھ سے کہا کیا تم نے اپنے والد سے جمعہ کی گھڑی کی کیفیت کے بارہ میں رسول اللہﷺ سے حدیث بیان کرتے سنا ہے؟ وہ کہتے ہیں میں نے کہا ہاں میں نے سنا وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ وہ گھڑی امام کے بیٹھنے سے نماز کے ختم ہونے کے درمیان ہوتی ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا بہترین دن جس پر سورج طلوع ہوا جمعہ کا دن ہے اس میں آدمؑ پیدا کیا گیا اور اس میں جنت میں داخل کیا گیا اور اس (دن) میں جنت سے نکالا گیا۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا بہترین دن جس پر سورج طلوع ہوا جمعہ کا دن ہے اسی میں آدمؑ پیدا کیا گیا اور اسی میں جنت میں داخل کیا گیا اور اسی (دن) اس میں سے نکالا گیا اور قیامت بھی جمعہ کے دن ہی قائم ہوگی۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ ہم بعد میں آنے والے ہیں اور ہم قیامت کے دن (سب سے) سبقت لے جانے والے ہیں۔ اگرچہ ہر اُمّت کو کتاب ہم سے پہلے دی گئی تھی اور ہمیں ان کے بعد (کتاب) دی گئی پھر یہ (جمعہ) وہ دن ہے جسے اللہ نے ہم پر فرض کیا ہے اور اللہ نے ہماری اس کی طرف رہنمائی فرمائی اور لوگ اس بارہ میں ہم سے پیچھے ہیں یہود کل اور نصاریٰ پرسوں۔ یہود ہفتہ کے روز اور نصاریٰ اتوار کے روز اجتماعی عبادت کرتے ہیں۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ ہم بعد میں آنے والے قیامت کے دن پہلے ہوں گے اور ہم سب سے پہلے جنت میں داخل ہوں گے اگرچہ انہیں ہم سے پہلے کتاب دی گئی تھی اور ہمیں وہ ان کے بعد دی گئی لیکن انہوں نے اختلاف کیا اور جس حق کے بارہ میں انہوں نے اختلاف کیا اللہ نے اس کی طرف ہماری رہنمائی فرما دی۔ یہ ان کا وہ دن ہے جس کے بارہ میں انہوں نے اختلاف کیا اللہ نے اس کے بارہ میں ہمیں ہدایت فرمائی _ راوی کہتے ہیں جمعہ کا دن _ پس آج کا دن ہمارا ہے اور کل یہود کا اور پرسوں نصاریٰ کا۔