بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 70 hadith
حضرت ابو ہریرہؓ نے ہم سے بیان کیا کہ محمد رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ ہم بعد میں آنے والے قیامت کے دن سبقت لے جانے والے ہوں گے اگر چہ انہیں ہم سے پہلے کتاب دی گئی اور ہمیں ان کے بعد دی گئی اور یہ (جمعہ) ان کا دن ہے جو ان پر فرض کیا گیا تھا پھر انہوں نے اس میں اختلاف کیا اللہ نے اس کی طرف ہماری رہنمائی فرما دی پس وہ اس میں ہمارے پیچھے ہیں یہود کل اور نصاریٰ پرسوں۔
حضرت ابوہریرہؓ اور حضرت حذیفہؓ دونوں کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جو لوگ ہم سے پہلے تھے اللہ نے انہیں جمعہ کے دن کے بارہ میں گمراہ قرار دیا۔ پس یہود کے لئے ہفتہ کا دن اور عیسائیوں کے لئے اتوار کا دن ہے۔ پھر اللہ ہمیں لایا اور اللہ نے جمعہ کے دن کی طرف ہماری راہنمائی فرمائی اور جمعہ ہفتہ اور اتوار اس نے بنائے۔ اسی طرح وہ قیامت کے دن بھی ہم سے پیچھے ہوں گے اور ہم دنیا والوں میں بعد میں آنے والے ہیں قیامت کے دن پہلے ہوں گے جن کا فیصلہ مخلوق سے پہلے ہوگا اور واصل کی روایت میں (المَقْضِیُّ لَھُمْ کے بجائے) المَقْضِیُّ بَینَھُمْ کے الفاظ ہیں۔ حضرت حذیفہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ہماری رہنمائی جمعہ کی طرف کی گئی تھی اور ہم سے پہلوں کو اللہ نے وہ بھُلا دیا۔
حضرت ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جب جمعہ کا دن ہوتا ہے تو مسجد کے دروازوں میں سے ہر دروازے پر فرشتے ہوتے ہیں اور وہ پہلے (آنے والے) پھر پہلے (آنے والے) کا (نام) لکھتے ہیں اور جب امام بیٹھ جاتا ہے تو اپنے رجسٹر لپیٹ لیتے ہیں اور ذکر سننے لگتے ہیں اور اول وقت پر آنے والے کی مثال اس شخص کی مانند ہے جو اونٹ کی قربانی کرتا ہے اور جو بعد میں آنے والا ہے وہ اس کی مانند ہے جو گائے کی قربانی کرتا ہے اس کے بعد آنے والا اس شخص کی مانند ہے جو مینڈھے کی قربانی کرتا ہے پھر آنے والا اس کی طرح ہے جو مرغی کی قربانی کرتا ہے اس کے بعد آنے والا اس کی طرح ہے جو انڈے کی قربانی کرتا ہے۔
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ مسجد کے دروازوں میں سے ہر دروازے پر ایک فرشتہ ہوتا ہے وہ پہلے آنے والے اور پھر پہلے آنے والے کا (نام) لکھتا ہے اور آپؐ نے اونٹ کی قربانی کی مثال دی پھر ان کو تدریجاً نیچے لاتے گئے یہانتک کہ انڈے (کی قربانی کرنے والے) کی طرح چھوٹا قرار دیا۔ پھر جب امام (خطبہ کے لئے آ کر) بیٹھ جاتا ہے تو رجسٹر لپیٹ دیئے جاتے ہیں اور وہ ذکر (سننے) کے لئے حاضر ہو جاتے ہیں۔
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ جس نے غسل کیا پھر جمعہ پر آیا اور جو اُس کے لئے مقدّر تھا نماز پڑھی پھر وہ خاموش رہا یہاں تک کہ وہ خطبہ سے فارغ ہوگیا۔ پھر اس نے (امام کے) ساتھ نماز پڑھی تو اس (جمعہ) اور دوسرے جمعہ کے درمیان اس سے مغفرت کا سلوک کیا جاتا ہے اور تین دن زائد بھی۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جس نے وضوء کیا اور اچھی طرح وضوء کیا پھر وہ جمعہ پر آیا اور اس نے غور سے (خطبہ) سنا اور خاموش رہا تو اس (جمعہ) اور (دوسرے) جمعہ کے درمیان اس سے مغفرت کا سلوک کیا جاتا ہے اور تین دن زائد بھی اور جس نے کنکریوں کو چھوا اس نے لغو کام کیا۔
حضرت جابر بن عبداللہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ نمازِ (جمعہ) ادا کیا کرتے تھے پھر ہم واپس لوٹتے تھے پھر ہم اپنے پانی لانے والے اونٹوں کو آرام دیتے تھے۔ حسن کہتے ہیں میں نے جعفر سے کہا یہ کون سی گھڑی ہوتی تھی؟ انہوں نے کہا سورج کے زوال کا وقت۔
جعفر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں انہوں نے حضرت جابر بن عبد اللہؓ سے پوچھا کہ رسول اللہﷺ جمعہ کب پڑھا کرتے تھے انہوں نے کہا کہ آپؐ جمعہ پڑھتے پھر ہم اپنے اونٹوں کی طرف جاتے اور انہیں آرام دیتے۔ راوی عبد اللہ نے اپنی روایت میں اضافہ کیا کہ جب سورج ڈھلتا تھا اور یہ کہ اونٹوں سے مراد پانی اٹھانے والے اونٹ ہیں۔
حضرت سہلؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم قیلولہ نہ کرتے اور صبح کا کھانا نہ کھاتے مگر جمعہ کے بعد۔ ابن حجر نے مزید کہا کہ رسول اللہ ﷺ کے عہد میں۔
ایاس بن سلمہ بن الاکوع اپنے والد سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ جب سورج کا زوال ہو جاتا تو ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نمازِ جمعہ ادا کرتے تھے پھر ہم سایہ کو تلاش کرتے ہوئے واپس لوٹتے تھے۔