بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 297 hadith
حضرت ابو اُمامہ بن سہلؓ کہتے ہیں کہ ہم نے حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھی۔ پھر ہم نکلے اور حضرت انس بن مالکؓ کے ہاں گئے تو ہم نے انہیں عصر پڑھتے پایا۔ تب میں نے کہا کہ اے چچا! آپؓ نے کون سی نماز پڑھی ہے؟ انہوں نے کہا کہ عصر اور یہی رسول اللہﷺ کی نماز ہے جو ہم آپؐ کے ساتھ پڑھا کرتے تھے۔
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہﷺ نے عصر کی نماز پڑھائی۔ جب آپؐ فارغ ہوئے تو آپؐ کے پاس بنو سلمہ کا کوئی آدمی آیا اور عرض کیا یا رسولؐ اللہ! ہم چاہتے ہیں کہ ہم اپنا اونٹ ذبح کریں اور ہماری خواہش ہے کہ آپؐ اس (موقعہ) پر تشریف لائیں۔ آپؐ نے فرمایا اچھا۔ چنانچہ آپؐ تشریف لے گئے ہم بھی آپؐ کے ساتھ گئے۔ ہم نے دیکھا کہ اونٹ ابھی ذبح نہیں ہوا تھا۔ چنانچہ اسے ذبح کیا گیا پھر اسے کاٹا گیا۔ پھر اس میں سے کچھ پکایا گیا پھر ہم نے کھایا اس سے قبل کہ سورج غروب ہو۔
حضرت رافع ؓ بن خدیج بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ عصر کی نماز پڑھا کرتے تھے۔ پھر اونٹ ذبح کیا جاتا۔ اس کو دس حصوں میں تقسیم کیا جاتا پھر اسے پکایا جاتا، پھر ہم پکا ہوا گوشت کھاتے قبل اس کے کہ سورج غروب ہو جائے۔ ایک اور روایت اوزاعی سے اسی سند سے مروی ہے سوائے اس کے کہ انہوں نے کہا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے عہد میں عصر کے بعد اونٹ ذبح کیا کرتے تھے لیکن انہوں نے یہ نہیں کہا کہ ہم آپؐ کے ساتھ نماز پڑھا کرتے تھے۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس سے عصر کی نماز رہ گئی تو گویا اس کے اہل اور اس کا مال چِھن گئے۔
سالم بن عبداللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس کی عصر کی نماز رہ گئی تو گویا اس کے اہل اور اس کا مال چِھن گئے۔
حضرت علیؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ احزاب کے دن رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ اللہ ان لوگوں کی قبروں اور گھروں کو آگ سے بھر دے کیونکہ انہوں نے ہمیں صلاۃِ وسطیٰ سے روکے رکھا اور مشغول رکھا یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا۔
حضرت علیؓ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے احزاب کے موقعہ پر فرمایا کہ اللہ ان لوگوں کی قبروں یا ان کے گھروں اور ان کے پیٹوں کو آگ سے بھر دے کہ انہوں نے ہمیں صلاۃِ وسطیٰ سے مشغول رکھا یہاں تک کہ سورج غائب ہوگیا۔ شعبہ کو گھروں اور پیٹوں (کے الفاظ) کے بارہ میں شک ہے۔ ایک اور روایت قتادہ سے اسی سند سے مروی ہے جس میں انہوں نے ’’ان کے گھروں اور ان کی قبروں ‘‘ کے الفاظ کے بارہ میں شک نہیں کیا۔
حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے (غزوہ) احزاب کے دِن جب آپؐ خندق میں داخل ہونے والی ایک جگہ پر تشریف فرما تھے فرمایا کہ ان لوگوں نے ہمیں صلاۃِ وسطیٰ سے روک دیا یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا۔ اللہ ان کی قبروں اور گھروں یا آپؐ نے فرمایا ان کی قبروں اور پیٹوں کو آگ سے بھر دے۔
حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے احزاب کے دن فرمایا ان لوگوں نے ہمیں صلاۃِ وسطیٰ ’’نماز عصر‘‘ کے پڑھنے سے روکے رکھا۔ اللہ ان کی قبروں اور گھروں کو آگ سے بھر دے۔ پھر آپؐ نے اسے (نمازِ عصر کو) عشائین مغرب و عشاء کے (وقت کے) دوران پڑھا۔
حضرت عبداللہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ مشرکوں نے رسول اللہﷺ کو نماز عصر سے روکے رکھا یہاں تک کہ سورج سرخ ہو گیا یا کہا زرد ہو گیا تو رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ انہوں نے ہمیں صلٰوۃ وسطیٰ عصر کی نماز سے روکے رکھا اللہ ان کے پیٹوں اور قبروں کو آگ سے بھر دے۔ حضور نے مَلَأَ اللّٰہُ۔۔۔ فرمایا یا حَشَا اللّٰہُ۔۔۔ فرمایا (دونوں لفظوں کے معنی بھرنے کے ہیں۔)