بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 297 hadith
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جب گرمی ہو تو نماز کو ٹھنڈے وقت میں پڑھا کرو کیونکہ گرمی کی شدت بھی جہنم کی لپٹ سے ہے۔ نیز آپؐ نے ذکر فرمایا کہ آگ نے اپنے رب کے حضور شکایت کی تو اس نے اسے ہر سال دو سانسوں کی اجازت دی۔ ایک سانس سردی میں اور ایک سانس گرمی میں۔
حضرت ابو ہریرہؓ رسول اللہﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپؐ نے فرمایا کہ آگ نے کہا کہ اے میرے رب! میرے ایک حصہ نے دوسرے کو کھا لیا ہے پس تو مجھے سانس لینے کی اجازت دے۔ چنانچہ اُس نے اسے دو سانسوں کی اجازت دی۔ ایک سانس سردی میں اور ایک سانس گرمی میں۔ پس جو تم ٹھنڈ یا سردی محسوس کرتے ہو تو وہ بھی جہنم کی سانس ہے اور جو تم گرمی یا شدید دھوپ محسوس کرتے ہو تو یہ بھی جہنم کی سانس ہے۔
حضرت جابر بن سمرہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نمازِ ظہر ادا فرماتے جب سورج ڈھلتا۔
حضرت خبابؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں شدّت ِگرمی میں نماز کا شکوہ کیا مگر آپؐ نے ہمارا شکوہ قبول نہیں فرمایا۔
حضرت خبّابؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپؐ کی خدمت میں گرمی کی شدت کی شکایت کی تو آپؐ نے ہماری شکایت قبول نہ فرمائی۔ زہیر کہتے ہیں کہ میں نے ابو اسحاق سے پوچھا کیا ظہر کے بارہ میں؟ تو انہوں نے کہا ہاں۔ میں نے پوچھا کیا اس کے جلدی پڑھنے کے بارہ میں تو انہوں نے کہا ہاں۔
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ (تپتی زمین کی) گرمی کی شدت میں نماز پڑھتے تھے۔ اگر ہم میں سے کوئی اپنی پیشانی زمین پر نہ لگا سکتا تو اپنا کپڑا بچھا کر اس پر سجدہ کر لیتا۔
حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ جب عصر کی نماز پڑھتے تھے تو سورج ابھی بلند اور روشن ہوتا اور جانے والا عوالی کو جاتا اور عوالی میں ایسے وقت پہنچتا کہ سورج ابھی بلند ہوتا۔ قتیبہ نے عوالی پہنچنے کا ذکر نہیں کیا۔ حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ عصر پڑھتے۔۔۔
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب ہم عصر پڑھتے تو کوئی جانے والا قباء جاتا اور وہ ان کے پاس پہنچتا اور سورج (ابھی) بلند ہوتا۔
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جب ہم عصر پڑھا کرتے تھے تو ایک آدمی نکل کر بنو عمرو بن عوف کی طرف جاتا تو وہ انہیں عصر پڑھتے ہوئے پاتا۔
علاء بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ وہ ظہر کی نماز سے فارغ ہوکر بصرہ میں حضرت انسؓ بن مالکؓ کے گھر گئے۔ ان کا گھر مسجد کے پہلو میں تھا۔ جب ہم ان کے پاس گئے تو انہوں نے پوچھا کیا تم لوگوں نے عصر کی نماز پڑھ لی ہے؟ تو ہم نے ان سے کہا کہ ہم ابھی ظہر سے فارغ ہوکر آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عصر پڑھو۔ ہم کھڑے ہوئے اور نماز ادا کی۔ جب ہم فارغ ہوگئے تو انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ یہ منافق کی نماز ہے جو بیٹھا سورج کو دیکھتا رہتا ہے یہاں تک کہ جب وہ شیطان کے دونوں سینگوں کے درمیان آجاتا ہے تو کھڑا ہوجاتا ہے اور اسے چار رکعتیں ٹھونگے مارتے ہوئے ادا کرتا ہے اور اس میں اللہ کا ذکر تھوڑا ہی کرتا ہے۔