بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 297 hadith
حضرت عائشہؓ کے آزاد کردہ غلام ابو یونس سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ مجھے حضرت عائشہؓ نے حکم فرمایا کہ میں ان کے لئے ایک مُصحف تحریر کروں نیز آپؓ نے فرمایا کہ جب تم اس آیت حَافِظُوا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلََاۃِ الْوُسْطٰی (البقرۃ: 239) پر پہنچو تو مجھے بتا دینا۔ چنانچہ جب میں اس (آیت) پر پہنچا تو آپؓ کو بتایا تو آپؓ نے مجھے یوں لکھوایا حَافِظُوا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلََاۃِ الْوُسْطٰی وَ صَلَاۃِ الْعَصْرِ ترجمہ: (اپنی) نمازوں کی حفاظت کرو بالخصوص درمیانی نماز (یعنی) عصر کی نماز کی اور اللہ کے لئے فرمانبرداری اختیار کرتے ہوئے کھڑے ہو جاؤ۔ حضرت عائشہؓ نے فرمایا کہ میں نے یہ رسول اللہﷺ سے سنا تھا۔
حضرت براء بن عازبؓ سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ آیت حَافِظُوا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلََاۃِ الْعَصْرِ یعنی (اپنی) نمازوں کی حفاظت کرو بالخصوص نماز عصر کی۔ تو جب تک اللہ نے چاہا ہم نے اسے پڑھا پھر اللہ نے اس کو منسوخ فرما دیا اور یہ آیت نازل ہوئی حَافِظُوا عَلَی الصَّلٰوٰتِ وَالصَّلََاۃِ الْوُسْطٰی (البقرۃ: 239) یعنی (اپنی) نمازوں کی حفاظت کرو بالخصوص درمیانی نماز کی تو ایک آدمی نے جو (راوی) شقیق کے پاس بیٹھا ہوا تھا اس نے کہا کہ تب تو یہ نماز عصر ہی ہے۔ حضرت براءؓ نے کہا میں نے تمہیں بتا دیا ہے کہ کیسے (یہ آیت) نازل ہوئی اور کیسے اللہ نے اسے منسوخ کر دیا اور اللہ بہتر جانتا ہے۔ حضرت براءؓ بن عازب سے ہی روایت ہے کہ ہم نے اسے کچھ عرصہ نبیﷺ کے ساتھ پڑھا۔ جیسا کہ فضیل بن مرزوق کی روایت میں ہے۔
حضرت جابر بن عبداللہؓ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن الخطابؓ خندق کے روز کفار قریش کو بُرا بھلا کہنے لگے اور انہوں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! اللہ کی قسم! میں عصر کی نماز نہ پڑھ سکا یہاں تک کہ سورج غروب ہونے لگا تھا۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ خدا کی قسم! میں نے ابھی تک نہیں پڑھی۔ پھر ہم بُطحان گئے۔ رسول اللہﷺ نے وضوء فرمایا اور ہم نے بھی وضوء کیا۔ پھر رسول اللہﷺ نے سورج غروب ہونے کے بعد عصر کی نماز پڑھی۔ پھر اس کے بعد آپؐ نے مغرب پڑھی۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ تمہارے پاس رات اور دن کے فرشتے باری باری آتے رہتے ہیں اور نماز فجر اور عصر کے وقت اکٹھے ہو جاتے ہیں پھر وہ (فرشتے) جنہوں نے تم میں رات گزاری ہوتی ہے (آسمان کی طرف) بلند ہوتے ہیں اور ان کا رب ان سے پوچھتا ہے جبکہ وہ ان سے زیادہ جانتا ہے کہ تم نے میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑا ہے۔ اس پر وہ (فرشتے) کہتے ہیں کہ ہم نے ان کو اس حال میں چھوڑا کہ وہ نماز پڑھ رہے تھے۔ جب ہم ان کے پاس گئے تب بھی وہ نماز پڑھ رہے تھے۔
حضرت جریر بن عبداللہؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہﷺ کے حضور بیٹھے ہوئے تھے کہ آپؐ نے چودھویں رات کے چاند کی طرف دیکھا اور فرمایا بات یہ ہے کہ تم ضرور اپنے رب کو دیکھو گے جس طرح تم اس چاند کو دیکھ رہے ہو اور دیکھنے والوں کا ہجوم اس کے دیکھنے میں روک نہیں بنے گا۔ پس اگر تمہیں طاقت ہو تو سورج طلوع ہونے سے پہلے اور اس کے غروب ہونے سے پہلے کی نماز یعنی عصر اور فجر کے بارہ میں کوئی دوسری چیز تم پر غالب نہ آئے۔ پھر حضرت جریرؓ نے (یہ آیت) پڑھی (ترجمہ) تو اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح بیان کر۔ سورج طلوع ہونے سے قبل اور اس کے غروب ہونے سے قبل۔ ابو اسامہ اور وکیع نے اسی سند سے بیان کرتے ہوئے کہا کہ تم یقینا اپنے رب کے حضور پیش کئے جاؤ گے اور اسے اس طرح دیکھو گے جس طرح تم اس چاند کو دیکھ رہے ہو۔ اور کہا پھر (آیت) پڑھی مگر حضرت جریرؓ کا نام نہیں لیا۔
حضرت عمارہ بن رؤیبہؓ روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جس کسی نے سورج طلوع ہونے اور غروب ہونے سے قبل نماز پڑھی وہ ہر گز آگ میں داخل نہ ہوگا یعنی فجر اور عصر۔ اہلِ بصرہ کے کسی آدمی نے ان سے پوچھا کہ کیا واقعی آپ نے یہ بات رسول اللہﷺ سے سنی ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں۔ اُس آدمی نے کہا کہ میں بھی گواہی دیتا ہوں کہ میں نے یہ بات رسول اللہﷺ سے سنی۔ میرے دونوں کانوں نے اسے سنا اور میرے دل نے اسے محفوظ کر لیا۔
حضرت عمارہ بن رؤبیہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جس نے سورج طلوع ہونے اور غروب ہونے سے پہلے نماز پڑھی وہ آگ میں داخل نہ ہوگا۔ اس وقت ان کے پاس اہلِ بصرہ میں سے ایک آدمی موجود تھا۔ اس نے پوچھا کہ کیا واقعی آپ نے خود یہ بات نبیﷺ سے سنی ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میں بھی اس کی گواہی دیتا ہوں کہ میں نے یہ بات نبیﷺ کو اسی جگہ فرماتے ہوئے آپؐ سے سنی تھی جہاں تم نے آپؐ سے یہ بات سنی تھی۔
ابو بکر اپنے والدؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جو بردَین (ٹھنڈے وقت کی دو نمازیں ) پڑھتا ہے وہ جنت میں داخل ہو گیا۔
حضرت سلمہؓ بن اکوع سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اس وقت مغرب کی نماز پڑھتے جب سورج غروب ہو جاتا اور اوٹ کے پیچھے چھپ جاتا۔
حضرت ابو رافع بن خدیج ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھتے اور ہم میں سے کوئی فارغ ہوکر جاتا تو وہ اپنے تیروں کے گرنے کی جگہ دیکھ سکتا تھا۔