بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 297 hadith
نبی ﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ ایک رات رسول اللہ ﷺ نے عشاء کی نماز جسے عتمہ کہا جاتا ہے تاخیر سے پڑھائی اس وقت تک رسول اللہ ﷺ (گھر سے) باہر تشریف نہ لائے یہانتک کہ حضرت عمرؓ بن الخطاب نے کہا کہ عورتیں اور بچّے سو گئے ہیں۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ باہر تشریف لائے اور آپؐ نے اہلِ مسجد سے ان کے پاس آنے کے بعد فرمایا کہ اس وقت تمہارے علاوہ اہلِ زمین میں کوئی (نماز) کا انتظار نہیں کر رہا اور یہ بات لوگوں میں اسلام پھیلنے سے قبل کی ہے۔ حرملہ نے اپنی روایت میں مزید کہا ہے کہ ابنِ شہاب کہتے ہیں کہ میرے پاس بیان کیا گیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تمہارے لئے مناسب نہیں ہے کہ تم رسول اللہ ﷺ سے نماز (پڑھانے) کے لئے اصرار کرو اور یہ اس وقت کی بات ہے جب حضرت عمر بن خطابؓ نے (نماز کے لئے) پکارا تھا۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ ایک رات نبیﷺ نے عشاء کی نماز تاخیر سے پڑھی یہاں تک کہ رات کا بہت سا حصّہ گزر گیا اور مسجد والے سو گئے۔ پھر آپؐ باہر تشریف لائے اور نماز پڑھائی اور فرمایا اگر میں اپنی امت پر مشقت نہ ڈالتا تو یہ اس (نماز کا وقت) ہوتا۔ عبد الرزاق کی روایت میں (لَوْ لَا اَنْ اَشُقَّ کی بجائے) لَوْ لَا اَنْ یَشُقَّ عَلٰی اُمَّتی کے الفاظ ہیں۔
حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک رات رسول اللہﷺ کے انتظار میں نمازِ عشاء کے لئے ٹھہرے رہے۔ پھر جب رات کا ایک تہائی حصہ گزر گیا یا اس کے بھی بعد آپؐ ہمارے پاس تشریف لائے۔ ہمیں نہیں پتہ کہ آپؐ کو اپنے گھر میں کوئی مصروفیت تھی یا کوئی اور بات تھی۔ جب آپؐ باہر تشریف لائے تو آپؐ نے فرمایا کہ یقینا تم ایسی نماز کا انتظار کر رہے ہو جس کا تمہارے علاوہ کوئی اور مذہب والا انتظار نہیں کر رہا۔ اگر میری امّت پر گراں نہ ہوتا تو ضرور انہیں اسی وقت نماز (عشاء) پڑھاتا۔ پھر آپؐ نے مؤذّن کو حکم فرمایا اس نے نماز کی اقامت کہی اور آپؐ نے نماز پڑھائی۔
حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ ایک رات کسی کام میں مشغول رہنے کی وجہ سے رسول اللہﷺ (عشاء کی نماز) سے رکے رہے اور وہ تاخیر سے پڑھی یہاں تک کہ ہم مسجد میں (بیٹھے بیٹھے) سو گئے، پھر جاگے، پھر سو گئے پھر جاگے۔ تب رسول اللہﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ آج کی رات اہلِ زمین میں تمہارے سوا کوئی نماز کا انتظار نہیں کر رہا۔
حضرت ثابت سے روایت ہے کہ لوگوں نے حضرت انسؓ سے رسول اللہﷺ کی انگوٹھی کے بارہ میں پوچھا۔ انہوں نے بتایا کہ ایک رات نصف رات تک یا نصف رات کے قریب تک آپؐ نے عشاء کی نماز میں تاخیر فرمائی۔ پھر آپؐ تشریف لائے اور فرمایا کہ لوگوں نے نماز پڑھ لی اور وہ سو گئے لیکن تم جب تک نماز کے انتظار میں رہے نماز میں (ہی) رہے۔ حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ گویا میں آپؐ کی چاندی کی انگوٹھی کی چمک دیکھ رہا ہوں پھر انہوں نے اپنی چھنگلی کی بائیں طرف کی انگلی بلند کی۔
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے ایک رات رسول اللہﷺ کا انتظار کیا یہاں تک کہ آدھی رات کے قریب ہو گئی۔ پھر آپؐ تشریف لائے اور نماز پڑھائی پھر آپؐ ہماری طرف متوجہ ہوئے گویا کہ میں آپؐ کے ہاتھ میں چاندی کی انگوٹھی کی چمک دیکھ رہا ہوں۔ ایک اور روایت قُرّہ سے اسی سند سے مروی ہے اور اس میں یہ الفاظ نہیں ثُمَّ اَقْبَلَ عَلَینَا بِوَجْہِہِ یعنی پھر آپؐ نے ہماری طرف توجہ کی۔
حضرت ابو موسیٰ ؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں اور میرے وہ ساتھی جو میرے ساتھ کشتی میں آئے تھے۔ بطحان کے میدان میں اترے تھے جبکہ رسول اللہ ﷺ مدینہ میں تشریف رکھتے تھے۔ ان میں سے کچھ لوگ باری باری ہر روز رات کو عشاء کے قریب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے۔ حضرت ابو موسیٰ ؓ کہتے ہیں کہ میری اور میرے ساتھیوں کی باری رسول اللہ ﷺ کے پاس (جانے کی) آگئی۔ آپؐ اپنے کسی کام میں مشغول تھے اور آپؐ نے نماز تاخیر سے پڑھائی یہاں تک کہ آدھی رات گزر گئی۔ پھر رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور لوگوں کو نماز پڑھائی پھر جب آپؐ اپنی نماز مکمل فرما چکے تو آپؐ نے حاضرین سے فرمایا ٹھہرو میں تمہیں بتاتا ہوں تمہیں بشارت ہو کہ یہ اللہ کی تم پر نعمت تھی کہ اس وقت لوگوں میں سے تمہارے سوا کوئی نماز پڑھنے والا نہیں تھا یا آپؐ نے فرمایا کہ اس وقت تمہارے سوا کسی نے نماز نہیں پڑھی۔ ہم نہیں جانتے کہ دونوں میں سے کون سی بات آپؐ نے فرمائی۔ حضرت ابو موسیٰ ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ سے یہ سننے کے بعد خوشی خوشی واپس گئے۔
ابن جریج بیان کرتے ہیں کہ میں نے عطاء سے پوچھا کہ آپ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ وقت کون سا ہے جس میں مَیں عشاء کی نماز جسے لوگ ’’عتمہ‘‘ کہتے ہیں بطور امام پڑھاؤں یا اکیلے پڑھوں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت ابن عباسؓ کو کہتے ہوئے سنا کہ ایک رات نبیﷺ نے عشاء کی نماز تاخیر سے پڑھائی۔ وہ کہتے ہیں یہانتک کہ لوگ سو گئے۔ پھر جاگے پھر سو گئے اور پھر جاگے۔ اسی اثناء میں حضرت عمر بن خطابؓ کھڑے ہوئے اور عرض کیا نماز! عطاء کہتے ہیں حضرت ابن عباسؓ نے کہا کہ نبیﷺ اپنے سر پر ایک طرف ہاتھ رکھے ہوئے تشریف لائے گویا کہ میں ابھی اس وقت آپؐ کو دیکھ رہا ہوں آپؐ کے سر (مبارک) سے پانی ٹپک رہا ہے۔ آپؐ نے فرمایا کہ اگر میری امت پر گراں نہ ہوتا تو میں انہیں ضرور حکم دیتا کہ وہ اسی وقت نماز پڑھا کریں۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے عطاء سے پوچھا کہ نبیﷺ نے اپنے سر پر ہاتھ کیسے رکھا تھا جیسے ان کو حضرت ابن عباسؓ نے بتایا۔ چنانچہ عطاء نے مجھے بتانے کے لئے اپنی انگلیوں میں فاصلہ رکھ کر ان کے کناروں کو سر کے ایک جانب رکھ کر سر پر سے اس طرح گزارا یہانتک کہ ان کا انگوٹھا کان کے اس کنارہ کو چھونے لگا جو منہ کے قریب ہے پھر کن پٹی اور داڑھی کے قریب تک لائے۔ آپؐ نہ تو کمی کرتے اور نہ ہی جلدی کرتے بلکہ اس طرح کرتے (جیسے بتایا گیا)۔ میں نے عطاء سے پوچھا کہ آپ کو کیا بتایا گیا کہ نبیﷺ نے اس رات (نماز میں) کتنی تاخیر فرمائی؟ انہوں نے کہا کہ مجھے نہیں پتہ۔ عطاء نے کہا کہ مجھے تو یہی زیادہ پسند ہے کہ میں اس نماز (عشاء) کو تاخیر سے پڑھوں خواہ امام ہوں یا اکیلا پڑھوں جس طرح نبیﷺ نے یہ (تاخیر سے) ادا فرمائی۔ ہاں اگر تم پر اس طرح اکیلے پڑھنا گراں گزرے یا جماعت کی صورت میں لوگوں پر (یوں نماز پڑھنا) مشکل ہو اور تم امام ہو تو درمیانے وقت میں یہ (نماز) پڑھ لو نہ زیادہ جلدی نہ ہی تاخیر سے۔
حضرت جابر بن سمرہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عشاء کی نماز تاخیر کر کے پڑھا کرتے تھے۔
حضرت جابر بن سمرہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ تمہاری نماز کی طرح ہی نمازیں پڑھا کرتے تھے لیکن نماز عشاء تمہاری نماز سے کچھ دیر بعد ادا فرماتے تھے۔ اور آپؐ نماز مختصر پڑھاتے۔ ابو کامل کی روایت میں یُخِفُّّ کی بجائے یُخَفِّفُ کا لفظ ہے۔