بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 131 hadith
حضرت جابرؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جس کا کوئی شریک کسی جائیداد یا کھجور کے درختوں میں ہو تو اس کے لئے جائز نہیں کہ وہ (اسے) فروخت کرے یہاں تک کہ وہ اپنے شریک کو اطلاع دے اگر وہ پسند کرے تو وہ لے لے۔ اگر وہ ناپسند کرے تو چھوڑ دے۔
حضرت جابرؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے شفعہ (کے حق) کا فیصلہ اس شراکت میں فرمایا جس کی تقسیم نہیں ہوئی۔ جائیداد ہو یا باغ اس کے لئے جائز نہیں کہ وہ فروخت کرے یہاں تک کہ وہ اپنے شریک کو اطلاع دے اگر وہ چاہے تو لے لے اور اگر وہ چاہے تو چھوڑ دے اور اگر وہ اس کو اطلاع کے بغیر فروخت کر دے تو پھر (وہ شریک) اس کا زیادہ حقدار ہے۔
حضرت جابر بن عبد اللہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا شفعہ (کا حق) ہر شراکت میں ہے۔ زمین ہو، گھر ہو یا باغ۔ اس کی فروخت درست نہیں یہان تک کہ وہ اپنے شریک کو پیش کرے۔ چاہے وہ لے لے یا چھوڑ دے۔ اگر وہ (اس حکم پر چلنے عمل کرنے سے) انکار کرے تو اس کا شریک اس (کو خریدنے کا) زیادہ حقدار ہے سوائے اس کے کہ اس نے اس کو اطلاع کی ہو۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی اپنے ہمسائے کو اپنی دیوار میں لکڑی گاڑنے سے نہ روکے راوی کہتے ہیں پھر ابو ہریرہؓ کہتے تھے یہ کیا بات ہے کہ میں تمہیں اس سے اعراض کرنے والا دیکھتا ہوں خدا کی قسم ! میں اسے تمہارے کندھوں کے درمیان ضرور پھینکوں گا۔ (یعنی میں تمہیں ضرور یہ روایت سناؤں گا)۔
حضرت سعید بن ؓ زید بن عمرو بن نفیل سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے ایک بالشت زمین ظلم سے ہتھیا لی اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے سات زمینوں کا طوق پہنائے گا۔
حضرت سعیدؓ بن زید بن عمرو بن نفیل کے بارہ میں روایت ہے کہ ایک بڑھیا ارویٰ نے ان سے ان کے ایک گھر کے کچھ حصہ کے متعلق جھگڑا کیا تو انہوں نے کہا کہ چلو چھوڑو (یہ اس کو دے دو۔) میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس نے زمین کی ایک بالشت ناحق لی اسے قیامت کے دن سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا۔ (پھر انہوں نے دعا کی) اے اللہ! اگر یہ جھوٹی ہے تو اس کی بینائی زائل کردے اور اس کی قبر اس کے گھر میں بنانا۔ راوی کہتے ہیں پھر میں نے اس عورت کو نابینا ہونے کی حالت میں دیکھا وہ دیوار کو چھو کر چلتی اور کہتی کہ مجھے حضرت سعیدؓ بن زید کی بد دعا لگی۔ ایک دفعہ وہ اپنے گھر میں جا رہی تھی کہ اپنے گھر میں ایک کنویں کے پاس سے گزری اور اس میں گر گئی پھر وہی اس کی قبر ہوا۔
ہشام بن عروہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ارویٰ بنت اویس نے حضرت سعیدؓ بن زید کے خلاف دعوٰی کیا کہ انہوں نے اس کی کچھ زمین پر قبضہ کر لیا ہے۔ چنانچہ وہ اپنا مقدمہ مروان بن حکم کے پاس لے کر گئی۔ سعیدؓ نے کہا کیا جو میں نے رسول اللہﷺ سے سنا ہے اس کے بعد بھی میں اس کی زمین میں سے کچھ لے سکتا ہوں۔ اس (مروان) نے کہا کہ آپ نے رسول اللہﷺ سے کیا سنا ہے؟ انہوں نے کہا میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس نے زمین کی ایک بالشت ازراہ ظلم لی اسے سات زمینوں تک کا طوق پہنایا جائے گا۔ مروان نے کہا اب اس کے بعد میں آپ سے کوئی دلیل نہیں مانگتا۔ پھر انہوں (حضرت سعید بن زیدؓ) نے دعا کی کہ اے اللہ! اگر یہ جھوٹی ہے تو اس کی بینائی زائل کردے اور اسے اس کی زمین میں ہلاک کر دے۔ راوی کہتے ہیں پس وہ مری نہیں یہانتک کہ اس کی بینائی جاتی رہی پھر اس دوران میں کہ وہ اپنی زمین میں چل رہی تھی کہ ایک گڑھے میں گر گئی اور مر گئی۔
حضرت سعید بن زیدؓ سے روایت ہے کہ میں نے نبیﷺ کو فرماتے ہوئے سنا جس نے بالشت بھر زمین پر ظلم کے ساتھ قبضہ کیا، اسے قیامت کے دن سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کوئی شخص بالشت بھر زمین ناحق نہیں لیتا مگر اللہ اسے قیامت کے دن سات زمینوں تک کا طوق پہنائے گا۔
محمد بن ابراہیم سے روایت ہے کہ ابو سلمہ نے ان سے بیان کیا کہ ان کے اور ان کی قوم کے درمیان ایک زمین کے بارہ میں جھگڑا تھا اور یہ کہ وہ حضرت عائشہؓ کے پاس آئے اور آپؓ سے اس کا ذکر کیا۔ آپؓ نے فرمایا اے ابو سلمہ! زمین سے بچو کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ جس شخص نے بالشت بھر زمین ظلم کے ساتھ لی اسے قیامت کے دن سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا۔