بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 131 hadith
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے کھجور کے پھل کے سودے سے منع فرمایا یہانتک کہ وہ رنگ پکڑ جائے۔ ہم نے حضرت انسؓ سے کہا کہ اس کے رنگ پکڑنے سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے کہا کہ وہ سرخ اور زرد ہو جائے۔ بتاؤ تو اگر اللہ (اس کا) پھل روک دے تو تم اپنے بھائی کے مال کے کیسے حقدار ہو سکتے ہو؟
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے پھل کی فروخت سے منع فرمایا یہاں تک کہ وہ رنگ پکڑ جائے۔ لوگوں نے پوچھا کہ رنگ پکڑنے سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے کہا کہ وہ سرخ ہو جائے۔ پھر کہا جب اللہ (اس کا) پھل روک دے تو تم کس طرح اپنے بھائی کے مال کو (اپنے لئے) جائز قرار دو گے؟
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا اگر اللہ (درخت) کو پھل نہ لگائے تو تم میں سے کوئی کیونکر اپنے بھائی کے مال کو (اپنے لئے) جائز سمجھے گا۔
حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے آفات سے نقصان (کی صورت میں قیمت میں) کمی کا ارشاد فرمایا۔
حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ کے زمانہ میں ایک شخص پھلوں کی خرید کے سلسلہ میں جو اس نے خریدے تھے مشکل میں مبتلاء ہوگیا۔ اس کا قرض زیادہ ہوگیا۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا اس کو صدقہ دو۔ لوگوں نے اس کو صدقہ دیا مگر وہ اس کے قرض کی رقم کو پورا نہ کر سکا۔ رسول اللہﷺ نے اس کے قرض خواہوں سے فرمایا جو میسّر ہے لے لو اور تمہارے لئے اس کے سوا کچھ نہیں۔
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ نے جھگڑا کرنے والوں کی آوازیں دروازہ کے پاس سنیں، ان کی آوازیں بلند تھیں۔ ان میں سے ایک دوسرے سے قرض کم کرنے اور کچھ نرمی کیلئے کہہ رہا تھا اور دوسرا کہتا تھا خدا کی قسم میں ہرگز (کمی) نہ کروں گا۔ رسول اللہﷺ ان کے پاس باہر تشریف لائے اور فرمایا کہاں ہے اللہ کا نام لے کر قسم کھانے والا کہ وہ نیکی نہیں کرے گا۔ اس شخص نے کہا یا رسولؐ اللہ! میں (حاضر ہوں)۔ اب یہ جو پسند کرے اس کے لئے ہے۔
حضرت عبداللہؓ بن کعب بن مالک اپنے والد سے روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے ابن ابی حَدرَ دْ سے رسول اللہﷺ کے زمانہ میں مسجد میں قرض کا مطالبہ کیا جو ان کے ذمہ تھا۔ ان دونوں کی آوازیں بلند ہوگئیں - اور آپؐ اپنے گھر میں تشریف فرما تھے - یہاں تک کہ آپؐ نے انہیں سن لیا۔ رسول اللہﷺ ان کی طرف نکلے۔ آپؐ نے اپنے حجرہ کا پردہ ہٹایا اور کعبؓ بن مالک کو آواز دی اور فرمایا اے کعب! انہوں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! میں حاضر ہوں۔ آپؐ نے انہیں اپنے ہاتھ کے اشارہ سے فرمایا اپنے قرضہ میں سے نصف کم کر دو۔ کعبؓ نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! میں نے کر دیا۔ رسول اللہﷺ نے (ابن ابی حدردؓ سے) فرمایا اُٹھو اور یہ ادا کر دو۔ ایک اور روایت میں حضرت کعب بن مالکؓ سے مروی ہے کہ ان کا (کچھ) مال حضرت عبد اللہ بن ابی حدردؓ اسلمی کے ذمہ تھا۔ وہ ان سے ملے اور ان کے پیچھے پڑ گئے ان دونوں نے تکرار کی۔ ان کی آوازیں بلند ہوگئیں۔ رسول اللہﷺ ان کے پاس سے گذرے اور اپنے ہاتھ کے اشارہ سے فرمایا گویا آپؐ فرما رہے تھے آدھا (لے لو۔) حضرت کعبؓ نے قرض میں سے نصف لے لیا اور نصف چھوڑ دیا۔
حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا۔ جو شخص اپنا اصل مال کسی شخص یا (فرمایا) انسان کے پاس پائے جو دیوالیہ ہو چکا ہو تو وہ کسی دوسرے کی نسبت اس مال کا زیادہ حقدار ہے۔ ابن رمح کی روایت میں (اَفْلَسَ کی بجائے) فُلِّسَ کا لفظ ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے اس شخص کے بارہ میں فرمایا جس کے پاس کچھ بھی باقی نہ رہے (اور وہ دیوالیہ ہو جائے) اور اس کے پاس سامان پایا جائے اور وہ جوں کا توں موجود ہو وہ اس مالک کا ہوگا جس نے اسے فروخت کیا تھا۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جب ایک شخص دیوالیہ ہو جائے اور کوئی شخص اپنا سامان اسی حالت میں پائے تو وہ اس کا زیادہ حقدار ہے۔ دوسری سند میں یہ الفاظ ہیں وہ شخص قرض خواہوں سے زیادہ حقدار ہے۔