بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 60 hadith
عمرہ سے روایت ہے انہوں نے حضرت عائشہؓ کو کہتے ہوئے سنا آپؓ رضاعت کی (اس مقدار) کا ذکر کر رہی تھیں جو (رشتہ) حرام کرتی ہے۔ عمرہ کہتی ہیں حضرت عائشہؓ نے کہا قرآن میں دس بار باقاعدہ (دودھ) پینے سے رضاعت کی حرمت کا بیان نازل ہوا تھا پھر پانچ دفعہ باقاعدہ (دودھ) پینے کا حکم بھی نازل ہوگیا۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے وہ کہتی ہیں سہلہ بنت سہیلؓ نبیﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا یا رسولؐ اللہ! میں سالم کے آنے سے ابو حذیفہ کے چہرے پر ناگواری کے اثرات دیکھتی ہوں حالانکہ وہ ان کا حلیف ہے۔ اس پر نبیﷺ نے فرمایا اسے دودھ پلا دو۔ اس نے کہا میں اسے کیسے دودھ پلا سکتی ہوں جبکہ وہ بڑی عمر کا آدمی ہے اس پر رسول اللہﷺ متبسّم ہوئے اور فرمایا میں جانتا ہوں کہ وہ بڑی عمر کا آدمی ہے۔ عمرو کی روایت میں مزید ہے کہ وہ (سالم) غزوہ بدر میں شامل تھے۔ اور ابن ابی عمر کی روایت میں (فَتَبَسَّمَ رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ کی بجائے) فَضَحِکَ رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ کے الفاظ ہیں۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ سالمؓ حضرت ابو حذیفہؓ کے آزاد کردہ غلام ابو حذیفہؓ اور اپنے اہل کے ساتھ ان کے گھر میں ہی رہتے تھے۔ پھر وہ یعنی سہیل کی بیٹی نبیﷺ کے پاس آئی اور کہا سالم عاقل بالغ ہوگیا ہے۔ وہ ہمارے پاس آتا ہے اور میرا خیال ہے کہ ابو حذیفہؓ دل میں اس بات کو اچھا نہیں سمجھتے۔ نبیﷺ نے فرمایا تم اسے دودھ پلاؤ تم اس کے لئے مَحرم ہوجاؤگی اور ابو حذیفہؓ کے دل میں جو ہے وہ دور ہوجائے گا۔ (کچھ عرصہ بعد) وہ دوبارہ آئیں اور کہا میں نے اسے دودھ پلایا اور ابو حذیفہؓ کے دل میں جو تھا وہ جاتا رہا۔
قاسم بن محمد بن ابوبکرؓ کہتے ہیں کہ حضرت عائشہؓ نے انہیں بتایا کہ سہلہ بنت سہیل بن عمرو نبیﷺ کے پاس آئی اور عرض کیا یا رسولؐ اللہ! سالم _ ابو حذیفہؓ کے آزاد کردہ غلام _ ہمارے ساتھ ہمارے گھر میں ہے اور اب وہ بلوغت کی عمر کو پہنچ گیا ہے اور اسے ان باتوں کا علم ہوگیا ہے جن کا مردوں کو علم ہے۔ آپؐ نے فرمایا اسے دودھ پلاؤ تم اس کے لئے مَحرم ہوجاؤگی۔ راوی کہتے ہیں میں نے ایک سال یا کم و بیش خوف کی وجہ سے اس روایت کو بیان نہیں کیا پھر میں قاسم سے ملا اور انہیں کہا کہ آپ نے میرے پاس ایک روایت بیان کی تھی جسے میں نے تا حال آگے بیان نہیں کیا۔ انہوں نے کہا وہ کون سی روایت ہے؟ تو میں نے انہیں روایت بتائی۔ انہوں نے کہا اسے میری طرف سے بیان کر دو کہ یہ حضرت عائشہؓ نے مجھے بتائی ہے۔
زینب بنت ام سلمہؓ سے روایت ہے وہ کہتی ہیں حضرت ام سلمہؓ نے حضرت عائشہؓ سے کہا کہ آپ کے پاس ایک نوجوان لڑکا آتا ہے جس کا میں اپنے ہاں آنا پسند نہیں کرتی۔ راوی (حُمَید) کہتے ہیں اس پر حضرت عائشہؓ نے کہا کیا تمہارے لئے رسول اللہﷺ کی ذات میں نمونہ نہیں ہے؟ انہوں (حضرت عائشہؓ ) نے فرمایا حضرت ابو حذیفہؓ کی بیوی نے کہا تھا کہ یا رسولؐ اللہ! سالم میرے ہاں آتا ہے اور وہ مرد ہے۔ اور حضرت ابو حذیفہؓ کے دل میں اس وجہ سے تردّد پایا جاتا ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا اسے دودھ پلا دو تاکہ وہ تمہارے پاس آسکے۔
زینب بنت ابو سلمہؓ کہتی ہیں میں نے نبیﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت ام سلمہؓ کو حضرت عائشہؓ سے یہ کہتے ہوئے سنا اللہ کی قسم میں پسند نہیں کرتی کہ مجھے کوئی ایسا نوجوان دیکھے جس کی دودھ پینے کی عمر گذر چکی ہو۔ انہوں نے کہا کیوں؟ سہلہ بنت سہیل رسول اللہﷺ کی خدمت میں آئیں اور عرض کیا یا رسولؐ اللہ! میں سالم کے آنے سے ابو حذیفہؓ کے چہرے پر (ناگواری) دیکھتی ہوں۔ وہ کہتی ہیں اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا اسے دودھ پلا دو۔ اس نے کہا کہ وہ تو داڑھی والا ہے۔ آپؐ نے فرمایا اسے دودھ پلا دو تو ابو حذیفہؓ کے چہرہ سے (ناگواری) جاتی رہے گی۔ وہ کہتی ہیں اللہ کی قسم پھر میں نے کبھی ابو حذیفہؓ کے چہرہ پر ناگواری کے اثرات نہیں دیکھے۔
زینب بنت ابو سلمہؓ کہتی ہیں کہ ان کی والدہ حضرت ام سلمہؓ جو نبیﷺ کی زوجہ مطہرہ تھیں بیان کیا کرتی تھیں کہ نبیﷺ کی باقی تمام ازواج مطہرات نے ایسی رضاعت کی وجہ سے (کسی کو گھر آنے کی) اجازت دینے سے انکار کیا ہے اور انہوں نے حضرت عائشہؓ سے کہا اللہ کی قسم ہم یہی سمجھتی ہیں کہ رسول اللہﷺ نے یہ اجازت خاص طور پر صرف سالم کے لئے دی تھی۔ پس ایسی رضاعت سے ہمارے پاس کوئی نہیں آسکتا اور نہ ہی ہمیں کوئی دیکھ سکتا ہے۔
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ میرے پاس تشریف لائے اور میرے پاس ایک شخص بیٹھا ہوا تھا۔ آپؐ کو یہ بات ناگوار گذری۔ میں نے آپؐ کے چہرہ پر ناراضگی کے آثار محسوس کیے۔ آپؓ فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! یہ میرا رضاعی بھائی ہے۔ وہ کہتی ہیں اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا اپنے رضاعی بھائیوں کے بارہ میں دیکھ لیا کرو! کیونکہ رضاعت تو صرف بھوک سے متعلق ہے۔
حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے حنین کے موقع پر ایک لشکر اوطاس کی طرف بھیجا۔ اس کا دشمن سے سامنا ہوا۔ انہوں نے ان سے جنگ کی اور ان پر غالب آگئے ان میں سے کچھ عورتوں کو بھی قیدی بنا لیا تو رسول اللہﷺ کے صحابہؓ میں سے کچھ لوگوں نے ان کے مشرک شوہر موجود ہونے کی وجہ سے ان سے تعلقات قائم کرنے سے اجتناب کیا۔ اس پر اللہ عزوّجل نے اس بارہ میں یہ آیت نازل فرمائی (وَالْمُحْصَنٰتُ۔۔۔) اور عورتوں میں سے وہ (بھی تم پر حرام ہیں) جن کے خاوند موجود ہوں سوائے ان کے جن کے تمہارے داہنے ہاتھ مالک ہوں یعنی وہ تم پر حلال ہیں جب ان کی عدّت گزر جائے۔ ایک اور روایت میں (اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِﷺ یَوْمَ حُنَیْنٍ بَعَثَ جَیْشًا کی بجائے) اَنَّ نَبِیَ اللّٰہِﷺ بَعَثَ یَوْمَ حُنَیْنٍ سَرِیَّۃً کے الفاظ ہیں۔ اور اس روایت میں اِذَا اِنْقَضَتْ عِدَّتُہُنَّ کا ذکر نہیں۔
حضرت ابو سعیدؓ کہتے ہیں کہ اوطاس کی جنگ کے موقعہ پر انہوں نے قیدی عورتیں پائیں جن کے خاوند تھے تو ان کو ڈر پیدا ہوا تو یہ آیت نازل ہوئی۔ (وَالْمُحْصَنٰتُ۔۔۔) ترجمہ: اور عورتوں میں سے وہ (بھی تم پر حرام ہیں ) جن کے خاوند موجود ہوں سوائے ان کے جن کے تمہارے داہنے ہاتھ مالک ہوں۔